اپنی برداشت پر خدائی عقیدت بڑھائیں
”اپنے ایمان پر ... صبر، اور صبر پر دینداری [”خدائی عقیدت،“ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن] ... بڑھاؤ۔“—۲-پطرس ۱:۵-۷۔
۱، ۲. (ا) ۱۹۳۰ کے دہے کے شروع ہونے کے ساتھ، نازی تسلط کے تحت ممالک میں یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ کیا واقع ہوا، اور کیوں؟ (ب) اس ظالمانہ سلوک کے تحت بھی یہوواہ کے لوگوں پر کیا بیتی؟
یہ ۲۰ ویں صدی کی تاریخ کا تاریک دور تھا۔ ۱۹۳۰ کے دہے کے شروع میں، نازی تسلط کے تحت ممالک میں ہزاروں یہوواہ کے گواہ غیرمنصفانہ طور پر گرفتار کئے گئے اور مرکزاسیران میں ڈال دیے گئے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے غیرجانبدار رہنے اور ہائیل ہٹلر کہنے سے انکار کرنے کی جسارت کی تھی۔ انکے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا تھا؟ ”قیدیوں کا کوئی اور گروپ ... بائبل اسٹوڈنٹس [یہوواہ کے گواہ] کی ایس ایس-سپاہ کی سادیت کے خطرے میں نہیں پڑا تھا۔ یہ سادیت جسمانی اور ذہنی اذیت کے غیرمختمم سلسلوں کے ذریعے واضح تھی، جس طرح کی [اذیت] کو جسے دنیا کی کوئی زبان بیان نہیں کر سکتی۔“—کارل وتگ، جرمن حکومت کا ایک سابقہ افسر۔
۲ یہوواہ کے گواہوں پر کیا بیتی؟ اپنی کتاب دی نازی سٹیٹ اینڈ دی نیو ریلیجنز: فائیو کیس سٹڈیز ان نان-کنفارمٹی [نازی ریاست اور نئے مذاہب: عدم تعمیل کے سلسلے میں پانچ واقعات کا مطالعہ] میں، ڈاکٹر کرسٹین ای۔ کنگ نے بیان کیا: ”صرف گواہوں کے خلاف [دوسرے مذہبی گروپوں کے برعکس] حکومت ناکام رہی تھی۔“ جیہاں، اجتماعی طور پر یہوواہ کے گواہوں نے اپنے مؤقف کو قائم رکھا، اگرچہ ان میں سے سینکڑوں کیلئے اسکا مطلب موت کی حد تک برداشت کرنا تھا۔
۳. کس چیز نے یہوواہ کے گواہوں کو سخت آزمائشوں کی برداشت کرنے کے قابل بنایا تھا؟
۳ کس چیز نے یہوواہ کے گواہوں کو نہ صرف نازی جرمنی بلکہ تمام دنیا میں ایسی آزمائشوں کو برداشت کرنے کے لائق بنایا؟ انکے آسمانی باپ نے انکی خدائی عقیدت کی وجہ سے برادشت کرنے کیلئے انکی مدد کی۔ ”خداوند دینداروں [”خدائی عقیدت رکھنے والے لوگوں،“ این ڈبلیو] کو آزمایش سے نکال لینا ... جانتا ہے،“ پطرس رسول وضاحت کرتا ہے۔ (۲-پطرس ۲:۹) پہلے اسی خط میں، پطرس مسیحیوں کو نصیحت کر چکا تھا: ”اپنے ایمان پر ... صبر، اور صبر پر دینداری [”خدائی عقیدت،“ این ڈبلیو] ... بڑھاؤ۔“ (۲-پطرس ۱:۵-۷) یوں برداشت خدائی عقیدت کے ساتھ گہرے طور پر وابستہ ہے۔ درحقیقت، آخر تک برداشت کرنے کیلئے، ہمیں ”خدائی عقیدت کے طالب ہونا“ اور اسے ظاہر کرنا چاہیے۔ (۱-تیمتھیس ۶:۱۱) لیکن حقیقت میں خدائی عقیدت ہے کیا؟
