حقیقی تحفظ ممکن ہے؟
مقالہنگار رالف والڈو ایمرسن نے ایک بار بیان کیا: ”کمظرف آدمی قسمت پر یقین رکھتے ہیں ... مضبوط (اخلاقی اور ذہنی طور پر) آدمی سبب اور تاثیر کے سلسلے پر اعتقاد رکھتے ہیں۔“ جیہاں، جو شخص جادوئی تعویذوں اور خوش قسمتی کے ٹوٹکوں کی طاقت پر یقین رکھتا ہے وہ اپنی زندگی کے اختیار کو نادیدہ قوتوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ وہ منطق اور استدلال کو ترک کرکے غیرفطری، توہمپرستانہ ڈر کے آگے جھک جاتا ہے۔
تاہم، بائبل ہمیں ایسے ڈر سے آزاد کر سکتی ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ تعویذ اور ٹوٹکے بےبس اور بےاختیار ہیں۔ کس طرح؟ دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق، ”یہ خیال کیا جاتا ہے کہ تعویذ [دوسری باتوں کیساتھ ساتھ] فطری قوتوں کیساتھ اپنے رابطہ سے طاقت حاصل کرتے ہیں۔“ یہ قوتیں ”مردوں کی روحیں“ یا ”قسمت کی قوت“ ہو سکتی ہیں۔ لیکن بائبل بڑی وضاحت سے یہ ظاہر کرتی ہے کہ مردے ”کچھ بھی نہیں جانتے۔“ (واعظ ۹:۵) لہذا، مردوں کی کوئی ایسی روحیں نہیں جو زندوں کو نقصان پہنچا سکتی یا انکی مدد کر سکتی ہیں، نہ ہی قسمت کوئی ایسی نادیدنی قوت ہے جو آپ کیلئے کچھ کر سکتی ہے۔
بائبل وقتوں میں، خدا نے انہیں رد کیا جو اسے ترک کرتے اور وہ جو اسکے کوہمقدس کو فراموش کرتے تھے، جو ”مشتری [”خوشقسمتی کے خدا،“ این ڈبلیو] کیلئے دسترخوان چنتے اور زہرہ [”مقدر کے خدا،“ این ڈبلیو] کیلئے شرابممزوج کا جام پر کرتے تھے۔“ تحفظ حاصل کرنے کی بجائے، قسمت کے وہ حمایتی بربادی کیلئے وقف تھے۔ یہوواہ نے کہا: ”میں تم کو گن گن کر تلوار کے حوالہ کرونگا۔“—یسعیاہ ۶۵:۱۱، ۱۲۔
جادوئی فنون کو عمل میں لانے سے، بابل کی قدیم قوم نے بھی اسی طرح سے پراسرار طاقتوں کے ذریعے تحفظ پر ایمان رکھا۔ لیکن بہرصورت بابل کو بربادی کا سامنا کرنا پڑا۔ یسعیاہ نبی نے انہیں چیلنج کیا، ”اپنے جادو اور اپنے سحر کو استعمال کر۔ شاید تو ان سے نفع پائے۔ ... تو اپنی مشورتوں کی کثرت سے تھک گئی ہے۔“ (یسعیاہ ۴۷:۱۲، ۱۳) وقت آنے پر وہ قوم بالکل ختم ہو گئی۔ سفلی علوم پر ایمان باطل ثابت ہوا۔ اسی طرح کسی بھی طرح کا جادوئی تعویذ، ٹوٹکا، یا طلسم نہ تو کسی قسم کی مدد کرنے کیلئے کچھ کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کا تحفظ بخش سکتا ہے۔
ایک قسم کی بتپرستی
پھر بھی شاید بعض ایک آبگینہ، خرگوش کا پنجا، یا ایک مذہبی تمغہ ساتھ لئے پھرنے میں کوئی نقصان خیال نہ کریں۔ لیکن کیا یہ محض بےضرر سستے سے زیور ہی نہیں ہیں؟ بائبل کے مطابق ہرگز نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ سفلی علم والے تمام لوازمات یقیناً نقصاندہ ہیں۔
تعویذوں کا استعمال ایک قسم کی بتپرستی ہے—ایسی چیز جسے خدا کے کلام میں واضح طور پر رد کیا گیا ہے۔ (خروج ۲۰:۴، ۵) سچ ہے کہ شاید ایک شخص یہ محسوس نہ کرے کہ وہ براہراست ایک تعویذ یا ٹوٹکے کی پرستش کر رہا ہے۔ لیکن کیا ایک شخص کا ان چیزوں کو اپنے پاس رکھنا نادیدنی پراسرار طاقتوں کیلئے عقیدت کے رجحان کو ظاہر نہیں کرتا؟ اور کیا یہ سچ نہیں کہ اکثر ٹوٹکوں کو پرستانہ عقیدت دی جاتی ہے (جیسے کہ انہیں چومنا)؟ تاہم، ۱-یوحنا ۵:۲۱ میں بائبل مسیحیوں کو نصیحت دیتی ہے: ”اپنے آپ کو بتوں سے بچائے رکھو۔“ کیا اس میں وہ چیزیں بھی شامل نہیں جنہیں ٹوٹکے یا تعویذ خیال کیا جاتا ہے؟
سفلی علم کا پھندا
تعویذوں کے استعمال سے، بہتیرے سفلی علم کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں۔ سچ ہے کہ بعض شاید ایک آبگینہ یا جادوئی دوا پر ایمان کی بجائے اسے رسمی طور پر رکھے ہوئے ہوں۔ لیکن جیسے ایک کسبی کیساتھ معاشقہ رکھنا ایڈز کی بیماری میں مبتلا ہونے کا باعث ہو سکتا ہے اسی طرح سفلی علم کیساتھ لگاؤ بھی تباہکن نتائج پر منتج ہو سکتا ہے۔ اسلئے یہ اچھی وجہ کیلئے ہی تھا کہ خدا نے اسرائیلیوں کو جادو، فالگیری اور علمنجوم کے خلاف منع کیا۔ بائبل آگاہ کرتی ہے: ”کیونکہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں خداوند کے نزدیک مکروہ ہیں۔“—استثنا ۱۸:۱۰-۱۴۔
اتنی سخت ممانعت کیوں؟ کیونکہ ایسے کاموں کے پیچھے نادیدہ قوتیں نہ تو مردوں کی روحیں ہیں اور نہ ہی قسمت کی طاقت ہے بلکہ یہ شیطان ابلیس اور اسکے شیاطین ہیں۔a اور تعویذوں کا استعمال براہراست شیاطین کی پرستش کے ساتھ وابستہ ہے۔ وائنز ایکسپوزٹری ڈکشنری آف دی اولڈ اینڈ نیو ٹسٹامنٹ ورڈز کہتی ہے: ”جادوگری میں، منشیات کا استعمال، چاہے وہ سادہ یا اثرآفریں ہو، اس میں مختلف قسم کے ٹوٹکوں اور تعویذوں وغیرہ کے ذریعے، عموماً منتر اور پراسرار قوتوں کیلئے استدعا موجود تھی۔“
اسلئے جادوئی تعویذوں کا رکھنے والا ارواحپرستی سے دل بہلا رہا ہوتا ہے۔ وہ ”اس جہان کے خدا“—شیطان ابلیس کے کنٹرول اور شرانگیز اثر کے تحت آنے کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۴) تو پھر، اچھی وجہ کی بناء پر، بائبل ہمیں ہر طرح کی ارواحپرستی سے بچنے کا حکم دیتی ہے۔—گلتیوں ۵:۱۹-۲۱۔
توہمپرستی کی زنجیروں کو توڑنا
تاہم دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا مشاہدہ کرتا ہے: ”توہمپرستی غالباً اس وقت تک زندگی کا حصہ رہے گی جب تک لوگ ایک دوسرے سے ڈرتے رہینگے اور مستقبل کی بابت شکوک رکھیں گے۔“ لیکن یہوواہ کے گواہ بہتیرے لوگوں کو نقصاندہ توہمپرستی سے خود کو آزاد کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ایک عورت یاد کرتی ہے: ”مجھے بدروحوں نے پریشان کر رکھا تھا اور ان سے مجھے تحفظ دینے کے لئے میرا گھر متی سے بھرا ہوا تھا۔