یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏1 ص.‏ 27-‏32
  • خدا کے نبیوں کو نمونہ سمجھیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدا کے نبیوں کو نمونہ سمجھیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اُنہوں نے دُکھ اُٹھایا
  • انہوں نے صبر کِیا
  • ‏”‏[‏اُنہوں]‏ نے ویسا ہی کِیا“‏
  • وہ مثبت رجحان رکھتے تھے
  • حوصلہ‌افزائی کے ماخذ
  • جوش اور انتظار کرنے والا رجحان
  • آجکل صبر دکھانا
  • دلیری سے خدا کا کلام سنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • یہوواہ جیسا صبر ظاہر کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • نبیوں کی مثال پر عمل کریں—‏عاموس۔‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۳
  • یوایل اور عاموس کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏1 ص.‏ 27-‏32

خدا کے نبیوں کو نمونہ سمجھیں

‏”‏اَے بھائیو!‏ جن نبیوں نے خداوند کے نام سے کلام کِیا اُن کو دُکھ اُٹھانے اور صبر کرنے کا نمونہ سمجھو۔“‏—‏یعقوب ۵:‏۱۰‏۔‏

۱.‏ کونسی چیز یہوؔواہ کے خادموں کی خوش ہونے میں مدد کرتی ہے اس وقت بھی جب وہ اذیت اٹھاتے ہیں؟‏

یہوؔواہ کے خادم اِن آخری ایام میں پوری دنیا کے اندر پھیلی ہوئی مایوسی کے باوجود خوشی بکھیرتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ خدا کو خوش کر رہے ہیں۔ یہوؔواہ کے گواہ اذیت اور اپنی عوامی خدمتگزاری کی مخالفت کے تحت بھی حوصلہ رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ راستبازی کی خاطر مصیبت اُٹھا رہے ہیں۔ یسوؔع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو بتایا:‏ ”‏جب میرے سبب سے لوگ تمکو لعن‌طعن کرینگے اور ستائینگے اور ہر طرح کی بُری باتیں تمہاری نسبت ناحق کہیں گے تو تم مبارک ہوگے۔ خوشی کرنا اور نہایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے اس لئے کہ لوگوں نے اُن نبیوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے اسی طرح ستایا تھا۔“‏ (‏متی ۵:‏۱۰-‏۱۲‏)‏ یقیناً، جب بھی خدا کے خادموں کو ایمان کی آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے تو وہ انہیں ایک خوشی خیال کرتے ہیں۔—‏یعقوب ۱:‏۲، ۳‏۔‏

۲.‏ یعقوب ۵:‏۱۰ کے مطابق، کیا چیز صبر کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

۲ شاگرد یعقوؔب نے لکھا:‏ ”‏اَے بھائیو!‏ جن نبیوں نے خداوند کے نام سے کلام کِیا اُن کو دُکھ اُٹھانے اور صبر کرنے کا نمونہ سمجھو۔“‏ (‏یعقوب ۵:‏۱۰‏)‏ یہاں پر جس یونانی لفظ (‏ہائپو ڈیگما)‏ کا ترجمہ ”‏نمونہ“‏ کِیا گیا ہے ڈبلیو.‏ایف.‏آرنٹ اور ایف.‏ڈبلیو.‏گِنگ‌رچ اُس کی تعریف ایک اچھے مفہوم میں ”‏مثال، تقلید، نمونہ،“‏ کے طور پر کرتے ہیں ”‏ایک ایسی چیز جو کسی کو اپنی پیروی کرنے کی ترغیب دیتی ہے یا جسے ترغیب دینی چاہئے۔“‏ جیسا کہ یوحنا ۱۳:‏۱۵ میں ظاہر کِیا گیا ہے، ”‏یہ ایک مثال سے بڑھکر ہے۔ یہ قطعی اولین نمونہ ہے۔“‏ (‏تھیولاجیکل ڈکشنری آف دی نیو ٹسٹامنٹ)‏ لہٰذا یہوؔواہ کے جدید زمانے کے گواہ اُس کے وفادار نبیوں کو ’‏دُکھ اُٹھانے‘‏ اور ’‏صبر کا مظاہرہ کرنے‘‏ کے معاملے میں نمونہ سمجھ سکتے ہیں۔ جب ہم اُن کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اَور کیا سمجھ سکتے ہیں؟ اور یہ ہماری منادی کی کارگزاری میں کیسے ہماری مدد کر سکتا ہے؟‏

