”بیاہ کرنا سب میں عزت کی بات سمجھی جائے“
”بیاہ کرنا سب میں عزت کی بات سمجھی جائے اور بستر بےداغ رہے۔“—عبرانیوں ۱۳:۴۔
۱. بہتیرے لوگوں نے کامیاب شادی کی بابت کیا سیکھ لیا ہے؟
لاکھوں لوگ، بآسانی دستیاب طلاق کے اس دور میں بھی پائدار شادیوں سے لطف اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے پسمنظر اور شخصیتی اختلافات کے باوجود کامیابی کا فارمولا تلاش کر لیا ہے۔ ایسی شادیاں یہوواہ کے گواہوں میں پائی جاتی ہیں۔ اکثر معاملات میں یہ جوڑے تسلیم کرینگے کہ انہوں نے اپنے نشیبوفراز کا تجربہ کیا ہے، یہانتک کہ بعض نے ایک دوسرے کے خلاف شکایت کے بعض اسباب کا بھی۔ تاہم انہوں نے چھوٹے چھوٹے طوفانوں سے بچ نکلنا سیکھ لیا ہے اور اپنی شادی کے جہاز کو صحیح سمت میں رواں دواں رکھتے ہیں۔ بعض عناصر کیا ہیں جنہوں نے انہیں گامزن رکھا؟—کلسیوں ۳:۱۳۔
۲. (ا) بعض مثبت عناصر کیا ہیں جو ایک شادی کو سہارا دیتے ہیں؟ (ب) بعض عناصر کونسے ہیں جو شادی کو برباد کر سکتے ہیں؟ (صفحہ ۱۴ پر بکس کو دیکھیں)۔
۲ بعض لوگ جن کی مسیحی شادیاں خوشحال اور قائم رہی ہیں ان کی طرف سے تبصرے کافی بصیرتافروز ہیں۔ ایک ۱۶ سال سے شادیشدہ خاوند نے کہا: ”جب بھی کبھی کوئی مسئلہ اٹھا ہے تو ہم نے واقعی ایک دوسرے کے نکتہءنظر کو سننے کی کوشش کی ہے۔“ یہ بہت سی شادیوں میں مضبوط کرنے والے عناصر میں سے ایک کو نمایاں کرتا ہے---کھلا، صافدل رابطہ۔ ۳۱ سالوں سے شادیشدہ، ایک بیوی نے بیان کیا: ”اپنے درمیان رومان کو قائم رکھنے کیلئے ایکدوسرے کے ہاتھوں کو تھامنا اور ہنسی مذاق کرنا ہمیشہ ایک اولیت رہا ہے۔“ اور یہ رابطے کا ایک اضافی پہلو ہے۔ تقریباً ۴۰ سالوں سے شادیشدہ ایک اور جوڑے نے مزاحفہمی، خود پر اور ایکدوسرے پر ہنستے رہنے کے قابل ہونے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس نے انکی ایکدوسرے میں بہترین اور بدترین بات کو دیکھنے اور پھر بھی وفادار محبت دکھانے کے قابل ہونے کیلئے مدد کی۔ شوہر نے غلطیوں کو تسلیم کرنے کیلئے رضامندی اور پھر معذرت کرنے کا ذکر کیا۔ جہاں پر بات مان جانے والی روح ہو تو شادی ٹوٹنے کی بجائے لچکدار ہوگی۔—فلپیوں ۲:۱-۴، ۴:۵، کنگڈم انٹرلینئر۔
بدلتا موسم
۳، ۴. شادی میں وفاداری کے سلسلے میں رجحان میں کونسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں؟ کیا آپ مثالیں دے سکتے ہیں؟
۳ گزشتہ چند عشروں سے، تمام دنیا کے اندر، شادی میں وفاداری کے سلسلے میں ادراکی احساسات بدل گئے ہیں۔ بعض شادیشدہ لوگ مانتے ہیں کہ ایک معاشقے، زناکاری کے لئے جدید ملائم لفظ، میں کوئی برائی نہیں، خاصکر اگر دوسرا ساتھی اسکی بابت جانتا اور اسے قبول کرتا ہے۔
۴ ایک مسیحی نگہبان نے صورتحال کی بابت رائے دی: ”دنیا نے ایک اخلاقی ضابطے کے مطابق زندگی گذارنے کیلئے کسی بھی سنجیدہ کوشش کو عملاً ترک کر دیا ہے۔ پاکیزہ چالچلن کو دقیانوسی خیال کیا جانے لگا ہے۔“ ممتاز سیاسی، سپورٹس، اور تفریحی دنیا کی شخصیات اخلاقی چالچلن کی بابت بائبل معیاروں کی کھلم کھلا خلافورزی کرتی ہیں، اور ایسے لوگوں کو مسلسل عظیم شخصیات خیال کیا جاتا ہے۔ کسی قسم کی اخلاقی بدکاری یا کجروی کے ساتھ عملاً کلنک کا ٹیکہ منسوب نہیں کیا جاتا۔ نامنہاد اونچے طبقے میں پاکدامنی اور راستی کی شاذونادر ہی قدر کی جاتی ہے۔ پھر اس اصول کے مطابق کہ جو امیر کیلئے مناسب ہے وہ غریب کے لئے بھی مناسب ہے، عوام اونچے طبقے کے نمونے کی پیروی کرتی ہے اور جس چیز کو خدا رد کرتا ہے اسے وہ نظرانداز کرتے ہیں۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے پولس نے بیان کیا: ”انہوں نے سن ہو کر شہوتپرستی کو اختیار کیا تاکہ ہر طرح کے گندے کام حرص سے کریں۔“—افسیوں ۴:۱۹، امثال ۱۷:۱۵، رومیوں ۱:۲۴-۲۸، ۱-کرنتھیوں ۵:۱۱۔
۵. (ا) زناکاری کی بابت خدا کا موقف کیا ہے؟ (ب) بائبل میں لفظ ”حرامکاری“ کے استعمال میں کیا کچھ شامل ہے؟
۵ خدا کے معیار نہیں بدلے۔ یہ اسکا موقف ہے کہ شادی کے بندھن کے بغیر اکٹھے رہنا حرامکاری میں زندگی گذارنا ہے۔ شادی میں بےوفائی ابھی تک زناکاری ہے۔ a پولس رسول نے واضح طور پر بیان کیا: ”کیا تم نہیں جانتے کہ بدکار خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہونگے؟ فریب نہ کھاؤ۔ نہ حرامکار خدا کی بادشاہی کے وارث ہونگے نہ بتپرست نہ زناکار نہ [لونڈے، NW]۔ نہ لونڈےباز۔ ... اور بعض تم میں ایسے ہی تھے بھی مگر تم خداوند یسوع مسیح کے نام سے اور ہمارے خدا کے روح سے دھل گئے اور پاک ہوئے اور راستباز بھی ٹھہرے۔“—۱-کرنتھیوں ۶:۹-۱۱۔
۶. ہم ۱-کرنتھیوں ۶:۹-۱۱ میں پولس کے الفاظ سے کیا حوصلہافزائی حاصل کر سکتے ہیں؟
۶ اس متن میں ایک حوصلہافزا نکتہ پولس کا اظہار ہے: ”اور بعض تم میں ایسے ہی تھے بھی مگر تم ... دھل گئے اور پاک ہوئے۔“ جیہاں، بہتیرے جو ماضی میں دنیا کی اخلاقسوز ”سخت بدچلنی“ میں پڑے ہوئے تھے وہ اپنے حواس میں آ گئے ہیں، انہوں نے مسیح اور اسکی قربانی کو قبول کیا ہے اور وہ دھل کر پاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بااخلاق زندگیاں گذارنے سے خدا کو خوش کرنے کا انتخاب کیا ہے اور نتیجے کے طور پر زیادہ خوش ہیں۔—۱-پطرس ۴:۳، ۴۔
۷. ”بداخلاقی“ کی سمجھ کی بابت کیا اختلافرائے پایا جاتا ہے، اور بائبل کا نکتہءنظر کیا ہے؟
۷ اسکے دوسری طرف، بداخلاقی کیلئے جدید دنیا کی تشریح یہ ہے کہ یہ خدا کے نظریے سے میل نہیں کھاتی۔ ایک ڈکشنری ”بداخلاقی“ کی ”مروجہ اخلاقیات کی ضد“ کے طور پر تشریح کرتی ہے۔ آجکل کی ”مروجہ اخلاقیات“ شادی سے پہلے اور شادی کے باہر جنس کو اور ہمجنس پرستی کو نظرانداز کرتی ہے، بائبل اسی کو بداخلاقی کے طور پر رد کرتی ہے۔ جیہاں، بائبلی نکتہءنظر سے، بداخلاقی خدا کے اخلاقی ضابطے کی سنگین خلافورزی ہے۔—خروج ۲۰:۱۴، ۱۷، ۱-کرنتھیوں ۶:۱۸۔
مسیحی کلیسیا متاثر ہوتی ہے
۸. بداخلاقی ان کو کیسے متاثر کر سکتی ہے جو مسیحی کلیسیا میں ہیں؟
۸ بداخلاقی آجکل اتنی عام ہے کہ یہ ان پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہے جو مسیحی کلیسیا میں ہیں۔ یہ سب جگہ پھیلے ہوئے اخلاقسوز ٹیوی پروگراموں، ویڈیوز، اور پڑھنے کے فحش مواد کے ذریعے ان پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اگرچہ مسیحیوں کا ایک چھوٹا تناسب ہی متاثر ہوتا ہے تو بھی یہ پہچاننے کی ضرورت ہے کہ یہوواہ کے گواہوں کی صفوں سے غیرمسیحی چالچلن سے غیرتائب ہونے کی وجہ سے خارج ہونے والے واقعات کی اکثریت کا تعلق جنسی بداخلاقی کی کسی نہ کسی صورت سے ہے۔ مثبت رخ کی طرف، خارج ہونے والوں کا ایک بڑا تناسب بالآخر اپنی خطاؤں کو پہچانتا ہے، ایک پاکیزہ طرززندگی کا ازسرنو آغاز کرتا ہے اور وقت آنے پر کلیسیا میں بحال ہو جاتا ہے۔—مقابلہ کریں لوقا ۱۵:۱۱-۳۲۔
۹. کسطرح سے شیطان غافلوں کو چابکدستی سے استعمال کرتا ہے؟
۹ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان دھاڑنے والے شیرببر کی طرح غافل کو پھاڑ کھانے کو تیار گھومتا پھرتا ہے۔ اسکے منصوبے، ”عیارانہ کام“ ہر سال غافل مسیحیوں کو جال میں پھنسا رہے ہیں۔ اسکی دنیا کی روح ہمیشہ سے خودغرض، اور شہوتپرست، عیش پرستی رہی ہے۔ یہ جسمانی خواہشات کو تسکین بخشتی ہے۔ یہ ضبط نفس کو رد کرتی ہے۔—افسیوں ۲:۱، ۲، ۶:۱۱، ۱۲، فٹنوٹ، (NW) ۱-پطرس ۵:۸۔
۱۰. کون آزمائش کے تحت ہیں، اور کیوں؟
۱۰ کلیسیا میں بداخلاقی کی آزمائشوں کے خطرے میں کون ہو سکتا ہے؟ مسیحیوں کی اکثریت، خواہ وہ مقامی کلیسیا میں بزرگ، سفری نگہبان، بیتایل میں کام کرنے والے، ہر ماہ بہت سے گھنٹے منادی کرنے والے پائنیر، خاندان کی پرورش کرنے والے مصروف والدین، یا ساتھیوں کے دباؤ کا سامنا کرنے والے نوجوان ہوں۔ جسمانی آزمائش سب کیلئے مشترک ہے۔ جنسی کشش کا وار اس وقت چل سکتا ہے جب اسکی بہت کم توقع کی جاتی ہے۔ لہذا پولس لکھ سکتا تھا: ”پس جو کوئی اپنے آپکو قائم سمجھتا ہے وہ خبردار رہے کہ گر نہ پڑے۔ تم کسی ایسی آزمائش میں نہیں پڑے جو انسان (مردوں اور عورتوں) کی برداشت سے باہر ہو۔“ یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ ذمہداری کے عہدوں پر فائز بعض مسیحی بداخلاقی کی اس کشش کے شکار ہو گئے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۲، ۱۳۔
کھنچ کر اور پھنس کر
۱۱-۱۳. بعض حالتیں کیا ہیں جو بداخلاقی بنی ہیں؟
۱۱ وہ آزمائشیں اور حالتیں کیا ہیں جو بعض کیلئے زناکاری اور حرامکاری کی احمقانہ روش اختیار کرنے کا سبب بنی ہیں؟ وہ بہت سی اور پیچیدہ ہیں اور ایک ملک یا تہذیب سے دوسرے ملک یا تہذیب میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ تاہم، بعض ایسی بنیادی حالتیں ہیں جو بہت سے ممالک میں نمایاں ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ رپورٹ ملی ہے کہ بعض نے ایسی پارٹیوں کو منظم کیا جہاں پر کہ الکحلی مشروبات آسانی سے دستیاب تھے۔ دیگر خیالآفریں موسیقی اور ترغیب دینے والے رقص کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ افریقہ کے بعض علاقوں میں، دولتمند آدمی رہتے ہیں—بےایمان—جو داشتائیں رکھتے ہیں، بعض عورتیں ایسی حالت میں معاشی تحفظ حاصل کرنے کی آزمایش میں پڑ گئی ہیں اگرچہ اس میں بداخلاقی شامل ہے۔ دوسرے علاقوں میں مسیحی خاوندوں نے معدنی کانوں یا دوسری جگہوں پر روزی کمانے کی غرض سے اپنے خاندانوں کو چھوڑ دیا ہے۔ انکی وفاداری اور شادی میں وفا کسی حد تک یا ایسے طریقوں سے آزمائی جاتی ہیں جنکا پیچھے گھر پر انہیں تجربہ نہیں ہوا ہوتا۔
۱۲ ترقییافتہ ممالک میں بعض مخالف جنس کے ممبر کیساتھ اکثر رہنے سے اور تیسرے شخص کی موجودگی کے بغیر، شیطان کے پھندے کا شکار ہوئے ہیں—جیسے کہ ڈرائیونگ سیکھنے کیلئے باقاعدہ طور پر کار کے اندر تنہائی میں قریب ہونا۔ b گلہبانی کی ملاقاتیں کرنے والے بزرگوں کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بہن کو مشورت دیتے ہوئے اسکے ساتھ تنہا نہ ہوں۔ گفتگو جذباتی رخ اختیار کر سکتی ہے اور دونوں فریقین کیلئے مشکل حالت پر منتج ہوتی ہے۔—مقابلہ کریں مرقس ۶:۷، اعمال ۱۵:۴۰۔
۱۳ مذکورہبالا واقعات بعض مسیحیوں کیلئے حفاظتی تدابیر میں غفلت برتنے اور بداخلاق کاموں میں پڑنے کا سبب بنے ہیں۔ جیسے کہ پہلی صدی میں بھی واقع ہوا، انہوں نے خود کو ”اپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر آزمائے جانے“ کی اجازت دی ہے جو گناہ کا سبب بنی ہے۔—یعقوب ۱:۱۴، ۱۵، ۱-کرنتھیوں ۵:۱، گلتیوں ۵:۱۹-۲۱۔
۱۴. زناکاری کے معاملات میں خودغرضی کیوں ایک بنیادی عنصر ہے؟
۱۴ خارج ہونے کے معاملات پر محتاط غوروفکر ظاہر کرتی ہے کہ بداخلاق کاموں میں بعض پوشیدہ عناصر مشترک ہیں۔ ایسے معاملات میں کسی قسم کی خودغرضی ہوتی ہے۔ ہم یہ کیوں کہتے ہیں؟ اسلئے کہ زناکاری کے معاملات میں کوئی معصوم شخص یا اشخاص مجروح ہونگے۔ وہ قانونی شریکحیات ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی بچے ہوئے تو وہ یقینی طور پر مجروح ہوں گے، کیونکہ اگر زناکاری طلاق پر منتج ہوتی ہے تو بچے، جو ایک متحدہ خاندان کے تحفظ کی خواہش کرتے ہیں، شاید سب سے بھاری قیمت ادا کریں۔ زناکار اولین طور پر اپنی خوشی اور فائدے کی بابت سوچتا ہے۔ یہ خودغرضی ہے۔—فلپیوں ۲:۱-۴۔
۱۵. زناکاری کا سبب بننے والی بعض وجوہات کیا رہی ہیں؟
۱۵ عام طور پر زناکاری کسی کمزوری کا دفعتہً عمل نہیں ہوتا۔ شادی میں بذاتخود کوئی بتدریج، بالکل ناقابلادراک، خرابی رہی ہے۔ شاید رابطہ معمول یا بےثمر بن چکا ہے۔ باہمی حوصلہافزائی کم ہو سکتی ہے۔ ہر ایک شاید دوسرے کیلئے قدر ظاہر کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بیاہتا ساتھی کچھ وقت سے ایک دوسرے کو جنسی طور پر مطمئن نہ کر رہے ہوں۔ یقینی طور پر جب زناکاری واقع ہوتی ہے تو خدا کے ساتھ رشتہ بھی کمزور ہوتا رہا ہے۔ یہوواہ کو اب زندہ خدا کے طور پر نہیں سمجھا جاتا جو ہمارے تمام افعال اور خیالات سے باخبر ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زناکار کے ذہن میں ”خدا“ محض ایک لفظ بن جاتا ہے، ایک خیالی ہستی جو روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں ہے۔ تب خدا کے خلاف گناہ کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔—زبور ۵۱:۳، ۴، ۱-کرنتھیوں ۷:۳-۵، عبرانیوں ۴:۱۳، ۱۱:۲۷۔
مزاحمت کی کُنجی
۱۶. ایک مسیحی بےوفا ہونے کی آزمایش کی مزاحمت کیسے کر سکتا ہے؟
۱۶ اگر کوئی مسیحی خود کو بےوفائی کی روش اختیار کرنے کی آزمایش میں پڑتے دیکھتا ہے تو کن باتوں کا خیال رکھا جانا چاہیے؟ سب سے پہلے، مضبوطی سے بائبل اصولوں پر مبنی، مسیحی محبت کے مطلب پر غوروفکر کرنا چاہیے۔ جسمانی یا شہوانی محبت کو اپنے جذبات پر حاوی ہونے اور جلدی سے خودغرضی میں پڑ جانے سے دوسروں پر تکلیف لانے کی اجازت کبھی نہیں دینی چاہیے۔ بلکہ حالت کو یہوواہ کے نکتہءنظر سے دیکھنا چاہیے۔ اسے کلیسیا اور اس بےحرمتی کے وسیع سلسلے میں دیکھا جانا چاہیے جو بدکار چالچلن اس پر اور یہوواہ کے نام پر لائیگا۔ (زبور ۱۰۱:۳) معاملے پر مسیح کی طرح سوچنے اور پھر اسکی مطابقت میں عمل کرنے سے مصیبت سے بچا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیں، مسیح جیسی بےغرض محبت کبھی ناکام نہیں ہوتی۔—امثال ۶:۳۲، ۳۳، متی ۲۲:۳۷-۴۰، ۱-کرنتھیوں ۱۳:۵، ۸۔
۱۷. ہمارے پاس وفاداری کی ترقیبخش مثالیں کونسی ہیں؟
۱۷ اپنے ایمان اور آگے امید کے تصور کو مضبوط بنانا مزاحمت کی کُنجی ہے۔ اسکا مطلب دل میں سب سے اول راستی کے ممتاز نمونوں کو رکھنا ہے جو قدیمی وفادار مردوں اور عورتوں، اور خود یسوع نے چھوڑے ہیں۔ پولس نے لکھا: ”پس جب کہ گواہوں کا ایسا بڑا بادل ہمیں گھیرے ہوئے ہے تو آؤ ہم بھی ہر ایک بوجھ اور اس گناہ کو جو ہمیں آسانی سے الجھا لیتا ہے دور کرکے اس دوڑ میں صبر سے دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔ اور ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کو تکتے رہیں جس نے اس خوشی کیلئے جو اسکی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پروا نہ کرکے صلیب کا دکھ سہا اور خدا کے تخت کی دہنی طرف جا بیٹھا۔ پس اس پر غور کرو جس نے اپنے حق میں برائی کرنے والے گنہگاروں کی اس قدر مخالفت کی برداشت کی تاکہ تم بےدل ہو کر ہمت نہ ہارو۔“ (عبرانیوں ۱۲:۱-۳) شادی کے جہاز کو ڈبونے کیلئے چھید کرنے کی بجائے، عقلمند شخص اسے بحال کرنے کی خاطر کسی بھی نقصان کی مرمت کرنے کے طریقوں کی بابت سوچے گا اور یوں بیوفائی اور فریبکاری کے مخفی گڑھے سے بچے گا۔—ایوب ۲۴:۱۵۔
۱۸. (ا) زناکاری کی وضاحت کرنے کیلئے غداری کیوں زیادہ سخت لفظ نہیں ہے؟ (ب) خدا منتیں ادا کرنے کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟
۱۸ بیوفائی، جو کہ غداری ہے، کیا یہ بداخلاقی کے سلسلے میں بہت سخت لفظ ہے؟ غداری کسی بھروسے یا اعتماد سے دغا ہے۔ یقینی طور پر شادی کے عہد میں اعتماد اور ہر حال میں مصیبتوں کے باوجود محبت کرنے اور چاہنے کا وعدہ شامل ہے۔ اس میں وہ کچھ شامل ہے جسے بہتیرے ان اوقات کیلئے غیرمروج سمجھتے ہیں جس میں ہم رہتے ہیں—شادی کے عہد میں کیا ہوا اپنا قول نبھانا۔ اس اعتماد سے دغا کرنا اپنے شریک حیات سے ایک قسم کی غداری کرنا ہے۔ معاہدوں کی بابت خدا کا نظریہ بائبل میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے: ”جب تو خدا کیلئے منت مانے تو اسکے ادا کرنے میں دیر نہ کر کیونکہ وہ احمقوں سے خوش نہیں ہے۔ تو اپنی منت کو پورا کر۔“—واعظ ۵:۴۔
۱۹. جب ایک گواہ ناکام ہو جاتا ہے تو کس کے ساتھ موازنے میں شیطان خوشی کرتا ہے؟
۱۹ اس کی بابت کوئی شک نہیں کیا جانا چاہیے۔ جسطرح سے ایک گنہگار کی نجات کے باعث آسمان پر بڑی خوشی ہوتی ہے، اسی طرح سے جب یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک اپنی راستی قائم رکھنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو زمین پر شیطان کے دیدنی اور نادیدنی، لشکروں میں خوب خوشی منائی جاتی ہے۔—لوقا ۱۵:۷، مکاشفہ ۱۲:۱۲۔
سب کیلئے مشترک آزمائشیں
۲۰. ہم کسطرح سے آزمایش کی مزاحمت کر سکتے ہیں؟ (۲-پطرس ۲:۹، ۱۰)
۲۰ کیا بعض معاملات میں بداخلاقی ناگزیر ہے؟ کیا جسم اور شیطان اتنے مضبوط ہیں کہ مسیحی مزاحمت نہیں کر سکتے اور اپنی راستی قائم نہیں رکھ سکتے؟ پولس ان الفاظ میں حوصلہافزائی دیتا ہے: ”خدا سچا ہے۔ وہ تم کو تمہاری طاقت سے زیادہ آزمایش میں نہ پڑنے دیگا بلکہ آزمایش کے ساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کر دیگا تاکہ تم برداشت کر سکو۔“ آجکل کی دنیا میں ہم مکمل طور پر آزمایش سے بچ نہیں سکتے، لیکن دعا میں خدا کی طرف جانے سے، ہم یقینی طور پر کسی بھی آزمایش کی برداشت کر سکتے اور اس پر قابو پا سکتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۳۔
۲۱. کن سوالوں کا جواب ہمارے اگلے مطالعے میں دیا جائیگا؟
۲۱ آزمایشوں کی برداشت کرنے اور ان پر غالب آنے کیلئے خدا ہماری مدد کرنے کیلئے ہمیں کیا پیش کرتا ہے؟ اپنی شادیوں، اپنے خاندانوں، اور یہوواہ کے نام اور کلیسیا کی ساکھ بچانے کی خاطر ہمیں انفرادی طور پر کس چیز کی ضرورت ہے؟ ہمارا اگلا مضمون ان سوالوں کے جواب دیگا۔ (۱۲ ۲/۱۵ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a ””حرامکاری“ وسیع مفہوم میں، اور جیسے کہ متی ۵:۳۲ اور ۱۹:۹ میں استعمال ہوا ہے، ظاہری طور پر شادی سے باہر غیرقانونی یا ناروا جنسی تعلقات کے وسیع دائرے کا حوالہ دیتا ہے۔ پورنیا [ان آیات میں مستعمل یونانی لفظ] میں کمازکم ایک انسان کے اعضاءتناسل کا نہایت ناشائستگی سے غیراخلاقی (خواہ قدرتی یا کجرو طریقہ) استعمال شامل ہے، نیز ضرور ہے کہ بداخلاقی میں دوسرا فریق شامل ہوتا ہے—کسی ایک صنف کا انسان، یا کوئی جانور۔“ (دی واچٹاور، مارچ ۱۵، ۱۹۸۳، صفحہ ۳۰) زناکاری: ”ایک شادیشدہ شخص اور قانونی شوہر یا بیوی کے علاوہ کسی اور ساتھی کے درمیان اپنی رضامندی سے جنسی مباشرت ہے۔“—دی امریکن ہیریٹیج ڈکشنری آف دی انگلش لینگیویج۔
b ظاہر ہے کہ ایسے موزوں مواقع ہونگے جب ایک بھائی ایک بہن کیلئے سواری فراہم کریگا، اور ایسی حالتوں سے غلط مطلب نہیں لینا چاہیے۔
کیا آپکو یاد ہے؟
▫ بعض عناصر کیا ہیں جو شادی کو مضبوط کرنے میں مدد کرتے ہیں؟
▫ اخلاقیات کیلئے ہمیں دنیا کے نظریے کو کیوں ترک کرنا چاہیے؟
▫ بعض آزمائشیں اور حالتیں کیا ہیں جو بداخلاقی کا سبب بن سکتی ہیں؟
▫ گناہ کی مزاحمت کرنے کی سب سے بڑی کُنجی کیا ہے؟
▫ آزمائش کے اوقات میں خدا ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟
[بکس]
قائم رہنے والی شادیوں میں مشترک عناصر
▫ بائبل اصولوں سے گہری وابستگی
▫ دونوں ساتھی یہوواہ کیساتھ ایک مضبوط رشتہ رکھتے ہیں
▫ شوہر اپنی بیوی، اسکے احساسات اور اسکی آراء کا احترام کرتا ہے
▫ روزمرہ بنیادوں پر اچھا رابطہ
▫ ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش میں رہیں
▫ مزاحفہمی، اپنی ذات پر ہنسنے کے قابل ہونا
▫ غلطیوں کو آزادانہ طور پر تسلیم کریں، آزادانہ طور پر معاف کریں
▫ رومان کو قائم رکھیں
▫ بچوں کی پرورش اور تربیت کرنے میں متحد ہوں
▫ یہوواہ سے دعا میں باقاعدہ اکٹھے ہونا
منفی عناصر جو شادی کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہیں
▫ خودغرضی اور ہٹدھرمی
▫ ملکر کام کرنے میں ناکامی
▫ ناقص رابطہ
▫ بیاہتا ساتھیوں میں موزوں صلاح مشورے کی کمی
▫ پیسے کا ناقص انتظام
▫ بچوں اور سوتیلے بچوں کیساتھ برتاؤ میں معیاروں پر اختلافات
▫ خاوند کا دیر تک کام کرنا یا دوسرے فرائض کیلئے خاندان کو نظرانداز کرنا
▫ خاندان کی روحانی ضروریات کی دیکھ بھال کرنے میں ناکامی شادی کو باعزت رکھنا دائمی خوشی لاتا ہے