اپنے ضبطِنفس کو موجود رہنے دیں اور زیادہ ہونے دیں
”اپنے ایمان پر ... پرہیزگاری [”ضبطنفس،“ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن] ... بڑھاؤ۔“—۲-پطرس ۱:۵-۷۔
۱. ایک مسیحی کس غیرمعمولی صورتحال میں گواہی دے سکتا ہے؟
یسوع نے کہا: ”تم میرے سبب سے حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے تاکہ انکے ... لئے گواہی ہو۔“ (متی ۱۰:۱۸) اگر آپکو ایک حاکم، جج، یا صدر کے سامنے پیش کیا گیا ہوتا تو آپ کس چیز کے متعلق کلام کرتے؟ شاید سب سے پہلے یہ کہ آپ وہاں کیوں موجود تھے یعنی اپنے خلاف الزام کی بابت۔ خدا کی روح ایسا کرنے کیلئے آپکی مدد کرتی۔ (لوقا ۱۲:۱۱، ۱۲) لیکن کیا آپ ضبطنفس کی بابت کلام کرنے کا تصور کر سکتے ہیں؟ کیا آپ اسے اپنے مسیحی پیغام کا ایک اہم جز خیال کرتے ہیں؟
۲، ۳. (۱) یہ کیسے واقع ہوا کہ پولس فیلکس اور دورسلہ کو گواہی دے سکا؟ (ب) اس صورتحال میں ضبطنفس کے متعلق بات کرنا پولس کیلئے کیوں ایک موزوں مضمون تھا؟
۲ حقیقی زندگی کے ایک نمونے پر غور کریں۔ یہوواہ کے ایک گواہ کو گرفتار کیا گیا تھا، اور مقدمے کی سماعت کیلئے لایا گیا تھا۔ جب بولنے کا موقع دیا گیا، تو اس نے ایک مسیحی، ایک گواہ، کے طور پر، اپنے اعتقادات کی وضاحت کرنا چاہی۔ آپ سرگزشت کا جائزہ لے سکتے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ اس نے ”راستبازی اور پرہیزگاری [”ضبطنفس،“ اینڈبلیو] اور آیندہ عدالت“ کی بابت دلیل سے قائل کرنے والی شہادت دی۔ ہم قیصریہ میں پولس رسول کے ایک تجربے کا حوالہ دے رہے ہیں۔ وہاں ایک ابتدائی تفتیش ہوئی تھی۔ ”چند روز کے بعد فیلکس اپنی بیوی دروسلہ کو جو یہودی تھی ساتھ لیکر آیا اور پولس کو بلوا کر اس سے مسیح یسوع کے دین کی کیفیت سنی۔“ (اعمال ۲۴:۲۴) تاریخ بیان کرتی ہے کہ فیلکس ”ایک غلام کی تمام جبلتوں کے ساتھ بادشاہ کے اختیار کو کام میں لاتے ہوئے ہر طرح کے ظلموستم اور نفسانی خواہش کو عمل میں لایا۔“ جب اس نے دروسلہ کو اپنے شوہر کو طلاق دینے (خدا کی شریعت کی خلافورزی کرنے) اور اسکی تیسری بیوی بننے کی ترغیب دی تو اس سے پہلے وہ دو دفعہ شادی کر چکا تھا۔ ہو سکتا ہے وہی ہو جو نئے مذہب، مسیحیت کی کیفیت سننا چاہتی تھی۔
۳ پولس نے ”راستبازی اور پرہیزگاری اور آیندہ عدالت کا بیان“ کیا۔ (اعمال ۲۴:۲۵) اس نے اس فرق کو نمایاں کیا ہوتا جو خدا کے راستی کے معیاروں اور ظلموستم اور ناانصافی کے درمیان پایا جاتا تھا جس میں فیلکس اور دروسلہ شریک تھے۔ شاید پولس نے امید کی ہو کہ فیلکس اسکے معاملے میں انصاف ظاہر کرنے کی تحریک پائے۔ لیکن اس نے ”پرہیزگاری [”ضبطنفس،“ اینڈبلیو] اور آیندہ عدالت“ پر ہی کیوں توجہ مبذول کرائی؟ یہ بداخلاق جوڑا یہ پوچھ رہا تھا کہ ”مسیح یسوع کے دین“ میں کیا شامل تھا۔ پس ان کو جاننے کی ضرورت تھی کہ اس کی پیروی کرنا کسی شخص کے لئے خیالات، کلام، اور افعال پر پابندی لگانے کا تقاضا کرتا ہے، جس کا مطلب ضبطنفس ہے۔ تمام انسان اپنی سوچ، کلام، اور اعمال کیلئے خدا کے حضور جوابدہ ہیں۔ لہذا پولس کے مقدمہ میں فیلکس کی طرف سے کسی بھی انصاف سے اہم وہ انصاف تھا جس کا گورنر اور اسکی بیوی کو خدا کے حضور سامنا تھا۔ (اعمال ۱۷:۳۰، ۳۱، رومیوں ۱۴:۱۰-۱۲) قابلفہم طور پر، پولس کے پیغام کو سننے پر ”فیلکس ... دہشت کھا“ گیا۔
یہ اہم ہے مگر آسان نہیں
۴. ضبطنفس کیوں سچی مسیحیت کا ایک اہم حصہ ہے؟
۴ پولس رسول نے ضبطنفس کو مسیحیت کے نہایت ہی اہم حصے کے طور پر تسلیم کیا۔ یسوع کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک، پطرس رسول نے ان اشخاص کو جو ”ذاتالہی میں شریک“ ہونگے، لکھتے وقت، اس بات کی تصدیق کی۔ پطرس نے بعض خوبیاں ظاہر کرنے کی تاکید کی جو لازمی تھیں، جیسے کہ ایمان، محبت، اور ضبطنفس۔ لہذا، ضبطنفس اس یقیندہانی میں شامل تھا: ”اگر یہ باتیں تم میں موجود ہوں اور زیادہ بھی ہوتی جائیں تو تم کو ہمارے خداوند یسوع مسیح میں بیکار اور بےپھل نہ ہونے دیں گی۔“—۲-پطرس ۱:۱، ۴-۸۔
۵. ہمیں ضبطنفس کی بابت کیوں خاصکر فکرمند ہونا چاہئے؟
۵ تاہم، آپ جانتے ہیں، کہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ضبطنفس کو حقیقی طور پر عمل میں لانے کی نسبت یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ہمیں اسکو ظاہر کرنا چاہئے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ ضبطنفس کی نسبتاً کمی پائی جاتی ہے۔ ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵ میں پولس نے ان رحجانات کو بیان کیا جو ہمارے زمانے، یعنی ”اخیر زمانہ“ میں پھیل جائیں گے۔ ایک خصلت جو ہمارے دور کا خاصہ ہوگا وہ یہ ہے کہ بہتیرے ”بےضبط“ ہونگے۔ کیا اس کو ہم اپنے اردگرد سچ ثابت ہوتا دیکھ رہے ہیں، کیا ایسا نہیں ہے؟
۶. آجکل ضبطنفس کی کمی کس طرح ظاہر کی جاتی ہے؟
۶ بہتیرے لوگ مانتے ہیں کہ ”جذبات کا کھلم کھلا اظہار کرنے دینا“ یا ”دل کا غبار نکلنے دینا“ بنیادی طور پر صحتبخش ہوتا ہے۔ انکے خیال کو ذرائع ابلاغ میں شہرتیافتہ تقلیدی کرداروں کے ذریعے تقویت ملتی ہے جو بظاہر کسی بھی قسم کے ضبطنفس کو نظرانداز کرتے، جو محض اپنی ترنگوں کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ مثال دیکر سمجھانے کیلئے: لوگ جو پیشہور کھیلوں کو پسند کرتے ہیں وہ جذبات کی اندھادھند نمائش کے حتیکہ تشددآمیز طیش کے عادی بن گئے ہیں۔ کمازکم کیا آپ صرف پریس ہی سے ایسے واقعات یاد نہیں کر سکتے جہاں کھیلوں کے مقام پر ظالمانہ لڑائیاں یا عوام کے حملے کرنے کے مناظر پھوٹ نکلے ہیں؟ تاہم، ہمارا نکتہ ہرگز یہ تقاضا نہیں کرتا کہ ہم ضبطنفس کی کمی کی مثالوں پر نظرثانی کرنے کیلئے زیادہ وقت وقف کریں۔ آپ ایسے بہتیرے حلقوں کی فہرست بنا سکتے ہیں جن میں ہمیں ضبطنفس دکھانے کی ضرورت ہے—ہمارا اندھادھند کھانے اور پینے کا تصرف، مخالفجنس کیساتھ ہمارا طرزعمل، اور مشاغل پر خرچ کیا ہوا وقت اور پیسہ۔ لیکن بجائے اسکے کہ ہم ایسے کئی حلقوں کا سرسری جائزہ لیں، آئیں ہم ایک ابتدائی حلقے کا جائزہ لیں جس میں ہمیں ضبطنفس ضرور دکھانا چاہئے۔
اپنے جذبات کے سلسلے میں ضبطنفس
۷. ضبطنفس کا کونسا پہلو خاص توجہ کا مستحق ہے؟
۷ ہم میں سے بہتیرے معقول طور پر اپنے کاموں کو باضابطہ بنانے یا قابو کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ہم چوری نہیں کرتے، بداخلاقی کا شکار نہیں ہوتے، یا خون کے مرتکب نہیں ہوتے: ایسی غلطکاریوں کی بابت ہم جانتے ہیں کہ خدا کا قانون کیا ہے۔ تو بھی، ہم اپنے جذبات پر قابو پانے میں کسقدر کامیاب ہیں؟ کبھی کبھار، وہ جو جذباتی ضبطنفس پیدا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں اکثر اپنے کاموں کے سلسلے میں ضبطنفس کو کھو دیتے ہیں۔ پس آئیں ہم اپنے جذبات پر توجہ دیں۔
۸. ہمارے جذبات کے متعلق یہوواہ ہم سے کیا توقع کرتا ہے؟
۸ یہوواہ خدا ہم سے توقع نہیں کرتا کہ ہم کٹھپتلی بن جائیں، تاکہ نہ ہمارے جذبات ہوں اور نہ ہی ہم انہیں ظاہر کریں۔ لعزر کی قبر پر، ”یسوع دل میں نہایت رنجیدہ ہوا اور گھبرا“ گیا۔ تب ”یسوع کے آنسو بہنے لگے۔“ (یوحنا ۱۱:۳۲-۳۸) اس نے اس وقت بالکل مختلف جذبات دکھائے جب، اپنے کاموں پر مکمل قابو کیساتھ، اس نے صرافوں کو ہیکل سے باہر نکال دیا۔ (متی ۲۱:۱۲، ۱۳، یوحنا ۲:۱۴-۱۷) اس کے وفادار شاگردوں نے بھی گہرے جذبات ظاہر کئے۔ (لوقا ۱۰:۱۷، ۲۴:۴۱، یوحنا ۱۶:۲۰-۲۲، اعمال ۱۱:۲۳، ۱۲:۱۲-۱۴، ۲۰:۳۶-۳۸، ۳-یوحنا ۴) پھر بھی انہوں نے ضبطنفس کی ضرورت کو پہچانا تاکہ انکے جذبات گناہ کا باعث نہ بنیں۔ افسیوں ۴:۲۶ اسے بالکل واضح کرتی ہے: ”غصہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو۔ سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی نہ رہے۔“
