یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏1 ص.‏ 3-‏4
  • راستی برقرار رکھیں اور زندہ رہیں!‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • راستی برقرار رکھیں اور زندہ رہیں!‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ کی وفاداری کرتے رہیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • ہم ہمیشہ یہوواہ کے وفادار رہیں گے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • ایوب نے یہوواہ کے نام کی بڑائی کی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • ‏”‏مَیں مرتے دم تک اپنی راستی کو ترک نہ کروں گا“‏
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏1 ص.‏ 3-‏4

راستی برقرار رکھیں اور زندہ رہیں!‏

‏”‏خدا کی تکفیر کر اور مر جا“‏!‏ ہمارے رسالے کا سرِورق ایوؔب کی بیوی کی تصویرکشی کرتا ہے جو ان الفاظ کیساتھ اس پر حملہ‌آور ہوئی تھی۔ یہ تقریباً ۳،۶۰۰ سال پہلے کی بات ہے۔ تاہم خدا کے وفادار خادم پر یہ لفظی حملہ ایک مسئلے کو ظاہر کرتا ہے جس سے تاحال نسلِ‌انسانی دوچار ہے۔ وفادار ایوؔب نے شدید نقصانات اُٹھائے تھے—‏اپنے مال مویشیوں کا، اپنے گھر کا، اپنے دس بچوں کا۔ اب اسکا جسم اسکی برداشت کی انتہا کو آزماتے ہوئے طویل بیماری سے اذیت پا رہا تھا۔ وجہ؟ خدا اور انسان کا سب سے بڑا دشمن، شیطان ابلیس، ایک چیلنج کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ انسان سخت آزمائش کے تحت خدا کیلئے راستی برقرار نہیں رکھ سکتا۔—‏ایوب ۱:‏۱۱، ۱۲؛‏ ۲:‏۴، ۵،‏ ۹، ۱۰‏۔‏

ایوؔب کے زمانے کی طرح، آجکل، ”‏ساری دنیا اُس شریر،“‏ شیطان ابلیس ”‏کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏)‏ واقعی، آجکل یہ بات اور بھی سچ ہے، کیونکہ اِس وقت ”‏جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے،“‏ آسمان سے اس زمین پر پھینک دیا گیا ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۲:‏۹‏)‏ شدید رنج‌والم کا سبب یہی ہے جو ہمارے وقت میں نسلِ‌انسانی کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ ۱۹۱۴ میں چھڑنے والی پہلی عالمی جنگ نے ”‏مصیبتوں کے شروع ہونے“‏ کی نشاندہی کی جو اس ۲۰ویں صدی میں مسلسل بڑھتی گئی ہیں۔—‏متی ۲۴:‏۷، ۸‏۔‏

اس ظالم، فرسودہ دنیا میں کیا آپ کبھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ انسانی برداشت کی انتہا کو پہنچ گئے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ’‏آیا زندگی کا کوئی مقصد ہے؟‘‏ ایوؔب نے شاید ایسا ہی محسوس کِیا ہو، اگرچہ اس نے غلطیاں کیں لیکن اس نے خدا پر ایمان کبھی نہ چھوڑا۔ اس نے اپنے عزمِ‌مُصمم کا اظہار ان الفاظ میں کِیا:‏ ”‏میں مرتے دم تک اپنی راستی ترک نہ کروں گا۔“‏ اسے اعتماد تھا کہ خدا ’‏اسکی راستی کو جان لے‘‏ گا۔—‏ایوب ۲۷:‏۵؛‏ ۳۱:‏۶‏۔‏

خدا کے اپنے بیٹے، یسوؔع مسیح، کو بھی یہاں زمین پر آزمائشوں کو برداشت کرنا پڑا تھا۔ شیطان نے مختلف طریقوں سے یسوؔع پر حملہ کِیا۔ اس نے یسوؔع کی جسمانی ضروریات سے فائدہ اٹھایا اور پہاڑ پر آزمائش کرتے ہوئے خدا کے کلام پر اسکے اعتماد کا امتحان لیا۔ (‏متی ۴:‏۱-‏۱۱‏)‏ اس نے برگشتہ فقیہوں اور فریسیوں اور انکے بہکائے ہوئے اشخاص کے ذریعے یسوؔع کو اذیت دینے، اس پر کفر کا الزام لگانے اور اسے قتل کرنے کی سازش کرنے سے ہراسان کِیا۔ (‏لوقا ۵:‏۲۱؛‏ یوحنا ۵:‏۱۶-‏۱۸؛‏ ۱۰:‏۳۶-‏۳۹؛‏ ۱۱:‏۵۷‏)‏ انہوں نے یسوؔع کیساتھ ایوؔب کے تین جھوٹی تسلی دینے والوں کی نسبت زیادہ بُرا سلوک کِیا۔—‏ایوب ۱۶:‏۲؛‏ ۱۹:‏۱، ۲‏۔‏

گتسمنی کے باغ میں، جوں جوں یسوؔع اپنی آزمائش کے عروج پر پہنچا تو اس نے اپنے شاگردوں کو بتایا:‏ ”‏میری جان نہایت غمگین ہے۔ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔“‏ تب ”‏[‏اس نے]‏ مُنہ کے بل گر کر یوں دعا کی کہ اے میرے باپ!‏ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔ تو بھی نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔“‏ زبور ۲۲:‏۱ کے نبوّتی الفاظ کی تکمیل میں آخرکار، دکھ کی سولی پر یسوؔع پکار اُٹھا:‏ ”‏اے میرے خدا!‏ اے میرے خدا!‏ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟“‏ لیکن انجام‌کار خدا نے یسوؔع کو نہ چھوڑا کیونکہ یسوؔع نے تمام سچے مسیحیوں کیلئے تقلید کی خاطر ایک نمونہ مہیا کرتے ہوئے، اسکے لئے کامل راستی برقرار رکھی۔ یہوؔواہ نے یسوؔع کو زندہ کرنے اور اسے نہایت اونچے آسمانوں تک سربلند کرنے سے اسے راستی برقرار رکھنے کا انعام دیا۔ (‏متی ۲۶:‏۳۸، ۳۹؛‏ ۲۷:‏۴۶؛‏ اعمال ۲:‏۳۲-‏۳۶؛‏ ۵:‏۳۰؛‏ ۱-‏پطرس ۲:‏۲۱‏)‏ خدا ان تمام کو انعام دے گا جو اسی طرح اسکے لئے راستی برقرار رکھتے ہیں۔‏

یسوؔع کی راستی نے صرف شیطان کے چیلنج کا مکمل جواب ہی فراہم نہیں کیا بلکہ اسکی کامل انسانی زندگی کی قربانی نے فدیہ مہیا کِیا، جس کی بنیاد پر راستی برقرار رکھنے والے انسان ابدی زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔ (‏متی ۲۰:‏۲۸‏)‏ پہلے، یسوؔع ایک ممسوح ”‏چھوٹے گلے“‏ کو جمع کرتا ہے جو آسمانوں کی بادشاہت میں اسکے ساتھ ہم‌میراث بنتے ہیں۔ (‏لوقا ۱۲:‏۳۲‏)‏ اسکے بعد، ”‏بڑی مصیبت“‏ میں زندہ بچنے کیلئے ”‏ایک بڑی بِھیڑ“‏ کو جمع کِیا گیا ہے تاکہ وہ اس میں سے نکل کر زمین پر خدا کی بادشاہت کے قلمرو میں ابدی زندگی کے وارث بن جائیں۔—‏مکاشفہ ۷:‏۹،‏ ۱۴-‏۱۷‏۔‏

راستی برقرار رکھنے والا ایوؔب اُن کروڑوں مُردہ اشخاص کے درمیان ہوگا جو اُس وقت پُرامن ”‏نئے زمینی“‏ معاشرے کا حصہ بننے کیلئے زندہ کئے جائینگے۔ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳،‏ یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹‏)‏ ایوؔب کے زمانے میں راستی اپنا انعام رکھتی تھی جب یہوؔواہ نے ”‏ایوؔب کے آخری ایام میں ابتدا کی نسبت زیادہ برکت بخشی۔“‏ اس نے ”‏اپنے لبوں سے خطا نہ“‏ کرنے والے کے طور پر روحانی طاقت حاصل کی تھی۔ خدا نے اسکی زندگی ۱۴۰ سال مزید بڑھا دی۔ مادی طور پر، اس نے ایوؔب کو ان تمام چیزوں کا دُگنا دیا جو وہ اس سے پہلے رکھتا تھا، اور ایوؔب کے ”‏سات بیٹے اور تین بیٹیاں بھی ہوئیں،“‏ بیٹیوں کو ساری سرزمین میں نہایت حسین خیال کِیا جاتا تھا۔ (‏ایوب ۲:‏۱۰؛‏ ۴۲:‏۱۲-‏۱۷‏)‏ لیکن یہ تمام خوشحالی اُن برکات کا پیشگی اشارہ تھی جن سے راستی برقرار رکھنے والے ”‏نئے زمینی“‏ فردوس میں لطف اٹھائینگے۔ آپ بھی اس خوشی میں حصہ لے سکتے ہیں جیسا کہ اگلے صفحات بیان کرینگے!‏ (‏۳ ۱/۱ w۹۵)‏

‏[‏تصویر]‏

یسوؔع نے ایک راستی برقرار رکھنے والے کے طور پر کامل نمونہ قائم کِیا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں