مسیحی خاندان روحانی چیزوں کو مقدم رکھتا ہے
”غرض سب کے سب یکدل اور ہمدرد رہو۔ برادرانہ محبت رکھو_ نرم دل اور فروتن بنو۔“—۱-پطرس ۳:۸۔
۱. ہم سب کو کونسا انتخاب حاصل ہے، اور ہمارا انتخاب ہمارے مستقبل پر کیسے اثرانداز ہو سکتا ہے؟
مندرجہبالا آیت بنیآدم کے قدیمترین نظام—خاندان—پر خوب عائد ہوتی ہے!۔ اور کتنا ضروری ہے کہ والدین ان معاملات میں راہنمائی کا مظاہرہ کریں! انکی مثبت اور منفی صفات عام طور پر انکے بچوں میں ظاہر ہونگی۔ تاہم، انتخاب کا موقع خاندان کے ہر فرد کے پاس رہتا ہے۔ مسیحیوں کے طور پر، ہم روحانی اشخاص یا جسمانی اشخاص بننے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ہم خدا کو خوش کرنے یا اسے ناراض کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہ انتخاب یا تو ہمیشہ کی زندگی اور اطمینان کی برکت—یا دائمی موت، کی لعنت پر منتج ہو سکتا ہے۔—پیدایش ۴:۱، ۲، رومیوں ۸:۵-۸، گلتیوں ۵:۱۹-۲۳۔
۲. (ا) پطرس نے خاندان کیلئے اپنی فکرمندی کو کیسے ظاہر کیا؟ (ب) روحانیت کیا ہے؟ (دیکھیں فٹنوٹ.)
۲ ۱-پطرس ۳ باب، ۸ آیت میں رسول کے الفاظ اس عمدہ مشورت کے فوراً بعد آتے ہیں جو وہ خاوندوں اور بیویوں کو دے چکا ہے۔ پطرس مسیحی خاندانوں کی خوشحالی میں واقعی دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ پختہ روحانیت ایک متحد، ہمدرد گھرانے کی کنجی ہے۔ لہذا اس نے ۷ آیت میں دلالت کی کہ اگر خاوندوں کیلئے اسکی مشورت کو نظرانداز کیا گیا تو نتیجہ خاوند اور یہوواہ کے درمیان روحانی رکاوٹ ہوگا۔a خاوند کی دعائیں رک سکتی ہیں اگر اس نے اپنی بیوی کی ضروریات نظرانداز کیں یا نامہربانی سے اسے کچل دیا۔
مسیح—روحانیت کا ایک کامل نمونہ
۳. پولس نے شوہروں کیلئے مسیح کے نمونے کو کیسے نمایاں کیا؟
۳ خاندان کی روحانیت کا انحصار اچھے نمونے پر ہے۔ جب شوہر ایک باعمل مسیحی ہے تو وہ روحانی صفات ظاہر کرنے میں نمونہ قائم کرتا ہے۔ اگر شوہر باایمان نہیں ہے تو ماں عام طور پر اس ذمہداری کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ دونوں معاملوں میں، یسوع مسیح پیروی کرنے کیلئے کامل نمونہ پیش کرتا ہے۔ اسکا طرزعمل، اسکی باتیں، اور اسکی سوچ ہمیشہ تعمیری اور تازگیبخش تھیں۔ بار بار، پولس رسول پڑھنے والے کی توجہ کو مسیح کے پرمحبت نمونے کی طرف دلاتا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ بیان کرتا ہے: ”شوہر بیوی کا سر ہے جیسے کہ مسیح کلیسیا کا سر ہے اور وہ خود بدن کا بچانے والا ہے۔ اے شوہرو! اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کرکے اپنے آپ کو اسکے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔“—افسیوں ۵:۲۳، ۲۵، ۲۹، متی ۱۱:۲۸-۳۰، کلسیوں ۳:۱۹۔
۴. یسوع نے روحانیت کا کیا نمونہ قائم کیا؟
