شیطان اور اُسکے کاموں پر فتح پانا
”پس خدا کے تابع ہو جاؤ اور ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائیگا۔“—یعقوب ۴:۷۔
۱. ”شریر کے ہاتھ“ نے آجکل نوعِ انسانی کو کیسے متاثر کِیا ہے؟
ایوؔب نے درستی سے بیان کِیا: ”زمین شریر کے ہاتھ میں کر دی گئی ہے۔“ (ایوب ۹:۲۴، اینڈبلیو) اور اب ہم تمام انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ تشویشناک دَور کا سامنا کرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ زمین پر شیطان کے شیاطینی تسلط کا ”اخیر زمانہ“ ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ شیطان کے آمادہ کرنے پر، ’بُرے اور دھوکاباز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔‘ (۲-تیمتھیس ۳:۱، ۱۳) مزیدبرآں، اذیتیں، ناانصافیاں، ظلموستم، جرائم، معاشی مشکلات، دائمی بیماریاں، بڑھاپے کی ٹیسیں، جذباتی دباؤ—یہ اور مزید ایسی حالتیں ہم پر نہایت بُرا اثر ڈال سکتی ہیں۔
۲. آجکل ہم کس طرح شیطان کے حملوں پر قابو پا سکتے ہیں؟
۲ سب سے بڑا دشمن، شیطان ابلیس، نوعِانسانی پر اور بالخصوص خدا کے سچے پرستاروں پر پوری طاقت سے حملہ کر رہا ہے۔ اُس کا مقصد ہے کہ راستی برقرار رکھنے والے تمام امکانی اشخاص کو خدا کے خلاف کر دے اور اپنے شیاطینی فرشتوں کے ساتھ اُنہیں بربادی تک لے جائے۔ تاہم، اگر ہم راستی برقرار رکھتے ہیں تو ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ ابلیس ہم سے بھاگ جائیگا۔ یسوؔع کی مانند، جن چیزوں سے ہم دُکھ اُٹھاتے ہیں اُن سے ہم خدا کے لئے ’فرمانبرداری کرنا سیکھ‘ سکتے ہیں ’اور اس کے غیرمستحق فضل کے وسیلے سے‘ ہم ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔—عبرانیوں ۵:۷، ۸؛ یعقوب ۴:۷؛ ۱-پطرس ۵:۸-۱۰۔
۳، ۴. (ا) پولسؔ کو کن بیرونی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا؟ (ب) مسیحی بزرگ کے طور پر پولسؔ کی فکرمندی کیا تھی؟
۳ پولسؔ رسول بھی متعدد طریقوں سے آزمایا گیا تھا۔ مسیح کے خادم کے طور پر اپنے فضائل کو بیان کرتے ہوئے، اُس نے لکھا: ”میں زیادہ تر ہوں۔ محنتوں میں زیادہ۔ قید میں زیادہ۔ کوڑے کھانے میں حد سے زیادہ۔ بارہا موت کے خطروں میں رہا ہوں۔ میں نے یہودیوں سے پانچ بار ایک کم چالیس چالیس کوڑے کھائے۔ تین بار بینت لگے۔ ایک بار سنگسار کِیا گیا۔ تین مرتبہ جہاز ٹوٹنے کی بلا میں پڑا۔ ایک رات دن سمندر میں کاٹا۔ میں بارہا سفر میں۔ دریاؤں کے خطروں میں۔ ڈاکوؤں کے خطروں میں۔ اپنی قوم سے خطروں میں۔ غیرقوموں سے خطروں میں۔ شہر کے خطروں میں۔ بیابان کے خطروں میں۔ سمندر کے خطروں میں۔ جھوٹے بھائیوں کے خطروں میں۔ محنت اور مشقت میں۔ بارہا بیداری کی حالت میں۔ بھوک اور پیاس کی مصیبت میں۔ بارہا فاقہکشی میں۔ سردی اور ننگےپن کی حالت میں رہا ہوں۔
۴ ”اَور باتوں کے علاوہ جنکا میں ذکر نہیں کرتا سب کلیسیاؤں کی فکر مجھے ہر روز آ دباتی ہے۔ کس کی کمزوری سے میں کمزور نہیں ہوتا؟ کس کے ٹھوکر کھانے سے میرا دل نہیں دُکھتا؟“ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۲۳-۲۹) لہٰذا، پولسؔ نے بیرونی اذیتوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت راستی کو برقرار رکھا اور ایک مسیحی بزرگ کے طور پر، وہ کلیسیا کے کمزور بہن بھائیوں کو راستی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہوئے ان کو تقویت دینے کے معاملے میں بھی گہری فکر رکھتا تھا۔ آجکل کے مسیحی بزرگوں کے لئے کیا ہی عمدہ نمونہ!
