یہوواہ حکمرانی کرتا ہے—بذریعہ تھیوکریسی
”خداوند ابد تک سلطنت کریگا۔“—زبور ۱۴۶:۱۰۔
۱، ۲. (ا) حکمرانی کے سلسلے میں انسان کی کوششیں کیوں ناکام ہو گئی ہیں؟ (ب) درحقیقت کونسی واحد طرزحکومت کامیاب رہی ہے؟
نمرود کے زمانے سے لیکر انسانوں نے معاشرے پر حکومت کرنے کیلئے مختلف طریقوں کو آزمایا ہے۔ آمریتیں، شہنشاہیتیں، چندسری حکومتیں، اور جمہوریت کی مختلف اقسام موجود رہی ہیں۔ یہوواہ نے ان سب کو اجازت دے رکھی ہے۔ یقیناً، خدا چونکہ تمام اختیار کا بنیادی منبع ہے، اسلئے ایک لحاظ سے اس نے مختلف حکمرانوں کو انکے نسبتی مرتبوں پر قائم کیا۔ (رومیوں ۱۳:۱) تاہم، حکومت کے سلسلے میں انسان کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ کوئی بھی انسانی حکمران پائیدار، مستحکم، منصفانہ معاشرے کو وجود میں نہیں لایا۔ اکثروبیشتر ”ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اوپر بلا [لایا] ہے۔“—واعظ ۸:۹۔
۲ کیا اس چیز کو ہمیں حیران کرنا چاہئے؟ ہرگز نہیں! ناکامل انسان کو خود پر حکومت کرنے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا۔ ”انسان کی راہ اسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (یرمیاہ ۱۰:۲۳) اسی وجہ سے، پوری انسانی تاریخ میں، صرف ایک ہی قسم کی حکومت واقعی کامیاب رہی ہے۔ کونسی؟ یہوواہ خدا کے تحت تھیوکریسی۔ بائبل کی یونانی زبان میں ”تھیوکریسی“ کا مطلب ہے حکمرانی [کرتیوس] خدا کے ذریعے [تھیوس] ۔ یہوواہ خدا کی اپنی حکومت کی نسبت کونسی حکومت بہتر ہو سکتی ہے؟—زبور ۱۴۶:۱۰۔
۳. زمین پر موجود تھیوکریسی کی بعض ابتدائی مثالیں کونسی تھیں؟
۳ تھیوکریسی نے مختصر سے عرصہ کیلئے عدن میں حکمرانی کی، جبتک کہ آدم اور حوا نے یہوواہ کے خلاف بغاوت نہ کی۔ (پیدایش ۳:۱-۶، ۲۳) ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ابرہام کے زمانے میں سالم کے شہر میں تھیوکریسی موجود تھی جس میں ملکصدق بطور بادشاہکاہن کے تھا۔ (پیدایش ۱۴:۱۸-۲۰، عبرانیوں ۷:۱-۳) تاہم، پہلی قومی تھیوکریسی سینا کے بیابان میں ۱۶ویں صدی ق۔س۔ع۔ میں یہوواہ کے تحت قائم ہوئی تھی۔ یہ کیسے واقع ہوا تھا؟ اور اس تھیوکریٹک حکومت نے کیسے کام کیا؟
ایک تھیوکریسی وجود میں آتی ہے
۴. یہوواہ نے اسرائیل کی تھیوکریٹک قوم کو کیسے قائم کیا؟
۴ ۱۵۱۳ ق۔س۔ع۔ میں، یہوواہ نے اسرائیلیوں کو مصر میں غلامی سے چھڑایا اور تعاقب کرنے والی فرعون کی فوجوں کو بحرقلزم میں نیستونابود کر دیا۔ بعدازاں وہ اسرائیلیوں کو کوہسینا تک لے گیا۔ جب وہ پہاڑ کے دامن میں خیمہزن تھے تو خدا نے موسی کے ذریعے انہیں بتایا: ”تم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کیا اور تمکو گویا عقاب کے پروں پر بیٹھا کر اپنے پاس لے آیا۔ سو اب اگر تم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میری خاص ملکیت ٹھہروگے کیونکہ ساری زمین میری ہے۔“ اسرائیلیوں نے جواب دیا: ”جو کچھ خداوند نے فرمایا ہے وہ سب ہم کرینگے۔“ (خروج ۱۹:۴، ۵، ۸) ایک عہد باندھا گیا، اور اسرائیل کی تھیوکریٹک قوم وجود میں آئی تھی—استثنا ۲۶:۱۸، ۱۹۔