خدائی عقیدت جو کچھ ہے
۴، ۵. خدائی عقیدت کیا ہے؟
۴ ”خدائی عقیدت“ کیلئے یونانی اسم (یوسیبیا) کا لفظی طور پر ترجمہ ”خوب اچھی طرح تعظیم کرنا“ کیا جا سکتا ہے۔a (۲-پطرس ۱:۶، (کنگڈم انٹرلینیئر) یہ خدا کے لئے گرمجوش دلی جذبات پر دلالت کرتا ہے۔ ڈبلیو۔ ای۔ وائن کے مطابق اسم صفت یوسیبیس کا لفظی مطلب ”خوب تعظیم والا،“ ہے جو اس ”توانائی“ کا مفہوم دیتا ہے ”جو خدا کے پاک ڈر سے ہدایت پا کر عقیدتمندانہ کارگزاری کی صورت میں اپنا اظہار کرتی ہے۔“—۲-پطرس ۲:۹، انٹرلینیئر۔
۵ اسلئے ”خدائی عقیدت“ کا اظہار یہوواہ کیلئے تعظیم یا عقیدت کا حوالہ دیتا ہے جو ہمیں وہ کام کرنے کی تحریک دیتا ہے جو اسے خوش کرنے والا ہے۔ یہ مشکل آزمائشوں کے باوجود بھی کیا جاتا ہے کیونکہ ہم دل سے خدا سے محبت رکھتے ہیں۔ یہ یہوواہ سے وفادارانہ، ذاتی وابستگی ہے اسکا اظہار جس طریقے سے ہم اپنی زندگیاں گزارتے ہیں اس سے ملتا ہے۔ سچے مسیحیوں کو تاکید کی گئی ہے کہ دعا کریں تاکہ وہ ”کمال دینداری [”خدائی عقیدت،“ این ڈبلیو] اور سنجیدگی سے امنوآرام کے ساتھ زندگی [گزار] سکیں“۔ (۱-تیمتھیس ۲:۱، ۲) لغتنویسوں جے۔ پی۔ لو اور ای۔ اے۔ نیدا کے مطابق، ”۱-تیمتھیس ۲:۲ میں یوسیبیا کا ترجمہ کئی ایک زبانوں میں موزوں طور پر ”ایسے زندگی بسر کرنا جیسے خدا چاہیگا کہ ہم بسر کریں“ یا ”ایسے زندگی بسر کریں جیسے خدا نے ہمیں بتایا ہے کہ ہمیں زندگی بسر کرنی چاہیے““۔
۶. برداشت اور خدائی عقیدت کے مابین کیا تعلق ہے؟
۶ ہم اب برداشت اور خدائی عقیدت کے مابین تعلق کی بہتر طور پر قدر کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم ایسے زندہ رہتے ہیں جیسے خدا چاہیگا کہ ہم زندہ رہیں—خدائی عقیدت کے ساتھ—ہم دنیا کی نفرت کو مول لیتے ہیں، جو غیرمتغیر طور پر ایمان کی آزمائشیں لاتی ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۲) لیکن اگر اپنے آسمانی باپ کے ساتھ ہماری ذاتی وابستگی نہ ہو تو کوئی طریقہ ہی نہیں کہ ہم ایسی آزمائشیں برداشت کرنے کی تحریک پائیں۔ علاوہازیں، یہوواہ ایسی دلی عقیدت کا جواب دیتا ہے۔ ذرا سوچیں تو آسمانوں سے نیچے دیکھنے اور ان پر نظر کرنے سے اسے کیسا محسوس ہونا چاہیے جو اسکے لئے اپنی عقیدت کی وجہ سے ہر طریقے کی مخالفت کے باوجود اسے خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ وہ ”دینداروں [”خدائی عقیدت رکھنے والے لوگوں،“ این ڈبلیو] کو آزمایش سے نکال لینے“ کی طرف مائل ہے!