اذیت کے تحت راستی
۵. براہِراست اذیت کا حل کیا ہے؟
۵ راستی کو توڑنے کے لئے شیطان کونسے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے؟ جیسا کہ اُوپر ظاہر کِیا گیا ہے، شیطان کی نہایت ہی عیارانہ چالوں میں سے ایک براہِراست اذیت ہے، لیکن اس کا حل موجود ہے۔ افسیوں ۶:۱۰، ۱۱ ہمیں نصیحت کرتی ہیں: ”خداوند میں اور اُس کی قدرت کے زور میں مضبوط بنو۔ خدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ تم ابلیس کے منصوبوں [یا ”عیارانہ کاموں،“ اینڈبلیو، فٹنوٹ] کے مقابلہ میں قائم رہ سکو۔“
۶. یہ کس طرح ظاہر کِیا جا سکتا ہے کہ یہوؔواہ کے گواہوں کو ”فتح سے بھی بڑھ کر غلبہ“ حاصل ہوا ہے؟
۶ ان آخری ایام کے دوران یہوؔواہ کے گواہوں کو اکثر آزمائشوں کا مقابلہ کرنا پڑا ہے۔ اس لئے، ہم پولسؔ کے ساتھ کہہ سکتے ہیں: ”سب حالتوں میں اُس کے وسیلہ سے جس نے ہم سے محبت کی ہم کو فتح سے بھی بڑھ کر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔“ (رومیوں ۸:۳۷) یہ بات ۱۹۳۳ اور ۱۹۴۵ کے درمیان نازی دَور کے دوران جرمنی، آسٹریا، پولینڈ اور یوگوسلاویہ کے مرکز اسیران میں، ۱۹۴۵ اور ۱۹۸۹ کے درمیان مشرقی یورپ میں کمیونسٹ استبداد کے تحت اور حالیہ وقتوں میں افریقہ اور لاطینی امریکہ کے حصوں کو تکلیف میں ڈالنے والی اذیتوں کے دوران یہوؔواہ کے گواہوں کی راستی کے ریکارڈ سے ثابت ہو گئی ہے۔
۷. ایتھیوپیا سے راستی کی کن ہیجانخیز مثالوں کی رپورٹ ملی ہے؟
۷ ایتھیوپیا میں ۱۹۷۴ اور ۱۹۹۱ کے درمیان یہوؔواہ کے گواہوں نے راستی کی نہایت ہی پُرجوش مثال فراہم کی۔ سیاسی ذہنیت رکھنے والے گرفتار کنندگان میں سے کسی نے ایک قیدی بھائی سے کہا: ”تم لوگوں کو دوبارہ آزاد کر دینے کی بجائے چڑیا گھر کے شیروں کو کھلا چھوڑ دینا بہتر ہے!“ ان ظالم ایذارسانوں نے یہوؔواہ کے خادموں کو اذیت پہنچائی اور چند سال بعد ایک اپیل کورٹ نے موت کی سزاؤں کا حکم دے دیا۔ ایک بھائی کی لاش کو تازیانہ عبرت کے طور پر عوامی نمائش کے لئے رکھ دیا گیا۔ دیگر بھائی جنہوں نے موت کی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی ایک زیادہ روادار عدالت سے رہا کر دئے گئے اور ان وفادار ’فاتحین‘ میں سے بعض کے ۱۹۹۴ کے اوائل میں عدیس ابابا میں منعقد ہونے والی ”الہٰی تعلیم“ ڈسٹرکٹ کنونشن کے پروگرام میں حصے بھی تھے۔a—یوحنا ۱۶:۳۳؛ مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۴:۹۔
۸. شیطان نے ”نسلی صفائی“ سے کیسے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے؟
۸ شیطان سامنے سے براہِراست حملہ کرنے سے ایسے وفادار بہنوں اور بھائیوں کی راستی کو توڑنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ پس، وہ اور کونسے عیارانہ ہتھکنڈے استعمال میں لاتا ہے؟ مکاشفہ ۱۲:۱۲ اِن آخری دنوں کی بابت کہتی ہے: ”اَے خشکی اور تری تم پر افسوس! کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اس لئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ اذیتوں کے ذریعے خدا کے وفادار لوگوں کو نیستونابود کرنے میں ناکام ہو جانے سے اپنے غصے میں وہ بلاشُبہ باقیماندہ کے ساتھ یہوؔواہ کے لوگوں کو بھی ہلاک کر دینے کے ارادہ کے ساتھ لوگوں کی تمام آبادیوں کے قتلِ عام کی کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا سابقہ یوگوسلاویہ کے حصوں میں نام نہاد نسلی صفائی کو عمل میں لایا گیا ہے اور لائبیریا، برونڈی اور روانڈا میں نسلکُشی کی کوشش کی گئی ہے۔
۹. شیطان کے ہتھکنڈے اکثر ناکام کیوں ہو جاتے ہیں؟ مثالیں دیں۔
۹ تاہم، شیطان کے ہتھکنڈوں کا اکثر الٹا اثر اُسی پر ہو جاتا ہے کیونکہ شیطانی دُکھ درد خلوصدل لوگوں کو یہ جان لینے کے لئے بیدار کر دیتا ہے کہ اُن کی واحد اُمید خدا کی بادشاہت پر ہی مبنی ہے جسکی یہوؔواہ کے گواہ گرمجوشی سے منادی کر رہے ہیں۔ (متی ۱۲:۲۱) یقیناً، دلچسپی رکھنے والے اشخاص بادشاہت کی جانب بڑھتے ہیں! مثال کے طور پر جھگڑے سے پاش پاش بوسنیا اور ہرزیگووینا میں ۲۶ مارچ ۱۹۹۴ کو یسوؔع کی موت کی یادگار کی تقریب پر ۱،۳۰۷ حاضر ہوئے جو گزشتہ سال سے ۲۹۱ زیادہ تھے۔ سرائیوو (۴۱۴)، زینتسا (۲۲۳)، تزلا (۳۳۹)، بانیے لوکا (۲۵۵) اور دیگر قصبوں میں حاضریوں کی انتہائی تعداد ریکارڈ کی گئی۔ ہمسایہ ملک کرویشیا میں ۸،۳۲۶ کی نئی انتہائی حاضری تھی۔ ان کے گردونواح میں وقوع پزیر ہونے والے تشدد نے اُن ممالک کے اندر یہوؔواہ کے گواہوں کو اس حکم کی تعمیل کرنے سے نہیں روکا کہ ”خداوند کی موت کا اظہار کرتے [رہو]۔ جب تک وہ نہ آئے۔“—۱-کرنتھیوں ۱۱:۲۶۔
فساد سے پاش پاش روانڈا میں
۱۰، ۱۱. (ا) نامنہاد مسیحی روانڈا میں کیا کچھ واقع ہوا ہے؟ (ب) وفادار مشنریوں نے اپنا اظہار کیسے کِیا ہے؟
۱۰ ۱۹۹۳ میں ۲،۰۸۰ بادشاہتی پبلشروں کے ساتھ ۴،۰۷۵ لوگ روانڈا میں ”الہٰی تعلیم“ ڈسٹرکٹ کنونشن پر حاضر ہوئے اور ۲۳۰ نے بپتسمہ لیا۔ ان میں سے ۱۴۲ نے فوراً ہی امدادی پائنیر خدمت کے لئے درخواست دے دی۔ ۱۹۹۴ میں کرائے جانے والے گھریلو بائبل مطالعے ۷،۶۵۵ تک بڑھ گئے—شیطان کے لئے یہ ترقی واضح طور پر ناگوار! اگرچہ عوام کی بڑی اکثریت مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے پھر بھی بین القبائلی (ہوٹو اور توتسی کے درمیان) قتلِ عام شروع کِیا گیا۔ ویٹیکن کے لا اوسرویٹور رؔومانو نے تسلیم کِیا: ”یہ تو سراسر نسلکُشی ہے، بدقسمتی سے جسکے کیتھولک بھی ذمہدار ہیں۔“ ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ مرد، عورتیں اور بچے ہلاک ہو گئے اور تقریباً دو ملین کو بےگھر کر دیا گیا یا بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اپنی غیرمتشدّد مسیحی غیرجانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے یہوؔواہ کے گواہوں نے ملکر رہنے کی کوشش کی۔ ہمارے سینکڑوں بھائی اور بہنیں قتل ہوئے لیکن ۶۵ پبلشروں کی ایک کلیسیا میں، جہاں پر ۱۳ قتل ہوئے، اگست ۱۹۹۴ تک اجلاس کی حاضری ۱۷۰ تک بڑھ گئی۔ دیگر ممالک سے یہوؔواہ کے گواہوں کی طرف سے بھیجی گئی امدادی اشیاء سب سے پہلے پہنچیں۔ ہم بچنے والوں کے حق میں دعائیں کر رہے ہیں۔—رومیوں ۱۲:۱۲؛ ۲-تھسلنیکیوں ۳:۱، ۲؛ عبرانیوں ۱۰:۲۳-۲۵۔
۱۱ اس تمام خوفوہراس کے درمیان تین مشنری جو کہ روانڈا میں تھے بچ نکلے۔ وہ لکھتے ہیں: ”ہم سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا میں ہمارے بھائیوں کو ایسی یا ان سے بھی بدتر حالتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس بدکار نظام کے آخری ایام کے نشان کا حصہ ہے۔ تاہم، جب ذاتی طور پر کسی پر گزرتی ہے تو یہ چیزوں کی حقیقت سے اس شخص کو آگاہ کرتی اور اس بات کی قدر کرنے میں اس شخص کی مدد کرتی ہے کہ زندگی کتنی بیش قیمت ہے۔ بعض صحائف ہمارے لئے نئی اہمیت کے حامل بن گئے ہیں اور ہم ایسے وقت کے منتظر ہیں جب پُرانی باتیں یاد تک نہیں آئینگی۔ اس اثنا میں ہم یہوؔواہ کی خدمت میں مشغول رہنا چاہتے ہیں۔“
راستی برقرار رکھنے والے نوجوان
۱۲، ۱۳. (ا) ایک نوعمر نے راستی برقرار رکھنے والی کونسی روش اختیار کی؟ (ب) آجکل ہمارے نوجوان کہاں سے حوصلہافزائی حاصل کر سکتے ہیں؟
۱۲ یسوؔع نے ظاہر کِیا کہ وہ جو سچائی کی خاطر خاندانی افراد کی طرف سے مسترد کر دئے گئے ہیں ”سو گُنا“ اجر پائیں گے۔ (مرقس ۱۰:۲۹، ۳۰) یہ بات شمالی افریقہ کی ایک دس سالہ لڑکی، اؔینٹیلیا کے حق میں سچ ثابت ہوئی، جس نے خدا کے نام—یہوؔواہ—کو جونہی سنا اُس سے محبت کی۔ اُس نے یہوؔواہ کے گواہوں کے ساتھ مطالعہ کِیا اور اجلاسوں پر آنے جانے کے لئے وہاں سے یکطرفہ ۹۰ منٹ پیدل چلتی تھی، اگرچہ اُس کا مخالف خاندان اُس کے واپس آنے پر اسے گھر میں داخل نہیں ہونے دیتا تھا۔ ۱۳ سال کی عمر میں اُس نے گھرباگھر منادی کرنا شروع کر دی اور خاندانی مخالفت شدت اختیار کر گئی۔ ایک دن رشتہداروں نے اُس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور سات گھنٹوں کے لئے اُسے تپتی دھوپ میں لٹا دیا اور گاہے بگاہے اُس پر گندا پانی پھینکتے تھے۔ اُنہوں نے اُسے بُری طرح پیٹا، اُس کی ایک آنکھ پھوڑ ڈالی اور آخرکار اُسے اُس کے گھر سے نکال دیا۔ تاہم، اسے ایک ہسپتال میں کام مِل گیا اور بالآخر ایک نرس بن گئی۔ ۲۰ سال کی عمر میں اس نے بپتسمہ پایا اور بلاتاخیر ایک امدادی پائنیر کے طور پر اندراج کروا دیا۔ اُس کی راستی سے متاثر ہو کر اُس کے خاندان نے اُسے اپنے گھر میں واپس قبول کر لیا ہے اور اُن میں سے نو اشخاص نے گھریلو بائبل مطالعے قبول کر لئے ہیں۔
۱۳ اؔینٹیلیا نے زبور ۱۱۶، بالخصوص ۱-۴ آیات سے بڑی حوصلہافزائی حاصل کی ہے، جنکو اُس نے بار بار پڑھا ہے: ”میں خداوند سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ اُس نے میری فریاد اور منت سنی ہے۔ چونکہ اُس نے میری طرف کان لگایا اس لئے میں عمر بھر اُس سے دعا کرونگا۔ موت کی رسیوں نے مجھے جکڑ لیا اور پاتال کے درد مجھ پر آ پڑے۔ میں دُکھ اور غم میں گرفتار ہوا۔ تب میں نے خداوند سے دعا کی کہ اَے خداوند! میں تیری منت کرتا ہوں میری جان کو رہائی بخش۔“ یہوؔواہ ایسی دعاؤں کا جواب دیتا ہے!
۱۴. پولینڈ کے گواہوں نے کسطرح نمایاں راستی دکھائی ہے؟
۱۴ یسوؔع کے زمانے کی طرح، شیطان نے اذیت کے شعلوں کو ہوا دینے کے لئے اکثر مذہبی جنون کو استعمال کِیا ہے—لیکن بغیر کامیابی کے۔ اس کی نمایاں مثال پولینڈ میں ہمارے بھائیوں کی ہے جیسے کہ ۱۹۹۴ ائیر بک آف جیہوواز وِٹنسز میں بیان کِیا گیا ہے۔ نوعمروں سے بھی خود کو راستی برقرار رکھنے والے ثابت کرنے کا تقاضا کِیا گیا تھا۔ ۱۹۴۶ میں ایک ایسی ہی ۱۵ سالہ لڑکی تھی جسے کہا گیا: ”صرف صلیب کا کیتھولک نشان بنا دو۔ ورنہ گولی تمہاری منتظر ہے!“ راستی قائم رکھنے کے باعث اُسے گھسیٹ کر جنگل میں لے جایا گیا، بُری طرح اذیت پہنچائی گئی اور گولی مار دی گئی۔—مقابلہ کریں متی ۴:۹، ۱۰۔
شیطان کے دیگر عیارانہ ہتھکنڈے
۱۵، ۱۶. (ا) شیطان کی شیاطینی پالیسی کیا ہے اور ہم اُس کی مزاحمت کیسے کر سکتے ہیں؟ (ب) ہمارے نوجوان لوگوں کے لئے ٹھوکر کھانے کی کوئی وجہ کیوں نہیں ہے؟
۱۵ بلاشُبہ شیطان کی شیاطینی پالیسی ہے ”حکومت کرو یا تباہ کرو!“ وہ اپنے اسلحہ خانہ میں بہت سے مُہلک ہتھیار رکھتا ہے۔ تو پھر اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ پولسؔ رسول آگاہ کرتا ہے: ”ہمیں خون اور گوشت سے کشتی نہیں کرنا ہے بلکہ حکومت والوں اور اختیار والوں اور اس دنیا کی تاریکی کے حاکموں اور شرارت کی اُن روحانی فوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔ اس واسطے تم خدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ بُرے دن میں مقابلہ کر سکو اور سب کاموں کو انجام دیکر قائم رہ سکو۔“ (افسیوں ۶:۱۲، ۱۳) مادہپرستانہ خواہشات، فرسودہ تفریح اور نشرواشاعت، شیطانی موسیقی، سکول میں ہمسروں کا دباؤ، منشیات کا ناجائز استعمال اور شراب نوشی—ان میں سے کوئی بھی چیز ہماری زندگیوں کو تباہ کر سکتی ہے۔ لہٰذا، رسول مشورت دیتا ہے: ”اُن سب کے ساتھ ایمان کی سپر لگا کر قائم رہو۔ جس سے تم اُس شریر کے سب جلتے ہوئے تیروں کو بجھا سکو۔“—افسیوں ۶:۱۶۔
۱۶ اس عجیب موسیقی کے پیشِنظر جس سے شیطان اس دنیا کو آلودہ کر رہا ہے یہ بات آجکل خاص طور پر ضروری دکھائی دیتی ہے۔ بعض صورتوں میں تو شیطانپرستی کے ساتھ براہِراست تعلق پایا جاتا ہے۔ سان ڈیایگو کاؤنٹی (یو۔ایس۔اے) شیرف کے دفتر سے ایک رپورٹ کہتی ہے: ”یہاں ایک موسیقی کا پروگرام ہوا جس میں سازندوں کے طائفے کے ساتھ ۱۵،۰۰۰ بچے ’ناطیش‘ کا راگ الاپ رہے تھے—جو کہ شیطان کے اُلٹے ہجے کئے گئے ہیں۔“ شیطانپرستی کو ایک ایسے گڑھے کے طور پر بیان کِیا گیا ہے جس میں بعض نوعمر ٹھوکر کھا کر گر جاتے ہیں ”کیونکہ وہ بےچینی، غصے اور تنہائی میں مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں۔“ مسیحی کلیسیا کے نوجوانو! آپکو ٹھوکر کھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہوؔواہ آپ کے لئے روحانی زرہبکتر مہیا فرماتا ہے جس میں شیطانی تیر کبھی بھی چھید نہیں کر پائینگے۔—زبور ۱۶:۸، ۹۔
۱۷. جذباتی دباؤ پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟
۱۷ جلتے ہوئے شیطانی تیر جذبات کے ساتھ کھیلنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ جسمانی علالت یا نہایت افسردگی کی حالت جیسے زندگی کے بوجھوں کے ذریعے ہمارا دشمن بعض کے لئے نکمّے پن کے احساس میں پڑ جانے کا باعث بن سکتا ہے۔ کوئی شاید خدا کی خدمت میں زیادہ گھنٹے صرف کرنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے یا پھر کلیسیا کے کچھ اجلاسوں سے غیرحاضر ہونے کی وجہ سے بےحوصلہ ہو گیا ہو۔ بزرگوں اور دیگر رحمدل بھائیوں اور بہنوں کی طرف سے پُرمحبت فکرمندی مشکل ذہنی صدموں پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہوؔواہ اپنے وفادار خادموں کو پیار کرتا ہے۔ (۱-یوحنا ۴:۱۶، ۱۹) زبور ۵۵:۲۲ بیان کرتی ہے: ”اپنا بوجھ خداوند پر ڈالدے۔ وہ تجھے سنبھالیگا۔ وہ صادق کو کبھی جنبش نہ کھانے دیگا۔“
۱۸. بعض کو کن شیطانی منصوبوں کے خلاف نبردآزما ہونا پڑتا ہے؟
۱۸ شیطان کے عیارانہ ”منصوبے“ حال ہی میں ایک اور صورت میں بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض ممالک میں بہت سے بالغوں نے اس شدید تاثر کو منتقل کرتے ہوئے جارحانہ خیالات کا تجربہ کِیا ہے کہ شیطانی مسلکوں نے اپنی ناجائز جنسی تسکین کے لئے بچوں کے طور پر اُن کے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ ایسے خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ وسیع تحقیق کے باوجود دنیاوی ماہرین کی آراء بہت مختلف ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ ایسے خیالات حقیقی یادیں ہیں، دیگر سوچتے ہیں کہ یہ تصورات ہیں—جو شاید قابلاعتراض علاج کے طریقِکار کے باعث بنے ہوں—اور دیگر انہیں بچپن کے کسی صدمے سے متعلق وہم کی قسم سمجھتے ہیں۔
۱۹. (ا) ایوؔب کو کن خیالات کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑا؟ (ب) بزرگ الیہوؔ کے نمونے کی پیروی کسطرح کر سکتے ہیں؟
۱۹ یہ دلچسپی کی بات ہے کہ خدا کے خادم ایوؔب کو بھی ایسے ”پریشانکُن خیالوں“ سے دوچار ہونا پڑا جو شیطان نے الیفزؔ اور ضوؔفر کے ذریعے منتقل کئے تھے۔ (ایوب ۴:۱۳-۱۸؛ ۲۰:۲، ۳، اینڈبلیو) یوں ایوؔب ”کڑھنے“ میں مبتلا ہو گیا جو اس کے لئے اُس کے ذہن کو متاثر کرنے والی ”دہشت“ کی بابت ”بےتاملی“ میں اُلجھ جانے پر منتج ہوئی۔ (ایوب ۶:۲-۴؛ ۳۰:۱۵، ۱۶) الیہوؔ نے خاموشی کے ساتھ ایوؔب کی بات سنی اور خلوصدلی سے معاملات کی بابت حکمت سے معمور یہوؔواہ کے نقطۂنظر کو سمجھنے میں اُس کی مدد کی۔ اسی طرح سے آجکل، سمجھدار بزرگ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایسے مصیبتزدہ اشخاص پر مزید ”رُعب“ نہ ڈالنے سے ان کی فکر رکھتے ہیں۔ بلکہ الیہوؔ کی طرح، وہ تحمل کے ساتھ اُن کی بات سنتے ہیں اور پھر خدا کے کلام کا تسکین پہنچانے والا تیل استعمال کرتے ہیں۔ (ایوب ۳۳:۱-۳، ۷؛ یعقوب ۵:۱۳-۱۵) لہٰذا حقیقی یا تخیلاتی صدموں کے باعث جس کسی کے بھی جذبات مجروح ہوئے ہیں یا جو ایوؔب کی مانند ”خوابوں . . . اور رویتوں سے . . . سہما“ ہوا ہے وہ کلیسیا کے اندر تسکین بخش صحیفائی آرام حاصل کر سکتا ہے۔—ایوب ۷:۱۴؛ یعقوب ۴:۷۔
۲۰. پریشان مسیحیوں کی اپنے روحانی توازن کو قائم رکھنے کے لئے کیسے مدد کی جا سکتی ہے؟
۲۰ موجودہ دَور میں ایک مسیحی اس بات کا یقین رکھ سکتا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے، اِن خوفناک خیالات کی پُشت پر شیطان ہے۔ اگر کلیسیا میں بعض اس طریقے سے تکلیف اٹھاتے ہیں تو وہ ایسے ہولناک ذہنی تاثرات کو اپنے روحانی توازن کو خراب کرنے کے لئے شیطان کی براہِراست کوشش خیال کرنے میں سمجھدار ہیں۔ انہیں متحمل اور فہیم صحیفائی مدد کی ضرورت ہے۔ دعا کے ساتھ یہوؔواہ کی طرف رجوع کرنے اور روحانی گلّہبانی سے مستفید ہونے سے افسردگی کا تجربہ کرنے والے اپنے لئے حد سے زیادہ قدرت حاصل کرینگے۔ (یسعیاہ ۳۲:۲؛ ۲-کرنتھیوں ۴:۷، ۸) لہٰذا وہ وفاداری کے ساتھ برداشت کرنے اور بیجا مداخلت کرنے والے بُرے خیالات کو کلیسیا کے امن کو متاثر کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرنے کے قابل ہونگے۔ (یعقوب ۳:۱۷، ۱۸) جیہاں، وہ اُسی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابلیس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونگے جیسا کہ یسوؔع نے کِیا جب اُس نے کہا: ”اَے شیطان دُور ہو۔“—متی ۴:۱۰؛ یعقوب ۴:۷۔
۲۱. صحائف شیطان کے مکارانہ طریقوں سے کیسے خبردار کرتے ہیں؟
۲۱ ہم جانتے ہیں کہ شیطان کا مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طرح ہمارے ذہنوں کو بگاڑ دے، جیسے کہ پولسؔ رسول نے ۲-کرنتھیوں ۱۱:۳ میں آگاہ کِیا: ”میں ڈرتا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح سانپ نے اپنی مکاری سے حوؔا کو بہکایا اُسی طرح تمہارے خیالات بھی اُس خلوص اور پاکدامنی سے ہٹ جائیں جو مسیح کے ساتھ ہونی چاہئے۔“ خدا سے بیگانہ تمام بشر یا انسانی معاشرے کی موجودہ بربادی ہمیں اُس زوال کی یاد دلاتی ہے جو نوؔح کے زمانے کے دوغلے بدکار اور متشدّد ”جباروں“ نے برپا کر رکھا تھا۔ (پیدایش ۶:۴، ۱۲، ۱۳، فٹنوٹ، اینڈبلیو؛ لوقا ۱۷:۲۶) اس لئے یہ کوئی حیرانکُن بات نہیں کہ شیطان بالخصوص خدا کے لوگوں کے خلاف اپنا قہر اُگلنے کے لئے عیارانہ کاموں اور مکارانہ ذرائع کی طرف رجوع کرتا ہے۔—۱-پطرس ۵:۸؛ مکاشفہ ۱۲:۱۷۔
۲۲. شیطان کو راہ سے ہٹا دینے کے بعد کن برکات کی توقع کی جا سکتی ہے؟
۲۲ بائبل کی ایوب نامی کتاب کے آخری ابواب میں شیطان کا تو ذکر تک بھی نہیں کِیا گیا۔ اُس کا یہ شرانگیز چیلنج ایوؔب کی راستی سے جھوٹا ثابت ہو چکا ہے کہ انسان خدا کے لئے راستی برقرار رکھ ہی نہیں سکتے۔ اسی طرح مستقبل قریب میں جب راستی برقرار رکھنے والوں کی ایک ”بڑی بھیڑ“ ”بڑی مصیبت میں سے نکل“ آتی ہے تو پھر شیطان کو اتھاہ گڑھے میں ڈالا جائیگا۔ ایوؔب سمیت ایماندار مرد اور عورتیں ایوؔب کو عطاکردہ برکات سے بھی زیادہ شاندار فردوسی برکات سے لطفاندوز ہونے کے لئے ”بڑی بھیڑ“ سے آ ملیں گے!—مکاشفہ ۷:۹-۱۷؛ ۲۰:۱-۳، ۱۱-۱۳؛ ایوب ۱۴:۱۳۔ (۵ ۱/۱ w۹۵)
[فٹنوٹ]
a ۱۹۹۲ ائیر بک آف جیہوواز وِٹنسز کے صفحہ ۱۷۷ کو دیکھیں۔
اعادے میں سوالات
▫ ایوؔب، یسوؔع اور پولسؔ نے راستی کے کونسے عمدہ نمونے قائم کئے؟
▫ راستی برقرار رکھنے والوں نے شیطان کا سامنا کیسے کِیا ہے؟
▫ نوجوان شیطان کے عیارانہ ہتھکنڈوں کی مزاحمت کسطرح کر سکتے ہیں؟
▫ شیطانی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا کچھ کِیا جا سکتا ہے؟
[تصویر]
ایتھیوپیا میں، مسوؔاٹ اور یوؔآلن اپنے والد کے نمو نے کی تقلید میں جسے قتل کر دیا گیا تھا اس وقت یہوؔواہ کی کُلوقتی خدمت کر تے ہیں
[تصویر]
اؔینٹیلیا، راستی برقرار رکھنے والی شمالی افریقہ کی ایک نوجوان