یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏12 ص.‏ 23-‏27
  • برداشت—‏مسیحیوں کیلئے نہایت اہم

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • برداشت—‏مسیحیوں کیلئے نہایت اہم
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • برداشت—‏جو کچھ اسکا مطلب ہے
  • برداشت—‏کیوں؟‏
  • آخر تک برداشت کریں—‏کیسے؟‏
  • ‏”‏ثابت‌قدمی کو اپنا کام پورا کرنے دیں“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • برداشت جو کہ فتح پاتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • صبر کے ساتھ یہوواہ کے دن کا انتظار کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • یہوواہ کی طرح ثابت‌قدم ہوں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏12 ص.‏ 23-‏27

برداشت—‏مسیحیوں کیلئے نہایت اہم

‏”‏اپنے ایمان پر .‏.‏.‏ صبر [‏”‏برداشت،“‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن]‏ .‏.‏.‏ بڑھاؤ۔“‏—‏۲-‏پطرس ۱:‏۵-‏۷‏۔‏

۱، ۲.‏ ہم سب کو آخر تک کیوں برداشت کرنا چاہیے؟‏

سفری نگہبان اور اسکی اہلیہ ایک ساتھی مسیحی سے ملاقات کر رہے تھے جو اپنی عمر کے ۹۰ کے دہے میں تھا۔ وہ کل‌وقتی خدمتگزاری میں دہے صرف کر چکا تھا۔ جب وہ بات‌چیت کر رہے تھے تو بوڑھے بھائی نے بعض استحقاقات کا تذکرہ کیا جن سے وہ سالہا سال تک لطف اٹھا چکا تھا۔ ”‏لیکن“‏ اس نے گریہ‌زاری کی جب آنسو اسکے رخساروں پر بہنے شروع ہو گئے، ”‏اب میں مزید کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہوں۔“‏ سفری نگہبان نے اپنی بائبل کھولی اور متی ۲۴:‏۱۳ کو پڑھا، جہاں پر یسوع مسیح کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا ہے:‏ ”‏جو آخر تک برادشت کریگا وہ نجات پائیگا۔“‏ پھر نگہبان نے اس عزیز بھائی کی طرف دیکھا اور کہا:‏ ”‏آخری تفویض جو ہم سب کے پاس ہے وہ آخر تک برداشت کرنے کی ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کتنا زیادہ یا کتنا کم کر سکتے ہیں۔“‏

۲ جی‌ہاں، مسیحیوں کے طور پر ہم سب کو اس دستورالعمل کے آخر تک یا اپنی زندگیوں کے آخر تک برداشت کرنا چاہیے۔ نجات کیلئے یہوواہ کی مقبولیت حاصل کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ ہم زندگی کی دوڑ میں ہیں، اور ہمیں چاہیے کہ ”‏صبر سے دوڑیں“‏ جبتک ہم آخری حد پار نہیں کر لیتے۔ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۱‏)‏ پطرس رسول نے اس خوبی کی اہمیت پر زور دیا جب اس نے ساتھی مسیحیوں کو زور دیا:‏ ”‏اپنے ایمان پر .‏.‏.‏ صبر [‏”‏برداشت،“‏ این ڈبلیو]‏ .‏.‏.‏ بڑھاؤ۔“‏ (‏۲-‏پطرس ۱:‏۵-‏۷‏)‏ لیکن صحیح طور پر برداشت ہے کیا؟‏

برداشت—‏جو کچھ اسکا مطلب ہے

۳، ۴.‏ برداشت کرنے کا کیا مطلب ہے؟‏

۳ برداشت کرنے کا کیا مطلب ہے؟ ”‏برداشت“‏ کیلئے یونانی فعل (‏ہائپومینو)‏ کا لفظی مطلب ”‏رہنا یا ثابت‌قدم رہنا۔“‏ بائبل میں یہ ۱۷ مرتبہ آیا ہے۔ لغت‌نویس ڈبلیو۔ بائیور، ایف۔ ڈبلیو گنگرچ، اور ایف۔ دینکر کے مطابق اس کا مطلب ”‏بھاگ جانے کی بجائے .‏.‏.‏ اپنے حق کیلئے ڈٹے رہنا، ہے۔ ”‏برداشت“‏ کیلئے یونانی اسم (‏ہائپومونی)‏ ۳۰ سے زیادہ مرتبہ آتا ہے۔ اس سلسلے میں، اے نیو ٹسٹامنٹ ورڈ بک از ولیم بارکلے کہتی ہے:‏ ”‏یہ وہ جذبہ ہے جو چیزوں کی برداشت کر سکتا ہے، محض راضی‌بارضا ہونے سے نہیں، بلکہ پرجوش امید کے ساتھ .‏.‏.‏ یہ وہ خوبی ہے جو ایک انسان کو آندھی کی طرف منہ کرکے اسے اسکے قدموں پر کھڑا رکھتی ہے۔ یہ وہ جوہر ہے جو سخت‌ترین آزمائش کی حالت کو جلال میں تبدیل کر دیتی ہے کیونکہ یہ تکلیف کے پار منزل کو دیکھتا ہے۔“‏

۴ لہذا، برداشت ہمیں اپنے موقف پر قائم رہنے اور رکاوٹوں یا مشکلات کے سامنے امید نہ کھونے کے لائق بناتی ہے۔ (‏رومیوں ۵:‏۳-‏۵‏)‏ یہ موجودہ تکلیف کے پار منزل—‏آسمان پر یا زمین پر ابدی زندگی کے انعام، یا بخشش کو دیکھتی ہے۔—‏یعقوب ۱:‏۱۲‏۔‏

برداشت—‏کیوں؟‏

۵.‏ (‏ا)‏ سب مسیحیوں کو کیوں ”‏صبر [‏”‏برداشت،“‏ این ڈبلیو]‏ کرنا ضرور“‏ ہے؟ (‏ب)‏ ہماری آزمائشوں کو کن دو زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟‏

۵ مسیحیوں کے طور پر، ہم سب کو ”‏صبر [‏”‏برداشت،“‏ این ڈبلیو]‏ کرنا ضرور“‏ ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۳۶‏)‏ کیوں؟ بنیادی طور پر، اسلئے کہ ہم ”‏طرح طرح کی آزمائشوں میں“‏ پڑتے ہیں۔ یہاں یعقوب ۱:‏۲ میں یونانی متن ایک غیرمتوقع، ناپسندیدہ آمد سے مڈبھیڑ کا خیال پیش کرتی ہے جیسے ایک شخص کو جب کسی رہزن کا سامنا ہوتا ہے۔ (‏مقابلہ کریں لوقا ۱۰:‏۳۰‏۔)‏ ہم ایسی آزمائشوں کا سامنا کرتے ہیں جنہیں دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:‏ وہ جو موروثی گناہ کے نتیجے میں انسان کیلئے عام ہیں، اور وہ جو ہماری خدائی عقیدت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۳،‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۲‏)‏ ان آزمائشوں میں سے بعض کونسی ہیں؟‏

۶.‏ ایک گواہ نے کیسے برداشت کیا جب اسے ایک تکلیف‌دہ بیماری کا سامنا ہوا؟‏

۶ تشویشناک بیماری۔ ضرور ہے کہ تیمتھیس کی طرح بعض مسیحی ”‏اکثر کمزور [‏”‏بیمار،“‏ این ڈبلیو]‏ رہنے“‏ کی برداشت کریں۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۲۳‏)‏ خاص طور پر جب کسی پرانے، شاید بہت تکلیف‌دہ، مرض کا سامنا کرتے ہیں تو خدا کی مدد کے ساتھ اور اپنی مسیحی امید کو نظروں سے اوجھل نہ کرکے ہمیں برداشت کرنے، اپنے موقف پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ اپنی عمر کے ۵۰ کے دہے کے اوائل میں ایک گواہ کی مثال پر غور کریں، جس نے تیزی سے بڑھنے والی جان‌لیوا رسولی کے خلاف طویل، سخت لڑائی لڑی۔ دو آپریشنوں کے دوران وہ انتقال خون قبول نہ کرنے کے اپنے عزم‌مصمم میں ثابت‌قدم رہا۔ (‏اعمال ۱۵:‏۲۸، ۲۹‏)‏ لیکن رسولی اسکے پیٹ میں دوبارہ پیدا ہو گئی اور اسکی ریڑھ کی ہڈی کے قریب بڑھتی رہی۔ جب یہ بڑھی، تو اس نے ناقابل‌تصور جسمانی درد کا تجربہ کیا جسے دوائی کی کوئی بھی مقدار کم نہ کر سکی۔ تاہم، اس نے موجودہ درد کے پار نئی دنیا میں زندگی کے انعام کو دیکھا۔ اس نے اپنی پرجوش امید میں ڈاکٹروں، نرسوں، اور ملاقاتیوں کو شریک کرنا جاری رکھا۔ اس نے آخر تک برداشت کیا—‏اپنی زندگی کے آخر تک۔ شاید آپکی صحت کا مسئلہ زندگی کے لئے خطرہ یا اتنا تکلیف‌دہ نہ ہو جسکا تجربہ اس عزیز بھائی نے کیا، لیکن یہ پھر بھی برداشت کا بڑا امتحان لا سکتا ہے۔‏

۷.‏ ہمارے بعض روحانی بہن بھائیوں کیلئے برداشت میں کس قسم کا درد شامل ہے؟‏

۷ جذباتی درد۔ وقتاً فوقتاً، یہوواہ کے بعض لوگ ”‏دل کی غمگینی“‏ کا سامنا کرتے ہیں جو ”‏شکستہ خاطر“‏ ہونے پر منتج ہوتی ہے۔ (‏امثال ۱۵:‏۱۳‏)‏ ان ”‏برے [‏دنوں]‏“‏ کے اندر شدید افسردگی غیر معمولی نہیں ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱‏)‏ دسمبر ۵، ۱۹۹۲ کے سائنس نیوز نے رپورٹ دی:‏ ”‏۱۹۱۵ کے بعد پیدا ہونے والی ہر نسل میں شدید، اکثر ناکارہ بنانے والی افسردگی کی شرحوں میں اضافہ ہوا ہے۔“‏ ایسی افسردگی کی وجوہات مختلف ہیں، جن کا دائرہ عضویاتی عناصر سے تکلیف‌دہ ناخوشگوار تجربات تک ہے۔ بعض مسیحیوں کیلئے برداشت میں، جذباتی درد کے مقابل اپنی جگہ پر قائم رہنے کیلئے روزانہ کی جدوجہد شامل ہے۔ پھر بھی، وہ ہمت نہیں ہارتے۔ وہ آنسوؤں کے باوجود یہوواہ کیلئے وفادار رہتے ہیں۔—‏مقابلہ کریں زبور ۱۲۶:‏۵، ۶‏۔‏

۸.‏ ہم کس مالی آزمائش کا سامنا کر سکتے ہیں؟‏

۸ مختلف آزمائشیں جنکا ہم سامنا کرتے ہیں ان میں سخت معاشی مشکل بھی شامل ہو سکتی ہے۔ نیو جرسی، یو۔ ایس۔ اے۔ میں جب ایک بھائی نے خود کو اچانک بے‌روزگار پایا تو معقول طور پر وہ اپنے خاندان کی کفالت کرنے اور اپنے گھر سے محروم نہ ہونے کی بابت فکرمند تھا۔ تاہم، اس نے بادشاہتی امید کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا۔ جس اثنا میں وہ ایک دوسری ملازمت کی تلاش کر رہا تھا، تو اس نے امدادی پائنیر کے طور پر خدمت کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ آخرکار اسے ملازمت مل گئی—‏متی ۶:‏۲۵-‏۳۴‏۔‏

۹.‏ (‏ا)‏ کسی عزیز کا موت سے کھو جانا کیونکر صبر کا تقاضا کر سکتا ہے؟ (‏ب)‏ کونسے صحائف ظاہر کرتے ہیں کہ غم کے آنسو بہانا غلط نہیں ہے؟‏

۹ اگر آپکو موت کی وجہ سے کسی عزیز کے کھو دینے کا تجربہ ہوا ہے تو آپکو اپنے ملاقاتیوں کے اپنے نارمل معمول پر واپس چلے جانے کے بعد قائم رہنے والی برداشت کی ضرورت ہے۔ آپ نے شاید دیکھا ہو کہ ہر سال اسی وقت کے قریب یہ خاص طور پر آپ کے لئے مشکل ہے جب آپکا عزیز فوت ہوا۔ اس طرح کے نقصان کو برداشت کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ غم کے آنسو بہانا غلط ہے۔ کسی ایسے شخص کی موت پر ماتم کرنا قدرتی بات ہے جس سے ہم محبت کرتے تھے، اور یہ کسی بھی طریقے سے قیامت کی امید میں ایمان کی کمی کو ظاہر نہیں کرتا۔ (‏پیدایش ۲۳:‏۲‏، مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۱:‏۱۹‏۔)‏ لعزر کے مر جانے کے بعد ”‏یسوع کے آنسو بہنے لگے،“‏ اگرچہ اس نے پراعتماد طور پر مرتھا کو بتایا تھا:‏ ”‏تیرا بھائی جی اٹھا!‏“‏ اور لعزر واقعی جی اٹھا!‏—‏یوحنا ۱۱:‏۲۳،‏ ۳۲-‏۳۵،‏ ۴۱-‏۴۴‏۔‏

۱۰.‏ یہوواہ کے لوگوں کو برداشت کی منفرد ضرورت کیوں ہے؟‏

۱۰ ان آزمائشوں کی برداشت کرنے کے علاوہ جو تمام انسانوں کیلئے عام ہیں، یہوواہ کے گواہوں کو برداشت کی ایک منفرد ضرورت ہے۔ ”‏میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھینگی،“‏ یسوع نے آگاہ کیا۔ (‏متی ۲۴:‏۹‏)‏ اس نے یہ بھی کہا:‏ ”‏اگر انہوں نے مجھے ستایا تو تمہیں بھی ستائینگے۔“‏ (‏یوحنا ۱۵:‏۲۰‏)‏ تمام نفرت اور ایذارسانی کیوں؟ خدا کے خادموں کے طور پر اس زمین پر ہم خواہ کہیں بھی رہیں، شیطان یہوواہ کیلئے ہماری راستی کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۸‏، مقابلہ کریں مکاشفہ ۱۲:‏۱۷‏۔)‏ ایسا کرنے کیلئے شیطان نے ہماری برداشت کو سخت امتحان میں ڈالتے ہوئے، ایذارسانی کے شعلوں کو بھڑکایا ہے۔‏

۱۱، ۱۲.‏ (‏ا)‏ یہوواہ کے گواہوں اور انکے بچوں نے ۱۹۳۰ اور ۱۹۴۰ کے اوائلی دہے میں برادشت کے کس امتحان کا سامنا کیا؟ (‏ب)‏ یہوواہ کے گواہ جھنڈے کو سلامی کیوں نہیں دیتے ہیں؟‏

۱۱ مثال کے طور پر، ۱۹۳۰ کی دہائی کے شروع اور ۱۹۴۰ کی دہائی کے اوائل میں یہوواہ کے گواہ اور انکے بچے شمالی امریکہ اور کنیڈا میں اذیت کا نشانہ بنے کیونکہ انہوں نے ضمیر کی وجوہات کی بناء پر قومی نشان کو سلامی نہیں دی تھی۔ گواہ جس ملک میں رہتے ہیں اسکے نشان کا احترام کرتے ہیں، لیکن وہ خروج ۲۰:‏۴، ۵ میں خدا کی شریعت کے قائم‌کردہ اصول کے مطابق عمل کرتے ہیں:‏ ”‏تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔ تو انکے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔“‏ جب بعض سکول جانے والے گواہ بچوں کو نکال دیا گیا، کیونکہ انہوں نے صرف یہوواہ خدا کی پرستش کرنے کی خواہش کی تھی، تو گواہوں نے انکی تعلیم کیلئے کنگڈم اسکول قائم کر لئے۔ جب ریاستہائے متحدہ کی سپریم کورٹ نے انکے مذہبی موقف کو تسلیم کر لیا، جیسے کہ روش‌خیال قومیں آجکل کرتی ہیں، تو یہ طالبعلم پبلک اسکولوں میں واپس لوٹ آئے۔ تاہم، ان نوجوانوں کی دلیرانہ برداشت نہایت شاندار نمونے کا کام دیتی ہے، خاص طور پر آجکل کے مسیحی نوجوانوں کیلئے جنہیں لعن‌طعن اور تمسخر کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ وہ بائبل معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔—‏۱-‏یوحنا ۵:‏۲۱‏۔‏

۱۲ مختلف آزمائشیں جنکا ہم سامنا کرتے ہیں—‏وہ جو انسانوں کیلئے عام ہیں اور جنکا ہم اپنے مسیحی ایمان کی وجہ سے سامنا کرتے ہیں دونوں—‏ظاہر کرتی ہیں کہ ہمیں برداشت کی کیوں ضرورت ہے۔ لیکن ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟‏

آخر تک برداشت کریں—‏کیسے؟‏

۱۳.‏ یہوواہ کس طرح برداشت فراہم کرتا ہے؟‏

۱۳ خدا کے لوگوں کو ان لوگوں کے مقابلے میں قطعی فائدہ حاصل ہے جو یہوواہ کی پرستش نہیں کرتے۔ مدد کیلئے ہم ”‏خدا“‏ سے درخواست کر سکتے ہیں جو ”‏صبر [‏”‏برداشت،“‏ این ڈبلیو]‏ .‏.‏.‏ کا چشمہ“‏ ہے۔ (‏رومیوں ۱۵:‏۵‏)‏ چنانچہ یہوواہ کس طرح برداشت عطا کرتا ہے؟ ایک طریقہ جس سے وہ ایسا کرتا ہے وہ برداشت کی مثالوں کے ذریعے ہے جو اسکے کلام، بائبل میں درج ہیں۔ (‏رومیوں ۱۵:‏۴‏)‏ جب ہم ان پر غوروخوض کرتے ہیں تو ہم نہ صرف برداشت کرنے کی حوصلہ‌افزائی پاتے ہیں بلکہ ہم کافی کچھ سیکھتے ہیں کہ برادشت کیسے کریں۔ دو نمایاں مثالوں پر غور کریں—‏ایوب کی دلیرانہ برداشت اور یسوع مسیح کی بے‌عیب برداشت۔—‏عبرانیوں ۱۲:‏۱-‏۳،‏ یعقوب ۵:‏۱۱‏۔‏

۱۴، ۱۵.‏ (‏ا)‏ ایوب نے کن آزمائشوں کی برداشت کی؟ (‏ب)‏ ایوب ان آزمائشوں کو برداشت کرنے کے قابل کیوں تھا جنکا اس نے سامنا کیا؟‏

۱۴ کن حالات نے ایوب کی برداشت کو آزمایا؟ وہ معاشی مشکل میں پڑ گیا۔ جب اس نے اپنی جائیداد کا زیادہ‌تر حصہ کھو دیا۔ (‏ایوب ۱:‏۱۴-‏۱۷‏، مقابلہ کریں ایوب ۱:‏۳‏۔)‏ جب ایوب کے پورے دس بچے ایک آندھی سے ہلاک ہو گئے تو اس نے نقصان کے درد کو محسوس کیا۔ (‏ایوب ۱:‏۱۸-‏۲۱‏)‏ اسے ایک تشویشناک، بہت تکلیف‌دہ بیماری کا تجربہ ہوا۔ (‏ایوب ۲:‏۷، ۸،‏ ۷:‏۴، ۵‏)‏ اس کی اپنی بیوی نے اس پر دباؤ ڈالا کہ خدا سے منہ پھیر لے۔ (‏ایوب ۲:‏۹‏)‏ قریبی ساتھیوں نے ایسی باتیں کہیں جو رنجیدہ کرنے والی، سخت اور جھوٹی تھیں۔ (‏مقابلہ کریں ایوب ۱۶:‏۱-‏۳‏، اور ایوب ۴۲:‏۷‏۔)‏ تاہم، ان تمام صورتحال میں، ایوب اپنی راستی کو قائم رکھتے ہوئے ثابت قدم رہا۔ (‏ایوب ۲۷:‏۵‏)‏ جن چیزوں کی اس نے برداشت کی وہ ان آزمائشوں کے مشابہ ہیں جنکا یہوواہ کے لوگ آجکل سامنا کرتے ہیں۔‏

۱۵ ایوب ان تمام آزمائشوں کی برداشت کرنے کے قابل کیسے ہوا تھا؟ خاصکر ایک چیز جس نے ایوب کو سنبھالے رکھا وہ امید تھی۔ ”‏کیونکہ درخت کی تو امید رہتی ہے،“‏ اس نے بیان کیا۔ ”‏کہ اگر وہ کاٹا جائے تو پھر پھوٹ نکلیگا اور اسکی نرم نرم ڈالیاں موقوف نہ ہونگی۔“‏ (‏ایوب ۱۴:‏۷‏)‏ ایوب کی کیا امید تھی؟ جیسے کہ چند آیات کے بعد دیکھا جاتا ہے، اس نے بیان کیا:‏ ”‏اگر آدمی مر جائے تو کیا وہ پھر جئیگا؟ .‏.‏.‏ تو مجھے پکارتا اور میں تجھے جواب دیتا۔ تجھے اپنے ہاتھوں کی صنعت کی طرف رغبت [‏آرزو]‏ ہوتی۔“‏ (‏ایوب ۱۴:‏۱۴، ۱۵‏۔)‏ جی‌ہاں، ایوب نے اپنی موجودہ تکلیف کے پار دیکھا۔ وہ جانتا تھا کہ اسکی آزمائشیں ہمیشہ نہ رہیں گی۔ زیادہ سے زیادہ اسے موت تک انکی برداشت کرنی ہوگی۔ اسکی پرامید توقع یہ تھی کہ یہوواہ، جو پرمحبت طور پر مردوں کو زندہ کرنا چاہتا ہے، اسے پھر سے زندہ کریگا۔—‏اعمال ۲۴:‏۱۵‏۔‏

۱۶.‏ (‏ا)‏ ایوب کی مثال سے ہم صبر کی بابت کیا سیکھتے ہیں؟ (‏ب)‏ بادشاہتی امید کو ہمارے لئے کسقدر حقیقی ہونا چاہیے، اور کیوں؟‏

۱۶ ایوب کی برداشت سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ آخر تک برداشت کرنے کیلئے، ضرور ہے کہ ہم اپنی امید کو اپنی نظروں سے کبھی اوجھل نہ ہونے دیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ بادشاہتی امید کے یقینی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس بھی مصیبت کا ہم سامنا کرتے ہیں نسبتاً ”‏چند روزہ“‏ ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۱۶-‏۱۸‏)‏ ہماری بیش‌بہا امید مستقبل قریب کے اس وقت کی بابت یہوواہ کے وعدے پر مضبوطی سے قائم ہے جب ”‏وہ [‏ہماری]‏ آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔ (‏مکاشفہ ۲۱:‏۳، ۴‏)‏ اس امید کو، جس سے ”‏شرمندگی حاصل نہیں ہوتی،“‏ ہماری سوچ کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ (‏رومیوں ۵:‏۴، ۵،‏ ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۸‏)‏ اسکو ہمارے لئے حقیقی ہونا چاہیے—‏اتنا حقیقی کہ ایمان کی آنکھوں کے ذریعہ، ہم اپنے آپ کو نئی دنیا میں تصور کر سکیں—‏بیماری اور افسردگی کے خلاف کوئی لڑائی نہیں بلکہ ہر روز اچھی صحت اور ایک صاف ذہن کے ساتھ جاگتے ہیں، اب سنگین معاشی دباؤں کی کوئی فکر نہیں کرتے بلکہ تحفظ میں رہتے ہیں، عزیزوں کی موت پر کوئی ماتم نہیں بلکہ انہیں زندہ ہوتے دیکھنے کی خوشی کا تجربہ کرتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۱‏)‏ ایسی امید کے بغیر ہم اپنی موجودہ آزمائشوں سے اتنے مغلوب ہو سکتے ہیں کہ امید رکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اپنی امید کے ساتھ، آخر تک برداشت کرنے کیلئے، لڑائی لڑتے رہنے کیلئے ہمارے پاس کتنا بڑا محرک ہے!‏

۱۷.‏ (‏ا)‏ یسوع نے کن آزمائشوں کی برداشت کی؟ (‏ب)‏ شدید تکلیف جو یسوع نے برداشت کی ممکنہ طور پر اسے کس حقیقت سے دیکھا جا سکتا ہے؟ (‏دیکھیں فٹ‌نوٹ۔)‏

۱۷ بائبل ہمیں تاکید کرتی ہے کہ یسوع کو ”‏تکتے رہیں،“‏ اور ”‏اس پر غور کرو۔“‏ اس نے کن آزمائشوں کی برداشت کی؟ بعض گناہ اور دوسروں کی ناکاملیت کا نتیجہ تھیں۔ یسوع نے نہ صرف ”‏گنہگاروں کی .‏.‏.‏ مخالفت“‏ کی برداشت کی بلکہ ان مسائل کی بھی جو اسکے شاگردوں کے مابین اٹھے، بشمول بار بار انکے جھگڑے کے کہ کون بڑا تھا۔ اس سے بھی بڑھکر، اس نے ایمان کی ایک لاثانی آزمائش کا سامنا کیا۔ اس نے ”‏صلیب کا دکھ سہا۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۱-‏۳،‏ لوقا ۹:‏۴۶،‏ ۲۲:‏۲۴‏)‏ ذہنی اور جسمانی تکلیف کا تصور کرنا بھی مشکل ہے جس میں مصلوب ہونے کا دکھ اور ایک کفر بکنے والے کے طور پر ہلاک کئے جانے کی ذلت شامل تھی۔‏a

۱۸.‏ پولس رسول کے مطابق، کن دو چیزوں نے یسوع کو سنبھالے رکھا؟‏

۱۸ کس چیز نے یسوع کو آخر تک برداشت کرنے کے قابل بنایا؟ پولس رسول دو چیزوں کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے یسوع کو سنبھالے رکھا:‏ ”‏دعائیں اور التجائیں“‏ اور وہ ”‏خوشی بھی جو اسکی نظروں کے سامنے تھی۔“‏ یسوع، خدا کا کامل بیٹا، مدد کیلئے درخواست کرنے سے شرمندہ نہ تھا۔ اس نے ”‏زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر“‏ دعا کی۔ (‏عبرانیوں ۵:‏۷،‏ ۱۲:‏۲‏)‏ خاص طور پر جب اسکی سب سے بڑی آزمائش قریب آ رہی تھی تو اس نے بار بار اور سنجیدگی سے قوت کیلئے دعا کرنے کو ضروری محسوس کیا۔ (‏لوقا ۲۲:‏۳۹-‏۴۴‏)‏ یسوع کی التجاؤں کے جواب میں، یہوواہ نے آزمائش کو تو دور نہ کیا، بلکہ اس نے اسکو برداشت کرنے کیلئے یسوع کو طاقت بخشی۔ یسوع نے اسلئے بھی برداشت کی کیونکہ اس نے دکھ کی سولی کے پار اپنے انعام کو دیکھا—‏خوشی جو وہ یہوواہ کے نام کی تقدیس کا سبب بننے اور انسانی خاندان کو موت سے فدیہ دیکر چھڑانے سے حاصل کریگا۔—‏متی ۶:‏۹،‏ ۲۰:‏۲۸‏۔‏

۱۹، ۲۰.‏ جو کچھ برداشت میں شامل ہے اسکی بابت حقیقت‌پسندانہ نظریہ رکھنے کیلئے یسوع کی مثال کس طرح ہماری مدد کرتی ہے؟‏

۱۹ یسوع کی مثال سے، ہم کئی ایک باتیں سیکھتے ہیں جو برداشت میں جو کچھ شامل ہے اسکی بابت حقیقت‌پسندانہ نظریہ رکھنے کیلئے ہماری مدد کرتی ہیں۔ برداشت کی روش کوئی آسان نہیں ہے۔ اگر ہم کسی خاص آزمائش کی برداشت کرنے کو مشکل پاتے ہیں، تو یہ جاننے میں تسلی ہے کہ یسوع کے ساتھ بھی یہی بات سچ تھی۔ آخر تک برداشت کرنے کیلئے، ضرور ہے کہ ہم قوت کیلئے بار بار دعا کریں۔ جب آزمائش کے تحت ہوں تو شاید بعض اوقات ہم خود کو دعا کرنے کے ناقابل محسوس کریں۔ لیکن یہوواہ ہمیں اپنے دلوں کو اسکے سامنے انڈیل دینے کی دعوت دیتا ہے ”‏کیونکہ وہ ہماری فکر کرتا ہے۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۷‏)‏ اور جو کچھ یہوواہ نے اپنے کلام میں وعدہ کیا ہے اس کی وجہ سے اس نے انکو ”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ دینے کی ذمہ‌داری اپنے اوپر عائد کی ہے جو ایمان کیساتھ اس سے دعا کرتے ہیں۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۷-‏۹‏۔‏

۲۰ بعض اوقات ہمیں آنسوؤں کے ساتھ برداشت کرنا ہے۔ یسوع کیلئے دکھ کی سولی کا درد بذات‌خود خوش ہونے کی وجہ نہیں تھا۔ اسکی بجائے، خوشی اس انعام میں تھی جو اسکی نظروں کے سامنے تھی۔ ہمارے معاملے میں یہ توقع کرنا حقیقت‌پسندانہ نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ شادماں اور نازاں محسوس کرینگے جب ہم آزمائش کے تحت ہوتے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۲:‏۱۱‏۔)‏ تاہم، سامنے انعام پر دیکھنے سے، ہم اس وقت بھی ”‏اسکو.‏.‏.‏ کمال خوشی کی بات سمجھنے“‏ کے قابل ہو سکتے ہیں جب ہم نہایت تکلیف‌دہ حالتوں کا سامنا کرتے ہیں۔ (‏یعقوب ۱:‏۲-‏۴،‏ اعمال ۵:‏۴۱‏)‏ اہم بات یہ ہے کہ ہم ثابت‌قدم رہیں—‏اگرچہ یہ آنسوؤں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ بہرحال، یسوع نے یہ نہیں کہا کہ ”‏جو کم‌ازکم آنسو بہائے گا نجات پائیگا“‏ بلکہ ”‏جو آخر تک برداشت کریگا وہ نجات پائیگا۔“‏—‏متی ۲۴:‏۱۳‏۔‏

۲۱.‏ (‏ا)‏ ۲-‏پطرس ۱:‏۵، ۶ میں ہمیں اپنے صبر پر کس چیز کو بڑھانے کی تاکید کی گئی ہے؟ (‏ب)‏ اگلے مضمون میں کن سوالوں پر بات‌چیت کی جائیگی؟‏

۲۱ پس نجات کیلئے برداشت لازم ہے۔ تاہم، ۲-‏پطرس ۱:‏۵، ۶ میں، ہمیں اپنے صبر پر خدائی عقیدت، کو بڑھانے کی تاکید کی گئی ہے۔ خدائی عقیدت کیا ہے؟ برادشت سے اسکا رشتہ کیسے ہے، اور آپ اسے کسطرح حاصل کر سکتے ہیں؟ ان سوالوں پر اگلے مضمون میں بات‌چیت کی جائیگی۔ (‏۹ ۹/۱۵ w۹۳)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a جس شدید تکلیف کو یسوع نے برداشت کیا اس کا اندازہ ممکنہ طور پر اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسکا کامل جسم سولی پر چند گھنٹوں کے بعد ہی دم توڑ گیا، جبکہ اسکے ساتھ سولی دئے گئے ڈاکوؤں کی موت کو جلد واقع کرنے کیلئے انکی ٹانگیں توڑی گئی تھیں۔ (‏یوحنا ۱۹:‏۳۱-‏۳۳‏)‏ انہوں نے اس ذہنی اور جسمانی تکلیف کا تجربہ نہیں کیا تھا جو یسوع کو سولی دئے جانے سے پہلے پوری رات بیداری میں جسمانی اذیت سے پہنچائی گئی، شاید اس حد تک کہ وہ اپنی دکھ کی سولی بھی نہ اٹھا سکا۔—‏مرقس ۱۵:‏۱۵،‏ ۲۱‏۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ برداشت کرنے کا کیا مطلب ہے؟‏

▫ یہوواہ کے لوگوں کو برداشت کی لاثانی ضرورت کیوں ہے؟‏

▫ کس چیز نے ایوب کو برداشت کرنے کے قابل بنایا؟‏

▫ یسوع کی مثال برداشت کیلئے حقیقت‌پسندانہ نظریہ رکھنے کیلئے ہماری مدد کیسے کرتی ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

یہوواہ ہی سے اپنی پرستش منسوب کرنے کی وجہ سے سکول سے نکالے گئے مسیحی بچوں کو تعلیم دینے کیلئے کنگڈم سکول قائم کئے گئے

‏[‏تصویر]‏

اپنے باپ کو عزت دینے کیلئے اٹل، یسوع نے برداشت کرنے کی خاطر قوت کیلئے دعا کی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں