کیا آپ نے حال ہی میں کسی کی حوصلہافزائی کی ہے؟
اؔیلینا صرف ۱۷ سال کی تھی جب ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ اُسے بیضہدانی کا کینسر ہے۔ اُس کی ماں ماؔری نے اؔیلینا کو شدید درد میں مبتلا دیکھنے کی ذہنی کوفت کا مقابلہ کرنا تھا۔
انجامکار، اؔیلینا کو کیناری جزائر میں اُس کے گھر سے ۱،۹۰۰ کلومیٹر دُور میڈرِڈ، سپین میں ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ میڈرِڈ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم خون کے بغیر آپریشن کرنے کے لئے رضامند تھی۔ (اعمال ۱۵:۲۸، ۲۹) لیکن آپریشن شروع ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد، یہ بات واضح ہو گئی کہ اؔیلینا کی حالت بالآخر موت کا سبب بنے گی۔ کینسر پہلے ہی اُس کے سارے جسم میں پھیل چکا تھا اور سرجن اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے تھے۔ اؔیلینا میڈرِڈ پہنچنے کے آٹھ دن بعد وفات پا گئی۔
ماؔری کو اس ہولناک کڑی آزمائش کا تنہا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ اپنے ذاتی خرچے پر دو مسیحی بزرگ اُس کے اور اُس کے بڑے بیٹے کے ساتھ میڈرِڈ گئے اور اؔیلینا کی موت تک وہیں رہے۔ ”انہوں نے اس شدید خلا کو پُر کرنے میں میری مدد کی جسے میں نے اندر ہی اندر محسوس کیا،“ ماؔری وضاحت کرتی ہے۔ ”جو حوصلہافزائی اُنہوں نے مجھے دی میں اُسے کبھی نہیں بھولوں گی۔ اُن کی روحانی حمایت اور عملی مدد نہایت قابلقدر تھیں۔ وہ ’آندھی سے حقیقی پناہگاہ کی مانند‘ تھے۔“—یسعیاہ ۳۲:۱، ۲۔
یہوؔواہ خوش ہے کہ ان بزرگوں جیسے پُرمحبت چرواہے شفقت سے اُس کی بھیڑوں کی نگہداشت کرتے ہیں۔ (امثال ۱۹:۱۷؛ ۱-پطرس ۵:۲-۴) تاہم، حوصلہافزائی دینا محض بزرگوں کا ہی شرف نہیں ہے۔ تمام مسیحی روحانی ہدایت اور ’ایک دوسرے کی حوصلہافزائی‘ کرنے کے لئے باہم جمع ہوتے ہیں۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) حوصلہافزائی مسیحی رفاقت کا ایک لازمی جُز ہے۔
حوصلہافزائی میں کیا کچھ شامل ہوتا ہے؟
جس طرح ایک خوبصورت پھول پانی کے بغیر مُرجھا جاتا ہے اُسی طرح اشخاص بھی—خاندان اور کلیسیا دونوں میں—حوصلہافزائی کی کمی کے باعث پژمُردہ ہو سکتے ہیں۔ اس کی دوسری جانب، بروقت حوصلہافزائی ان کو مضبوط کر سکتی ہے جو آزمائش سے دوچار ہیں، افسردہدل اشخاص کے حوصلے بلند کر سکتی اور وفاداری سے خدا کی خدمت کرنے والوں کو تقویت بخش سکتی ہے۔
جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”حوصلہافزائی“ کِیا گیا ہے اُس میں دلاسے، نصیحت اور تسلی کا مفہوم شامل ہے۔ اسلئے، حوصلہافزائی میں صرف کسی کو یہ بتانا شامل نہیں ہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ اس میں عملی اعانت اور روحانی مدد فراہم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
درحقیقت، جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”حوصلہافزائی“ کِیا گیا ہے اُس کا لفظی مطلب ”اپنی طرف بلانا ہے۔“ اپنے روحانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ساتھ چلنا ہمیں اس لائق بناتا ہے کہ اگر اُن میں سے کوئی تھک جائے یا ٹھوکر کھائے تو اُسے فوری مدد فراہم کریں۔ (واعظ ۴:۹، ۱۰) دلچسپی کی بات ہے کہ یہوؔواہ کے لوگ ”شانہبہشانہ ہو کر اس کی خدمت“ کرتے ہیں۔ (صفنیاہ ۳:۹، اینڈبلیو) اور پولسؔ رسول نے ایک مسیحی کو ”سچا ہمخدمت“ کہا۔ (فلپیوں ۴:۳) شانہبہشانہ کام کرتے ہوئے ایک ہی جوئے کے تحت ملکر کام کرنا بوجھ کو ہلکا کرتا ہے بالخصوص اُن کے لئے جو روحانی طور پر مضبوط نہیں ہیں۔—مقابلہ کریں متی ۱۱:۲۹۔
اُنہوں نے حوصلہافزائی دی
جب حوصلہافزائی اتنی اہم ہے تو آئیے اس کی چند صحیفائی مثالوں پر غور کریں۔ جب خدا کا نبی موسیٰؔ اپنی زندگی کے انجام کے قریب تھا تو یہوؔواہ نے یشوؔع کو اسرائیل کا پیشوا ہونے کے لئے مقرر کِیا۔ یہ کوئی آسان تفویض نہ تھی جیسا کہ موسیٰؔ خود بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ (گنتی ۱۱:۱۴، ۱۵) لہٰذا، یہوؔواہ نے موسیٰؔ سے کہا کہ ”یشوؔع کو وصیت کر اور اُس کی حوصلہافزائی کرکے اُسے مضبوط کر۔“—استثنا ۳:۲۸۔
اسرائیلی قاضیوں کے زمانے کے دوران، اِفتاؔح کی بیٹی نے یہوؔواہ کے مقدِس میں خدمت کرنے کی غرض سے ایک خاندان بنانے کے امکان کو ترک کرتے ہوئے رضامندی کے ساتھ اپنے باپ کے وعدے کے مطابق عمل کِیا۔ کیا اُس کی قربانی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی؟ نہیں، کیونکہ قضاۃ ۱۱:۴۰ کہتی ہے: ”سال بسال اسرائیلی عورتیں جا کر برس میں چار دن تک اِفتاؔح جلعادی کی بیٹی کی یادگاری کرتی تھیں۔“ ایسی ملاقاتیں اِفتاؔح کی خودایثار بیٹی کے لئے بہت حوصلہافزا رہی ہونگی۔
بعض اوقات حوصلہافزائی دینا بھی ہمت کا تقاضا کرتا ہے۔ پولسؔ رسول کے پہلے مشنری دورے کے دوران، اُسے ایشیا کوچک کے مختلف شہروں میں سخت مخالفت کا سامنا ہوا۔ اسے اؔنطاکیہ سے نکال دیا گیا، اِکنیمؔ میں مارے جانے سے بال بال بچا اور لسترؔہ میں سنگسار کِیا گیا اور مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا۔ تاہم، اس کے تھوڑی ہی دیر بعد، پولسؔ اور اُس کے ساتھی ان شہروں میں واپس آئے اور ”شاگردوں کے دلوں کو مضبوط کرتے اور یہ نصیحت دیتے تھے کہ ایمان پر قائم رہو اور کہتے تھے ضرور ہے کہ ہم بہت مصیبتیں سہ کر خدا کی بادشاہی میں داخل ہوں۔“ (اعمال ۱۴:۲۱، ۲۲) ان نئے شاگردوں کی حوصلہافزائی کرنے کے لئے پولسؔ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے لئے تیار تھا۔
تاہم، نئے شاگردوں کو ہی حوصلہافزائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کئی سال بعد پولسؔ کو رؔومہ کے ایک نہایت مشکل سفر کا تجربہ ہوا، جہاں اُسے ایک مقدمے کا سامنا تھا۔ جب وہ اپنی منزل کے قریب پہنچا تو وہ کسی حد تک بےحوصلہ ہوا ہوگا۔ لیکن جب وہ رؔومہ کے جنوب مشرق میں ۷۴ کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچا تو اُس کے حوصلے بلند ہو گئے۔ کیوں؟ اسلئے کہ رؔومہ سے بھائی اؔپیس کے چوک اور تین سرؔای تک اُس سے ملنے کو آئے تھے۔ ”پولسؔ نے اُنہیں دیکھ کر خدا کا شکر کِیا اور اُس کی خاطر جمع ہوئی۔“ (اعمال ۲۸:۱۵) ایسے موقعوں پر، ہمارا حاضر ہونا ہی ساتھی ایمانداروں کے لئے بہت حوصلہافزا ہو سکتا ہے۔