اُنہوں نے دُکھ اُٹھایا

۳، ۴.‏ امصیاؔہ کی طرف سے مخالفت کے لئے عاؔموس نبی نے کیسے ردِعمل دکھایا؟‏

۳ یہوؔواہ کے نبیوں نے اکثر دُکھ اُٹھایا یا بدسلوکی برداشت کی۔ مثال کے طور پر، ۹ ویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں بچھڑے کی پوجا کرنے والے امصیاؔہ کاہن نے بڑی بُری طرح عاؔموس نبی کی مخالفت کی۔ امصیاؔہ نے دروغگوئی سے دعویٰ کِیا کہ عاؔموس نے یہ پیشینگوئی کرنے سے یرؔبعام دوئم کے خلاف سازش کی ہے کہ بادشاہ تلوار سے مرے گا اور اؔسرائیل اسیری میں چلا جائیگا۔ توہین آمیز انداز میں امصیاؔہ نے عاؔموس سے کہا:‏ ”‏اَے غیب گو تُو یہوؔداہ کے ملک کو بھاگ جا۔ وہیں کھا پی اور نبوّت کر۔ پر بیتؔ‌ایل میں پھر کبھی نبوّت نہ کرنا کیونکہ یہ بادشاہ کا مقدِس اور شاہی محل ہے۔“‏ اس شدید زبانی حملے سے بے‌حوصلہ ہوئے بغیر، عاؔموس نے جواب دیا:‏ ”‏میں نہ نبی ہوں نہ نبی کا بیٹا بلکہ چرواہا اور گولر کا پھل بٹورنے والا ہوں۔ اور جب میں گلّہ کے پیچھے پیچھے جاتا تھا تو خداوند نے مجھے لیا اور فرمایا کہ جا میری قوم اسرائیل سے نبوّت کر۔“‏—‏عاموس ۷:‏۱۰-‏۱۵۔‏

۴ یہوؔواہ کی روح نے جرأتمندی سے نبوّت کرنے کے لئے عاؔموس کو تقویت بخشی۔ امصیاؔہ کے ردِعمل کا تصور کریں جب عاؔموس نے کہا:‏ ”‏اب تُو خداوند کا کلام سُن۔ تُو کہتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف نبوّت اور اضحاؔق کے گھرانے کے خلاف کلام نہ کر۔ اس لئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ تیری بیوی شہر میں کسبی بنے گی اور تیرے بیٹے اور تیری بیٹیاں تلوار سے مارے جائینگے اور تیری زمین جریب سے تقسیم کی جائیگی اور تُو ایک ناپاک ملک میں مریگا اور اؔسرائیل یقیناً اپنے وطن سے اسیر ہو کر جائیگا۔“‏ یہ پیشینگوئی سچ ثابت ہوئی۔ (‏عاموس ۷:‏۱۶، ۱۷)‏ برگشتہ امصیاؔہ کو کتنا صدمہ پہنچا ہوگا!‏

۵.‏ یہوؔواہ کے جدید زمانے کے خادموں اور عاؔموس نبی کے درمیان کونسی مماثلت کو حاصل کِیا جا سکتا ہے؟‏

