انسانی دُکھ—کیا یہ کبھی ختم ہوگا؟
سرائیوو کے ایک بھرے بازار میں بم پھٹنے کے بعد کے دہشتناک مناظر؛ روانڈا میں قتلِعام اور بِلاوجہ تشدد؛ صومالیہ میں خوراک کیلئے فریاد کرتے ہوئے بھوکے ننگے بچے؛ لاس اینجلس میں زلزلے کے بعد اپنے نقصانات کا حساب لگانے والے بدحواس خاندان؛ بنگلادیش کے سیلاب سے تباہحال بےیارومددگار متاثرین۔ انسانی دُکھ کے ایسے مناظر ہر روز ٹیوی پر یا رسالوں اور اخبارات میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔
انسانی دُکھ کا ایک افسوسناک اثر یہ ہے کہ یہ بعض لوگوں کیلئے خدا پر ایمان کو کھو دینے کا باعث بنتا ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں ایک یہودی کمیونٹی کی طرف سے شائعکردہ ایک بیان کے مطابق، ”بُرائی کے وجود نے ایمان کیلئے ہمیشہ نہایت سنگین رکاوٹ پیدا کی ہے۔“ مصنّفین آؤشوتز جیسے نازی مرکزاسیران میں اور بموں سے ہونے والی اموات کا حوالہ دیتے ہیں جیسے کہ ایک بم ہیروشیما میں پھٹا۔ مصنّفین کہتے ہیں ”یہ سوال مذہبی لوگوں کے ضمیر کو ستاتا ہے اور تصور کو متزلزل کر دیتا ہے کہ ایک انصافپسند اور طاقتور خدا اتنی زیادہ معصوم زندگیوں کی تباہی کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے۔“
افسوس کی بات ہے کہ المناک اطلاعات کا غیرمختتم سلسلہ انسانی جذبات پر سُن کر دینے والا اثر رکھ سکتا ہے۔ جبتک کہ دوست اور رشتہدار شامل نہ ہوں بہتیرے دوسروں کے دُکھ سے بمشکل ہی متاثر ہوتے ہیں۔
تاہم، اس حقیقت کو کہ ہم کمازکم اپنے عزیزوں کیلئے تو دردمندی کا احساس رکھنے کے قابل ہیں، ہمیں اپنے صانع کی بابت کچھ بتانا چاہئے۔ بائبل بتاتی ہے کہ انسان ”خدا کی صورت“ اور ”[اسکی] شبِیہ کی مانند“ خلق کِیا گیا تھا۔ (پیدایش ۱:۲۶، ۲۷) اسکا یہ مطلب نہیں کہ انسان وضعقطع میں خدا کی مانند ہیں۔ نہیں، کیونکہ یسوؔع مسیح نے واضح کِیا کہ ”خدا روح ہے،“ اور ”روح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی۔“ (یوحنا ۴:۲۴؛ لوقا ۲۴:۳۹) خدا کی شبِیہ پر بنایا جانا خدا جیسی صفات ظاہر کرنے کی ہماری صلاحیت کا اشارہ دیتا ہے۔ چونکہ نارمل انسان دُکھ اُٹھانے والوں کیلئے دردمندی کا احساس رکھتے ہیں، لہٰذا ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہئے کہ انسان کا خالق، یہوؔواہ خدا، دردمند ہے اور وہ دُکھ میں مبتلا اپنی انسانی مخلوق کیلئے گہرا احساس رکھتا ہے۔—مقابلہ کریں لوقا ۱۱:۱۳۔
ایک طریقہ جس سے خدا نے اپنی دردمندی ظاہر کی ہے وہ دُکھ کی وجہ کی تحریری وضاحت فراہم کرنے کے ذریعے ہے۔ ایسا اُس نے اپنے کلام، بائبل میں کِیا ہے۔ بائبل صاف طور پر واضح کرتی ہے کہ خدا نے انسان کو دُکھ اُٹھانے کیلئے نہیں بلکہ زندگی سے لطفاندوز ہونے کیلئے پیدا کِیا تھا۔ (پیدایش ۲:۷-۹) یہ اس بات کا بھی انکشاف کرتی ہے کہ پہلے انسان خدا کی راست حکمرانی کو رد کرنے سے اپنے اُوپر دُکھ لے آئے تھے۔—استثنا ۳۲:۴، ۵؛ رومیوں ۵:۱۲۔
اسکے باوجود، خدا ابھی تک دُکھ میں مبتلا انسانیت کیلئے دردمندی کا احساس رکھتا ہے۔ یہ بات انسانی دُکھ کو ختم کرنے کے اُسکے وعدے سے بالکل عیاں کی گئی ہے۔ ”دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُنکے ساتھ سکونت کریگا اور وہ اُسکے لوگ ہونگے اور خدا آپ اُنکے ساتھ رہیگا اور اُنکا خدا ہوگا۔ اور وہ اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴؛ نیز دیکھیں یسعیاہ ۲۵:۸؛ ۶۵:۱۷-۲۵؛ رومیوں ۸:۱۹-۲۱۔
یہ شاندار وعدے ثابت کرتے ہیں کہ خدا انسانی دُکھ سے باخبر ہے اور یہ کہ اسے ختم کرنے کی اس نے ٹھان لی ہے۔ لیکن سب سے پہلے تو کونسی چیز دراصل انسانی دُکھ کا سبب بنی ہے اور خدا نے اسے ہمارے زمانے تک جاری رہنے کی اجازت کیوں دے رکھی ہے؟ (۳ ۱۱/۱ w۹۴)