یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏5 ص.‏ 8-‏12
  • مخصوص—‏کس کیلئے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مخصوص—‏کس کیلئے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک مخصوص قوم
  • قدردانی مخصوصیت پر منتج ہوتی ہے
  • اپنی مخصوصیت کا اعلانیہ اظہار کریں
  • ‏”‏ہر روز“‏ اپنی مخصوصیت کے مطابق زندگی بسر کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • خود کو یہوواہ کے لئے وقف کرنا کیوں ضروری ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • کیا آپ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرنے کے لیے تیار ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • آپ کو خدا کے لیے اپنی زندگی وقف کر کے بپتسمہ کیوں لینا چاہیے؟‏
    اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏—‏ایک فائدہ‌مند بائبل کورس
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏5 ص.‏ 8-‏12

مخصوص—‏کس کیلئے؟‏

‏”‏جو کچھ خداوند نے فرمایا ہے اس سب کو ہم کرینگے اور تابع رہینگے۔“‏—‏خروج ۲۴:‏۷۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ بعض لوگ کس کیلئے وقف ہوتے ہیں؟ (‏ب)‏ کیا مخصوصیت مذہبی وابستگی رکھنے والوں تک ہی محدود ہے؟‏

فروری ۱۹۴۵ میں، جاپان کے یاتابی فلائنگ کور کے زیرو فائٹر ہواباز ایک آڈیٹوریم میں جمع تھے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں لکھنے کیلئے ایک کاغذ کا ٹکڑا دیا گیا تھا کہ آیا وہ کماکازی [‏دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی ہوائی فوج کا دستہ جسکے ارکان کا کام دشمن کے ٹھکانے کو حملے کا نشانہ بنا کر ہوائی جہاز کیساتھ خودکُشی کرنا تھا]‏ حملہ‌آور فوج کا رکن بننے کیلئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کریگا۔ ”‏میں نے سوچا اس قومی بحران کے وقت خود کو قربان کرنے کیلئے یہ میری بلا‌ہٹ تھی۔“‏ ایک افسر کہتا ہے جو اس وقت وہاں موجود تھا۔ ”‏خود کو پیش کرنے کیلئے جذباتی طور پر مائل، میں نے اپنے آپ کو کمیشن کیلئے پیش کر دیا۔“‏ اسے اوکا (‏خودکُشی کرنے والے ہوائی‌جہاز)‏ کو چلانے اور پیشوائی کرنے اور دشمن کے جنگی جہاز پر اسے تباہ کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ تاہم، اس سے پیشتر کہ اسے ایسا کرنے اور اس طرح اپنے ملک اور شہنشاہ کے لئے مرنے کا موقع ملتا، جنگ ختم ہو گئی۔ جب جاپان جنگ ہار گیا تو شہنشاہ سے اسکا ایمان اٹھ گیا۔‏

۲ ایک زمانے میں، جاپان میں بہتیرے شہنشاہ کیلئے وقف ہوئے تھے، جسے وہ ایک زندہ دیوتا مانتے تھے۔ دیگر ممالک میں، عقیدت کی دوسری چیزیں رہی ہیں، اور ابھی تک ہیں۔ لاکھوں مریمؔ، گوتم‌بدؔھ یا دوسرے دیوتاؤں کیلئے وقف ہوتے ہیں—‏جنکی نمائندگی اکثر بتوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ جذباتی تقاریر سے متاثر، بعض اپنی محنت کی کمائی کو مخلصانہ کفالت کی صورت میں ٹی‌وی مبشروں کی جیبوں میں ڈال دیتے ہیں جو عقیدت کے برابر ہے۔ جنگ کے بعد، مایوس جاپانیوں نے نئی چیز تلاش کی جس کیلئے وہ اپنی زندگیاں مخصوص کر سکتے۔ بعض کیلئے کام وہ چیز بن گئی۔ مشرق ہو یا مغرب، بہتیرے خود کو دولت کے حصول کیلئے وقف کرتے ہیں۔ نوجوان لوگ بعض موسیقاروں کو اپنی زندگیوں کی مرکزی چیز بنا لیتے ہیں، جنکی زندگی کے اطوار کی وہ تقلید کرتے ہیں۔ آجکل ایک بڑی تعداد اپنی ذاتی خواہشات کو اپنی عقیدت کی چیز بناتے ہوئے، اپنی ہی پرستار بن گئی ہے۔ (‏فلپیوں ۳:‏۱۹؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۲‏)‏ لیکن کیا ایسی چیزیں اور لوگ واقعی کسی شخص کی پورے دل سے عقیدت کے مستحق ہیں؟‏