حوصلہافزائی دینے کے مواقع سے فائدہ اُٹھائیں
یقیناً، حوصلہافزائی دینے کے لئے بہت سے مواقع ہیں۔ کیا آپ کا دل طالبعلم کی ایک عمدہ تقریر سے متاثر ہوا تھا جو کسی بھائی یا بہن نے تھیوکریٹک منسٹری سکول میں پیش کی؟ کیا آپ خوش ہیں کہ کلیسیا میں روحانی طور پر مضبوط نوعمر موجود ہیں؟ کیا عمررسیدہ اشخاص کی برداشت نے آپ کو متاثر کِیا ہے؟ کیا آپ نے پائنیروں میں سے کسی ایک کے گھرباگھر کی خدمتگزاری میں بائبل استعمال کرنے کے طریقے کو پسند کیا تھا؟ تو پھر شاباش دیں اور کوئی حوصلہافزا بات کہیں۔
حوصلہافزائی خاندان اور کلیسیا میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ والدین کی ”خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر“ اپنے بچوں کی پرورش کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ (افسیوں ۶:۴) ایک بچے کو یہ احساس دلانا کہ اُس نے بہت اچھا کام کِیا اور یہ وضاحت کرنا کہ کیوں ایسا ہے بہت حوصلہافزا ہو سکتا ہے! نوعمری کے سالوں کے دوران جب نوجوان بہت سی آزمائشوں اور دباؤ کا سامنا کرتے ہیں تو باقاعدہ حوصلہافزائی نہایت اہم ہوتی ہے۔
بچپن کے دوران حوصلہافزائی کی کمی بہت مُضر ہو سکتی ہے۔ آجکل مائیکلؔ، ایک دوستطبع، مسیحی بزرگ ہے لیکن وہ کہتا ہے: ”میرے باپ نے کبھی بھی مجھ سے نہیں کہا تھا کہ میں نے کوئی اچھا کام کِیا ہے۔ لہٰذا میں نے عزتِنفس کی کمی کے ساتھ پرورش پائی۔ . . . اگرچہ اب میں ۵۰ سال کا ہوں تو بھی میں ابھی تک اپنے دوستوں سے اس بات کی داد حاصل کرنے کی قدر کرتا ہوں کہ میں ایک بزرگ کے طور پر اچھی طرح کام کر رہا ہوں۔ . . . میرے ذاتی تجربے نے مجھے سکھا دیا ہے کہ دوسروں کی حوصلہافزائی کرنا کتنا اہم ہے اور میں حوصلہافزائی کرنے کے لئے جانفشانی کرتا ہوں۔“
کن کو حوصلہافزائی کی ضرورت ہے؟
محنتکش مسیحی بزرگ حوصلہافزائی کے مستحق ہیں۔ پولسؔ نے لکھا: ”اَے بھائیو! ہم تم سے درخواست کرتے ہیں کہ جو تم میں محنت کرتے اور خداوند میں تمہارے پیشوا ہیں اور تم کو نصیحت کرتے ہیں اُنہیں مانو۔ اور اُن کے کام کے سبب سے محبت کے ساتھ اُن کی بڑی عزت کرو۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۲، ۱۳) بزرگوں کی محنت کو معمولی خیال کرنا آسان بات ہے۔ لیکن مخلصانہ قدردانی کے الفاظ اور حوصلہافزائی اُن کے بوجھ کو ہلکا کر سکتے ہیں۔
ہمارے درمیان اُن لوگوں کو بھی حوصلہافزائی کی ضرورت ہے جو مشکل حالات کی برداشت کر رہے ہیں۔ ”کمہمتوں کو دلاسا دو۔ کمزوروں کو سنبھالو،“ بائبل مشورہ دیتی ہے۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴) تنہا ماں باپ، بیوائیں، نوعمر، عمررسیدہ اور کمزور ایسے لوگوں میں شامل ہوتے ہیں جو شاید کبھی نہ کبھی افسردہ یا روحانی طور پر کمزور محسوس کر سکتے ہیں۔
ماؔریا ایک ایسی مسیحی عورت ہے جسے اچانک یہ معلوم ہوا کہ اُس کے شوہر نے اُسے چھوڑ دیا ہے۔ اُس نے کہا: ”اؔیوب کی طرح میں نے بھی بعضاوقات مرنے کی خواہش کی۔ [ایوب ۱۴:۳۱] پھر بھی اس حوصلہافزائی کی بدولت جو مجھے حاصل ہوئی میں نے ہمت نہیں ہاری۔ دو بزرگوں نے، جنکو میں اچھی طرح جانتی تھی، مجھے کُلوقتی خدمت کو جاری رکھنے کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے مدد دینے میں کئی گھنٹے صرف کئے۔ اور دو ہمدرد بہنوں نے بھی مجھے تسلی دی اور جب میں نے اپنا دل انڈیل دیا تو بڑے تحمل کے ساتھ میری بات سنی۔ بائبل کو استعمال کرنے سے، اُنہوں نے مجھے یہوؔواہ کے نقطۂنظر سے معاملات کو پرکھنے کے قابل بنایا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہم نے کتنی مرتبہ زبور ۵۵:۲۲ کو پڑھا، لیکن یہ میں ضرور جانتی ہوں کہ اس صحیفے کا اطلاق کرنے سے میں نے آہستہ آہستہ اپنا روحانی اور جذباتی توازن دوبارہ بحال کر لیا۔ یہ سب ۱۲ سال قبل واقع ہوا اور میں یہ کہنے سے خوش ہوں کہ میں نے اب تک کُلوقتی خدمت کو جاری رکھا ہوا ہے۔ کبھیکبھار کی جذباتی کوفت کے باوجود میری زندگی بااجر اور خوشکُن ہے۔ میں اس بات کی قائل ہو گئی ہوں کہ ایسے وقت کے دوران حوصلہافزائی کسی شخص کی زندگی میں بہت اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے۔“
بعض کو اسلئے حوصلہافزائی کی ضرورت ہے کیونکہ اُن سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور اب انہیں درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید اُنہوں نے پُرمحبت ملامت حاصل کی ہو۔ (امثال ۲۷:۶) بزرگ جنہوں نے ملامت کی ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ صحیفائی مشورت کا اطلاق کِیا جا رہا ہے تو شاباش دینے کے لئے چوکس رہ سکتے ہیں۔ اُن کے حوصلہافزائی کے الفاظ سے دوہرا فائدہ ہوگا—خطاکار کے لئے اُن کی محبت کی تصدیق ہوگی تاکہ وہ ”غم کی کثرت“ کا شکار نہ ہو اور اُسے مشورت کا اطلاق کرنے کے فوائد کی یقیندہانی حاصل ہو جائیگی۔—۲-کرنتھیوں ۲:۷، ۸۔
کسی بزرگ نے ایک سنگین غلطی کی اور کلیسیا میں پیشوائی کرنے کا شرف کھو بیٹھا۔ ”جب بزرگ کے عہدے سے مجھے معزول کرنے کا اعلان کِیا گیا تو میں نے سوچا کہ بھائی میری رفاقت سے بےچینی محسوس کرینگے،“ وہ کہتا ہے۔ ”تاہم، بزرگوں نے وجہ کو بالکل رازداری میں رکھا اور میری حوصلہافزائی کرنے کے لئے بہت جانفشانی کی۔ اسی طرح باقی کلیسیا نے بھی محبت اور مستقل رفاقت کا اظہار کِیا جس نے یقیناً میری روحانی بحالی کو فروغ دیا۔“
حوصلہافزائی کرنے والے بنیں
ہماری مصروف زندگیوں میں، حوصلہافزائی کو نظرانداز کر دینا نہایت آسان ہے۔ لیکن یہ کتنی زیادہ بہتری پیدا کر سکتی ہے! مؤثر حوصلہافزائی دینے کے لئے آپ کو دو باتوں کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ پہلی بات جو کچھ کہنا ہے اُس کی بابت سوچیں تاکہ آپکی حوصلہافزائی صریح ہو۔ دوسری بات، اُس شخص تک رسائی حاصل کرنے کے موقع کی تلاش میں رہیں جو شاباش کا مستحق ہے یا جسے حوصلہافزائی کی ضرورت ہے۔
جتنا زیادہ آپ ایسا کرینگے، اُتنا زیادہ آپ خوش ہونگے۔ بہرصورت، یسوؔع ہمیں یقین دلاتا ہے: ”دینا لینے سے مبارک ہے۔“ (اعمال ۲۰:۳۵) دوسروں کی حوصلہافزائی کرنے سے، آپ خود اپنی حوصلہافزائی کرینگے۔ کیوں نہ ہر روز کسی کی حوصلہافزائی کرنے کو اپنا نصبالعین بنائیں؟ (۲۱ ۱/۱۵ w۹۵)