۵ آجکل یہ یہوؔواہ کے لوگوں کی حالت کے مترادف ہے۔ ہم خدا کے پیغامات سنانے والوں کے طور پر دُکھ اُٹھاتے ہیں اور بہتیرے لوگ ہماری منادی کی کارگزاری کی بابت توہین آمیز باتیں کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں منادی کرنے کا اختیار کسی مذہبی سیمنری کی طرف سے نہیں ملا۔ بلکہ، یہوؔواہ کی پاک روح بادشاہت کی خوشخبری کا اعلان کرنے کے لئے ہمیں اُکساتی ہے۔ ہم نہ تو خدا کے پیغام کو بدلتے ہیں اور نہ ہی اس کے اثر کو کم کرتے ہیں۔ اس کی بجائے، عاؔموس کی مانند، ہم اپنے سامعین کے ردِعمل سے قطع‌نظر تابعداری کے ساتھ اسکا اعلان کرتے ہیں۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۵-‏۱۷‏۔‏

انہوں نے صبر کِیا

۶، ۷.‏ (‏ا)‏ یسعیاؔہ کے نبوّت کرنے میں امتیازی وصف کیا تھا؟ (‏ب)‏ یہوؔواہ کے جدید زمانے کے خادم کیسے یسعیاؔہ کی طرح عمل کرتے ہیں؟‏

۶ خدا کے نبیوں نے صبر کِیا۔ مثال کے طور پر، یسعیاؔہ نے صبر ظاہر کِیا جس نے آٹھویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں یہوؔواہ کے نبی کے طور پر خدمت کی۔ خدا نے اُسے حکم دیا:‏ ”‏جا، اور تُو اُس اُمت سے ضرور کہہ دے، ’‏اَے لوگو، بار بار سنو، مگر نہ سمجھو؛ اور بار بار دیکھو لیکن کوئی معرفت حاصل نہ کرو۔‘‏ اس اُمت کے دل کو غیراثرپذیر بنا دے اور اُن کے کانوں کو بے‌حس کر دے، اُن کی آنکھوں کو چپکا دے تاکہ نہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور نہ وہ اپنے کانوں سے سن سکیں اور اُن کا اپنا دل نہ سمجھے اور یہ کہ وہ واقعی رجوع لائیں اور اپنے لئے شفا پائیں۔“‏ (‏یسعیاہ ۶:‏۹، ۱۰‏، این‌ڈبلیو)‏ لوگوں نے واقعی ایسا ہی ردِعمل دکھایا۔ لیکن کیا یہ یسعیاؔہ کے ہمت ہارنے کا باعث ہوا؟ بالکل نہیں۔ بلکہ، اس نے صبر اور جوش کے ساتھ یہوؔواہ کے آگاہی دینے والے پیغامات کا اعلان کیا۔ خدا کے الفاظ کی عبرانی ساخت جنکا ابھی حوالہ دیا گیا ہے نبی کے اُن اعلانات کے ”‏طویل تسلسل“‏ کے خیال کی تائید کرتی ہے جنکو لوگوں نے ”‏بار بار سنا۔“‏—‏گیزینیس ہیبرو گرامر۔‏

۷ آجکل بہتیرے خوشخبری کے لئے بالکل ویسا ہی جوابی‌عمل دکھاتے ہیں جیسا لوگوں نے یسعیاہ کی معرفت پہنچائے گئے یہوؔواہ کے الفاظ کے لئے دکھایا۔ تاہم، اُس وفادار نبی کی مانند ہم بھی بادشاہتی پیغام کو ”‏بار بار“‏ دہراتے ہیں۔ ہم جوش اور متحمل مستقل مزاجی کے ساتھ ایسا کرتے ہیں کیونکہ یہ یہوؔواہ کی مرضی ہے۔‏

‏”‏[‏اُنہوں]‏ نے ویسا ہی کِیا“‏

۸، ۹.‏ یہوؔواہ کا نبی موسیٰؔ کن طریقوں سے ایک عمدہ مثال ہے؟‏

۸ صبر اور فرمانبرداری میں موسیٰؔ نبی مثالی تھا۔ اُس نے غلام اسرائیلیوں کی حمایت کرنے کا انتخاب کِیا لیکن اُسے اُن کی رہائی کے وقت کے لئے صبر کے ساتھ انتظار کرنا تھا۔ ۴۰ برس تک وہ مدؔیان میں رہا جبتک کہ خدا نے اُسے اسرائیل کے لوگوں کو غلامی میں سے نکال لے جانے کے واسطے پیشوائی کے لئے استعمال نہ کِیا۔ جب موسیٰؔ اور اُسکا بھائی ہاؔرون مصرؔ کے حکمران کے سامنے تھے تو جو خدا نے حکم دیا تھا اُنہوں نے تابعداری کے ساتھ ویسا ہی کیا اور کہا۔ بالکل، ”‏[‏اُنہوں]‏ نے ویسا ہی کِیا۔“‏—‏خروج ۷:‏۱-‏۶؛‏ عبرانیوں ۱۱:‏۲۴-‏۲۹‏۔‏

۹ موسیٰؔ نے بیابان میں اسرائیل کے ۴۰ سخت‌گیر سالوں کی بڑے صبر کے ساتھ برداشت کی۔ اُس نے اسرائیل کے خیمۂ‌اجتماع کی تعمیر اور یہوؔواہ کی پرستش میں استعمال ہونے والی دیگر چیزوں کے بنانے میں بھی فرمانبرداری کے ساتھ الہٰی ہدایات پر عمل کِیا۔ نبی نے اتنی احتیاط سے خدا کی ہدایات پر عمل کِیا کہ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏موسیٰؔ نے سب کچھ جیسا خداوند نے اُسکو حکم کِیا تھا اُسی کے مطابق کِیا۔“‏ (‏خروج ۴۰:‏۱۶)‏ یہوؔواہ کی تنظیم کے ساتھ رفاقت میں اپنی خدمتگزاری کو پورا کرنے کے لئے آئیے ہم موسیٰؔ کی فرمانبرداری کو یاد رکھیں اور ’‏اپنے پیشواؤں کے فرمانبردار رہنے‘‏ کے لئے پولسؔ رسول کی مشورت کا اطلاق کریں۔—‏عبرانیوں ۱۳:‏۱۷‏۔‏

وہ مثبت رجحان رکھتے تھے

۱۰، ۱۱.‏ (‏ا)‏ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ ہوسیعؔ نبی ایک مثبت نظریہ رکھتا تھا؟ (‏ب)‏ جب ہم اپنے علاقوں میں لوگوں کے پاس جاتے ہیں تو ہم کیسے ایک مثبت رجحان برقرار رکھ سکتے ہیں؟‏

۱۰ نبیوں کو مثبت رجحان کی ضرورت تھی جب اُنہوں نے عدالتی پیغامات کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں پراگندہ ایماندار لوگوں کے لئے خدا کی پُرمحبت فکرمندی کو منعکس کرنے والی پیشینگوئیوں کا اعلان کِیا۔ یہ بات ہوسیعؔ کے معاملے میں سچ تھی جو ۵۹ سال سے نبی تھا۔ اُس نے ایک مثبت انداز سے، یہوؔواہ کے پیغامات کو سنانا جاری رکھا اور اپنی نبوّتی کتاب کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کِیا:‏ ”‏دانشمند کون ہے کہ وہ یہ باتیں سمجھے اور دُوراندیش کون ہے جو انکو جانے؟ کیونکہ خداوند کی راہیں راست ہیں اور صادق اُن میں چلینگے لیکن خطاکار اُن میں گِر پڑینگے۔“‏ (‏ہوسیع ۱۴:‏۹)‏ جب تک یہوؔواہ ہمیں گواہی دینے کی اجازت دیتا ہے، ہمیں چاہئے کہ مثبت رجحان رکھیں اور اُن لوگوں کی تلاش کرتے رہیں جو دانشمندی کے ساتھ خدا کے غیرمستحق فضل کو قبول کریں گے۔‏

۱۱ ’‏مستحق اشخاص کی تلاش‘‏ کرنے میں ہمیں ثابت‌قدم رہنے اور معاملات کو مثبت انداز سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ (‏متی ۱۰:‏۱۱‏)‏ مثال کے طور پر، اگر ہم سے ہماری چابیاں گم ہو جاتی ہیں تو ہم شاید اُلٹے پاؤں واپس جائیں اور اُن جگہوں پر تلاش کریں جہاں ہم گئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم بار بار ایسا کرنے کے بعد انہیں ڈھونڈ لیں۔ آئیے ہم اسی طرح بھیڑ خصلت لوگوں کو تلاش کرنے میں ثابت‌قدم رہیں۔ ہمیں کتنی خوشی ہوتی ہے جب وہ اکثروبیشتر کئے گئے علاقے میں خوشخبری کے لئے جوابی‌عمل دکھاتے ہیں!‏ اور ہم کسقدر خوش ہوتے ہیں کہ خدا ایسے ممالک میں بھی ہمارے کام کو برکت دے رہا ہے جہاں پابندیوں نے پہلے ہماری عوامی خدمتگزاری کو محدود کر دیا تھا!‏—‏گلتیوں ۶:‏۱۰‏۔‏

حوصلہ‌افزائی کے ماخذ

۱۲.‏ یوؔایل کی کونسی پیشینگوئی ۲۰ ویں صدی کی تکمیل حاصل کر رہی ہے اور کیسے؟‏

۱۲ یہوؔواہ کے نبیوں کی باتیں ہماری خدمتگزاری میں ہمارے لئے بڑی حوصلہ‌افزائی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر یوؔایل کی پیشینگوئی پر غور کریں۔ اس میں عدالتی پیغامات پائے جاتے ہیں جن پر برگشتہ اسرائیلیوں اور نویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں رہنے والے دیگر لوگوں کی توجہ دلائی گئی تھی۔ تاہم، یوؔایل کو یہ پیشینگوئی کرنے کا بھی الہام ہوا تھا:‏ ”‏میں ہر فردِبشر پر اپنی روح نازل کرونگا اور تمہارے بیٹے اور بیٹیاں نبوّت کرینگے۔ تمہارے بوڑھے خواب اور جوان رویا دیکھینگے۔ بلکہ میں اُن ایام میں غلاموں اور لونڈیوں پر اپنی روح نازل کرونگا۔“‏ (‏یوایل ۲:‏۲۸، ۲۹‏)‏ یہ بات ۳۳ س.‏ع.‏ کے پنتِکُست سے لیکر یسوؔع کے پیروکاروں کے حق میں سچ ثابت ہوئی ہے۔ اور اس ۲۰ ویں صدی میں ہم اس پیشینگوئی کی کیا ہی شاندار تکمیل دیکھتے ہیں!‏ آجکل ہمارے پاس یہوؔواہ کے پیغام کی ”‏نبوّت،“‏ یا اعلان کرنے والے لاکھوں لوگ ہیں—‏ان میں ۶،۰۰،۰۰۰ سے زائد کُل‌وقتی پائنیر خدمت میں ہیں۔‏

۱۳، ۱۴.‏ کونسی چیز میدانی خدمتگزاری میں خوشی حاصل کرنے کے لئے نوجوان مسیحیوں کی مدد کر سکتی ہے؟‏

۱۳ بہتیرے بادشاہتی مُناد نوجوان لوگ ہیں۔ اُن کے لئے عمررسیدہ اشخاص کے ساتھ بائبل کی بابت گفتگو کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہوؔواہ کے نوجوان خادموں سے کہا جاتا ہے:‏ ’‏آپ منادی میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں،‘‏ اور ’‏آپ کو کوئی اَور کام کرنا چاہئے۔‘‏ یہوؔواہ کے نوجوان گواہ موقع‌شناسی سے یوں جواب دے سکتے ہیں کہ اُنہیں افسوس ہے کہ وہ شخص ایسا محسوس کرتا ہے۔ خوشخبری کا ایک نوجوان مُناد اس بات کا اضافہ کرنے کو مددگار پاتا ہے:‏ ”‏میں محسوس کرتا ہوں کہ میں آپ جیسے عمررسیدہ لوگوں کے ساتھ گفتگو کرنے سے واقعی فائدہ حاصل کرتا ہوں اور میں لطف‌اندوز بھی ہوتا ہوں۔“‏ بلا‌شُبہ، خوشخبری کی منادی کرنا یقیناً وقت کو ضائع کرنا نہیں ہے۔ زندگیاں خطرے میں ہیں۔ یوؔایل کی معرفت خدا نے مزید اعلان کِیا:‏ ”‏جو کوئی خداوند [‏”‏یہوؔواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کا نام لیگا نجات پائیگا۔“‏—‏یوایل ۲:‏۳۲‏۔‏