۳.‏ عقیدت کی بعض اشیاء کیسے بیکار ثابت ہوئی ہیں؟‏

۳ حقیقت کا سامنا کرتے وقت بُت‌پرستوں کا وہم اکثر دور ہو جاتا ہے۔ جب پرستار محسوس کرتے ہیں کہ ان کے بُت ”‏آدمی کی دستکاری“‏ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں تو بتوں کیلئے عقیدت مایوسی کا باعث بنتی ہے۔ (‏زبور ۱۱۵:‏۴‏)‏ جب ایسے اسکینڈلوں کا انکشاف ہوتا ہے جن میں ممتاز مبشر ملوث ہوتے ہیں تو مخلص لوگوں کی توقعات خاک میں مِل جاتی ہیں۔ ”‏ناپائیدار“‏ معاشیات کے ختم ہونے پر جب کارندوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نام برطرف ملازموں کی فہرست میں شامل ہیں تو وہ ذہنی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالیہ کسادبازاری نے دولت کے دیوتا کے پرستاروں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ زیادہ پیسہ بنانے کی اُمید میں قرضے چڑھ گئے جو واپس ادا کرنے کے بہت ہی کم امکان کیساتھ بوجھ بن گئے۔ (‏متی ۶:‏۲۴‏، فٹ‌نوٹ، این‌ڈبلیو)‏ جب معبود بنا لئے گئے راک سٹار اور تفریح کا سامان مہیا کرنے والے دیگر لوگ وفات پاتے ہیں یا اپنی شہرت کھو بیٹھتے ہیں تو انکے پرستار محروم رہ جاتے ہیں۔ اور وہ جو صرف ذاتی تسکین کی راہ پر چل پڑے ہیں اکثر تلخ پھلوں کی فصل کاٹتے ہیں۔—‏گلتیوں ۶:‏۷‏۔‏

۴.‏ کیا چیز لوگوں کو بیکار چیزوں کیلئے اپنی زندگیاں مخصوص کرنے کی تحریک دیتی ہے؟‏

۴ کیا چیز لوگوں کو تحریک دیتی ہے کہ ایسی بیکار چیز کیلئے خود کو مخصوص کر دیں؟ بڑی حد تک یہ شیطان ابلیس کے تحت دنیا کی روح ہے۔ (‏افسیوں ۲:‏۲، ۳‏)‏ اس روح کا اثرورسوخ مختلف طریقوں سے دکھائی دیتا ہے۔ کوئی شخص خاندانی روایت میں جکڑا ہوا ہو سکتا ہے جو اسکے آباؤاجداد سے ملی ہے۔ تعلیم اور پرورش کافی حد تک سوچ پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ کام کی جگہ کا ماحول ”‏کارپوریٹ وارئیرز“‏ (‏زیادہ اوورٹائم کرنے والے کارکن)‏ کو کام کا عادی بنا سکتا ہے جو زندگی کیلئے خطرہ ہو سکتا ہے۔ اور زیادہ‌تر لوگوں کی خواہش دنیا کے مادہ‌پرستانہ رجحان کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ بہتیروں کے دل بُرے ہیں، جو انہیں اپنی ذاتی خودغرضانہ خواہشات کی خاطر خود کو مخصوص کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ وہ یہ جائزہ لینے میں ناکام ہو جاتے ہیں کہ آیا یہ حاصلات ایسی عقیدت کے مستحق ہیں۔‏