۷. خدائی عقیدت کو کیوں ترقی دی جانی چاہیے؟
۷ تاہم، ہم خدائی عقیدت کے ساتھ پیدا نہیں ہوئے، نہ ہی ہم خودکار طریقے سے اسے خداترس والدین سے حاصل کر لیتے ہیں۔ (پیدایش ۸:۲۱) اسکی بجائے، اسے پیدا کرنا چاہیے۔ (۱-تیمتھیس ۴:۷، ۱۰) ہمیں اپنے ایمان اور برداشت پر خدائی عقیدت کو بڑھانے کیلئے کام کرنا چاہیے۔ اسکے لئے، پطرس کہتا ہے ”کمال کوشش“ کی ضرورت ہے۔ (۲-پطرس ۱:۵) پھر ہم کیسے خدائی عقیدت حاصل کر سکتے ہیں؟
ہم کیسے خدائی عقیدت حاصل کرتے ہیں؟
۸. پطرس رسول کے مطابق، خدائی عقیدت حاصل کرنے کی کنجی کیا ہے؟
۸ پطرس رسول نے خدائی عقیدت حاصل کرنے کیلئے کنجی کی وضاحت کی اس نے کہا: ”خدا اور ہمارے خداوند یسوع کی پہچان کے سبب سے فضل اور اطمینان تمہیں زیادہ [حاصل] ہوتا رہے۔ کیونکہ اسکی الہی قدرت نے وہ سب چیزیں جو زندگی اور دینداری [”خدائی عقیدت،“ این ڈبلیو] سے متعلق ہیں ہمیں اسکی پہچان کے وسیلہ سے عنایت کیں جس نے ہم کو اپنے خاص جلال اور نیکی کے ذریعہ سے بلایا۔“ (۲-پطرس ۱:۲، ۳) اسلئے اپنے ایمان اور برداشت پر خدائیعقیدت بڑھانے کیلئے، ضرور ہے کہ ہم یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی صحیح، یعنی، پوری، یا مکمل پہچان میں بڑھیں۔
۹. یہ کیسے سمجھایا جا سکتا ہے کہ خدا اور مسیح کی بابت صحیح علم حاصل کرنے میں یہ جاننے سے زیادہ کچھ شامل ہے کہ وہ کون ہیں؟
۹ خدا اور مسیح کا صحیح علم رکھنے کا مطلب کیا ہے۔ صاف طور پر، اس میں صرف یہ جاننے سے زیادہ کچھ شامل ہے کہ وہ ہیں کون۔ اسے سمجھانے کیلئے: ہو سکتا ہے آپ جانتے ہوں کہ آپکے ساتھ والے گھر میں پڑوسی کون ہے اور شاید آپ نام لیکر اسے سلام کرتے ہوں۔ لیکن کیا آپ اسے کافی زیادہ رقم ادھار دینگے؟ نہیں جبتک آپ اسے واقعی نہ جانتے ہوں کہ وہ کس قسم کا شخص ہے۔ (مقابلہ کریں امثال ۱۱:۱۵۔) اسی طرح سے، یہوواہ اور یسوع کو صحیح طور پر، یا پورے طور پر جاننے کا مطلب محض انکے ناموں سے واقف ہونے اور یہ ایمان رکھنے سے زیادہ ہے کہ وہ موجود ہیں۔ انکی خاطر موت کی حد تک آزمائشوں کی برداشت کرنے کیلئے رضامند ہونے کیلئے، ضرور ہے ہم انہیں اچھے طور پر واقعی جانیں۔ (یوحنا ۱۷:۳) اس میں کیا کچھ شامل ہے؟
۱۰. یہوواہ اور یسوع کی بابت صحیح علم حاصل کرنے میں کونسی دو چیزیں شامل ہیں، اور کیوں؟
۱۰ یہوواہ اور یسوع کا صحیح، یا مکمل علم رکھنے میں دو چیزیں شامل ہیں: (۱) انہیں بطور اشخاص—انکی خوبیوں، احساسات، اور طریقوں کو جاننا—اور (۲) انکے نمونے کی نقل کرنا۔ خدائی عقیدت میں یہوواہ سے دلی، ذاتی وابستگی شامل ہے اور یہ جس طریقے سے ہم اپنی زندگیاں گزارتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ اسلئے، اسے حاصل کرنے کیلئے ضرور ہے کہ ہم یہوواہ کو ذاتی طور پر جانیں اور انسانوں کے طور پر جہاں تک یہ ممکن ہے اسکی مرضی اور راہوں سے پوری طرح واقف ہوں۔ یہوواہ کو حقیقی طور پر جاننے کیلئے، جسکی صورت پر ہم خلق کئے گئے تھے، ضرور ہے کہ ہم اس طرح کے علم کو استعمال کریں اور اسکی مانند بننے کی کوشش کریں۔ (پیدایش ۱:۲۶-۲۸، کلسیوں ۳:۱۰) اور چونکہ یسوع نے جو کچھ یہوواہ نے کہا اور کیا، کامل طور پر، اسکی نقل کی، اسلئے خدائی عقیدت کو ترقی دینے میں یسوع کو صحیح طور پر جاننا ایک قابلقدر مدد ہے۔—عبرانیوں ۱:۳۔
۱۱. (ا) ہم خدا اور مسیح کی بابت صحیح علم کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ (ب) جو کچھ ہم پڑھتے ہیں اس پر غوروخوض کرنا کیوں اہم ہے؟
۱۱ چنانچہ ہم خدا اور مسیح کا صحیح علم کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ بائبل اور بائبل پر مبنی مطبوعات کا مستعدی سے مطالعہ کرنے سے۔b تاہم، اگر ہمارے ذاتی بائبل مطالعے کو ہمارے خدائی عقیدت حاصل کرنے پر منتج ہونا ہے تو یہ ضروری ہے کہ جو کچھ ہم پڑھتے ہیں اس پر غوروخوض کرنے، یعنی دھیان دینے، یا سوچنے کیلئے ہم وقت نکالیں۔ (مقابلہ کریں یشوع ۱:۸۔) یہ کیوں ضروری ہے؟ یاد رکھیں کہ خدائی عقیدت خدا کیلئے ایک پرتپاک، دلی جذبہ ہے۔ صحائف میں، غوروخوض کرنے کو بار بار علامتی دل—باطنی شخص کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ (زبور ۱۹:۱۴، ۴۹:۳، امثال ۱۵:۲۸) جو کچھ ہم پڑھتے ہیں جب ہم قدردانی سے اس پر غوروفکر کرتے ہیں تو یہ باطنی شخص تک سرایت کر جاتا ہے، یوں یہ ہمارے احساسات کو ابھارتا، ہمارے جذبات پر اثرانداز ہوتا، اور ہماری سوچ کو متاثر کرتا ہے۔ صرف تب ہی مطالعہ یہوواہ کے ساتھ ہماری ذاتی وابستگی کو مضبوط کر سکتا ہے اور ہمیں تحریک دیتا ہے کہ اس طریقے سے زندہ رہیں جو چیلنجخیز حالات یا سخت آزمائشوں کے باوجود بھی خدا کو خوش کرتا ہو۔
گھر میں خدائی عقیدت کو عمل میں لانا
۱۲. (ا) پولس کے مطابق، ایک مسیحی گھر میں خدائی عقیدت کو کیسے عمل میں لا سکتا ہے؟ (ب) سچے مسیحی بوڑھے والدین کی خبرگیری کیوں کرتے ہیں؟
۱۲ خدائی عقیدت کو پہلے گھر کے اندر عمل میں لانا چاہیے۔ پولس رسول کہتا ہے: ”اگر کسی بیوہ کے بیٹے یا پوتے ہوں تو وہ پہلے اپنے ہی گھرانے کے ساتھ دینداری [”خدائی عقیدت،“ این ڈبلیو] کا برتاؤ کرنا اور ماںباپ [اور انکے ماں باپ] کا حق ادا کرنا سیکھیں کیونکہ یہ خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۵:۴) عمررسیدہ والدین کی خبرگیری کرنا، جیسے پولس کہتا ہے، خدائی عقیدت کا ایک اظہار ہے۔ سچے مسیحی ایسی خبرگیری نہ صرف ایک احساس ذمہداری کی وجہ سے فراہم کرتے ہیں بلکہ اپنے والدین کیلئے محبت کی وجہ سے۔ تاہم، اس سے بھی بڑھکر، وہ اس اہمیت کو بھی پہچانتے ہیں جو یہوواہ ان پر اپنے خاندان کی خبرگیری کرنے کیلئے ڈالتا ہے۔ وہ اس سے اچھی طرح باخبر ہیں کہ ضرورت کے وقت اپنے والدین سے پیٹھ پھیر لینا ”مسیحی ایمان سے منکر ہونے“ کے برابر ہوگا۔—۱-تیمتھیس ۵:۸۔
۱۳. گھر میں خدائی عقیدت کو عمل میں لانا حقیقی چیلنج کیوں ہو سکتا ہے، لیکن اپنے والدین کی خبرگیری کرنا کس اطمینان پر منتج ہوتا ہے؟
۱۳ مانا کہ، گھر پر خدائی عقیدت کو عمل میں لانا ہمیشہ آسان نہیں ہے۔ خاندانی ممبران بہت فاصلوں کی وجہ سے الگ الگ ہو سکتے ہیں۔ بالغ بچے شاید اپنے خاندانوں کی پرورش کر رہے ہوں اور ہو سکتا ہے معاشی طور پر جدوجہد کر رہے ہوں۔ باپ یا ماں کیلئے درکار خبرگیری کی نوعیت یا حد خبرگیری فراہم کرنے والوں پر جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کا بوجھ ڈال سکتی ہے۔ پھر بھی، یہ جاننے میں حقیقی اطمینان ہو سکتا ہے کہ کسی کا اپنے والدین کی خبرگیری کرنا نہ صرف ”حق ادا“ کرنے کے برابر ہے بلکہ اسکو بھی خوش کرتا ہے ”جس سے آسمان اور زمین کا ہر خاندان نامزد ہے۔“—افسیوں ۳:۱۴، ۱۵۔
۱۴، ۱۵. ایک ماں یا باپ کیلئے بچوں کی طرف سے خدائی خبرگیری کی ایک مثال دیں۔
۱۴ ایک رقتانگیز مثال پر غور کریں۔ ایلس اور اسکے پانچ بھائی بہنوں کو گھر پر اپنے والد کی خبرگیری کرنے کے حقیقی چیلنج کا سامنا ہے۔ ”۱۹۸۶ میں میرے والد پر فالج کا دورہ پڑا، جس نے اسے مکمل طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا،“ ایلس بیان کرتی ہے۔ چھ بچے اپنے باپ کی ضروریات کی دیکھ بھال کرنے میں حصہ لیتے ہیں، غسل کرانے سے لیکر یہ یقین کرنے تک کہ وہ باقاعدگی سے بستر پر کروٹ تبدیل کرے تاکہ اس کو ٹشوز کا السر نہ ہو جائے۔ ”ہم اسکے لئے پڑھائی کرتے، اس سے باتچیت کرتے ہیں، اسکے لئے موسیقی بجاتے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں ہے کہ آیا وہ اس سے باخبر ہے کہ اسکے چوگرد کیا کچھ رونما ہو رہا ہے، لیکن ہم اسکے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے ہیں گویا کہ وہ ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے۔“
۱۵ بچے والد کی خبرگیری کیوں کرتے ہیں جیسے یہ کرتے ہیں؟ ایلس بیان کو جاری رکھتی ہے: ”۱۹۶۴ میں ہماری ماں کی وفات کے بعد، ابا جان نے اپنے بل بوتے پر ہماری پرورش کی۔ اس وقت ہماری عمر ۵ سے لیکر ۱۴ کی تھیں۔ اس وقت وہ ہماری مدد کرنے کیلئے موجود تھا، اب ہم اس کیلئے موجود ہیں۔“ واضح طور پر، ایسی خبرگیری فراہم کرنا آسان نہیں ہے، اور بچے بعض اوقات بےحوصلہ ہو جاتے ہیں۔ ”لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ کی حالت ایک عارضی مسٔلہ ہے،“ ایلس کہتی ہے۔ ”ہم اس وقت کی امید میں ہیں جب ہمارے باپ کو اچھی صحت عطا کر دی جائیگی اور ہم اپنی ماں سے دوبارہ مل سکتے ہیں۔“ (یسعیاہ ۳۳:۲۴، یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) یقینی طور پر، ماں یا باپ کیلئے ایسی عقیدتمندانہ خبرگیری کو اسکے دل کو گرما دینا چاہیے جو بچوں کو اپنے والدین کا احترام کرنے کا حکم دیتا ہے!c—افسیوں ۶:۱، ۲۔
خدائی عقیدت اور خدمتگزاری
۱۶. جو کچھ ہم خدمتگزاری میں کرتے ہیں اسکی اولین وجہ کیا ہونی چاہیے؟
۱۶ جب ہم یسوع کی ”میرے پیچھے ہو لے“ کی دعوت کو قبول کر لیتے ہیں تو ہم بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنے اور شاگرد بنانے کی الہی تفویض کے تحت آ جاتے ہیں۔ (متی ۱۶:۲۴، ۲۴:۱۴، ۲۸:۱۹، ۲۰) واضح طور پر، اس ”اخیر زمانہ“ میں خدمتگزاری میں حصہ لینا ایک مسیحی ذمہداری ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱) تاہم، منادی کرنے اور تعلیم دینے کے ہمارے محرک کو محض ایک احساس ذمہداری یا فرض سے آگے جانا چاہیے۔ خدمتگزاری میں جو کچھ ہم کرتے ہیں یا جتنا زیادہ ہم کرتے ہیں اسکی اولین وجہ یہوواہ کیلئے ہماری گہری محبت ہونی چاہیے۔ ”جو دل میں بھرا ہے وہی منہ پر آتا ہے،“ یسوع نے کہا۔ (متی ۱۲:۳۴) جیہاں، جب ہمارے دل یہوواہ کیلئے محبت سے سرشار ہیں تو ہم اسکی بابت دوسروں کو گواہی دینے کی طرف آمادہ محسوس کرتے ہیں۔ جب خدا کیلئے محبت ہمارا محرک ہے تو ہماری خدمتگزاری ہماری خدائی عقیدت کا ایک معنیخیز اظہار ہے۔
۱۷. ہم خدمتگزاری کیلئے درست محرک کو کیسے ترقی دے سکتے ہیں؟
۱۷ ہم خدمتگزاری کیلئے درست محرک کو کیسے ترقی دے سکتے ہیں؟ تین وجوہات پر قدردانی کے ساتھ غور کریں جو یہوواہ نے ہمیں اس محبت کرنے کیلئے دی ہیں۔ (۱) جو کچھ وہ ہمارے لئے پہلے ہی کر چکا ہے اس کی وجہ سے ہم یہوواہ سے محبت کرتے ہیں۔ فدیہ فراہم کرنے سے کوئی بڑی محبت وہ نہیں دکھا سکتا تھا۔ (متی ۲۰:۲۸، یوحنا ۱۵:۱۳) (۲) ہم یہوواہ سے محبت جو کچھ وہ اب ہمارے لئے کر رہا ہے کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ہمیں یہوواہ کے ساتھ کلام کرنے کی دلیری حاصل ہے جو ہماری دعاؤں کے جواب دیتا ہے۔ (زبور ۶۵:۲، عبرانیوں ۴:۱۴-۱۶) جب ہم بادشاہتی مفادات کو اولیت دیتے ہیں تو ہم ضروریات زندگی سے استفادہ کرتے ہیں۔ (متی ۶:۲۵-۳۳) ہم روحانی خوراک کی مسلسل رسد حاصل کرتے ہیں جو ہمیں درپیش مسائل سے نپٹنے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) اور ہمیں عالمگیر مسیحی برادری کا ایک حصہ ہونے کی برکت حاصل ہے جو ہمیں باقیماندہ دنیا سے واقعی الگ رکھتی ہے۔ (۱-پطرس ۲:۱۷) (۳) یہوواہ ہمارے لئے ہنوز جو کچھ کریگا ہم اس کی وجہ سے بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ اسکی محبت کی وجہ سے ہم ”حقیقی زندگی“—مستقبل میں ہمیشہ کی زندگی ”پر قبصہ“ رکھتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۶:۱۲، ۱۹) جب ہم اپنے لئے یہوواہ کی محبت پر غور کرتے ہیں تو یقینی طور پر ہمارے دل ہم کو اسکی اور اسکے بیشقیمت مقاصد کی بابت دوسروں کو بتانے میں عقیدتمندانہ حصہ لینے کیلئے تحریک دینگے! دوسروں کو ہمیں بتانا نہیں پڑیگا کہ خدمتگزاری میں کیا کریں اور کتنا کریں۔ جو کچھ ہم کر سکتے ہیں ہمارے دل وہی کرنے کی ہمیں تحریک دینگے۔
۱۸، ۱۹. خدمتگزاری میں حصہ لینے کی خاطر ایک بہن نے کس رکاوٹ پر قابو پایا؟
۱۸ چلینجخیز حالات کے سامنے بھی، خدائی عقیدت سے پرجوش دل کلام کرنے کیلئے آمادہ ہوگا۔ (مقابلہ کریں یرمیاہ ۲۰:۹۔) یہ سٹیلا، حد سے زیادہ شرمیلی ایک مسیحی عورت، کے معاملے سے ظاہر ہوا ہے۔ جب اس نے پہلی مرتبہ بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کیا، تو اس نے سوچا، ”میں کبھی بھی گھر با گھر کی منادی میں نہیں جا سکوں گی!“ وہ وضاحت کرتی ہے: ”میں ہمیشہ ہی بڑی خاموشطبع تھی۔ میں آگے بڑھکر کبھی بھی دوسروں کے ساتھ گفتگو کا آغاز نہیں کر سکتی تھی۔“ جب اس نے مطالعہ جاری رکھا تو یہوواہ کیلئے اسکی محبت بڑھی، اور اس نے اپنے اندر اسکی بابت دوسروں سے کلام کرنے کیلئے ایک دہکتی خواہش کو بڑھا لیا۔ ”مجھے اپنی بائبل سکھانے والی کو بتانا یاد ہے، ”مجھے کلام کرنے کی بہت خواہش ہے لیکن میں بول نہیں سکتی، اور یہ بات مجھے واقعی پریشان کرتی ہے۔“ جو کچھ اس نے مجھے بتایا میں اسے کبھی فراموش نہیں کرونگی: ”سٹیلا، شکرگذار ہو کہ آپ بولنا چاہتی ہیں۔““
۱۹ جلد ہی، سٹیلا نے خود کو ساتھ والے گھر کی پڑوسن کو گواہی دیتے ہوئے پایا۔ پھر اس نے وہ قدم اٹھایا جو اسکے لئے یادگار تھا—اس نے پہلی مرتبہ گھر با گھر کی خدمتگزاری میں حصہ لیا۔ (اعمال ۲۰:۲۰، ۲۱) وہ یاد کرتی ہے: ”میں نے اپنی پیشکش لکھ لی تھی۔ لیکن میں اتنی خوفزدہ تھی کہ اگرچہ یہ پیشکش میرے سامنے تھی، میں اپنے نوٹس پر دیکھنے کیلئے بھی بڑی گھبرائی ہوئی تھی!“ اب ۳۵ سال سے زیادہ عرصے کے بعد بھی، سٹیلا طبعی طور پر بڑی شرمیلی ہے۔ تاہم وہ میدانی خدمتگزاری سے پیار کرتی ہے اور اس میں ایک پرمطلب حصہ لینے کیلئے اس کام کو جاری رکھتی ہے۔
۲۰. کونسی مثال ظاہر کرتی ہے کہ اذیت یا قید بھی یہوواہ کے عقیدتمند گواہوں کے منہ بند نہیں کر سکتی؟
۲۰ اذیت یا قید بھی یہوواہ کے عقیدتمند گواہوں کے منہ بند نہیں کر سکتی۔ جرمنی کے ارنسٹ اور ہلڈیگارٹ زیلگار کی مثال پر غور کریں۔ اپنے ایمان کی وجہ سے، ان دونوں نے ۴۰ سے زیادہ سال نازی مرکز اسیران اور کمیونسٹ قیدخانوں میں بسر کئے۔ قید میں بھی، انہوں نے دوسرے قیدیوں کو گواہی دینا جاری رکھا۔ ہلڈیگارٹ یاد کرتی ہے: ”جیل حکام نے مجھے خاص طور پر خطرناک قسم کا قیدی ٹھہرایا تھا، کیونکہ، جیسے ایک خاتون محافظ نے کہا، میں پورا دن بائبل کی بابت بات کرتی۔ اسلئے مجھے ایک زمیندوز کوٹھری میں ڈال دیا گیا تھا۔“ جب انہیں بالآخر آزادی مل گئی تو اس کے بعد، بھائی اور بہن زیلگار نے اپنا کل وقت مسیحی خدمتگزاری کی نذر کر دیا۔ دونوں نے اپنی اموات تک وفاداری سے خدمت کی، بھائی زیلگار نے ۱۹۸۵ میں اور اسکی بیوی نے ۱۹۹۲ میں وفات پائی۔
۲۱. اپنے صبر پر خدائی عقیدت کو بڑھانے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
۲۱ مستعدی سے خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے اور جو کچھ ہم سیکھتے ہیں اس پر قدردانی سے غوروخوض کرنے سے، ہم یہوواہ اور یسوع مسیح کے صحیح علم میں ترقی کرینگے۔ اسکی وجہ سے، یہ اسکی بیشقیمت خوبی—خدائی عقیدت کو ہماری طرف سے پوری حد تک حاصل کرنے پر منتج ہوگا۔ خدائی عقیدت کے بغیر مختلف آزمائشوں کو برداشت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں جو ہم پر مسیحیوں کے طور پر آتی ہیں۔ پس آئیے ہم پطرس رسول کی نصیحت پر عمل کریں، مسلسل ”اپنے ایمان پر برداشت، اور برداشت پر خدائیعقیدت بڑھائیں۔“—۲-پطرس ۱:۵-۷۔ (۱۴ ۹/۱۵ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a یوسیبیا کی بابت ولیم بارکلے ذکر کرتا ہے: ”یہ سیب ہے لفظ کا جزو [مصدر] ہے جسکا مطلب تعظیم یا پرستش ہے۔ خوب اچھی طرح کیلئے یونانی لفظ ایو ہے، اسلئے، یوسیبیا خوب اچھی طرح اور صحیح طور پر دی گئی پرستش، تعظیم ہے۔“ نیو ٹسٹامنٹ ورڈز
b باتچیت کیلئے کہ کیسے خدا کے کلام کے اپنے علم کو گہرا کرنے کیلئے مطالعہ کریں، دیکھیں نومبر، ۱۹۹۳ کے مینارنگہبانی کے صفحات ۲۰-۲۴۔
c عمررسیدہ والدین کیلئے کسطرح خدائی عقیدت کو عمل میں لائیں، مکمل بحث کیلئے دیکھیں جون ۱، ۱۹۸۷ کے دی واچٹاور کے صفحات ۱۳-۱۸۔
آپکا کیا جواب ہے؟
▫ خدائی عقیدت کیا ہے؟
▫ خدائی عقیدت اور برداشت میں کیا تعلق ہے؟
▫ خدائی عقیدت حاصل کرنے کیلئے کنجی کیا ہے؟
▫ ایک مسیحی گھر میں خدائی عقیدت کو کیسے عمل میں لا سکتا ہے؟
▫ جو کچھ ہم میدانی خدمت میں کرتے ہیں اسکی اولین وجہ کیا ہونی چاہیے؟
[تصویر]
یہوواہ کے گواہوں نے ریونزبروک میں نازی مرکز اسیران کے اندر برداشت اور خدائی عقیدت ظاہر کی