۱۴ جو بچے بادشاہتی منادی کی کارگزاری میں اپنے والدین کے ساتھ جاتے ہیں وہ ذاتی نشانے قائم کرنے میں ماں باپ کی مدد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ایسے نوجوان ایک صحیفہ پڑھنے سے بائبل پر مبنی اپنی اُمید اور دلچسپی رکھنے والے اشخاص کو موزوں لٹریچر پیش کرنے کی حد تک ترقی کرتے ہیں۔ جب وہ اپنی ذاتی ترقی اور یہوؔواہ کی برکت کو دیکھتے ہیں تو بادشاہت کے نوجوان پبلشر خوشخبری کی منادی کرنے میں بڑی خوشی حاصل کرتے ہیں۔—‏زبور ۱۱۰:‏۳؛‏ ۱۴۸:‏۱۲، ۱۳‏۔‏

جوش اور انتظار کرنے والا رجحان

۱۵.‏ بادشاہتی منادی کے کام کے لئے اپنے جوش کو دوبارہ اُبھارنے کے لئے حزقیؔ‌ایل کی مثال کیسے ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

۱۵ خدا کے نبی جوش اور انتظار کرنے والا رجحان دونوں کو ظاہر کرنے میں بھی مثالی تھے—‏ایسے اوصاف جن کی ہمیں اپنی خدمتگزاری میں ضرورت ہے۔ جب ہم نے پہلی بار خدا کے کلام سے سچائی سیکھی تھی تو ہم غالباً ایک ایسے جوش سے بھر گئے تھے جس نے ہمیں دلیری کے ساتھ کلام کرنے کی تحریک دی۔ لیکن شاید اُس وقت سے لیکر بہت سال گزر گئے ہوں اور ہو سکتا ہے کہ ہم نے گواہی دینے کے اپنے علاقے میں کئی مرتبہ گواہی دی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ بہت تھوڑے لوگ اب بادشاہتی پیغام کو قبول کرتے ہوں۔ کیا اس نے ہمارے جوش کو ٹھنڈا کر دیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو حزقیؔ‌ایل نبی پر غور کریں جس کے نام کا مطلب ہے ”‏خدا تقویت بخشتا ہے۔“‏ اگرچہ حزقیؔ‌ایل کو قدیم اسرائیل میں سخت دل لوگوں کا سامنا ہوا تو بھی خدا نے اُسے تقویت بخشی اور علامتی طور پر اُس کی پیشانی کو چقماق سے بھی زیادہ سخت کر دیا۔ لہٰذا، حزقیؔ‌ایل بہت سالوں تک اپنی خدمت انجام دینے کے قابل ہوا خواہ لوگوں نے سنا یا نہ سنا۔ اُسکا نمونہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں اور منادی کے کام کے لئے یہ ہمارے جوش کو دوبارہ اُبھارنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔—‏حزقی‌ایل ۳:‏۸، ۹؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۴:‏۵‏۔‏

۱۶.‏ ہمیں میکاؔہ کے کس رجحان کو پیدا کرنا چاہئے؟‏

۱۶ میکاؔہ اپنے صبر کے لئے قابلِ‌ذکر تھا جس نے آٹھویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں نبوّت کی۔ ”‏میں،“‏ اُس نے لکھا، ”‏خداوند کی راہ دیکھونگا اور اپنے نجات دینے والے خدا کا انتظار کرونگا میرا خدا میری سنیگا۔“‏ (‏میکاہ ۷:‏۷)‏ میکاؔہ کے اعتماد کی جڑ اُس کے پُختہ ایمان میں تھی۔ یسعیاؔہ نبی کی مانند میکاؔہ جانتا تھا کہ یہوؔواہ نے جو بھی قصد کِیا ہے وہ اُسے یقیناً پورا کریگا۔ ہم بھی اس بات کو جانتے ہیں۔ (‏یسعیاہ ۵۵:‏۱۱‏)‏ اس لئے آئیے ہم بھی خدا کے وعدوں کی تکمیل کے لئے انتظار کرنے والا رجحان پیدا کریں۔ اور آئیے ایسے علاقوں میں بھی جوش کے ساتھ خوشخبری کی منادی کریں جہاں پر لوگ بادشاہتی پیغام میں بہت کم دلچسپی دکھاتے ہیں۔—‏ططس ۲:‏۱۴؛‏ یعقوب ۵:‏۷-‏۱۰‏۔‏

آجکل صبر دکھانا

۱۷، ۱۸.‏ صبر کرنے کے لئے کونسی قدیم اور جدید مثالیں ہماری مدد کر سکتی ہیں؟‏

۱۷ یہوؔواہ کے بعض نبی کئی سال تک اپنی تفویضات میں صبر کے ساتھ ثابت‌قدم رہے مگر اپنی پیشینگوئیوں کی تکمیل کو نہ دیکھا۔ پھر بھی ان کی متحمل ثابت‌قدمی، اکثر بدسلوکی کا شکار ہوتے ہوئے، یہ سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہے کہ ہم اپنی خدمتگزاری کو انجام دے سکتے ہیں۔ ہم ۲۰ ویں صدی کے اوائلی عشروں میں رہنے والے وفادار ممسوح لوگوں کے نمونے سے بھی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اُن کی آسمانی اُمیدیں اتنی جلدی تو پوری نہ ہوئیں جتنی اُنہوں نے توقع کی تھی تو بھی اُنہوں نے اس ظاہری تاخیر کے باعث مایوسی کو یہ اجازت نہ دی کہ خدا کی مرضی کو بجا لانے کے لئے اُن کے جوش کو ٹھنڈا کر دے جیسا کہ اُس نے اس کو اُن پر ظاہر کِیا۔‏

۱۸ کئی سال تک ان مسیحیوں میں سے بہتیروں نے باقاعدگی کے ساتھ مینارِنگہبانی اور اُس کے ساتھی جریدے جاگو!‏ (‏سابقہ نام دی گولڈن ایج اور بعدازاں کونسولیشن)‏ کو تقسیم کِیا۔ اُنہوں نے گرمجوشی کے ساتھ ان بیش قیمت جرائد کو گلی کوچوں میں اور اُن کے گھروں پر جسے ہم آجکل میگزین روٹس کہتے ہیں لوگوں کے لئے ممکن‌الحصول بنا دیا۔ اپنے زمینی سفر کو ختم کرنے والی ایک عمررسیدہ بہن اُن راہگیروں کو بڑی جلدی یاد آنے لگی جو اُسے گلی میں گواہی دیتے ہوئے دیکھنے کے عادی ہو چکے تھے۔ جیسا کہ اُس کی عوامی خدمتگزاری کا مشاہدہ کرنے والے لوگوں کی قدرافزا آراء سے ظاہر ہوتا ہے اُس نے اپنی وفادارانہ خدمت کے کئی سالوں کے دوران کیا ہی شاندار گواہی دی تھی!‏ بادشاہتی مُناد کے طور پر کیا آپ باقاعدگی سے مینارِنگہبانی اور جاگو!‏ کو اُن لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ رہے ہیں جن سے آپ اپنی خدمتگزاری میں ملتے ہیں؟‏

۱۹.‏ عبرانیوں ۶:‏۱۰-‏۱۲ ہمیں کونسی حوصلہ‌افزائی پیش کرتی ہیں؟‏

۱۹ اُن بھائیوں کے صبر اور وفادارانہ خدمت پر بھی غور کریں جو یہوؔواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کے اراکین کے طور پر خدمت کرتے ہیں۔ اُن میں سے بعض تو اپنی عمر کے نویں یا دسویں عشرے میں ہیں لیکن وہ ابھی تک ایسے بادشاہتی مُناد ہیں جو گرمجوشی کے ساتھ اپنے تفویض کردہ فرائض کی دیکھ‌بھال کرتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۷‏)‏ اور دیگر آسمانی اُمید رکھنے والے اور ”‏دوسری بھیڑوں“‏ کے درمیان بھی ایسے سنِ‌رسیدہ اشخاص کی بابت کیا ہے جن کی عمریں بڑھتی جا رہی ہیں؟ (‏یوحنا ۱۰:‏۱۶‏، این‌ڈبلیو)‏ وہ اس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ خدا بے‌انصاف نہیں جو اُن کے کام اور اُس محبت کو بھول جائے جو وہ اُس کے نام کی خاطر ظاہر کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ نوجوان ساتھی ایمانداروں کے ساتھ، یہوؔواہ کے عمررسیدہ گواہ ایمان کا مظاہرہ کرتے اور خدا کی خدمت میں صبر دکھاتے ہوئے جو کچھ وہ کر سکتے ہیں اسے کرنے میں ثابت‌قدم رہیں۔ (‏عبرانیوں ۶:‏۱۰-‏۱۲‏)‏ پھر، قدیم زمانہ کے نبیوں کی طرح خواہ قیامت کے ذریعے یا پھر آنے والی ”‏بڑی مصیبت“‏ میں سے زندہ بچ نکلنے سے، وہ ابدی زندگی کا انمول اجر حاصل کرینگے۔—‏متی ۲۴:‏۲۱‏۔‏

۲۰.‏ (‏ا)‏ نبیوں کے ”‏نمونے“‏ سے آپ نے کیا سیکھا ہے؟ (‏ب)‏ نبی جیسا صبر ہماری مدد کیسے کر سکتا ہے؟‏

۲۰ خدا کے نبیوں نے ہمارے لئے کیا ہی عمدہ نمونہ چھوڑا ہے!‏ چونکہ اُنہوں نے دُکھ سہا، صبر کِیا اور دیگر خدائی خوبیوں کو ظاہر کِیا اس لئے اُنہیں یہوؔواہ کے نام سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اُس کے جدید زمانے کے گواہوں کے طور پر آئیں ہم بھی اُن کی مانند بنیں اور حبقوق نبی کی طرح پُرعزم ہوں جس نے بیان کِیا:‏ ”‏میں اپنی دیدگاہ پر کھڑا رہونگا اور بُرج پر چڑھکر انتظار کرونگا کہ [‏خدا]‏ مجھ سے کیا کہتا ہے۔“‏ (‏حبقوق ۲:‏۱)‏ آئیے جب ہم صبر کرتے اور خوشی کے ساتھ اپنے عظیم خالق، یہوؔواہ کے ممتاز نام کا اعلانیہ اقرار کرنا جاری رکھتے ہیں تو ہم ایسا ہی عزمِ‌مُصمم رکھیں!‏—‏نحمیاہ ۸:‏۱۰؛‏ رومیوں ۱۰:‏۱۰‏۔ (‏۱۵ ۹/۱۵ w۹۴)‏

کیا آپ ان نکات کو سمجھ گئے ہیں؟‏

▫ عاؔموس نے کونسی جرأتمندانہ مثال قائم کی؟‏

▫ کن طریقوں سے موسیٰؔ نبی مثالی تھا؟‏

▫ یہوؔواہ کے جدید زمانہ کے گواہ کس طرح عاؔموس اور یسعیاؔہ کی مانند عمل کر سکتے ہیں؟‏

▫ مسیحی خادم ہوسیعؔ اور یوؔایل کے طرزِعمل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

▫ ہم حزقیؔ‌ایل اور میکاؔہ کی مثالوں سے کیسے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

امصیاؔہ کی سخت مخالفت کے باوجود، یہوؔواہ کی روح نے عاؔموس کو جرأتمندی کے ساتھ نبوّت کرنے کیلئے تقویت بخشی

‏[‏تصویر]‏

یہوؔواہ کی خدمت میں صبر کر نے سے وفادار ممسوح اشخاص نے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں