کیا آپ خدا کی آگاہی پر دھیان دینگے؟
لوگ اکثر زندگی بچانے والی آگاہیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ پومپائی کے رہنے والوں کی اکثریت نے ویسووس پہاڑ کی گرجدار آواز کو نظرانداز کیا۔ اسی طرح سے، آجکل لوگوں کی اکثریت آنے والی عالمگیر تباہی کی بابت آگاہیوں کو نظرانداز کر رہی ہے۔ لیکن وہ جو حقائق کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں، انکے لئے یہ آگاہی اتنی ہی حقیقی ہے جتنا کہ اس پہلی صدی میں، ویسووس کے پہاڑ سے پھوٹ نکلنے والی بجلی اور آگ کے شعلے۔ دو عالمی جنگیں، سینکڑوں چھوٹی چھوٹی مسلح لڑائیاں، قحط، بڑے بڑے زلزلے، مُہلک وبائیں، جرم اور تشدد میں ایک کے بعد دوسری لہر اور عالمی پیمانے پر منادی کے کام کی مہم یہ تمام کے تمام مل کر اس ڈرامائی آگاہی کو تشکیل دیتی ہیں کہ انسانی معاشرہ بڑی تیزی سے ایک طوفانانقلاب کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بائبل یہ سنجیدہ پیشینگوئی کرتی ہے: ”اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔“ (متی ۲۴:۲۱) جیسا کہ پومپائی کی بربادی کے سلسلے میں ہوا تھا، ویسے ہی اس وقت بھی بچنے والے ہونگے—”ہر ایک قوم اور قبیلہ اور امت اور اہلزبان کی ایک ایسی بڑی بھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا بڑی مصیبت میں سے نکل کر“ زندہ بچ جائیگی۔—مکاشفہ ۷:۹، ۱۴۔
سوال یہ ہے کہ یہ تباہی کب آئے گی؟ یہ یقین کرنے کی زبردست وجہ ہے کہ مصیبت بالکل قریب ہے۔ بظاہر وقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، یسوع کے شاگردوں نے پوچھا: ”تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“ (متی ۲۴:۳) اس جواب پر غور کریں جو یسوع مسیح نے دیا۔
جنگ—مرکب نشان کی نمایاں خصوصیت
یسوع نے محض ایک نمایاں واقعہ کی پیشینگوئی نہیں کی تھی۔ بلکہ اس نے واقعات کے ایک سلسلے کی بابت بیان کیا جو کہ مجموعی طور پر الہٰی آگاہی کو تشکیل دینگے—اس دستورالعمل کے آخر کی بابت ایک مرکب نشان۔ پیشنگوئیکردہ پہلے واقعے کو متی ۲۴:۷ میں بیان کیا گیا ہے: ”قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی۔“ مکاشفہ ۶:۴ میں درج متوازی پیشینگوئی میں، بائبل نے پہلے سے بتا دیا کہ ”زمین سے صلح اٹھا لی جائیگی۔“ اسکا مطلب تھا بینظیر پیمانے پر جنگ۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمگیر جنگ کی بابت اس پیشینگوئی نے ۱۹۱۴ کے یادگار سال سے لیکر اپنی تکمیل دیکھی ہے۔ کتاب امریکن ایڈوینچرز ۱۹۱۴ سے پہلے کے سالوں کے سلسلے میں کہتی ہے: ”بہتیرے امریکی ایک پرامید نئی صدی میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ، اچھے سال، تھے اور یہ صدی کے دوسرے دہے تک جاری رہے۔ ... پھر، جولائی ۲۸، ۱۹۱۴ کو، یہ کیفیت ایک لفظ یعنی جنگ سے متزلزل ہو گئی تھی۔“ یوں پہلی عالمی جنگ کا آغاز ہوا، جو کہ ۱۹۱۴ سے ۱۹۱۸ تک جاری رہی اور جسے بعض نے ”تمام جنگوں کو ختم کرنے والی جنگ“ کا نام دیا۔ اس میں اٹھائیس ممالک براہراست ملوث تھے۔ اور اگر آپ ان ملکوں کو بھی اس میں شامل کر لیں جو کہ ان قوموں پر انحصار کرتے تھے تو پھر جنگ کرنے والی قوموں نے اس وقت دنیا کی آبادی کے تقریباً ۹۰ فیصد کی نمائندگی کی تھی۔