ایک مخصوص قوم

۵.‏ تقریباً ۳،۵۰۰ سے زیادہ سال پہلے یہوؔواہ کیلئے کونسی مخصوصیت کی گئی تھی؟‏

۵ تقریباً ۳،۵۰۰ سال پہلے، ایک قوم کو عقیدت کی کہیں زیادہ مستحق چیز ملی۔ انہوں نے خود کو، حاکمِ‌اعلیٰ خدا، یہوؔواہ کے لئے مخصوص کیا۔ ایک گروپ کے طور پر، بنی اسرائیل نے سیناؔ کے بیابان میں اپنی مخصوصیت کا اعلان کیا۔‏

۶.‏ اسرائیلیوں کیلئے خدا کے نام کی کیا اہمیت تھی؟‏

۶ کس چیز نے اسرائیلیوں کو اس طرح عمل کرنے کی تحریک دی؟ جب وہ مصرؔ کی غلامی میں تھے تو یہوؔواہ نے موسیٰؔ کو حکم دیا کہ رہائی دلانے میں انکی راہنمائی کرے۔ موسیٰؔ نے کہا کہ وہ اس خدا کی شناخت کیسے کرائے گا جس نے اسے بھیجا تھا، اور خدا نے خود کو ”‏میں جو ہوں سو میں ہوں“‏ کے طور پر ظاہر کیا۔ اس نے موسیٰؔ کو ہدایت کی کہ بنی اسرائیل سے کہے:‏ ”‏میں جو ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔“‏ (‏خروج ۳:‏۱۳، ۱۴)‏ اس اظہار نے ظاہر کیا کہ یہوؔواہ اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے جس چیز کی ضرورت ہے وہی بن جاتا ہے۔ وہ خود کو وعدوں کو پورا کرنے والے کے طور پر اس طریقے سے ظاہر کریگا جس سے اسرائیلیوں کے آباؤاجداد ہرگز واقف نہیں تھے۔—‏خروج ۶:‏۲، ۳۔‏

۷، ۸.‏ اسرائیلیوں کے پاس کیا ثبوت تھے کہ یہوؔواہ انکی عقیدت کا مستحق خدا تھا؟‏

۷ اسرائیلیوں نے دس آفتوں کے ذریعے مصرؔ کی سرزمین اور اسکے لوگوں پر مصیبت کو دیکھا۔ (‏زبور ۷۸:‏۴۴-‏۵۱‏)‏ اسکے بعد، غالباً تین ملین سے زیادہ لوگ، عورتوں اور بچوں سمیت، چل پڑے اور ایک ہی رات میں جشنؔ کے علاقے سے کوچ کر گئے، جو بذاتِ‌خود ایک غیرمعمولی کارنامہ تھا۔ (‏خروج ۱۲:‏۳۷، ۳۸)‏ بعدازاں، بحرِقلزم پر، یہوؔواہ نے خود کو ”‏صاحبِ‌جنگ“‏ کے طور پر ظاہر کیا جب اس نے سمندر کو دو حصے کرکے اسرائیلیوں کو گزرنے کی اجازت دی اور اسکے بعد اسے واپس ایک کرکے تعاقب کرنے والے مصریوں کو ڈبو کر اپنے لوگوں کو فرؔعون کی عسکری فوجوں سے بچا لیا۔ نتیجتاً، ”‏اسرائیلیوں نے وہ بڑی قدرت دیکھی جو خداوند نے مصریوں پر ظاہر کی اور وہ لوگ خداوند سے ڈرے اور خداوند پر .‏ .‏ .‏ ایمان لائے۔“‏—‏خروج ۱۴:‏۳۱؛ ۱۵:‏۳؛‏ زبور ۱۳۶:‏۱۰-‏۱۵‏۔‏

۸ گویا ابھی تک اس بات کیلئے ثبوت کی کمی ہے کہ خدا کے نام کا کیا مطلب ہے، اسرائیلی خوراک اور پانی کی قلتوں کی بابت یہوؔواہ اور اسکے نمائندے موسیٰؔ کے خلاف بڑبڑائے۔ یہوؔواہ نے بٹیر بھیجے، اور من برسایا، اور مرؔیبہ پر چٹان سے پانی نکالنے کا سبب بنا۔ (‏خروج ۱۶:‏۲-‏۵، ۱۲-‏۱۵، ۳۱؛ ۱۷:‏۲-‏۷)‏ یہوؔواہ نے اسرائیلیوں کو عمالیقیوں کے حملے سے بھی بچایا۔ (‏خروج ۱۷:‏۸-‏۱۳)‏ کسی بھی طرح سے اسرائیلی انکار نہ کر سکے جسے یہوؔواہ نے بعد میں موسیٰؔ سے بیان کیا:‏ ”‏خداوند خداوند [‏”‏یہوؔواہ، یہوؔواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ خدایِ‌رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا میں غنی۔ ہزاروں پر فضل کرنے والا۔ گناہ اور تقصیر اور خطا کا بخشنے والا۔“‏ (‏خروج ۳۴:‏۶، ۷)‏ بیشک، یہوؔواہ نے خود کو انکی عقیدت کیلئے مستحق ثابت کیا۔‏