۹. اپنے جذبات پر قابو پانا اتنا اہم کیوں ہے؟
۹ ایک خطرہ موجود ہے کہ شاید ایک مسیحی ضبطنفس ظاہر کرتا معلوم دے جبکہ، درحقیقت، اسکے جذبات قابو سے باہر ہو جاتے ہوں۔ اس جوابی عمل کو یاد کریں جب خدا نے ہابل کی قربانی منظور کی: ”قائن نہایت غضبناک ہوا اور اس کا منہ بگڑا۔ اور خداوند نے قائن سے کہا تو کیوں غضبناک ہوا؟ اور تیرا منہ کیوں بگڑا ہوا ہے؟ اگر تو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہوگا؟ اور اگر تو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے۔“ (پیدایش ۴:۵-۷) قائن اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہو گیا، جو اسے ہابل کے قتل کرنے تک لے گیا۔ بےقابو جذبات ایک بےقابو کام کا باعث بنے۔
۱۰. ہامان کے نمونے سے آپ کیا سیکھتے ہیں؟
۱۰ مردکی اور آستر کے دنوں کی ایک مثال پر بھی غور کریں۔ سرکاری اہلکار جس کا نام ہامان تھا غصہ میں آ گیا کہ مردکی اسکے سامنے جھکا نہیں۔ بعد میں ہامان نے غلطفہمی میں سوچا کہ اس کیساتھ کرمفرمائی کی جائے گی۔ ”اس دن ہامان شادمان اور خوش ہو کر نکلا پر جب ہامان نے بادشاہ کے پھاٹک پر مردکی کو دیکھا کہ اس کیلئے نہ کھڑا ہوا نہ ہٹا تو ہامان مردکی کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ تو بھی ہامان اپنے آپ کو ضبط کرکے گھر گیا۔“ (آستر ۵:۹، ۱۰) وہ شادمانی کے جذبات کو بہت جلدی سے محسوس کرنے والا تھا۔ تاہم وہ اسکے خلاف جس کیلئے وہ بغض رکھتا تھا اس پر ایک نگاہ پڑنے سے ہی غصہ کو بھی جلدی سے محسوس کرنے والا تھا۔ آپ کے خیال میں جب بائبل کہتی ہے کہ ”ہامان [نے] اپنے آپ [پر] ضبط [کیا]“ تو کیا اسکا مطلب ہے کہ وہ ضبطنفس میں قابلنمونہ ہے؟ بمشکل۔ صرف وقتی طور پر، ہامان نے اپنے کاموں اور محض ظاہری جذبات پر قابو پایا، لیکن وہ اپنے حاسد غصہ پر قابو پانے میں ناکام رہا۔ اس کے جذبات اسکو قتل کرنے کی سازش کرنے کا باعث بنے۔
۱۱. فلپی کی کلیسیا میں، کونسا مسئلہ موجود تھا اور کیا چیز اس کا باعث بن سکی ہوگی؟
۱۱ اسی طرح، جذبات پر قابو پانے میں کمی آجکل بڑی حد تک مسیحیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بعض شاید محسوس کریں ”اوہ، ایسا مسئلہ تو کلیسیا میں نہیں ہوگا۔“ مگر یہ رہا ہے۔ فلپی میں دو ممسوح مسیحیوں کا سنگین اختلاف تھا، جسے بائبل بیان نہیں کرتی۔ بطور امکان کے اس کا تصور کریں: یوؤدیہ نے کچھ بھائی اور بہنوں کو کھانے یا خوشگوار اجتماع کیلئے مدعو کیا۔ سنتخے کو نہیں بلایا گیا تھا، اور اس نے برا محسوس کیا۔ شاید بعد کے ایک موقع پر اس نے یوؤدیہ کو مدعو نہ کرنے سے جوابی عمل دکھایا۔ تب دونوں ایک دوسرے کی غلطیوں کی تلاش میں رہنے لگیں، وقت آنے پر وہ ایک دوسرے کیساتھ بمشکل ہی بات کرتیں۔ اس طرح کے منظرنامے میں کیا بنیادی مسئلہ کھانے کیلئے دعوتنامے سے محروم کر دینے کا ہوا ہوگا؟ نہیں۔ یہ محض ایک چنگاری ثابت ہوئی ہوگی۔ جب یہ دو ممسوح بہنیں اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہو گئیں تو یہ چنگاری ایک جنگل کی آگ بن گئی۔ یہ مسئلہ اس وقت تک قائم رہا اور بڑھتا رہا جبتک ایک رسول نے مداخلت نہ کی۔—فلپیوں ۴:۲، ۳۔
آپ کے جذبات اور آپ کے بھائی
۱۲. خدا ہم کو واعظ ۷:۹ میں پائی جانے والی مشورت کیوں دیتا ہے؟
۱۲ مانا کہ، جب ایک شخص اہانت، ٹھیس، محسوس کرتا ہے یا اسکے ساتھ تعصب سے پیش آیا جاتا ہے تو اس کیلئے جذبات پر قابو پانا آسان نہیں ہوتا۔ یہوواہ اس کو جانتا ہے، کیونکہ اس نے انسان کی ابتدا ہی سے انسانی رشتوں کو بغور دیکھا ہے۔ خدا ہمیں نصیحت کرتا ہے: ”تو اپنے جی میں خفا ہونے میں جلدی نہ کر کیونکہ خفگی احمقوں کے سینے میں رہتی ہے۔“ (واعظ ۷:۹) غور کریں کہ خدا پہلے جذبات پر توجہ دیتا ہے نہ کہ افعال پر۔ (امثال ۱۴:۱۷، ۱۶:۳۲، یعقوب ۱:۱۹) خود سے پوچھیں، ”کیا مجھے اپنے جذبات پر قابو پانے کیلئے زیادہ توجہ دینی چاہئے؟“
۱۳، ۱۴، (۱) دنیا میں جذبات پر قابو پانے میں ناکامی سے عموماً کیا چیز پیدا ہو جاتی ہے؟ (ب) کونسی باتیں مسیحیوں کے لئے رنجشوں کو قائم رکھنے کا باعث بن سکتی ہیں؟
۱۳ دنیا میں بہتیرے لوگ جو اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہو جاتے ہیں، باہمی نفرت—اپنے یا کسی رشتہدار کے خلاف حقیقی یا غیرحقیقی غلطی کی بنا پر تلخ حتیکہ پرتشدد خاندانی جھگڑے شروع کر دیتے ہیں۔ جب جذبات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو وہ دیر تک اپنا نقصاندہ اثر چھوڑتے ہیں۔ (مقابلہ کریں پیدایش ۳۴:۱-۷، ۲۵-۲۷، ۴۹:۵-۷، ۲-سموئیل ۲:۱۷-۲۳، ۳:۲۳-۳۰، امثال ۲۶:۲۴-۲۶۔) یقیناً مسیحیوں کو، قطعنظر قومی یا ثقافتی پسمنظر کے، ان تلخ رقابتوں اور رنجشوں کو غلط، برائی سمجھنا چاہئے، جس سے بچا جائے۔ (احبار ۱۹:۱۷) کیا آپ جذبات کے سلسلے میں رنجشوں سے گریز کرنے کو اپنے ضبطنفس کے حصے کے طور پر خیال کرتے ہیں؟
۱۴ بالکل یوؤدیہ اور سنتخے کے معاملے کی طرح، اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکامی اب بھی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک بہن شادی کی ضیافت پر نہ بلائے جانے سے شاید اہانت محسوس کرے۔ یا شاید اسکے بچہ یا اسکے قریبی رشتہدار کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یا شاید ایک بھائی ایک ساتھی مسیحی سے استعمالشدہ گاڑی خریدے، اور زیادہ دیر نہ گزرے کہ یہ خراب ہو جائے۔ کچھ بھی وجہ ہو، اس بات نے احساسات کو ٹھیس پہنچائی، جذبات قابو میں نہ رکھے گئے، اور جو اس میں شامل تھے برہم ہوئے۔ تب کیا واقع ہو سکتا تھا؟
۱۵. (۱) مسیحیوں کے درمیان رنجشوں سے کونسے افسوناک نتائج برآمد ہوئے ہیں؟ (ب) کونسی بائبل نصیحت رنجش قائم رکھنے کے رحجان سے متعلق ہے؟
۱۵ اگر ایک برہم شخص اپنے جذبات پر قابو پانے اور اپنے بھائی کیساتھ میلملاپ کرنے کیلئے کام نہیں کرتا تو رنجش پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسے معاملات رہے ہیں جب ایک گواہ نے کہا ہے کہ اسے ایک مخصوص کلیسیائی کتابی مطالعہ میں تفویض نہ کیا جائے کیونکہ وہ کسی مسیحی یا خاندان کو جو وہاں پر حاضر ہوتے ہیں ”پسند نہیں کرتا۔“ کتنے دکھ کی بات ہے! بائبل کہتی ہے کہ دنیاوی عدالتوں میں ایک دوسرے کو لے کر جانا مسیحیوں کیلئے شکست ہوگی لیکن کیا یہ برابر کی شکست نہ ہوگی اگر ماضی کی اہانت پر جو ہماری یا کسی رشتہدار کی ہوئی ہو ہم اس پر اپنے بھائی کو نظرانداز کرتے ہیں؟ کیا ہمارے جذبات ظاہر کرتے ہیں کہ ہم خونی رشتےداریوں کو اپنے بھائیوں اور بہنوں کیساتھ میلملاپ سے زیادہ مقدم رکھتے ہیں؟ کیا ہم کہتے ہیں کہ ہم اپنی بہن کیلئے مرنے کیلئے تیار ہونگے، لیکن ہمارے جذبات ہم کو اتنے متحرک کرتے ہیں کہ ہم بمشکل ہی اسکے ساتھ اب بات کرتے ہیں؟ (مقابلہ کریں یوحنا ۱۵:۱۳۔) خدا خاص اسی کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے: ”بدی کے عوض کسی سے بدی نہ کرو۔ ... جہاں تک ہو سکے تم اپنی طرف سے سب آدمیوں کیساتھ میلملاپ رکھو۔ اے عزیزو! اپنا انتقام نہ لو بلکہ غضب کو موقع دو۔“—رومیوں ۱۲:۱۷-۱۹، ۱-کرنتھیوں ۶:۷۔
۱۶. ابرہام نے جذبات سے نپٹنے کیلئے کونسا عمدہ نمونہ قائم کیا؟
۱۶ اپنے جذبات پر پھر قابو پانے کی طرف ایک قدم کدورتوں کو قائم رکھنے کے برعکس، میلملاپ قائم کرنا یا شکایت کی وجہ کو دور کرنا ہے۔ یاد کریں کہ جب وہ سرزمین ابرہام کے بہت بڑے گلوں کی اور لوط کے گلوں کی کفالت نہ کر سکا، اور اسلئے ان کے اجرتی مزدور جھگڑنے لگے۔ کیا ابرہام نے اپنے جذبات کو اپنے اوپر حاوی ہونے دیا؟ یا کیا اس نے ضبطنفس کا مظاہرہ کیا؟ تعریف کی بات ہے کہ اس نے کاروباری اختلاف کیلئے پرامن حل تجویز کیا: ہر کسی کا الگ الگ علاقہ ہو۔ اور اس نے لوط کو پہلے انتخاب کرنے دیا۔ یہ ثابت کرتے ہوئے کہ ابرہام کوئی تلخی نہیں رکھتا تھا یا وہ کوئی رنجش نہیں رکھتا تھا، وہ بعد میں لوط کی خاطر لڑائی کرنے کو بھی گیا۔—پیدایش ۱۳:۵-۱۲، ۱۴:۱۳-۱۶۔
۱۷. ایک موقع پر پولس اور برنباس کیسے ناکام ہوئے، لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟
۱۷ ایک واقعہ جس میں پولس اور برنباس شامل ہیں اس سے بھی ہم ضبطنفس کی بابت سیکھتے ہیں۔ کئی سالوں تک ساتھی رہنے کے بعد، ان میں اس بات پر نااتفاقی ہو گئی کہ آیا مرقس کو دورے پر لیجایا جائے۔ ”پس ان میں ایسی سخت تکرار ہوئی کہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور برنباس مرقس کو لے کر جہاز پر کپرس کو روانہ ہوا۔“ (اعمال ۱۵:۳۹) ان پختہ آدمیوں کے اس موقع پر اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہو جانے کو ہمارے لئے ایک آگاہی مہیا کرنی چاہئے۔ اگر یہ ان کیساتھ واقع ہو سکتا ہے تو یہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے قائم رہنے والے شگاف کو پیدا ہونے یا خاندانی لڑائی کو بڑھنے کی اجازت نہ دی۔ ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ متعلقہ بھائیوں نے اپنے جذبات پر پھر قابو پا لیا اور بعد میں میلملاپ کیساتھ کام کیا۔—کلسیوں ۴:۱۰، ۲-تیمتھیس ۴:۱۱۔
۱۸. اگر احساسات کو ٹھیس پہنچے تو ایک پختہ مسیحی کیا کر سکتا ہے؟
۱۸ خدا کے لوگوں کے درمیان ہم رنجیدہ احساسات، بلکہ رنجشوں کی بھی توقع کر سکتے ہیں۔ یہ عبرانی وقتوں اور رسولوں کے دنوں میں موجود تھیں۔ یہ ہمارے وقت میں یہوواہ کے خادموں کے درمیان بھی واقع ہوئی ہیں، کیونکہ ہم سب ناکامل ہیں۔ (یعقوب ۳:۲) یسوع نے اپنے شاگردوں سے بھائیوں کے درمیان ایسے مسائل کو حل کرنے کیلئے فوری کام کرنے کی تاکید کی۔ (متی ۵:۲۳-۲۵) بلکہ یہ کہیں بہتر ہے کہ اپنے ضبطنفس کو بہتر بنانے سے پہلے ہی ان کو روکا جائے۔ اگر آپ نسبتاً چھوٹی سی بات سے جو آپ کے بھائی یا بہن نے کہی یا کی، اہانت یا برا محسوس کرتے ہیں تو کیوں نہ صرف اپنے جذبات پر قابو پائیں اور بالکل بھول جائیں؟ کیا یہ واقعی ضروری ہے کہ دوسرے شخص کا سامنا کیا جائے، جیسے کہ آپ اس وقت تک مطمئن نہیں ہونگے جب تک کہ وہ شخص اپنی غلطی مان نہیں لیتا؟ آپ اپنے جذبات پر کس حد تک قابو رکھتے ہیں؟
یہ ممکن ہے!
۱۹. یہ کیوں موزوں ہے کہ ہماری باتچیت ہمارے جذبات کو قابو میں رکھنے کے گرد مرتکز ہو؟
۱۹ ہم نے اولین طور پر ضبطنفس کے ایک پہلو یعنی اپنے جذبات پر قابو پانے پر بات کی ہے۔ اور یہ ایک کلیدی حلقہ ہے کیونکہ اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہونا ہماری زبان پر، ہماری جنسی ترنگوں پر، ہماری کھانے کی عادات پر، اور زندگی کے بہتیرے دوسرے پہلوؤں پر قابو کھو دینے کا باعث بن سکتا ہے جہاں ہمیں ضبطنفس دکھانا چاہئے۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۸، ۹، یعقوب ۳:۵-۱۰) تاہم، خاطر جمع رکھیں، کیونکہ آپ ضبطنفس کو برقرار رکھنے میں بہتری لا سکتے ہیں۔
۲۰. ہم کیسے یقین رکھ سکتے ہیں کہ بہتری ممکن ہے؟
۲۰ یہوواہ ہمیں مدد دینے کو تیار ہے۔ ہم کیسے یقین رکھ سکتے ہیں؟ ضبطنفس اسکی روح کے پھلوں میں سے ایک ہے۔ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) یوں، جتنا زیادہ ہم یہوواہ کی طرف سے روحالقدس کے لائق ہونے اور حاصل کرنے اور اسکے پھل ظاہر کرنے کیلئے کام کرتے ہیں تو اتنا ہی زیادہ ہم ضبطنفس دکھانے کی توقع کر سکتے ہیں۔ یسوع کی یقیندہانی کو کبھی نہ بھولیں: ”آسمانی باپ اپنے مانگنے والوں کو روحالقدس ... دیگا!“—لوقا ۱۱:۱۳، ۱-یوحنا ۵:۱۴، ۱۵۔
۲۱. ضبطنفس اور اپنے جذبات کی بابت آپ نے مستقبل میں کیا کرنے کا عزم کیا ہوا ہے؟
۲۱ یہ تصور نہ کریں کہ یہ آسان ہوگا۔ یہ بعض ایسوں کیلئے جنکی پرورش ان لوگوں میں ہوئی جنہوں نے اپنے جذبات کے اظہار کو کھلی چھٹی دے دی، بعض ایسوں کیلئے جنکا زیادہ برانگیختہ ہونے والا مزاج ہے، یا بعض ایسوں کیلئے جنہوں نے ضبطنفس دکھانے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسے مسیحی کیلئے ضبطنفس کو موجود رہنے دینا اور زیادہ ہونے دینا ایک حقیقی چیلنج ہو سکتا ہے۔ پھر بھی یہ ممکن ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۹:۲۴-۲۷) جونہی ہم موجودہ نظامالعمل کے خاتمہ کے قریب سے قریبتر ہوتے جاتے ہیں، کھچاؤ اور دباؤ ضرور بڑھیں گے۔ ہمیں ضبطنفس کی کم نہیں بلکہ زیادہ، اور زیادہ ضرورت ہوگی! اپنے ضبطنفس کے سلسلے میں اپنا جائزہ لیں۔ اگر آپ ایسے حلقے دیکھتے ہیں جہاں آپ کو بہتری کی ضرورت ہے تو اس پر کام کریں۔ (زبور ۱۳۹:۲۳، ۲۴) خدا سے اسکی زیادہ روح کیلئے درخواست کریں۔ وہ آپ کی سنے گا اور مدد کریگا اس طرح آپ کا ضبطنفس موجود رہے گا اور زیادہ ہوگا۔—۲-پطرس ۱:۵-۸۔ (۱۷ ۸/۱۵ w۹۳)
غوروفکر کیلئے نکات
▫ اپنے جذبات پر قابو پانا اتنا اہم کیوں ہے؟
▫ آپ نے ہامان اور یوؤدیہ اور سنتخے کے نمونوں سے کیا سیکھا ہے؟
▫ اگر کوئی بات ٹھیس لگنے کا سبب بنی ہو تو آپ دیانتداری سے کیا کرنے کی کوشش کریں گے؟
▫ ضبطنفس کسی بھی رنجش کو قائم رکھنے سے گریز کرنے میں کس طرح آپکی مدد کر سکتا ہے؟
[تصویر]
جب پولس فیلکس اور دورسلہ کے سامنے تھا تو اس نے راستبازی اور ضبطنفس کے متعلق بات کی