۴ یسوع روحانیت اور سرداری کا نمایاں نمونہ تھا جو اس نے محبت، مہربانی، اور ہمدردی کے ساتھ ظاہر کی۔ وہ خودایثار تھا، نہ کہ تنپرور۔ اس نے ہمیشہ اپنے باپ کو جلال دیا اور اسکی سرداری کا احترام کیا۔ اس نے اپنے باپ سے راہنمائی حاصل کی، اسلئے وہ کہہ سکتا تھا: ”میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔ جیسا سنتا ہوں عدالت کرتا ہوں اور میری عدالت راست ہے کیونکہ میں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔“ ”[میں] اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا بلکہ جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔“—یوحنا ۵:۳۰، ۸:۲۸، ۱-کرنتھیوں ۱۱:۳۔
۵. اپنے پیروکاروں کیلئے فراہم کرنے سے، یسوع نے شوہروں کیلئے کیا نمونہ قائم کیا؟
۵ شوہروں کیلئے اسکا کیا مطلب ہے؟ اسکا مطلب ہے انہیں سب باتوں میں جس نمونے پر چلنا ہے وہ مسیح ہے، جس نے ہمیشہ اپنے باپ کی تابعداری کی۔ مثال کے طور پر، جیسے یہوواہ نے زمین پر تمام قسم کے جانداروں کیلئے خوراک فراہم کی، اسی طرح یسوع نے اپنے پیروکاروں کیلئے خوراک فراہم کی۔ اس نے انکی بنیادی مادی ضروریات کو نظرانداز نہ کیا۔ ۵،۰۰۰ اور ۴،۰۰۰ آدمیوں کو سیر کرنے کے اسکے معجزات اسکی فکر اور احساسذمہداری کا ثبوت ہیں۔ (مرقس ۶:۳۵-۴۴، ۸:۱-۹) اسی طرح سے آجکل، ذمہدار خاندانی سردار اپنے گھرانوں کی جسمانی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ لیکن کیا انکی ذمہداری یہاں ختم ہو جاتی ہے؟—۱-تیمتھیس ۵:۸۔
۶. (ا) خاندان کی کونسی اہم ضروریات کو پورا ہونا چاہیے؟ (ب) شوہر اور والد کسطرح سے سمجھداری دکھا سکتے ہیں؟
۶ خاندانوں کی دوسری بھی، زیادہ اہم ضروریات ہیں، جیسے یسوع نے نشاندہی کی۔ انکی روحانی اور جذباتی ضروریات ہیں۔ (استثنا ۸:۳، متی ۴:۴) ہم خاندان اور کلیسیا دونوں جگہ پر دوسروں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہمیں تعمیری ہونے کی خاطر خود کو تحریک دینے کیلئے اچھی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ادا کرنے کیلئے شوہروں اور والدوں کا بڑا کردار ہے—اگر وہ بزرگ یا خدمتگزار خادم ہیں تو اس سے بھی بڑھکر۔ تنہا پرورش کرنے والے باپ یا ماں کو اپنے بچوں کی مدد کرتے وقت ایسی ہی صفات کی ضرورت ہے۔ والدین کو نہ صرف یہ سمجھنا چاہیے کہ خاندانی افراد کی طرف سے کونسی بات کہی جا رہی ہے بلکہ یہ بھی کہ کونسی بات بغیر کہے چھوڑی جا رہی ہے۔ اس کیلئے بصیرت، وقت، اور صبر درکار ہے۔ یہ ایک وجہ تھی کہ پطرس کیوں کہہ سکا تھا کہ شوہروں کو بامروت ہونا چاہیے اور اپنی بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرنا چاہیے۔—۱-تیمتھیس ۳:۴، ۵، ۱۲، ۱-پطرس ۳:۷۔
خطرات جن سے بچا جائے
۷، ۸. (ا) اگر ایک خاندان کو روحانی تباہی سے بچنا ہے تو کس چیز کی ضرورت ہے؟ (ب) مسیحی روش میں ایک اچھے آغاز کے علاوہ اور کیا ضروری ہے؟ (متی ۲۴:۱۳)
۷ خاندانی روحانیت پر توجہ اتنی ضروری کیوں ہے؟ مثال دیکر سمجھانے کیلئے، ہم پوچھ سکتے ہیں، یہ کیوں اہم ہے کہ جہاز کا ایک رہبر اپنے بحری نقشوں پر گہری توجہ دے جب وہ جہاز کی خطرناک پانیوں میں رہنمائی کر رہا ہوتا ہے جہاں اتھلے پانی ہوتے ہیں؟ اگست ۱۹۹۲ میں گشتی جہاز کوئین الزبتھ ۲ (کیو ای ۲) کو خطرناک پوشیدہ ریت کے ٹیلوں اور چٹانوں والے ایک ایسے علاقے میں سے لے جایا گیا تھا جہاں پر کہا جاتا ہے کہ جہازرانی کی غلطیاں عام ہوتی ہیں۔ ایک مقامی باشندے نے بیان کیا: ”بہت سے جہازران اس علاقے کی وجہ سے اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں۔“ کیو ای ۲ پانی کی چٹان کے ایک پتھر سے ٹکرایا۔ یہ غلطی مہنگی ثابت ہوئی۔ جہاز کے ڈھانچے کا ایک تہائی تباہ ہو گیا تھا، اور مرمت کی وجہ سے جہاز کو کئی ہفتوں تک کام میں نہ لایا جا سکا تھا۔“
۸ اسی طرح سے، اگر خاندان کا ”رہبر“ نقشے، یعنی خدا کے کلام، کو احتیاط سے نہیں دیکھتا، تو اسکا خاندان آسانی سے روحانی نقصان اٹھا سکتا ہے۔ ایک بزرگ یا ایک خدمتگزار خادم کیلئے، کلیسیا کے اندر استحقاقات کھو دینے یا شاید خاندان کے دوسرے افراد کیلئے سنگین نقصان پر منتج ہو سکتا ہے۔ اسلئے، ہر مسیحی کو احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ روحانی دلجمعی سے مغلوب نہ ہو یعنی مطالعے کی سابقہ اچھی عادات اور جوش پر ہی تکیہ نہ کرے۔ اپنی مسیحی روش میں، محض اچھا آغاز کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ سفر کو کامیابی سے مکمل کرنا ہونا چاہیے۔—۱-کرنتھیوں ۹:۲۴-۲۷، ۱-تیمتھیس ۱:۱۹۔
۹. (ا) ذاتی مطالعہ کتنا ضروری ہے؟ (ب) کونسے متعلقہ سوال ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں؟
۹ روحانی اتھلے پانیوں، چٹانوں، اور ریت کے ٹیلوں سے بچنے کی خاطر، ہمیں خدا کے کلام کے باقاعدہ مطالعے کے ذریعے، اپنے نقشوں سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم محض بنیادی مطالعے پر ہی بھروسہ نہیں کر سکتے جو ہمیں سچائی میں لایا۔ ہماری روحانی مضبوطی کا انحصار مطالعے اور خدمت کے ایک باقاعدہ اور متوازن پروگرام پر ہے۔ مثال کے طور پر، جب ہم ہاتھ میں اسی شمارے کے ساتھ مینارنگہبانی کے کلیسیائی مطالعے پر حاضر ہوتے ہیں تو ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں، ”کیا میں نے، یا خاندان کے طور ہم نے، صحائف کو دیکھتے ہوئے اور انکے اطلاق پر غوروخوض کرتے ہوئے واقعی اس مضمون کا مطالعہ کیا ہے؟ یا ہم نے صرف جوابات کو خطکشیدہ کیا ہے؟ شاید، ہم نے اجلاس پر حاضر ہونے سے پہلے، مضمون پڑھنے کو بھی نظرانداز کر دیا ہے؟ ان سوالوں کے دیانتدارانہ جوابات ہماری سوچ کو تحریک اور بہتری پیدا کرنے کی خواہش کو بھڑکا سکتے ہیں—اگر یہ ضروری ہے۔—عبرانیوں ۵:۱۲-۱۴۔
۱۰. ذاتی جانچپڑتال کیوں ضروری ہے؟
۱۰ ایسی ذاتی جانچپڑتال کیوں اہم ہے؟ کیونکہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو شیطان کی روح کے زیرتسلط ہے، ایک ایسی دنیا، جو بہت سے خفیہ طریقوں سے خدا پر اور اسکے وعدوں پر ہمارے ایمان کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ ایسی دنیا ہے جو ہمیں اتنا مصروف رکھنا چاہتی ہے کہ روحانی ضروریات کا خیال رکھنے کیلئے ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ اسلئے ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں، ”کیا میرا خاندان روحانی طور پر مضبوط ہے؟ کیا میں والدین میں سے ایک کے طور پر اتنا مضبوط ہوں جتنا کہ مجھے ہونا چاہیے؟ کیا ہم ایک خاندان کے طور پر ذہن کو ترغیب دینے والی اس روحانی قوت کو ترقی دے رہے ہیں جو راستبازی اور وفاداری پر مبنی فیصلے کرنے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے؟—افسیوں ۴:۲۳، ۲۴۔
۱۱. مسیحی اجلاس روحانی طور پر کیوں مفید ہیں؟ کوئی مثال دیں۔
۱۱ ہماری روحانیت کو ہر اجلاس سے مستحکم ہونا چاہیے جس پر ہم حاضر ہوتے ہیں۔ کنگڈم ہال یا کلیسیائی کتابی مطالعے پر صرف بیشبہا گھنٹے ان طویل گھنٹوں کے بعد تازگی بخشنے کیلئے ہماری مدد کرتے ہیں جو ہم نے شیطان کی دشمن دنیا میں زندہ رہنے کی کوشش کرنے کیلئے صرف کیے ہیں۔ مثال کے طور پر، دی گریٹسٹ مین ہو ایور لوڈ بک کا مطالعہ کرنا کتنا تازگیبخش رہا ہے! اس نے یسوع، اسکی زندگی، اور اسکی خدمتگزاری کی بابت بہتر سمجھ حاصل کرنے کیلئے ہماری مدد کی ہے۔ ہم نے حوالہشدہ صحائف کو احتیاط کے ساتھ پڑھا ہے، ذاتی تحقیق کی ہے، اور یوں اس نمونے سے بہت کچھ سیکھا جو یسوع نے قائم کیا۔—عبرانیوں ۱۲:۱-۳، ۱-پطرس ۲:۲۱۔
۱۲. میدانی خدمتگزاری ہماری روحانیت کو کیسے آزماتی ہے؟
۱۲ ہماری روحانیت کا ایک عمدہ امتحان مسیحی خدمتگزاری ہے۔ اکثر ایک بےرخ یا مخالف عوام کے سامنے، اپنی رسمی اور غیررسمی گواہی دینے کے مقابلے میں ثابتقدم رہنے کیلئے، ہمیں درست محرک، خدا کیلئے محبت اور پڑوسی کیلئے محبت کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ، کوئی بھی رد کئے جانے سے مسرور نہیں ہوتا، اور یہ ہماری میدانی خدمتگزاری میں واقع ہو سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ اشخاص کے طور پر ہمیں نہیں بلکہ یہ خوشخبری ہے جسے رد کیا جا رہا ہے۔ یسوع نے کہا: ”اگر دنیا تم سے عداوت رکھتی ہے تو تم جانتے ہو کہ اس نے تم سے پہلے مجھ سے بھی عداوت رکھی ہے۔ اگر تم دنیا کے ہوتے تو دنیا اپنوں کو عزیز رکھتی لیکن چونکہ تم دنیا کے نہیں بلکہ میں نے تم کو دنیا میں سے چن لیا ہے اس واسطے دنیا تم سے عداوت رکھتی ہے۔ ... لیکن یہ سب کچھ وہ میرے نام کے سبب سے تمہارے ساتھ کرینگے کیونکہ وہ میرے بھیجنے والے کو نہیں جانتے۔“—یوحنا ۱۵:۱۸-۲۱۔
اعمال الفاظ سے اونچا بولتے ہیں
۱۳. ایک شخص خاندان کی روحانیت کو کیسے تباہوبرباد کر سکتا ہے؟
۱۳ ایک خاندان میں کیا واقع ہوتا ہے جب ایک کے سوا سب گھر کی صفائی اور ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں؟ بارش والے دن پر، بھول بھلکڑ کے سوا سب محتاط ہیں کہ گھر کے اندر کیچڑ نہ لیکر آئیں۔ ہر جگہ کیچڑ والے قدموں کے نشان، دوسروں کیلئے کام بڑھاتے ہوئے، اسکی بےپروائی کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہی اصول روحانیت پر عائد ہوتا ہے۔ صرف ایک خودغرض یا غافل فرد خاندان کی نیکنامی کو داغ لگا سکتا ہے۔ گھر کے اندر سب کو، نہ کہ صرف والدین کو، مسیح جیسے ذہنی میلان کو ظاہر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ کتنا تازگیبخش ہوتا ہے جب سب ہمیشہ کی زندگی کے پیشنظر ملکر کام کرتے ہیں! اس خاندان کا ذہنی_سیٹ روحانی ہے (نہ کہ زہدفروشی)۔ ایک ایسے گھرانے میں روحانی غفلت کے آثار شاذونادر ہی ملتے ہیں۔—واعظ ۷:۱۶، ۱-پطرس ۴:۱، ۴۔
۱۴. شیطان ہماری راہ میں کونسی مادی آزمائشیں رکھتا ہے؟
۱۴ ہم سب کی بنیادی مادی ضرویات ہیں جو روزمرہ کی بنیاد پر ہماری زندگی کو قائم رکھنے کیلئے پوری ہونی چاہیں۔ (متی ۶:۱۱، ۳۰-۳۲) لیکن اکثر ہماری ضروریات ہماری خواہشات کے سائے تلے دب جاتی ہیں۔ مثال کے طور، شیطان کا نظام ہمیں ہر قسم کی مشین اور آلہ پیش کرتا ہے۔ اگر ہم ہمیشہ ہر چیز میں جدیدترین کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم کبھی بھی مطمئن نہیں ہونگے، کیونکہ جدیدترین چیز جلد پرانی ہو جاتی ہے، اور نئی چیز منظرعام پر آ جاتی ہے۔ تجارتی دنیا نے ایک گھومنے والا چکر نصب کر رکھا ہے جو کبھی نہیں ٹھہرتا۔ یہ ہمیں ہمیشہ بڑھنے والی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے ہمیشہ زیادہ پیسہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ ”بہت سی بیہودہ اور نقصان پہنچانے والی خواہشوں،“ یا ”احمقانہ اور خطرناک آرزؤں“ کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ روحانی کارگزاریوں کیلئے لگاتار کم سے کم وقت کے ساتھ ایک غیرمتوازن زندگی پر منتج ہو سکتا ہے۔—۱-تیمتھیس ۶:۹، ۱۰، دی جیروسلم بائبل۔
۱۵. کس لحاظ سے خاندانی سردار کا نمونہ اہم ہے؟
۱۵ یہاں پھر، مسیحی گھرانے کے سردار کی طرف سے قائم کیا گیا نمونہ بہت اہم ہے۔ دنیاوی اور روحانی ذمہداریوں کیلئے اسکے متوازن رویے کو خاندان کے دوسرے افراد کو تحریک دینی چاہیے۔ یقیناً یہ نقصاندہ ہوگا اگر باپ نے شاندار زبانی ہدایت دی ہو لیکن پھر اپنے ہی اقوال پر پورا اترنے میں ناکام ہو گیا ہو۔ بچے جلد اس طریقے کو بھانپ لیتے ہیں کہ دوسروں کو کرنے کی تلقین کرنا لیکن خود نہ کرنا۔ اسی طرح سے، ایک بزرگ یا خدمتگزار خادم جو دوسروں کی گھر با گھر کی خدمتگزاری میں حوصلہافزائی کرتا ہے تاہم شاذونادر ہی اس کارگزاری میں اپنے خاندان کے ساتھ کام کرتا ہے، وہ جلد ہی خاندان اور کلیسیا دونوں میں اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔—۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸، مقابلہ کریں متی ۲۳:۳۔
۱۶. ہم خود سے کونسے سوالات پوچھ سکتے ہیں؟
۱۶ لہذا ہم نفعبخش طور پر اپنی زندگیوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ کیا ہم دنیاوی کامیابی حاصل کرنے کیلئے حد سے زیادہ مصروف ہیں اور یوں روحانی ترقی کرنے کو نظرانداز کرتے ہیں؟ کیا ہم دنیا میں ترقی لیکن کلیسیا میں پستی کی طرف جا رہے ہیں؟ پولس کی نصیحت کو یاد رکھیں: ”یہ بات سچ ہے کہ جو شخص نگہبان کا عہدہ چاہتا ہے وہ اچھے کام کی خواہش کرتا ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۳:۱) کلیسیا میں ذمہداری کا احساس ملازمت پر ترقی کی بجائے ہماری روحانیت کی زیادہ دلالت کرتا ہے۔ ہمیں ایک محتاط توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے آجر ہم پر پورا غلبہ نہ حاصل کر لیں گویا کہ ہم انکے لئے مخصوص ہوئے تھے نہ کہ یہوواہ کیلئے۔ متی ۶:۲۴۔
معنیخیز رابطہ روحانیت کو فروغ دیتا ہے
۱۷. خاندان میں حقیقی محبت کو فروغ دینے کیلئے کیا چیز معاون ہو سکتی ہے؟
۱۷ لاکھوں گھر عملی طور پر سونے کی جگہیں بن کر رہ گئے ہیں۔ کیسے؟ خاندانی افراد صرف سونے اور کھانے کیلئے آتے ہیں، اور پھر وہ تیزی سے چلے جاتے ہیں۔ شاذونادر ہی وہ دسترخوان پر مل بیٹھکر کھانے سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔ خاندان کا مفہوم ہی ختم ہو گیا ہے۔ نتیجہ؟ رابطے کی کمی ہے، کوئی خاطرخواہ گفتگو نہیں۔ اور یہ دوسرے افراد میں دلچسپی کی کمی پر منتج ہو سکتا ہے، شاید حقیقی دلچسپی کی کمی۔ جب ہم ایکدوسرے سے محبت رکھتے ہیں تو ہم گفتگو کرنے اور سننے کیلئے وقت نکالتے ہیں۔ ہم حوصلہافزائی کرتے اور مدد کرتے ہیں۔ روحانیت کے اس پہلو میں میاںبیوی کے مابین اور والدین اور بچوں کے مابین معنیخیز رابطہ شامل ہے۔b جب ہم اپنی خوشیوں، تجربات، اور مسائل میں شریک کرنے کی خاطر ایکدوسرے سے معلومات لیتے ہیں تو اس کیلئے وقت اور موقعشناسی درکار ہے۔—۱-کرنتھیوں ۱۳:۴-۸، یعقوب ۱:۱۹۔
۱۸. (ا) اکثر رابطے کیلئے کونسی بڑی رکاوٹ ہے؟ (ب) معنیخیز رشتے کس چیز پر تعمیر ہوتے ہیں؟
۱۸ اچھے رابطے کیلئے وقت اور کوشش درکار ہے۔ اسکا مطلب باتچیت کرنے اور ایکدوسرے کی سننے کیلئے وقت مختص کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ایک سب سے بڑی رکاوٹ وقت کو کھا جانے والا آلہ ہے جو بہت سے گھروں میں عزت کا مقام رکھتا ہے—ٹیوی۔ یہ ایک چیلنج پیش کرتا ہے—کیا ٹیوی آپ پر کنٹرول رکھتا ہے، یا آپ اس پر کنٹرول رکھتے ہیں؟ ٹیوی پر کنٹرول کرنے کیلئے پختہ ارادے کی ضرورت ہے—بشمول اسکو بند کر دینے کیلئے قوتارادی کے۔ لیکن ایسا کرنا خاندانی ممبروں کے طور پر اور بطور روحانی بہنوں اور بھائیوں کے ایکدوسرے کیلئے ہمآہنگ ہونے کی راہ کھول دیتا ہے۔ معنیخیز رشتے ایکدوسرے کو، ہماری ضروریات اور خوشیوں کو سمجھنے کیلئے اچھے رابطے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایک دوسرے کو یہ بتا سکیں کہ ہم ان تمام مہربان کاموں کی کتنی قدر کرتے ہیں جو ہمارے لئے کئے گئے ہیں۔ باالفاظ دیگر، معنیخیز گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ ہم دوسروں کے ممنون ہیں اور انکو قابلقدر سمجھتے ہیں۔—امثال ۳۱:۲۸، ۲۹۔
۱۹، ۲۰. اگر ہم خاندان میں سب کی نگہداشت کرتے ہیں، تو ہم کیا کرینگے؟
۱۹ اسلئے اگر ہم خاندانی بندوبست میں ایکدوسرے کیلئے محبت اور ہمدردی رکھتے ہیں—جس میں بےایمان خاندانی ممبران کیلئے فکرمندی رکھنا بھی شامل ہے—تو ہم اپنی روحانیت کو ترقی دینے اور قائم رکھنے کیلئے بہت کچھ کر رہے ہونگے۔ ایک خاندانی بندوبست میں، ہم پطرس کی مشورت پر عمل کر رہے ہونگے: ”غرض سب کے سب یکدل اور ہمدرد رہو۔ برادرانہ محبت رکھو۔ نرمدل اور فروتن بنو۔ بدی کے عوض بدی نہ کرو اور گالی کے بدلے گالی نہ دو بلکہ اسکے برعکس برکت چاہو کیونکہ تم برکت کے وارث ہونے کیلئے بلائے گئے ہو۔“—۱-پطرس ۳:۸، ۹۔
۲۰ اگر ہم اپنی روحانیت کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اب یہوواہ کی برکات حاصل کر سکتے ہیں اور یہ مستقبل میں اسکی برکت کے ہمارے وارث ہونے کیلئے کام کر سکتا ہے، جب کہ ہم زمینی فردوس پر ابدی زندگی کی بخشش حاصل کرتے ہیں۔ بطور خاندان روحانی طور پر ایکدوسرے کی مدد کرنے کیلئے اور بھی کام ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ اگلا مضمون خاندان کے طور پر ملکر کام کرنے کے فوائد پر باتچیت کریگا۔—لوقا ۲۳:۴۳، مکاشفہ ۲۱:۱-۴۔ (۱۰ ۹/۱ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a روحانیت کی ”مذہبی اقدار سے اثرپذیری یا وابستگی: روحانی ہونے کی حالت یا لیاقت“ کے طور پر تعریف کی گئی ہے۔ (ویبسٹرز نائنتھ نیو کالجیٹ ڈکشنری) ایک روحانی شخص ایک جسمانی، حیوانخصلت شخص کے برعکس ہے۔—۱-کرنتھیوں ۲:۱۳-۱۶، گلتیوں ۵:۱۶، ۲۵، یعقوب ۳:۱۴، ۱۵، یہوداہ ۱۹۔
b خاندانی رابطے پر مزید مشوروں کیلئے دیکھیں یکم فروری، ۱۹۹۲ کے مینارنگہبانی کے صفحات ۱۳-۱۵۔
کیا آپ کو یاد ہے؟
▫ روحانیت کیا ہے؟
▫ ایک خاندانی سردار کسطرح سے مسیح کی نقل کر سکتا ہے؟
▫ ہم اپنی روحانیت کیلئے خطرات سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
▫ کونسی چیز ایک خاندان کی روحانیت کو توڑپھوڑ سکتی ہے؟
▫ معنیخیز رابطہ کیوں ضروری ہے؟
[تصویر]
کلیسیائی کتابی مطالعے پر حاضری خاندان کو روحانی طور پر مضبوط بناتی ہے