۹.‏ یہوؔواہ نے اسرائیلیوں کو اسکی خدمت کرنے کیلئے اپنی مخصوصیت کا اظہار کرنے کا موقع کیوں دیا، اور انہوں نے کیسا جوابی‌عمل دکھایا؟‏

۹ اگرچہ یہوؔواہ کو اسرائیلیوں کے مالک ہونے کا حق حاصل تھا کیونکہ اس نے انہیں مصرؔ سے فدیہ دیکر چھڑایا تھا، تاہم، خدایِ‌رحیم اور مہربان کے طور پر، اس نے انہیں اپنی خوشی سے اسکی خدمت کرنے کیلئے اپنی خواہش کا اظہار کرنے کا موقع دیا۔ (‏استثنا ۷:‏۷، ۸؛ ۳۰:‏۱۵-‏۲۰)‏ اس نے اسرائیلیوں اور اسکے درمیان عہد کیلئے شرائط بھی بیان کیں۔ (‏خروج ۱۹:‏۳-‏۸؛ ۲۰:‏۱_۲۳:‏۳۳)‏ جب موسیٰؔ کے ذریعے ان شرائط کو بیان کیا گیا تھا تو اسرائیلیوں نے اعلان کیا:‏ ”‏جو کچھ خداوند نے فرمایا ہے اس سب کو ہم کرینگے اور تابع رہینگے۔“‏ (‏خروج ۲۴:‏۳-‏۷)‏ اپنی آزاد مرضی سے، وہ حاکم خداوند یہوؔواہ کیلئے ایک مخصوص قوم بن گئے۔‏

قدردانی مخصوصیت پر منتج ہوتی ہے

۱۰.‏ یہوؔواہ کیلئے ہماری مخصوصیت کو کس چیز پر مبنی ہونا چاہئے؟‏

۱۰ خالق، یہوؔواہ ہماری پورے دل‌وجان سے عقیدت کا ہمیشہ مستحق رہتا ہے۔ (‏ملاکی ۳:‏۶؛‏ متی ۲۲:‏۳۷؛‏ مکاشفہ ۴:‏۱۱‏)‏ تاہم، ہماری مخصوصیت کو خوش‌اعتقادی، شدید جذبات، یا دوسروں—‏حتیٰ‌کہ والدین—‏کی طرف سے دباؤ پر مبنی نہیں ہونا چاہئے۔ اسے یہوؔواہ کی بابت صحیح علم اور جو کچھ یہوؔواہ نے ہمارے لئے کیا ہے اس کیلئے قدردانی پر مبنی ہونا چاہئے۔ (‏رومیوں ۱۰:‏۲؛‏ کلسیوں ۱:‏۹، ۱۰؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۲:‏۴‏)‏ جس طرح یہوؔواہ نے اسرائیلیوں کو خوشی سے اپنی مخصوصیت کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کِیا، اسی طرح وہ ہمیں خوشی سے خود کو مخصوص کرنے اور اس مخصوصیت کا اعلانیہ اظہار کرنے کا موقع دیتا ہے۔—‏۱-‏پطرس ۳:‏۲۱‏۔‏