۵. یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہوواہ نے اسرائیل میں حکمرانی کی؟
۵ تاہم، یہوواہ نے اسرائیل پر، کس طرح حکومت کی تھی، جو کہ انسانی آنکھوں سے اوجھل ہے؟ (خروج ۳۳:۲۰) اس میں شریعت اور قوم کی کہانت یہوواہ کے ذریعے دی گئی تھی۔ جنہوں نے شریعت کی فرمانبرداری کی اور الہی طور پر بیانکردہ انتظامات کے مطابق پرستش کی انہوں نے عظیمتھیوکریٹ، یہوواہ کی خدمت کی۔ علاوہازیں، سردار کاہن کے پاس اوریم اور تمیم ہوتے تھے، جنکے ذریعے یہوواہ نے ہنگامی اوقات میں راہنمائی پیش کی۔ (خروج ۲۸:۲۹، ۳۰) مزیدبرآں، تھیوکریسی میں لائق بزرگ یہوواہ کے نمائندے تھے اور انہوں نے خدا کی شریعت کے اطلاق کا خیال رکھا۔ اگر ہم ان آدمیوں میں سے بعض کے ریکارڈ پر غور کریں تو ہم بہتر طور پر سمجھ جائینگے کہ کیسے انسانوں کو خدا کی حکمرانی کی اطاعت کرنی چاہئے۔
تھیوکریسی کے تحت اختیار
۶. تھیوکریسی میں اختیار رکھنا انسانوں کیلئے ایک چیلنج کیوں تھا، اور اس ذمہداری کیلئے کس قسم کے آدمیوں کی ضرورت تھی؟
۶ اسرائیل میں اختیار کے مرتبوں پر لوگ عظیم استحقاق رکھتے تھے، لیکن ان کیلئے اپنے توازن کو قائم رکھنا ایک چیلنج تھا۔ انہیں محتاط ہونا تھا کہ انکی اپنی انا کبھی بھی یہوواہ کے نام کی تقدیس سے زیادہ اہم نہ بنے۔ الہامی بیان کہ ”انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا،“ اسرائیلیوں کیلئے اتنا ہی سچ تھا جیسے یہ باقی نوعانسان کیلئے تھا۔ اسرائیل نے صرف اس وقت ترقی کی جب بزرگوں نے یاد رکھا کہ اسرائیل ایک تھیوکریسی تھا اور یہ کہ انہیں اپنی نہیں بلکہ یہوواہ کی مرضی کو پورا کرنا چاہئے۔ اسرائیل کی بنیاد رکھے جانے کے فوراً بعد، موسی کے خسر، یترو نے خوب بیان کیا کہ انہیں کس قسم کے آدمی ہونا چاہئے تھا، یعنی وہ ”لائق اشخاص ... خداترس اور سچے اور رشوت کے دشمن ہوں۔“—خروج ۱۸:۲۱۔
۷. کن طریقوں سے موسی یہوواہ خدا کے تحت اختیار رکھنے والے کے طور پر ایک عمدہ نمونہ تھا؟
۷ اسرائیل میں اعلیاختیار کو کام میں لانے والا پہلا شخص موسی تھا۔ وہ تھیوکریٹک اختیار رکھنے والی شخصیت کا ایک عمدہ نمونہ تھا۔ سچ ہے کہ ایک موقع پر اس میں انسانی کمزوری نظر آئی تھی۔ پھر بھی، موسی نے ہمیشہ یہوواہ پر تکیہ کیا۔ جب سوالات اٹھے جو پہلے سے حل نہیں ہوئے تھے تو اس نے یہوواہ سے راہنمائی چاہی۔ (مقابلہ کریں گنتی ۱۵:۳۲-۳۶۔) موسی نے اپنے بلند مرتبے کو اپنی بزرگی کیلئے استعمال کرنے کی آزمائش کا مقابلہ کیسے کیا؟ اگرچہ اس نے لاکھوں لوگوں پر مشتمل قوم کی راہنمائی کی تو بھی وہ ”رویزمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم تھا۔“ (گنتی ۱۲:۳) اسکی کوئی ذاتی آرزوئیں نہ تھیں بلکہ وہ خدا کے جلال میں دلچسپی رکھتا تھا۔ (خروج ۳۲:۷-۱۴) اور موسی مضبوط ایمان رکھتا تھا۔ ایک قومی لیڈر بننے سے پہلے، اسکا ذکر کرتے ہوئے، پولس رسول نے کہا: ”وہ اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابتقدم رہا۔“ (عبرانیوں ۱۱:۲۷) واضح طور پر موسی نے کبھی فراموش نہ کیا کہ یہوواہ ہی قوم کا اصلی حاکم تھا۔ (زبور ۹۰:۱، ۲) ہمارے لئے آجکل کیا ہی عمدہ نمونہ!
۸. یہوواہ نے یشوع کو کیا حکم دیا، اور یہ قابلذکر کیوں ہے؟
۸ جب اسرائیل کی نگہبانی اکیلے موسی کیلئے بہت بھاری ثابت ہوئی، تو یہوواہ نے اپنی روح کو ۷۰ بزرگوں میں ڈال دیا جو قوم کا انصاف کرنے میں اسکی مدد کرینگے۔ (گنتی ۱۱:۱۶-۲۵) بعد کے سالوں میں ہر شہر کے اپنے بزرگ ہونے تھے۔ (مقابلہ کریں استثنا ۱۹:۱۲، ۲۲:۱۵-۱۸، ۲۵:۷-۹۔) موسی کی وفات کے بعد، یہوواہ نے یشوع کو قوم کا لیڈر بنا دیا۔ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ اس استحقاق کے ساتھ یشوع کو بہت کچھ کرنا تھا۔ تاہم، یہوواہ نے اسے بتایا کہ ایک کام کو اسے کبھی ترک نہیں کرنا چاہئے: ”شریعت کی یہ کتاب تیرے منہ سے نہ ہٹے بلکہ تجھے دن اور رات اسی کا دھیان ہو تاکہ جو کچھ اس میں لکھا ہے اس سب پر تو احتیاط کرکے عمل کر سکے۔“ (یشوع ۱:۸) غور کریں اگرچہ یشوع ۴۰ سے زائد سالوں تک خدمت کر چکا تھا تو بھی اسے شریعت کو پڑھتے رہنے کی ضرورت تھی۔ ہمیں بھی بائبل کا مطالعہ کرنے اور یہوواہ کی شریعت اور اصولوں کے سلسلے میں اپنے ذہنوں کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے—اس سے قطعنظر کہ ہماری خدمت کا ریکارڈ کتنا طویل ہے یا ہمارے پاس کتنے استحقاق ہیں۔—زبور ۱۱۹:۱۱۱، ۱۱۲۔
۹. قاضیوں کے زمانے کے دوران اسرائیل میں کیا واقع ہوا؟
۹ یشوع کے بعد قاضیوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ افسوس کی بات ہے کہ انکے زمانے میں اسرائیلیوں نے اکثر ”خداوند کے آگے بدی کی“۔ (قضاہ ۲:۱۱) قاضیوں کے دور کی بابت، ریکارڈ کہتا ہے: ”ان دنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا۔ ہر ایک شخص جو کچھ اسکی نظر میں اچھا معلوم ہوتا تھا وہی کرتا تھا۔“ (قضاہ ۲۱:۲۵) ہر ایک نے طرزعمل اور پرستش کے سلسلے میں اپنے ذاتی فیصلے کئے، اور تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ بہتیرے اسرائیلیوں نے خراب فیصلے کئے۔ وہ بتپرستی میں پڑ گئے اور بعض اوقات نفرتانگیز جرائم کے مرتکب ہوئے۔ (قضاہ ۱۹:۲۵-۳۰) تاہم، بعض نے قابلتقلید ایمان دکھایا۔—عبرانیوں ۱۱:۳۲-۳۸۔
۱۰. سموئیل کے زمانے کے دوران اسرائیل میں حکومت کیسے یکسر بدل گئی، اور کیا چیز اسکا سبب بنی؟
۱۰ آخری قاضی، سموئیل کے دورحیات میں، حکومت کے سلسلے میں اسرائیل بحران کا شکار رہا۔ اردگرد کی دشمن قوموں سے متاثر ہو کر، جن سب پر بادشاہ حکمرانی کرتے تھے، اسرائیلیوں نے استدلال کیا کہ انہیں بھی ایک بادشاہ کی ضرورت ہے۔ وہ بھول گئے کہ انکا تو پہلے ہی ایک بادشاہ تھا، یعنی انکی حکومت ایک تھیوکریسی تھی۔ یہوواہ نے سموئیل کو بتایا: ”انہوں نے تیری نہیں بلکہ میری حقارت کی ہے کہ میں انکا بادشاہ نہ رہوں۔“ (۱-سموئیل ۸:۷) انکی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اپنے روحانی نظریے کو کھو دینا اور اپنے اردگرد کی دنیا سے متاثر ہونا کتنا آسان ہے۔—مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۲:۱۴-۱۶۔
۱۱. (ا) حکومت میں تبدیلی کے باوجود، یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ بادشاہوں کے تحت بھی اسرائیل ایک تھیوکریسی رہا؟ (ب) یہوواہ نے اسرائیل کے بادشاہوں کو کیا حکم دیا، اور کس مقصد کیساتھ؟
۱۱ تاہم، یہوواہ نے اسرائیلیوں کی درخواست کو مان لیا اور انکے پہلے دو بادشاہوں، ساؤل اور داؤد کو چنا۔ اسرائیل یہوواہ کی حکمرانی کے ذریعے ایک تھیوکریسی رہا۔ تاکہ اسکے بادشاہ اس بات کو یاد رکھیں، ان میں سے ہر ایک کی ذمہداری تھی کہ شریعت کی اپنی ذاتی کاپی بنائے اور اسے روزانہ پڑھے، ”تاکہ وہ خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا اور اس شریعت اور آئین کی سب باتوں پر عمل کرنا سیکھے جس سے اسکے دل میں غرور نہ ہو کہ وہ اپنے بھائیوں کو حقیر جانے۔“ (استثنا ۱۷:۱۹، ۲۰) جیہاں، یہوواہ چاہتا تھا کہ اسکی تھیوکریسی میں ارباباختیار خود کو ممتاز نہ کریں اور انکے افعال سے اسکی شریعت کو منعکس ہونا چاہئے۔
۱۲. بادشاہ داؤد نے وفاداری کا کونسا ریکارڈ مرتب کیا؟
۱۲ بادشاہ داؤد یہوواہ پر نمایاں ایمان رکھتا تھا، اور خدا نے عہد باندھا کہ وہ ان بادشاہوں کے خاندان کا جد ہوگا جو ابد تک قائم رہینگے۔ (۲-سموئیل ۷:۱۶، ۱-سلاطین ۹:۵، زبور ۸۹:۲۹) یہوواہ کیلئے داؤد کی عاجزانہ اطاعت قابلتقلید تھی۔ اس نے کہا: ”اے خداوند! تیری قوت سے بادشاہ خوش ہوگا اور تیری نجات سے اسے نہایت شادمانی ہوگی۔“ (زبور ۲۱:۱) اگرچہ داؤد بعض اوقات جسمانی کمزوری کی وجہ سے ناکام ہو گیا، تو بھی اس نے اصولی طور پر اپنی ذات پر نہیں، بلکہ یہوواہ کی قوت پر تکیہ کیا۔
انتھیوکریٹک (خدائی طرزحکومت کے بغیر) کام اور رجحانات
۱۳، ۱۴. داؤد کے جانشنیوں کے ذریعے اٹھائے گئے بعض انتھیوکریٹک (خدائی طرزحکومت کے بغیر) اقدام کونسے تھے؟
۱۳ تمام اسرائیلی لیڈر موسی اور داؤد کی طرح کے نہیں تھے۔ بہتیروں نے اسرائیل میں جھوٹی پرستش کی اجازت دیکر، تھیوکریٹک انتظام کیلئے بڑی بےادبی دکھائی۔ یہانتک کہ وفادار حاکموں میں سے بعض نے گاہے بگاہے انتھیوکریٹک (خدائی طرزحکومت کے بغیر) طریقے سے کام کیا۔ سلیمان کا معاملہ بڑا ہی المناک تھا، جسے بڑی حکمت اور اقبالمندی عطا کی گئی تھی۔ (۱-سلاطین ۴:۲۵، ۲۹) پھر بھی، یہوواہ کی شریعت کو نظرانداز کرتے ہوئے، اس نے بہت سی بیویاں بیاہ لیں اور اسرائیل میں بتوں کی پرستش کی اجازت دے دی۔ بدیہی طور پر، سلیمان کا دورحکومت اسکے آخری سالوں میں استبدادی تھا۔—استثنا ۱۷:۱۴-۱۷، ۱-سلاطین ۱۱:۱-۸، ۱۲:۴۔
۱۴ سلیمان کے بیٹے رحبعام سے ایک مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنی رعایا کے بوجھ کو ہلکا کر دے۔ صورتحال سے نرمی کیساتھ نپٹنے کی بجائے، اس نے جارحانہ طریقے سے اپنے اختیار کو منوایا—اور ۱۲ میں سے ۱۰ قبیلے گنوا دئے۔ (۲-تواریخ ۱۰:۴-۱۷) الگ ہونے والی دسقبائلی سلطنت کا پہلا بادشاہ یربعام تھا۔ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش میں کہ اسکی بادشاہت اپنی ہی قوم میں کبھی شامل نہ ہو، اس نے بچھڑے کی پرستش کو رواج دیا۔ ہو سکتا ہے کہ سیاسی طور پر یہ ایک دانشمندانہ قدم دکھائی دیا ہو، لیکن اس سے تھیوکریسی کیلئے صریح بےادبی ظاہر ہوئی۔ (۱-سلاطین ۱۲:۲۶-۳۰) بعدازاں، اپنی زندگی کی وفادارانہخدمت کے طویل دور کے آخر پر، آسا بادشاہ نے غرور کو اجازت دے دی کہ اسکے ریکارڈ کو داغدار بنا دے۔ اس نے اس نبی کیساتھ بدسلوکی کی جو یہوواہ کی طرف سے مشورت کیساتھ اسکے پاس آیا تھا۔ (۲-تواریخ ۱۶:۷-۱۱) جیہاں، بعض اوقات ان کو بھی مشورت کی ضرورت ہوتی ہے جو کافی عرصہ سے سچائی میں ہیں۔
ایک تھیوکریسی کا خاتمہ
۱۵. جب یسوع زمین پر تھا تو یہودی لیڈر تھیوکریسی میں بااختیار شخصیات کے طور پر کیسے ناکام ہو گئے؟
۱۵ جب یسوع مسیح زمین پر تھا، تو اس وقت بھی اسرائیل ایک تھیوکریسی تھا۔ اگرچہ، افسوسناک طور پر، اسکے بہت سے ذمہدار بزرگ روحانی ذہنیت کے مالک نہ تھے۔ وہ یقیناً ویسی حلیمی کو پیدا کرنے میں ناکام ہو گئے جو موسی نے ظاہر کی۔ یسوع نے یہ کہتے ہوئے انکی روحانی خرابی کی نشاندہی کی: ”فقیہ اور فریسی موسی کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن انکے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔—متی ۲۳:۲، ۳۔
۱۶. پہلی صدی کے یہودی لیڈروں نے کیسے ظاہر کیا کہ وہ تھیوکریسی کیلئے کوئی احترام نہیں رکھتے تھے؟
۱۶ یسوع کو پنطس پیلاطس کے حوالے کرنے کے بعد، یہودی لیڈروں نے ظاہر کیا کہ وہ تھیوکریٹک اطاعت سے بھٹک کر کتنی دور جا چکے تھے۔ پیلاطس نے یسوع کے معاملے کی تحقیق کی اور فیصلہ دیا کہ وہ ایک بیگناہ آدمی تھا۔ یسوع کو باہر یہودیوں کے سامنے لا کر، پیلاطس نے کہا: ”دیکھو یہ ہے تمہارا بادشاہ۔“ جب یہودیوں نے یسوع کی موت کیلئے پرزور مطالبہ کیا، تو پیلاطس نے کہا: ”کیا میں تمہارے بادشاہ کو مصلوب کروں؟“ سردار کاہنوں نے جواب دیا: ”قیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں۔“ (یوحنا ۱۹:۱۴، ۱۵) انہوں نے قیصر کو بادشاہ تسلیم کیا، نہ کہ یسوع کو، جو ”یہوواہ کے نام سے آیا تھا“!—متی ۲۱:۹۔
۱۷. جسمانی اسرائیل ایک تھیوکریٹک قوم کیوں نہ رہی؟
۱۷ یسوع کو رد کرنے سے، یہودیوں نے تھیوکریسی کو رد کیا، کیونکہ آئندہ تھیوکریٹک انتظامات میں اسے مرکزی کردار ہونا تھا۔ یسوع داؤد کا شاہی بیٹا تھا جو ابد تک سلطنت کریگا۔ (یسعیاہ ۹:۶، ۷، لوقا ۱:۳۳، ۳:۲۳، ۳۱) یوں، جسمانی اسرائیل خدا کی چنی ہوئی قوم نہ رہی۔—رومیوں ۹:۳۱-۳۳۔
ایک نئی تھیوکریسی
۱۸. پہلی صدی میں کونسی نئی تھیوکریسی وجود میں آئی تھی؟ وضاحت کریں۔
۱۸ تاہم، خدا کا جسمانی اسرائیل کو رد کر دینا زمین پر تھیوکریسی کا خاتمہ نہیں تھا۔ یسوع مسیح کے ذریعے، یہوواہ نے ایک نئی تھیوکریسی قائم کی۔ یہ ممسوح مسیحی کلیسیا تھی، جو حقیقت میں ایک نئی قوم تھی۔ (۱-پطرس ۲:۹) پولس رسول نے اسے ”خدا کے اسرائیل“ کا نام دیا، اور انجامکار اسکے رکن ”ہر ایک قبیلہ اور اہلزبان اور امت اور قوم میں سے“ آئے۔ (گلتیوں ۶:۱۶، مکاشفہ ۵:۹، ۱۰) انسانی حکومتوں کے محکوم ہوتے ہوئے جنکے تحت وہ رہے، اس نئی تھیوکریسی کے رکن واقعی خدا کی حکمرانی کے تحت تھے۔ (۱-پطرس ۲:۱۳، ۱۴، ۱۷) نئی تھیوکریسی کے وجود میں آنے کے کچھ ہی دیر بعد، جسمانی اسرائیل کے سرداروں نے بعض شاگردوں کو ایک حکم کی تعمیل نہ کرنے کیلئے مجبور کرنے کی کوشش کی جو یسوع نے انہیں دیا تھا۔ جواب کیا تھا؟ ”ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“ (اعمال ۵:۲۹) واقعی، ایک تھیوکریٹک نکتہءنظر!
۱۹. کس لحاظ سے پہلی صدی کی مسیحی کلیسیا کو ایک تھیوکریسی کہا جا سکتا تھا؟
۱۹ چنانچہ، نئی تھیوکریسی نے کیسے کام کیا؟ عظیم تھیوکریٹ، یہوواہ خدا، کی نمائندگی کرنے والا، ایک بادشاہ، یسوع مسیح، موجود تھا۔ (کلسیوں ۱:۱۳) اگرچہ بادشاہ آسمانوں میں اوجھل تھا، تو بھی اسکی حکمرانی اسکی رعایا کیلئے حقیقی تھی، اور اسکی باتیں انکی زندگیوں پر اثرانداز ہوئیں۔ جہانتک دیدنی نگہداشت کا تعلق ہے، روحانی طور پر لائق بزرگوں کو مقرر کیا گیا تھا۔ یروشلیم میں ایسے آدمیوں کے ایک گروہ نے ایک گورننگ باڈی کے طور پر کام انجام دیا۔ اس باڈی کی نمائندگی کرنے والے سفری ایلڈر تھے، جیسے کہ پولس، تیمتھیس، اور ططس۔ اور ہر کلیسیا کی نگہداشت بزرگوں، یا ایلڈروں کی ایک جماعت کرتی تھی۔ (ططس ۱:۵) جب ایک مشکل مسئلہ پیدا ہوا تو ایلڈروں نے گورننگ باڈی یا اسکے نمائندوں میں سے ایک سے مشورہ کیا جیسے کہ پولس۔ (مقابلہ کریں اعمال ۱۵:۲، ۱-کرنتھیوں ۷:۱، ۸:۱، ۱۲:۱۔) علاوہازیں، کلیسیا کے ہر رکن نے تھیوکریسی کو برقرار رکھنے کیلئے ایک حصہ ادا کیا۔ ہر ایک اپنی زندگی میں صحیفائی اصولوں کا اطلاق کرنے کیلئے یہوواہ کے حضور جوابدہ تھا۔—رومیوں ۱۴:۴، ۱۲۔
۲۰. رسولی دور کے بعد کی تھیوکریسی کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟
۲۰ پولس نے خبردار کیا کہ رسولوں کی وفات کے بعد، برگشتگی ترقی پائیگی، جو واقعی وقوعپزیر ہوئی۔ (۲-تھسلنیکیوں ۲:۳) وقت گزرنے کیساتھ ساتھ، مسیحی ہونے کا دعوی کرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک اور بعدازاں کروڑوں تک پہنچ گئی۔ انہوں نے مختلف قسم کی مذہبی حکومتیں قائم کر لیں، جیسے کہ پادریوں کے ایک طبقے والی، پریسبیٹروں والی اور کلیسیا والی۔ تاہم، ان مذہبی حکومتوں کے نہ تو طرزعمل نے اور نہ ہی عقائد نے یہوواہ کی حکمرانی کو منعکس کیا۔ وہ خدا کے تحت چلنے والی حکومتیں نہ تھیں!
۲۱، ۲۲. (ا) یہوواہ نے آخری زمانے کے دوران تھیوکریسی کو کیسے بحال کیا ہے؟ (ب) تھیوکریسی کی بابت کونسے سوالات کا جواب اسکے بعد دیا جائیگا؟
۲۱ اس نظامالعمل کے خاتمے کے وقت میں، جھوٹے مسیحیوں میں سے سچے مسیحیوں کو الگ کیا جانا تھا۔ (متی ۱۳:۳۷-۴۳) یہ ۱۹۱۹ میں واقع ہوا جو تھیوکریسی کی تاریخ میں ایک انقلابی سال ہے۔ اس وقت یسعیاہ ۶۶:۸ کی شاندار پیشینگوئی کی تکمیل ہوئی تھی: ”ایسی چیزیں کس نے دیکھیں؟ کیا ایک دن میں کوئی ملک پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا یکبارگی ایک قوم پیدا ہو جائیگی؟“ ان سوالوں کا جواب گونج پیدا کرنے والی ہاں تھی! ۱۹۱۹ میں مسیحی کلیسیا ایک مرتبہ پھر ایک الگ ”قوم“ کے طور پر وجود میں آئی تھی۔ ایک تھیوکریٹک ”ملک،“ یقیناً ایک ہی دن میں پیدا ہوا تھا! جوں جوں خاتمے کا وقت آگے بڑھا، تو جو کچھ پہلی صدی میں موجود تھا ممکنہ طور پر اسکے نزدیکتر لانے کیلئے اس نئی قوم کی تنظیم کو ازسرنو منظم کیا گیا تھا۔ (یسعیاہ ۶۰:۱۷) لیکن یہ ہمیشہ ایک تھیوکریسی تھی۔ طرزعمل اور عقیدے میں، اس نے صحائف میں الہی طور پر ملہم شریعت اور اصولوں کو منعکس کیا۔ اور یہ ہمیشہ تختنشین بادشاہ، یسوع مسیح کے ماتحت تھی۔—زبور ۴۵:۱۷، ۷۲:۱، ۲۔
۲۲ کیا آپ اس تھیوکریسی سے منسلک ہیں؟ کیا آپ اس میں ایک بااختیار مرتبہ رکھتے ہیں؟ اگر ایسے ہے، تو کیا آپ جانتے ہیں کہ تھیوکریٹک طریقے سے عمل کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ کن پھندوں سے بچنا ہے؟ آخری دو سوالوں پر اگلے مضمون میں بحث کی جائیگی۔ (۱۰ ۱/۱۵ w۹۴)
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
▫ تھیوکریسی کیا ہے؟
▫ کس طریقے سے اسرائیل ایک تھیوکریسی تھا؟
▫ یہوواہ نے بادشاہوں کو یہ یاد دلانے کیلئے کیا انتظام کیا کہ اسرائیل ایک تھیوکریسی تھا؟
▫ کس لحاظ سے مسیحی کلیسیا ایک تھیوکریسی تھی، اور اسے کیسے منظم کیا گیا تھا؟
▫ ہمارے زمانے میں کونسی تھیوکریٹک تنظیم قائم کی گئی ہے؟
[تصویر]
پنطس پیلاطس کے سامنے، یہودی سرداروں نے یہوواہ کے تھیوکریٹک طریقے سے مقررشدہ بادشاہ کی بجائے قیصر کو تسلیم کیا