“ یہوواہ کے گواہوں نے اسے سفلیعلوم کیساتھ دل بہلانے کے خطرات کو جاننے میں مدد دی۔ اس کا ردعمل کیا تھا؟ ”میں نے ہر اس چیز کو پھینکنا شروع کر دیا جو شیاطینپرستی سے تعلق رکھتی تھی۔“ وہ کہتی ہے، ”میری صحت پہلے سے بہتر ہو گئی۔ میں نے یہوواہ کی خدمت کیلئے اپنی زندگی مخصوص کر دی اور بپتسمہ لے لیا۔“ اب وہ توہمپرستی اور ارواحپرستی سے آزاد ہے۔
نائیجریا کے جڑیبوٹیوں سے علاج کرنے والے ایک شخص پر بھی غور کریں جو اپنے شفا کے کام کیساتھ ارواحپرستی کو بھی ملا دیتا تھا۔ اکثر دھمکیوں اور لعنتوں کو استعمال کرتے ہوئے وہ یہوواہ کے گواہوں کو حسبمعمول اپنے گھر سے بھگا دیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ تو اس نے ایک خاص دوا تیار کی اس پر کچھ جادو منتر پھونکا اور اسے ایک گواہ کے منہ پر پھینک دیا! ”سات دن کے اندر اندر تم مر جاؤ گے!“ وہ چلایا۔ سات دن بعد وہ گواہ واپس اس کے گھر گیا، جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والا بھاگ کر گھر سے باہر آیا یہ یقین کرتے ہوئے کہ شاید اس نے کوئی بھوت دیکھا ہے! اس کا جادو اب بیکار چیز کے طور پر ظاہر ہو چکا تھا، اس نے بائبل مطالعہ کیلئے رضامندی ظاہر کی اور بالآخر خود بھی ایک گواہ بن گیا۔
آپ بھی خوف اور توہمپرستی کے بندھنوں سے آزاد ہو سکتے ہیں۔ مانا کہ شاید یہ آسان نہ ہو، ہو سکتا ہے کہ آپ نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے جہاں ٹوٹکوں اور تعویذوں کا استعمال بہت عام ہے۔ قدیم افسس کے مسیحیوں کو بھی ایسے ہی چیلنج کا سامنا تھا۔ وہ ایسی تہذیب میں رہتے تھے جو کہ بہت بری طرح ارواحپرستی کے زیراثر تھی۔ جب انہوں نے خدا کے کلام سے سچائی سیکھ لی تو انہوں نے کیا کیا؟ بائبل کہتی ہے: ”اور بہت سے جادوگروں نے اپنی اپنی کتابیں اکٹھی کرکے سب لوگوں کے سامنے جلا دیں اور جب انکی قیمت کا حساب ہوا تو پچاس ہزار روپے کی نکلیں۔“—اعمال ۱۹:۱۹۔
خدائی تحفظ حاصل کرنا
اگر آپ خود کو ہر طرح کے سفلی علم کے آثاروں سے الگ کر لیتے ہیں تو کیا آپ غیرمحفوظ نہیں ہو جائینگے؟ اس کے برعکس، ”خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مستعد مددگار۔“ (زبور ۴۶:۱) خدا کا تحفظ بالخصوص اس وقت نمایاں طور پر ظاہر ہوگا جب وہ اس شریر دستورالعمل کو برباد کریگا۔ ”خداوند دینداروں کو آزمایش سے نکال لینا اور بدکاروں کو عدالت کے دن تک سزا میں رکھنا جانتا ہے۔“—۲-پطرس ۲:۹، مقابلہ کریں۔ زبور ۳۷:۴۰۔
اس اثنا میں، ”وقت اور حادثہ سب کیلئے ہے۔“ (واعظ ۹:۱۱) خدا اس کا وعدہ نہیں کرتا کہ اس کے خادم پریشانیوں سے پاک زندگی گذاریں گے یا یہ کہ وہ انہیں تمام ذاتی نقصانات سے بچائے گا۔ تاہم، وہ اس کا ضرور وعدہ کرتا ہے کہ وہ ہماری روحانیت اور اسکے ساتھ ہمارے رشتے کو محفوظ رکھیگا۔ (زبور ۹۱:۱-۹) کیسے؟ ایک بات تو یہ ہے کہ وہ ہمیں ایسے قوانین اور اصول مہیا کرتا ہے جو ہمیں فائدہ پہنچا سکتے اور شیطان کے خراب اثرورسوخ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ (یسعیاہ ۴۸:۱۷) ہمارے یہوواہ کی راہوں کا علم حاصل کرنے سے، ”تمیز ہماری نگہبان ہوگی، فہم ہماری حفاظت کریگا“—مثال کے طور پر بہیودہ یا نقصاندہ کاموں سے۔—امثال ۲:۱۱۔
ایک اور طریقہ جس سے خدا ہماری حفاظت کرتا ہے وہ مشکلات کے وقت میں ”حد سے زیادہ قدرت“ فراہم کرنے سے ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۷) اور جب حالات ایک مسیحی کو اپنے قابو میں کر لینے کا خطرہ ثابت ہوتے ہیں تو وہ دل اور دماغی قوتوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ”خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے“ بخشتا ہے۔ (فلپیوں ۴:۷) جیہاں کوئی بھی مسیحی ”ابلیس کے منصوبوں کے مقابلہ میں قائم“ رہنے کیلئے پوری طرح سے لیس ہے۔—افسیوں ۶:۱۱-۱۳۔
ایسا تحفظ آپ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ یہوواہ اور اسکے بیٹے، یسوع مسیح کا علم حاصل کرنے سے شروع کریں۔ (یوحنا ۱۷:۳) اس سلسلے میں یہوواہ کے گواہ آپ کی کافی مدد کر سکتے ہیں۔ جوں جوں آپ یہوواہ کیساتھ پرتپاک رشتہ پیدا کرتے ہیں، آپ اسکی مشفقانہ حفاظت کا تجربہ کرنے لگیں گے۔ خدا فرماتا ہے، جیسے کہ ہم زبور ۹۱:۱۴ میں پڑھتے ہیں: ”چونکہ اس نے مجھ سے دل لگایا ہے اسلئے میں اسے چھڑاؤنگا۔ میں اسے سرفراز کرونگا کیونکہ اس نے میرا نام پہچانا ہے۔“
بلاشبہ، اگر آپ خدا کے وفادار رہتے ہیں تو وہ آپ کو آنے والی نئی دنیا میں ہمیشہ کی زندگی کی برکت سے نوازے گا۔ اس وقت میں رہنے والوں کی بابت یہوواہ ضمانت دیتا ہے: ”انکو کوئی نہ ڈرائیگا کیونکہ ربالافواج نے اپنے منہ سے یہ فرمایا ہے۔“ (میکاہ ۴:۴) بیماری اور موت ختم ہو جائیگی۔ (مکاشفہ ۲۱:۴) تاہم، اگر آپ اب بھی یہوواہ کیساتھ قریبی رشتہ استوار کر لیتے ہیں تو—آپ کسی حد تک تحفظ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ زبور نویس کی طرح، آپ بھی یہ کہنے کے قابل ہونگے: ”میری کمک خداوند سے ہے جس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔“—زبور ۱۲۱:۲۔ (۴ ۹/۱ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a مزید معلومات کے لئے، واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کے شائعکردہ بروشر سپرٹس آف دی ڈیڈ—کین دے ہیلپ یو اور ہارم یو؟ ڈو دے ریلی ایگذسٹ؟ کو دیکھیں۔
[تصویر]
افسس کے مسیحیوں نے جادوگری سے متعلق ہر چیز کو ختم کر دیا
[تصویر]
خدا کی بادشاہی کے تحت، خوف نہیں ہوگا