۱۱.‏ بائبل کے ہمارے مطالعے نے یہوؔواہ کی بابت کیا آشکارا کیا ہے؟‏

۱۱ بائبل کے مطالعے کے ذریعے، ہم خدا کو بطور ایک شخص کے جاننے لگتے ہیں۔ اسکا کلام اسکی صفات کو جیسے کہ تخلیق سے منعکس ہیں صاف صاف دیکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ (‏زبور ۱۹:‏۱-‏۴‏)‏ ہم اسکے کلام سے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کوئی پُراسرار تثلیث نہیں ہے جسے سمجھا نہیں جا سکتا۔ وہ جنگیں نہیں ہارتا اور یوں اسے اپنی معبودیت سے دستبردار ہونا نہیں پڑتا۔ (‏خروج ۱۵:‏۱۱؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۸:‏۵، ۶؛‏ مکاشفہ ۱۱:‏۱۷، ۱۸‏)‏ چونکہ اس نے اپنے وعدوں کو پورا کیا ہے، اسلئے ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ اسکے خوبصورت نام، یہوؔواہ کا کیا مطلب ہے۔ وہ عظیم مقصد ٹھہرانے والا ہے۔ (‏پیدایش ۲:‏۴‏، فٹ‌نوٹ، این‌ڈبلیو؛ زبور ۸۳:‏۱۸؛‏ یسعیاہ ۴۶:‏۹-‏۱۱‏)‏ بائبل کا مطالعہ کرنے سے، ہم صاف طور پر سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ کتنا وفادار اور قابلِ‌اعتماد ہے۔—‏استثنا ۷:‏۹؛‏ زبور ۱۹:‏۷،‏ ۹؛‏ ۱۱۱:‏۷‏۔‏

۱۲.‏ (‏ا)‏ کیا چیز ہمیں یہوؔواہ کی طرف راغب کرتی ہے؟ (‏ب)‏ بائبل میں مرقوم زندگی کے حقیقی تجربات کیسے کسی کو یہوؔواہ کی خدمت کرنے کے خواہاں ہونے کی تحریک دیتے ہیں؟ (‏پ)‏ یہوؔواہ کی خدمت کرنے کی بابت آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏

۱۲ جو چیز خاص طور پر ہمیں یہوؔواہ کی طرف راغب کرتی ہے وہ اسکی پُرمحبت شخصیت ہے۔ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ وہ انسانوں کے ساتھ برتاؤ میں کتنا پُرمحبت، معاف کرنے والا، اور مہربان ہے۔ سوچیں کہ جب اؔیوب نے وفاداری سے اپنی راستی قائم رکھی تو اسکے بعد اس نے اؔیوب کو کیسے اقبال‌مندی بخشی۔ اؔیوب کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ”‏یہوؔواہ بڑا شفیق اور رحمدل ہے۔“‏ (‏یعقوب ۵:‏۱۱‏، این‌ڈبلیو؛ ایوب ۴۲:‏۱۲-‏۱۷‏)‏ سوچیں کہ اس نے داؔؤد کیساتھ کیسا برتاؤ کیا جب وہ زناکاری اور قتل کا مُرتکب ہوا۔ جی‌ہاں، یہوؔواہ سنگین گناہوں کو بھی معاف کرنے کیلئے تیار ہے جب گنہگار ”‏شکستہ اور خستہ‌دل“‏ کیساتھ اس سے درخواست کرتے ہیں۔ (‏زبور ۵۱:‏۳-‏۱۱،‏ ۱۷‏)‏ اس طریقے کی بابت سوچیں جس سے یہوؔواہ نے ترسسؔ کے ساؔؤل کیساتھ برتاؤ کیا، جو شروع میں خدا کے لوگوں کا مستقل ستانے والا تھا۔ یہ مثالیں تائب اشخاص کو استعمال کرنے کیلئے خدا کے رحم اور فیاضانہ رضامندی کو اجاگر کرتی ہیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۹؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۱:‏۱۵، ۱۶‏)‏ پولسؔ نے محسوس کیا کہ وہ تو اپنی زندگی کو بھی اس پُرمحبت خدا کی خدمت کیلئے خطرے میں ڈال سکتا تھا۔ (‏رومیوں ۱۴:‏۸‏)‏ کیا آپ بھی اسی طرح محسوس کرتے ہیں؟‏

۱۳.‏ یہوؔواہ کی طرف سے محبت کا کونسا عظیم اظہار راست‌دل اشخاص کو اس کیلئے خود کو مخصوص کرنے کیلئے آمادہ کرتا ہے؟‏