پہلی عالمی جنگ نے لڑائی کے لئے نئے اور بےحد مُہلک ہتھیاروں کے استعمال کو بھی دیکھا جیسے کہ مشینگن، زہریلی گیس، توپیں، ٹینک، فلیم تھرور (آگ اگلنے والے ہتھیار)، طیارے اور آبدوزیں۔ تقریباً دس ملین فوجی ہلاک ہوئے—ان تمام فوجیوں سے کہیں زیادہ جو پچھلے ۱۰۰ سالوں میں لڑی جانے والی بڑی بڑی جنگوں میں ہلاک ہوئے تھے! تقریباً ۲۱ ملین فوجی زخمی ہوئے تھے۔ یقینی طور پر یہ ایک عالمی جنگ تھی جس نے کہ ۱۹۱۴ کی نشاندہی ”اخیر زمانہ“ کے آغاز کے طور پر کی۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱) تاہم، جنگ یسوع کے نشان کی محض ایک خصوصیت تھی۔
نشان کی دیگر خصوصیات
یسوع نے مزید کہا: ”اور جگہ جگہ کال پڑینگے اور بھونچال آئینگے۔ لیکن یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہی ہونگی۔“ (متی ۲۴:۷، ۸) لوقا ۲۱:۱۱ اس فہرست میں ”مری“ کا اضافہ کرتی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے خاتمے سے پہلے ہی اسپینش انفلوانزا کی وبا زمین پر بڑی تیزی سے پھیلنا شروع ہو گئی۔ آخرکار، اس نے ۲۰ ملین سے زائد لوگ مار دیئے، ان سے کہیں زیادہ جو جنگ میں ہلاک ہوئے۔
جنگ کے دوران اور اس کے بعد، دیگر لاکھوں فاقوں سے مر گئے۔ بھونچالوں نے بھی بہت بھاری تعداد میں جانی نقصان کیا۔ ۱۹۱۵ میں، اٹلی میں ۳۰،۰۰۰ سے زائد ہلاک ہوئے، ۱۹۲۰ میں چین میں تقریباً ۲۰۰،۰۰۰ تباہ ہوئے، ۱۹۲۳ میں جاپان میں ۱۴۳،۰۰۰ کے لگبھگ مارے گئے۔ اس سب کے باوجود جیسا کہ یسوع نے نشاندہی کی یہ سب مصیبتوں کا شروع ہی تھا۔ ایک لغت ”مصیبت“ کو ”درد کا ایک مختصر شدید دورہ“ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ ۱۹۱۴ سے لے کر یہ دنیا ہمہوقت بڑھتی ہوئی شدت اور کثرت کیساتھ درد کے ایک دورے سے دوسرے میں چکر کھا رہی ہے۔ مثال کے طور پر، پہلی عالمی جنگ کے صرف ۲۱ سال بعد دوسری عالمی لڑائی چھڑ گئی، جس نے ۵۰ ملین جانیں لیں اور نوعانسانی کو نیوکلیئر دور میں دھکیل دیا۔
حالیہ برسوں میں مصیبت کے ایک اور سبب کی بابت بہت کچھ کہا گیا ہے: انسان کا ماحولیات کو تباہ کرنا۔ اگرچہ یسوع نے اپنی پیشینگوئی میں خاص طور پر اس کا ذکر تو نہیں کیا تھا، تاہم مکاشفہ ۱۱:۱۸ ظاہر کرتی ہے کہ آنے والی بربادی سے پہلے، انسان ”زمین کو تباہ“ کر رہا ہوگا۔ اس تباہی کے واقع ہونے کی کافی شہادت موجود ہے۔ کتاب سٹیٹ آف دی ورلڈ ۱۹۸۸، میں ماحولیاتی مشیر نارمن مائرز کا اقتباس یہ خوفناک پیغام دیتا ہے: ”ماضی کی کسی بھی نسل کو اپنی زندگی میں اتنی بھاری تعداد میں لوگوں کے ناپید ہونے کے امکان کا سامنا نہ تھا۔ نہ ہی مستقبل کی کسی نسل کو کبھی ایسے چیلنج کا سامنا کرنا پڑیگا: اگر یہ موجودہ نسل اس کام پر قابو پانے میں ناکام ہو جاتی ہے تو نقصان ہو چکا ہوگا پھر اس کے لئے دوبارہ کچھ نہیں کیا جا سکے گا۔“
فضا میں اوزون کے خاتمے کی بابت نیوزویک میگزین کے ۱۷ فروری ۱۹۹۲ کے شمارے کی رپورٹ پر غور کریں۔ گرینپیس اوزون اسپیشلسٹ الیگزینڈر ایلن کا حوالہ یہ آگاہی دیتے ہوئے دیا گیا تھا کہ اوزون میں خرابی ”اب مستقبل میں زمین پر تمام طرح کی زندگی کے لئے ایک خطرہ بن گئی ہے۔“—زمین کی ماحولیاتی بربادی کی مزید شہادت کیلئے اس صفحہ کے بکس کو دیکھیں۔
یسوع کی پیشینگوئی کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی مباحثے کیلئے جگہ کی گنجائش نہیں۔ (دیگر نبوتی خصوصیتوں کے جائزے کیلئے صفحہ ۵ پر درج چارٹ کو دیکھیں۔) تاہم ایک خصوصیت جس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا وہ متی ۲۴:۱۴ میں بیان کی گئی ہے: ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کیلئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“ اس کی بابت کوئی شک نہیں کہ کون منادی کے اس عالمگیر کام کو کر رہا ہے۔ یہوواہ کے گواہوں نے صرف ۱۹۹۲ کے سال میں ہی ۲۲۹ ملکوں میں اس کام میں ایک بلین سے زائد گھنٹے صرف کئے۔ لہذا انکا کام نہایت واضح ثبوتوں میں سے ایک کو تشکیل دیتا ہے کہ ہم اخیر زمانے میں رہ رہے ہیں۔
دھوکا نہ کھائیں!
تاہم، بعض شاید یہ بحث کریں کہ ”اخیر زمانہ“ کی بابت یہ تمام باتچیت محض قنوطیت ہے۔ وہ پوچھتے ہیں ”مشرقی یورپ میں کمیونزم کے حالیہ خاتمے کی بابت کیا ہے؟ ”یا پھر عالمی طاقتوں کے امن لانے کی کوششوں کی بابت کیا ہے؟ کیا یہ اس بابت کی شہادت نہیں کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں؟“ نہیں۔ غور کریں کہ یسوع نے یہ نہیں کہا تھا کہ اخیر زمانے میں پوری دنیا متواتر جنگوں، بھونچالوں اور کالوں میں گھری رہے گی۔ پوری دنیا میں خوشخبری کی منادی کئے جانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ کمازکم نسبتی سکون کا کچھ وقت ہو۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ یسوع نے اخیر زمانے کو نوح کے طوفان سے پہلے کے دنوں کیساتھ تشبِیہ دی۔ اس وقت لوگ کھانے پینے اور بیاہ شادی کرنے—زندگی کی عام سرگرمیوں میں حد سے زیادہ مصروف تھے۔ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ اخیر زمانے میں حالات تکلیفدہ ہونگے، لیکن چیزیں اس حد تک خراب نہیں ہونگی کہ زندگی کے معمول کے کام ناممکن ہو جائیں۔ جیسے نوح کے دنوں میں تھا، لوگوں کی اکثریت روزمرہ کے کاموں میں اسقدر مصروف ہے کہ وہ وقت کی نزاکت پر غور نہیں کرتے۔
اسلئے، دکھائی دینے والی بعض سازگار سیاسی صورتحالات کی وجہ سے لاپرواہی کا شکار ہونا خطرناک ہوگا۔ (مقابلہ کریں ۱-تھسلنیکیوں ۵:۳۔) اس بات کی حد سے زیادہ شہادت موجود ہے کہ یسوع کی پیشینگوئی اب تکمیل پا رہی ہے—ایک آگاہی کہ ہلاکت بالکل قریب ہے!
شاندار انجام
پامپائی کی بربادی موت اور تکلیف لائی۔ تاہم، اس موجودہ نظام کا خاتمہ ایک خوبصورت فردوسی زمین پر حیاتابدی کی راہ کھول دیگا۔ (مکاشفہ ۲۱:۳، ۴) پھر کبھی منقسم کرنے والی انسانی حکومتیں زمین کو جنگ سے تباہ نہ کرینگی۔ پھر کبھی بھی لوگ نیوکلیئر آگ کے خطرے سے لرزاں نہ ہونگے۔ ایسے کارخانے ختم ہو چکے ہونگے جو ماحول میں زہریلے کیمیاوی اجزاء اگلتے ہیں۔—دانیایل ۲:۴۴۔
اس وقت ہر زندہ شخص راستبازی سے محبت کرنے والا اور ایک حقیقی دوست ہو ہوگا، جو کہ بادشاہتی حکمرانی کی مکمل تابعداری میں رہیگا۔ (زبور ۳۷:۱۰، ۱۱) ہسپتال، جنازہ گاہیں اور قبرستان گئی گزری باتیں ہونگی۔ اسی طرح طلاق، علیٰحدگی، افسردگی اور بچوں سے ناروا سلوک بھی باقی نہ رہیگا۔—یسعیاہ ۲۵:۸، ۶۵:۱۷۔
کیا آپ اخیر زمانے سے بچنا اور خدا کی پرشکوہ نئی دنیا کو دیکھنے کیلئے زندہ رہنا چاہتے ہیں؟ تو پھر ”جاگتے [رہیں] ... کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئیگا۔“ (مرقس ۱۳:۳۳) تاہم، دنیا کے حالات یہ واضح کرتے ہیں کہ مقررہ وقت بالکل قریب ہے—بہتیروں کیلئے خوفناک حد تک قریب۔ ضائع کرنے کیلئے کوئی وقت نہیں۔ لہذا زندگی کو بچانے والی کارروائی کریں، اور ان کی تلاش کریں جو اخیر زمانے کے عالمگیر نشان پر دھیان دے رہے ہیں۔ ان کی شناخت کرنا بڑا آسان ہے کیونکہ صرف وہی پوری دنیا میں خوشخبری کی منادی کرنے کے یسوع کے حکم کی فرمانبرداری کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ ان کیساتھ ساتھ آپ بھی ایسے اقدام اٹھائیں کہ خود کو بادشاہ، یسوع مسیح کی صف میں شامل کریں جس کی بابت یہ کہا گیا ہے: ”اس کے نام سے غیرقومیں امید رکھینگی۔“—متی ۱۲:۱۸، ۲۱۔ (۴ ۳/۱ w۹۳)
[صفحہ 5 پر بکس]
نشان کی چوبیس خصوصیات
۱۔ بینظیر جنگیں—متی ۲۴:۶، ۷، مکاشفہ ۶:۴
۲۔ زلزلے—متی ۲۴:۷، مرقس ۱۳:۸
۳۔ کال—متی ۲۴:۷، مرقس ۱۳:۸
۴۔ وبائیں—لوقا ۲۱:۱۱، مکاشفہ ۶:۸
۵۔ بڑھتی ہوئی لاقانونیت—متی ۲۴:۱۲
۶۔ زمین کا تباہ کیا جانا—مکاشفہ ۱۱:۱۸
۷۔ محبت کا ٹھنڈا پڑ جانا—متی ۲۴:۱۲
۸۔ دہشتناک باتیں—لوقا ۲۱:۱۱
۹۔ غیرمعمولی زر کی دوستی—۲-تیمتھیس ۳:۲
۱۰۔ والدین کی نافرمانی—۲-تیمتھیس ۳:۲
۱۱۔ خدا کی نسبت عیشوعشرت سے زیادہ محبت کرنا—۲-تیمتھیس ۳:۴
۱۲۔ اپنی ذات سے محبت غلبہ پاتی ہے—۲-تیمتھیس ۳:۲
۱۳۔ عمومی طبعی محبت کی کمی—۲-تیمتھیس ۳:۳
۱۴۔ کسی بات سے متفق نہ ہونے والے لوگ—۲-تیمتھیس ۳:۳
۱۵۔ معاشرے کے ہر طبقے میں ضبط نفس کی کمی—۲-تیمتھیس ۳:۳
۱۶۔ نیکی سے محبت کا وسیع نقصان—۲-تیمتھیس ۳:۳
۱۷۔ بہتیروں کا ریاکاری سے مسیحی ہونے کا دعوی کرنا—۲-تیمتھیس ۳:۵
۱۸۔ بہتیروں کا کھانے پینے میں بےاعتدالی برتنا—لوقا ۲۱:۳۴
۱۹۔ ہنسی ٹھٹھا کرنے والے نشان کو نظرانداز کرتے ہیں—۲-پطرس ۳:۳، ۴
۲۰۔ بہتیرے جھوٹے نبی سرگرم ہیں—متی ۲۴:۵، ۱۱، مرقس ۱۳:۶
۲۱۔ خدا کی قائمشدہ بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنا
۲۲۔ سچے مسیحیوں کا ستایا جانا—متی ۲۴:۹، لوقا ۲۱:۱۲
۲۳۔ اخیر زمانے کو عروج تک پہنچانے کیلئے امن اور سلامتی کی پکار
۲۴۔ لوگ خطرے سے غافل ہوتے ہیں—متی ۲۴:۳۹
[صفحہ 6 پر بکس]
ماحولیاتی مسائل—زمانوں کا ایک نشان
▫ شمالی نصفکرہ کے خطاستوا کے گنجانآباد علاقے میں جس قدر سائنسدانوں نے فقط چند سال پہلے خیال کیا تھا اوزون کی پرت اس سے دگنی رفتار کے ساتھ پتلی ہو رہی ہے۔
▫ کمازکم ۱۴۰ نباتاتی اور حیواناتی اقسام ہر روز ناپید ہو رہی ہیں۔
▫ حرارت کو اکٹھا کرنے والی کاربن ڈائیآکسائیڈ کی فضائی سطح اس وقت کی نسبت جب کارخانے اس قدر زیادہ نہ تھے اب ۲۶ فیصد بلند ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
▫ ۱۹ ویں صدی کے وسط میں جب ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا تو اس وقت سے لیکر کسی بھی سال کی نسبت ۱۹۹۰ میں سطح زمین زیادہ گرم تھی، ریکارڈ کردہ سات انتہائی گرم سالوں میں سے چھ ۱۹۸۰ سے لیکر وقوعپذیر ہوئے ہیں۔
▫ فی سال ۴۰،۰۰۰،۰۰۰ ایکڑ کی شرح سے جنگلات ختم ہو رہے ہیں اتنا بڑا رقبہ جو فنلینڈ کے ملک کے نصف کے برابر ہے۔
▫ دنیا کی آبادی ۹۲ ملین سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے—تقریباً ہر سال ایک میکسیکو کے شہر کے اضافے کے برابر، اس تعداد میں سے ۸۸ ملین کا اضافہ ترقیپزیر ممالک کے اندر ہو رہا ہے۔
▫ کوئی ۲.۱ بلین لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔
ورلڈواچ انسٹیٹیوٹ کی کتاب سٹیٹ آف دی ورلڈ ۱۹۹۲، صفحات ۳، ۴، ڈبلیو۔ ڈبلیو۔ نورٹن اینڈ کمپنی، نیویارک، لندن کے مطابق۔
[صفحہ 7 پر تصویر]
تباہی کے بعد خدا کی شاندار نئی دنیا آ جائیگی