۱۳ اسرائیلیوں کیلئے، یہوؔواہ نے مصرؔ کی غلامی سے نجات فراہم کی، اور اس نے ہمیں گناہ اور موت کی غلامی سے بچانے کیلئے ایک ذریعے کا بندوبست کیا ہے—‏یسوؔع مسیح کی فدیے کی قربانی۔ (‏یوحنا ۳:‏۱۶‏)‏ پولسؔ کہتا ہے:‏ ”‏خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مُؤا۔“‏ (‏رومیوں ۵:‏۸‏)‏ یہی پُرمحبت بندوبست راست‌دل اشخاص کو آمادہ کرتا ہے کہ خود کو یسوؔع مسیح کے ذریعے یہوؔواہ کیلئے مخصوص کریں۔ ”‏کیونکہ مسیح کی محبت ہم کو مجبور کر دیتی ہے اسلئے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب ایک سب کے واسطے مُؤا کہ جو جیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لئے نہ جئیں بلکہ اس کیلئے جو انکے واسطے مُؤا اور پھر جی اٹھا۔“‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۱۴، ۱۵؛‏ رومیوں ۸:‏۳۵-‏۳۹‏۔‏

۱۴.‏ کیا صرف یہوؔواہ کے برتاؤ کا علم ہمیں اپنی زندگیوں کو اس کیلئے مخصوص کرنے کی تحریک دینے کیلئے کافی ہے؟ وضاحت کریں۔‏

۱۴ تاہم، یہوؔواہ کی شخصیت اور نوعِ‌انسان کیساتھ اسکے برتاؤ کا علم رکھنا کافی نہیں ہے۔ یہوؔواہ کیلئے ذاتی قدردانی کو پیدا کیا جانا چاہئے۔ یہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اپنی زندگیوں میں خدا کے کلام کا اطلاق کرنے سے اور خود اس بات کا تجربہ کرنے سے کہ اسکے اندر پائے جانے والے اصول واقعی مؤثر ہیں۔ (‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷‏)‏ ہمیں محسوس کرنا ہوگا کہ یہوؔواہ نے شیطان کی حکمرانی کے تحت اس شریر دنیا کی دلدل سے ہمیں بچایا ہے۔ (‏مقابلہ کریں ۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۱‏)‏ جو درست کام ہے اسے کرنے کی اپنی جدوجہد میں، ہم یہوؔواہ پر توکل کرنا سیکھتے ہیں، اور ہم خود تجربہ کرتے ہیں کہ یہوؔواہ ”‏دعا کا سننے والا،“‏ زندہ خدا ہے۔ (‏زبور ۶۲:‏۸؛‏ ۶۵:‏۲‏)‏ بہت جلد ہم خود کو اسکے بہت قریب محسوس کرتے ہیں اور اپنے اندرونی احساسات اسے بتانے کے قابل ہوتے ہیں۔ یہوؔواہ کیلئے محبت کا پُرتپاک احساس ہمارے اندر پیدا ہو جاتا ہے۔ یقیناً یہ ہمارے لئے اپنی زندگیوں کو اس کیلئے مخصوص کرنے کا سبب بنتا ہے۔‏

۱۵.‏ کس چیز نے ایک آدمی کو یہوؔواہ کی خدمت کرنے کی تحریک دی، جو پہلے دنیاوی کام کیلئے مخصوص تھا؟‏

۱۵ بہتیروں نے اس پُرمحبت خدا، یہوؔواہ، کو جان لیا ہے، اور اپنی زندگیوں کو اسکی خدمت کرنے کیلئے مخصوص کر دیا ہے۔ ایک الیکٹریشن کی مثال پر غور کریں جسکا اچھا خاصا کاروبار تھا۔ ایسے اوقات ہوتے تھے جب وہ صبح کے وقت کام شروع کرتا اور پورا دن اور رات بھی کام کرتا، اور اگلی صبح پانچ بجے گھر لوٹتا۔ تقریباً گھنٹہ بھر آرام کرنے کے بعد، وہ پھر دوسرے کام کیلئے نکل جاتا۔ ”‏میں اپنے کام کیلئے مخصوص تھا،“‏ وہ یاد کرتا ہے۔ جب اسکی بیوی نے بائبل کا مطالعہ شروع کیا تو وہ بھی اسکے ساتھ شامل ہو گیا۔ وہ کہتا ہے:‏ ”‏اسوقت تک میں جتنے بھی معبودوں کو جانتا تھا وہ صرف خدمت کرانے کے منتظر رہتے تھے، ہمیں فائدہ پہنچانے کیلئے کچھ نہیں کرتے تھے۔ لیکن یہوؔواہ نے پہل کی اور بڑی ذاتی قربانی دیکر اپنے اکلوتے بیٹے کو زمین پر بھیجا۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۴:‏۱۰،‏ ۱۹‏)‏ دس مہینوں کے اندر اندر، یہ آدمی یہوؔواہ کیلئے مخصوص تھا۔ بعدازاں، اس نے زندہ خدا کی خدمت کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ اس نے کُل‌وقتی خدمت اختیار کر لی اور اس جگہ خدمت کرنے کیلئے چلا گیا جہاں ضرورت زیادہ تھی۔ وہ رسولوں کی طرح، ’‏سب کچھ چھوڑ کر یسوؔع کے پیچھے ہو لیا۔‘‏ (‏متی ۱۹:‏۲۷‏)‏ دو ماہ کے بعد، اسے اور اسکی بیوی کو اس ملک میں واچ ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کی برانچ میں خدمت کرنے کیلئے بلا لیا گیا جہاں وہ رہتے تھے، تاکہ وہ الیکٹریکل کام میں مدد دے سکے۔ تقریباً گزشتہ ۲۰ سال سے، وہ برانچ میں وہ کام کر رہا ہے، جس سے اسے محبت ہے—‏اپنے لئے نہیں مگر یہوؔواہ کیلئے۔‏

اپنی مخصوصیت کا اعلانیہ اظہار کریں

۱۶.‏ یہوؔواہ کیلئے مخصوصیت کرنے کیلئے بعض اقدام کیا ہیں جو کوئی اٹھائے گا؟‏

۱۶ کچھ دیر بائبل کا مطالعہ کرنے کے بعد، نوجوان اور بوڑھے یکساں طور پر یہوؔواہ کی اور جو کچھ اس نے ان کیلئے کیا ہے اس کی قدر کرنے لگتے ہیں۔ اس چیز کو انہیں خود کو یہوؔواہ کیلئے دے دینے کی تحریک دینی چاہئے۔ آپ ان میں سے ایک ہو سکتے ہیں۔ آپ خود کو یہوؔواہ کیلئے کیسے مخصوص کر سکتے ہیں؟ بائبل سے صحیح علم حاصل کر لینے کے بعد، آپکو اس علم کے مطابق عمل کرنا چاہئے اور یہوؔواہ اور یسوؔع مسیح پر ایمان لانا چاہئے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ توبہ کریں اور ماضی کی کسی بھی گنہگارانہ روش سے باز آئیں۔ (‏اعمال ۳:‏۱۹‏)‏ اسکے بعد آپ دعا میں یہوؔواہ سے سنجیدہ الفاظ میں اظہار کرتے ہوئے، مخصوصیت کے مرحلے پر آئینگے۔ یہ دعا یقیناً آپکے ذہن پر دیرپا نقش چھوڑیگی، اسلئے کہ یہ یہوؔواہ کے ساتھ نئے رشتے کا آغاز ہوگا۔‏

۱۷.‏ (‏ا)‏ نئی نئی مخصوصیت کرنے والوں کیساتھ بزرگ تیارشُدہ سوالات پر نظرثانی کیوں کرتے ہیں؟ (‏ب)‏ کسی کی مخصوصیت کے بعد کونسا اہم قدم اٹھایا جانا چاہئے، اور کس مقصد کیلئے؟‏

۱۷ جسطرح موسیٰؔ نے یہوؔواہ کیساتھ موعودہ رشتے میں آنے کے لئے اسرائیلیوں پر شرائط واضح کیں، یہوؔواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں میں بزرگ پوری طرح جائزہ لینے میں انکی مدد کرتے ہیں جنہوں نے حال ہی میں مخصوصیت کی ہے کہ اس میں کیا کچھ شامل ہے۔ وہ یہ تصدیق کرنے کے لئے تیارشُدہ سوالوں کو استعمال کرتے ہیں کہ ہر ایک بائبل کی بنیادی تعلیمات کو پوری طرح سمجھتا ہے اور اس چیز سے باخبر ہے کہ یہوؔواہ کا گواہ ہونے میں کیا کچھ شامل ہے۔ اس کے بعد، مخصوصیت کا اعلانیہ اظہار کرنے کی رسم نہایت موزوں ہے۔ قدرتی طور پر، نیا نیا مخصوص‌شُدہ شخص دوسروں کے علم میں لانے کا مشتاق ہے کہ وہ یہوؔواہ کے ساتھ اس متشرف رشتے میں بندھ چکا ہے۔ (‏مقابلہ کریں یرمیاہ ۹:‏۲۴‏۔)‏ یہ واجب طور پر مخصوصیت کی علامت میں پانی کے بپتسمے کے عمل میں سے گزرنے سے کیا جاتا ہے۔ پانی میں ڈبویا جانا اور پھر اٹھایا جانا اس چیز کی علامت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی خودغرضانہ روش کے اعتبار سے مرتا ہے اور نئی طرزِزندگی یعنی خدا کی مرضی بجا لانے کے لئے زندہ ہوتا ہے۔ یہ کوئی ساکرامنٹ نہیں ہے، نہ ہی یہ میسوگی کی شنٹو رسم کی طرح کی مذہبی رسم ہے جس میں پانی کے ذریعے ایک شخص کے پاک ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔‏a اس کے برعکس، بپتسمہ مخصوصیت کا اعلانیہ اظہار ہے جو دعا میں پہلے ہی کی جا چکی ہے۔‏

۱۸.‏ ہم کیوں پُراعتماد ہو سکتے ہیں کہ ہماری مخصوصیت رائیگاں نہیں جائیگی؟‏

۱۸ یہ سنجیدہ موقع ناقابلِ‌فراموش تجربہ ہے، جو خدا کے نئے خادم کو دائمی رشتے کی یاد دلاتا ہے جو وہ اب یہوؔواہ کیساتھ رکھتا ہے۔ اس مخصوصیت کے برعکس جو کماکازی ہواباز نے اپنے ملک اور شہنشاہ کے لئے کی، یہوؔواہ کیلئے یہ مخصوصیت رائیگاں نہیں جائیگی، اس لئے کہ وہ ازلی قادرِمطلق خدا ہے جو ہر اس کام کو انجام دیتا ہے جس کا وہ آغاز کرتا ہے۔ وہ، اور صرف وہی، ہماری پورے دل‌وجان سے مخصوصیت کا مستحق ہے۔—‏یسعیاہ ۵۵:‏۹-‏۱۱‏۔‏

۱۹.‏ اگلے مضمون میں کس چیز پر بات کیجائیگی؟‏

۱۹ تاہم، مخصوصیت میں زیادہ کچھ شامل ہے۔ مثال کے طور پر، مخصوصیت ہماری روزمرہ کی زندگی پر کیسے اثرانداز ہوتی ہے؟ اس پر اگلے مضمون میں بات‌چیت کی جائیگی۔ (‏۹ ۳/۰۱ w۹۵)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a دیکھیں واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ، مینکائنڈز سرچ فار گاڈ، صفحات ۱۹۴-‏۱۹۵۔‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

▫ جیسے کہ دنیا میں واقع ہوتا ہے کیوں مخصوصیت مایوسی پر ختم ہوتی ہے؟‏

▫ اسرائیلیوں کو کس چیز نے تحریک دی کہ خود کو یہوؔواہ کیلئے مخصوص کریں؟‏

▫ آجکل ہمیں کیا چیز خود کو یہوؔواہ کیلئے مخصوص کرنے کی تحریک دیتی ہے؟‏

▫ ہم خود کو خدا کیلئے کیسے مخصوص کرتے ہیں؟‏

▫ پانی کے بپتسمے کی اہمیت کیا ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

اسرائیل سیناؔ میں خود کو یہوؔواہ کیلئے مخصوص کرتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں