ہر قسم کی بتپرستی سے بچیں
”خدا کے مقدس کو بتوں سے کیا مناسبت ہے؟“—۲-کرنتھیوں ۶:۱۶۔
۱. اسرائیل کے خیمہاجتماع اور ہیکلوں سے کس چیز کی تصویرکشی کی گئی تھی؟
یہوواہ کی ایک ہیکل ہے جس میں بت نہیں رکھے جاتے۔ موسی کے ذریعے بنایا جانے والا خیمہاجتماع اور بعد میں یروشلیم میں تعمیر ہونے والی ہیکلیں اس کا نمونہ تھیں۔ ان عمارتوں نے ”حقیقی خیمہ“، یہوواہ کے عظیم روحانی مقدس کی نمائندگی کی۔ (عبرانیوں ۸:۱-۵) وہ ہیکل یسوع مسیح کے فدیہ کی قربانی کی بنیاد پر پرستش کی غرض سے خدا تک رسائی کرنے کا بندوبست ہے۔—عبرانیوں ۹:۲-۱۰، ۲۳۔
۲. خدا کی عظیم روحانی ہیکل میں ستون کون بنتے ہیں، اور بڑی بھیڑ کس حیثیت سے لطفاندوز ہوتی ہے؟
۲ ہر ممسوح مسیحی آسمان میں مقام حاصل کرکے ”[خدا] کے مقدس میں ایک ستون“ بن جاتا ہے۔ ہیرودیس کے ذریعے دوبارہ تعمیر کی جانے والی ہیکل میں غیرقوموں کے صحن کی نمائندگی کرتے ہوئے، یہوواہ کے دیگر پرستاروں کی ”ایک بڑی بھیڑ“ ”[خدا] کی عبادت [کرتی ہے]۔“ یسوع کی قربانی پر ایمان کی بدولت، انہیں راستی کی وہ حالت حاصل ہے جو کہ ”بڑی مصیبت“ میں سے زندہ بچ نکلنے پر منتج ہوتی ہے۔—مکاشفہ ۳:۱۲، ۷:۹-۱۵۔
۳، ۴. زمین پر ممسوح مسیحیوں کی کلیسیا کو کس چیز سے تشبِیہ دی گئی ہے، اور اسے کس آلودگی سے پاک ہونا چاہیے؟
۳ زمین پر ممسوح مسیحیوں کی کلیسیا کو بھی علامتی طور پر ایک اور ہیکل سے تشبِیہ دی گئی ہے جو بتوں سے پاک ہے۔ ان ”روحالقدس سے مہرشدہ“ لوگوں سے رسول پولس نے کہا: ”[تم، NW] رسولوں اور نبیوں کی نیو پر جسکے کونے کے سرے کا پتھر خود مسیح یسوع ہے تعمیر کئے گئے ہو۔ اسی میں ہر ایک عمارت مل ملا کر خداوند میں ایک پاک مقدس بنتا جاتا ہے۔ اور تم بھی اس میں باہم تعمیر کئے جاتے ہو تاکہ روح میں خدا کا مسکن بنو۔“ (افسیوں ۱:۱۳، ۲:۲۰-۲۲) یہ مہرشدہ ۱۴۴،۰۰۰ لوگ ”زندہ پتھر“ ہیں جو کہ ”روحانی گھر بنتے جاتے [ہیں] تاکہ کاہنوں کا مقدس فرقہ [بنیں]۔“—۱-پطرس ۲:۵، مکاشفہ ۷:۴، ۱۴:۱۔
۴ چونکہ یہ ماتحت کاہن ”خدا کی عمارت“ ہیں اسلئے وہ اس ہیکل کو آلودہ ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ (۱-کرنتھیوں ۳:۹، ۱۶، ۱۷) پولس نے آگاہ کیا ”بےایمانوں کیساتھ ناہموار جوئے میں نہ جتو کیونکہ راستبازی اور بےدینی میں کیا میل جول؟ یا روشنی اور تاریکی میں کیا شراکت؟ مسیح کو بلیعال کیساتھ کیا موافقت؟ یا ایماندار کا بےایمان سے کیا واسطہ؟ اور خدا کے مقدس کو بتوں سے کیا مناسبت ہے؟“ ممسوح مسیحی جو ”قادرمطلق یہوواہ“ کے ہیں ضرور ہے کہ بتپرستی سے پاک ہوں۔ (۲-کرنتھیوں ۶:۱۴-۱۸) وہ جو بڑی بھیڑ کا حصہ ہیں انہیں بھی ہر قسم کی بتپرستی سے باز رہنا چاہیے۔
۵. اس سے واقف ہوتے ہوئے کہ یہوواہ بلاشرکت غیرے عقیدت کا مستحق ہے، سچے مسیحی کیا کرتے ہیں؟
۵ بتپرستی صافصاف اور غیرواضح دونوں اقسام کی ہے۔ نہیں، بتپرستی صرف جھوٹے دیوتاؤں اور دیویوں کی پرستش تک ہی محدود نہیں۔ یہ یہوواہ کے علاوہ کسی بھی دوسری چیز یا شخص کی پرستش کرنا ہے۔ بطور کائنات کے حاکماعلی کے، وہ بجا طور پر بلاشرکت غیرعقیدت کا تقاضا کرتا ہے اور اسکا مستحق ہے۔ (استثنا ۴:۲۴) اس سے باخبر ہوتے ہوئے، سچے مسیحی ہر طرح کی بتپرستی کے خلاف صحیفائی آگاہیوں پر دھیان دیتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۷) آئیے ہم بتپرستی کی بعض ایسی اقسام پر غور کریں جن سے یہوواہ کے خادموں کو گریز کرنا چاہیے۔
مسیحی دنیا کی بتپرستی کا عکس پیش کیا گیا
۶. حزقیایل نے رویا میں کونسی مکروہات دیکھیں؟
۶ ۶۱۲ ق۔س۔ع۔ میں بابلی غلامی ہی میں، حزقیایل نبی کو یروشلیم میں یہوواہ کی ہیکل میں برگشتہ یہودیوں کے ذریعے کئے جانے والے مکروہ کاموں کی رویا دکھائی گئی۔ حزقیایل نے ”غیرت کی مورت“ کو دیکھا۔ ستر بزرگوں کو ہیکل میں بخور جلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ عورتیں جھوٹے معبود پر نوحہ کرتی دکھائی دیں۔ اور ۲۵ آدمی آفتاب کو سجدہ کر رہے تھے۔ یہ برگشتگی کے کام کس چیز کی علامت تھے؟
۷، ۸. ”غیرت کی مورت“ کیا ہو سکتی تھی، اور اس نے یہوواہ کی غیرت کو اشتعال کیوں دلایا؟
۷ مسیحی دنیا کی بتپرستی کی تصویرکشی ان مکروہ کاموں سے کی گئی تھی جو حزقیایل نے رویا میں دیکھے۔ مثلاً، اس نے کہا: ”کیا دیکھتا ہوں کہ شمال کی طرف مذبح کے دروازہ پر غیرت کی وہی مورت مدخل میں ہے۔ اور [یہوواہ خدا] نے پھر مجھے فرمایا: ”اے آدمزاد تو انکے کاموں کو دیکھتا ہے؟ یعنی وہ مکروہات عظیم جو بنیاسرائیل یہاں کرتے ہیں تاکہ میں اپنے مقدس کو چھوڑ کر اس سے دور ہو جاؤں؟“—حزقیایل ۸:۱-۶۔
۸ غیرت کی بتپرستانہ مورت شاید وہ پاک ستون ہو جو کہ اس جھوٹی دیوی کی نمائندگی کرتا تھا جسے کنعانی اپنے دیوتا بعل کی بیوی کے طور پر خیال کرتے تھے۔ مورت چاہے کیسی بھی تھی، اس نے یہوواہ کی غیرت کو بھڑکایا کیونکہ اس نے اسرائیلیوں کی اس کے لئے بلاشرکت غیرے عقیدت کو منقسم کر دیا جو کہ اس کے ان احکام کی خلافورزی تھی: ”خداوند تیرا خدا ... میں ہوں۔ میرے حضور تو غیرمعبودوں کو نہ ماننا۔ تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔ تو انکے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔“—خروج ۲۰:۲-۵۔
۹. مسیحی دنیا نے خدا کی غیرت کو اشتعال کیسے دلایا ہے؟
۹ خدا کی ہیکل میں غیرت کی مورت کی پرستش کرنا عظیم مکروہات میں سے ایک تھا جسے برگشتہ اسرائیلی کر رہے تھے۔ اسی طرح سے، مسیحی دنیا کے چرچز خدا کو بےحرمت کرنے والی ایسی علامتوں اور مورتیوں سے آلودہ ہیں جو کہ اس بلاشرکت غیرے عقیدت کو منقسم کرتی ہیں جو کہ وہ اسے دینے کا دعوی کرتے ہیں جس کی وہ خدمت کرنے کا جھوٹا دعوی کرتے ہیں۔ خدا کی غیرت اسلئے بھی بھڑک اٹھتی ہے کیونکہ پادری طبقہ اسکی بادشاہت کو بنیآدم کی واحد امید کے طور پر رد کرتے ہیں اور اقوام متحدہ—”مکروہ چیز ... جو مقدس مقام میں [کھڑی ہے]“ جہاں کہ اسے کھڑا نہیں ہونا چاہیے—کی پرستش کرتے ہیں۔—متی ۲۴:۱۵، ۱۶، مرقس ۱۳:۱۴۔
۱۰. حزقیایل نے ہیکل کے اندر کیا دیکھا، اور جو کچھ مسیحی دنیا میں دیکھا گیا ہے یہ اس کی مماثلت میں کیسے ہے؟
۱۰ ہیکل میں داخل ہونے پر، حزقیایل بیان کرتا ہے: ”کیا دیکھتا ہوں کہ ہر نوع کے سب رینگنے والے کیڑوں اور مکروہ جانوروں کی سب صورتیں اور بنیاسرائیل کے بت گرداگرد دیوار پر منقش ہیں۔ اور بنیاسرائیل کے بزرگوں میں سے ستر شخص ... انکے آگے کھڑے ہیں اور ہر ایک کے ہاتھ میں ایک بخوردان ہے اور خوشبو بخور کا بادل اٹھ رہا ہے۔“ ذرا سوچیں! اسرائیل کے بزرگ یہوواہ کی ہیکل میں، جھوٹے معبودوں کے سامنے بخور جلا رہیں ہیں جن کی عکاسی دیوار پر منقش مکروہات سے کی گئی ہے۔ (حزقیایل ۸:۱۰-۱۲) اسی مماثلت سے، پرندوں اور جنگلی جانوروں کو مسیحی دنیا کے ممالک کی علامت ہونے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جنہیں لوگ عقیدت دیتے ہیں۔ مزیدبرآں، بہتیرے پادری بائبل میں درج یہوواہ خدا کے تخلیق کے سچے بیان کو برقرار رکھنے کی بجائے اس غلط نظریے کو لوگوں میں عام کرنے کی تائید کرنے سے عوام کو گمراہ کرنے میں مدد دینے کے مجرم ہیں کہ انسان ارتقا کے ذریعے نیممتمدن حیوانی زندگی سے وجود میں آیا ہے۔—اعمال ۱۷:۲۴-۲۸۔
۱۱. برگشتہ اسرائیلی عورتیں تموز پر نوحہ کیوں کر رہی تھیں؟
۱۱ یہوواہ کے گھر کے مدخل پر، حزقیایل نے برگشتہ اسرائیلی عورتوں کو تموز پر نوحہ کرتے ہوئے دیکھا۔ (حزقیایل ۸:۱۳، ۱۴) بابلی اور اسوری لوگ تموز کو برسات کے موسم میں اگنے اور خشک سالی میں ختم ہو جانے والی نباتات کا دیوتا خیال کرتے تھے۔ انکا خاتمہ تموز کے خاتمے کی تصویرکشی کرتا تھا جس پر اسکے پرستار ہر سال سخت گرمی کے موسم میں ماتم کرتے تھے۔ موسم برسات میں نباتات کے دوبارہ نمودار ہو جانے سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ تموز عالماسفل سے واپس آ گیا ہے۔ اسکی نمائندگی اسکے نام کے پہلے حرف، قدیم تاؤ سے کی جاتی تھی جو کہ صلیب کی ایک شکل ہے۔ یہ ہمیں صلیب کیلئے مسیحی دنیا کے بتپرستانہ تقدس کی خوب یاددہانی کرا سکتا ہے۔
۱۲. حزقیایل نے ۲۵ برگشتہ اسرائیلی مردوں کو کیا کرتے دیکھا، اور اسی طرح کے کونسے کام مسیحی دنیا میں واقع ہوتے ہیں؟
۱۲ ہیکل کے اندورنی صحن میں، حزقیایل نے ۲۵ برگشتہ اسرائیلی آدمیوں کو آفتاب کی پرستش کرتے دیکھا جو ایسی بتپرستی کے خلاف یہوواہ کے حکم کی خلافورزی تھی۔ (استثنا ۴:۱۵-۱۹) ان بتپرستوں نے خدا کی ناک سے گندی ڈالی بھی لگائی تھی جو شاید انسانی مرد کے جنسی اعضا کی علامت تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا انکی دعاؤں کے جواب نہیں دیگا، بالکل اسی طرح جیسے کہ ”بڑی مصیبت“ کے دوران مسیحی دنیا اسکی مدد چاہے گی لیکن یہ سب فضول ہوگا۔ (متی ۲۴:۲۱) جیسے ان برگشتہ اسرائیلیوں نے یہوواہ کی ہیکل کی طرف پیٹھ کرتے ہوئے روشنی دینے والے سورج کی پرستش کی تھی، اسی طرح مسیحی دنیا خدا کے نور سے مُنہ پھیرتی، جھوٹے عقیدوں کی تعلیم دیتی، دنیاوی حکمت کی پرستش کرتی، اور بداخلاقی کو نظرانداز کرتی ہے۔—حزقیایل ۸:۱۵-۱۸۔
۱۳. کن طریقوں سے یہوواہ کے گواہ حزقیایل کی رویا میں دیکھی گئی بتپرستی کی اقسام سے بچتے ہیں؟
۱۳ یہوواہ کے گواہ مسیحی دنیا یا مماثل یروشلیم میں کی جانے والی بتپرستی کی اقسام سے گریز کرتے ہیں جیسے کہ حزقیایل نے بیشبینی کی تھی۔ ہم خدا کو بےحرمت کرنے والی علامتوں کی پرستش نہیں کرتے۔ اگرچہ ہم حکومت کے ”اعلی اختیار والوں“ کے لئے احترام ظاہر کرتے ہیں، لیکن انکے لئے ہماری تابعداری نسبتی ہے۔ (رومیوں ۱۳:۱-۷، مرقس ۱۲:۱۷، اعمال ۵:۲۹) ہماری دلی عقیدت خدا اور اسکی بادشاہی کو دے دی گئی ہے۔ ہم خالق اور اسکی تخلیق کی جگہ ارتقا کے نظریے کو نہیں رکھتے۔ (مکاشفہ ۴:۱۱) ہم کبھی بھی صلیب کی پرستش نہیں کرتے اور نہ ہی ذہانت، فلسفے یا دیگر اقسام کی دنیاوی حکمت کی پوجا کرتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۶:۲۰، ۲۱) ہم دوسری ہر قسم کی بتپرستی کی دیگر اقسام سے بھی بچتے ہیں۔ ان میں سے بعض کیا ہیں؟
بتپرستی کی دیگر اقسام
۱۴. مکاشفہ ۱۳:۱ کے ”حیوان“ کے سلسلے میں یہوواہ کے خادم کیا موقف اختیار کرتے ہیں؟
۱۴ مسیحی دوسرے انسانوں کیساتھ ملکر علامتی ”حیوان“ کی پرستش میں شریک نہیں ہوتے۔ رسول یوحنا نے کہا: ”میں نے ایک حیوان کو سمندر میں سے نکلتے دیکھا۔ اسکے دس سینگ اور سات سر تھے اور اسکے سینگوں پر دس تاج ... تھے اور زمین کے وہ سب رہنے والے ... اس حیوان کی پرستش کرینگے۔“ (مکاشفہ ۱۳:۱، ۸) حیوان ”بادشاہوں،“ یا سیاسی طاقتوں کی علامت ہو سکتے ہیں۔ (دانیایل ۷:۱۷، ۸:۳-۸، ۲۰-۲۵) پس علامتی حیوان کے سات سر عالمی طاقتوں—مصر، اسور، بابل، مادی فارس، یونان، روم، اور برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اینگلو امریکن دھڑے، کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مسیحی دنیا کا پادری طبقہ نسلانسانی کیلئے ”دنیا [کے] سردار“ شیطان کے سیاسی نظام کی پرستش کرنے کا سبب بننے سے خدا اور مسیح کے لئے بڑی بےادبی دکھاتا ہے۔ (یوحنا ۱۲:۳۱) تاہم، غیرجانبدار مسیحیوں اور بادشاہی کے حامیوں کے طور پر یہوواہ کے خادم ایسی بتپرستی کو رد کرتے ہیں۔—یعقوب ۱:۲۷۔
۱۵. یہوواہ کے لوگ دنیاوی ستاروں کو کیسا خیال کرتے ہیں، اور اس سلسلے میں ایک گواہ نے کیا کہا؟
۱۵ خدا کے لوگ تفریحطبع اور دنیا کے سپورٹس کے ستاروں کے پرستار بننے سے بھی اجتناب کرتے ہیں۔ یہوواہ کا ایک گواہ بننے کے بعد، ایک موسیقار نے کہا: ”تفریحطبع اور ناچنے کیلئے موسیقی غلط خواہشات کو ابھار سکتی ہے۔ ... اداکار خوشی اور شفقت کے متعلق گاتا ہے جسکی بابت بہتیرے سننے والے شاید یہ محسوس کریں کہ انکے ساتھی میں یہ چیزیں نہیں ہیں۔ اکثر آرٹسٹ کی شناخت اسی سے ہونے لگتی ہے جسکی بابت وہ گا رہا ہوتا ہے۔ بعض پیشہوروں کو جنہیں میں جانتا ہوں اسی وجہ سے عورتوں میں واقعی پسند کیا جاتا ہے۔ ایک بار جب کوئی شخص تصورات کی اس دنیا میں ڈوب جاتا ہے تو یہ اسکے لئے اداکار کا پرستار بننے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بڑے بےضرر طریقے سے کسی شخص کے یادگار کے طور پر ایک آٹوگراف مانگنے سے شروع ہو سکتا ہے۔ لیکن بعض لوگ آرٹسٹ کو اپنا آئیڈیل سمجھنے لگتے ہیں اور حد سے زیادہ اسکی تعظیم کرنے سے، وہ اسے ایک بت بنا لیتے ہیں۔ وہ شاید سٹار کی تصویر کو دیوار پر لگائیں اور خود کو اسی طرح سے بنانا اور سنوارنا شروع کریں جیسے وہ کرتا ہے۔ مسیحیوں کو یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ پرستش صرف خدا کا حق ہے۔“
۱۶. کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ راستباز فرشتے بتپرستی کو رد کرتے ہیں؟
۱۶ جیہاں، پرستش یا عبادت کے لائق صرف خدا ہے۔ جب یوحنا ”فرشتہ ... کے پاؤں پر سجدہ کرنے کو گرا،“ جس نے اسے حیرانکن باتیں دکھائیں تو اس روحانی مخلوق نے کسی بھی طرح کی پرستش کرانے سے انکار کیا بلکہ اس نے کہا: ”خبردار! ایسا نہ کر۔ میں بھی تیرا اور تیرے بھائی نبیوں اور اس کتاب کی باتوں پر عمل کرنے والوں کا ہمخدمت ہوں۔ خدا ہی کو سجدہ کر۔“ (مکاشفہ ۲۲:۸، ۹) یہوواہ کا خوف، یا اسکے لئے گہری تعظیم ہم سے صرف اسی کی پرستش کراتی ہے۔ (مکاشفہ ۱۴:۷) لہذا، سچی خدائی عقیدت ہمیں بتپرستی سے بچاتی ہے۔—۱-تیمتھیس ۴:۸۔
۱۷. ہم بتپرستانہ جنسی بداخلاقی سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
۱۷ جنسی بداخلاقی ایک اور قسم کی بتپرستی ہے جسے یہوواہ کے خادم رد کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ”کسی حرامکار یا ناپاک یا لالچی کی جو بتپرست کے برابر ہے مسیح اور خدا کی بادشاہی میں کچھ میراث نہیں۔“ (افسیوں ۵:۵) اس میں بتپرستی شامل ہے کیونکہ ناجائز عیشونشاط کیلئے خواہش عقیدت کی ایک چیز بن جاتی ہے۔ نامناسب جنسی خواہشات خدائی صفات کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ اپنی آنکھوں اور کانوں کو فحاشی کی طرف مائل کرنے سے ایک شخص کسی بھی رشتے کو خطرے میں ڈال دیتا ہے جو وہ پاک خدا، یہوواہ کیساتھ رکھ سکتا ہے۔ (یسعیاہ ۶:۳) اسلئے اسطرح کی بتپرستی سے بچنے کیلئے خدا کے خادموں کو فحاشی اور بگاڑنے والی موسیقی سے بچنا چاہیے۔ انہیں صحائف پر مبنی مضبوط روحانی اقدار سے چمٹے رہنے کی ضرورت ہے اور ضرور ہے کہ وہ ”نئی انسانیت“ کو پہنے رہیں ”جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔“—افسیوں ۴:۲۲-۲۴۔
لالچ اور حرص سے بچیں
۱۸، ۱۹. (ا)لالچ ور حرص کیا ہیں؟ (ب) ہم بتپرستانہ لالچ اور حرص سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
۱۸ مسیحی لالچ اور حرص سے بھی بچتے ہیں جو کہ بتپرستی کی ملتیجلتی اقسام ہیں۔ لالچ غیرمعمولی یا طمع والی خواہش ہے اور حرص کسی ایسی چیز کیلئے لالچ ہے جو کسی دوسرے کی ملکیت ہوتی ہے۔ یسوع نے حرص سے خبردار کیا اور ایک حریص دولتمند شخص کا ذکر کیا جو موت کے وقت اپنی دولت سے فائدہ نہ اٹھا سکا اور ”خدا کے نزدیک دولتمند“ نہ ہونے کی دردناک حالت میں تھا۔ (لوقا ۱۲:۱۵-۲۱) پولس نے مناسب طور پر ساتھی ایمانداروں کو نصیحت کی: ”پس اپنے ان اعضا کو مردہ کرو جو زمین پر ہیں یعنی ... لالچ کو جو بتپرستی کے برابر ہے۔—کلسیوں ۳:۵۔
۱۹ جن کے سر پر دولت کی محبت، کھانے اور پینے کیلئے ندیدہپن، یا اقتدار کی ہوس مسلّط ہوتی ہے، وہ ایسی خواہشات کو اپنے بت بنا لیتے ہیں۔ جیسے پولس نے نشاندہی کی کہ ایک لالچی شخص بتپرست ہے، اور خدا کی بادشاہت کا وارث نہ ہوگا۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰، افسیوں ۵:۵) لہذا، بپتسمہیافتہ افراد کو جو لالچی اشخاص کے طور پر بتپرستی کرتے ہیں مسیحی کلیسیا سے خارج کیا جا سکتا تھا۔ تاہم، صحائف کا اطلاق کرنے اور سنجیدگی کیساتھ دعا کرنے سے، ہم لالچ سے بچ سکتے ہیں۔ امثال ۳۰:۷-۹ کہتی ہیں: ”میں نے تجھ [یہوواہ خدا] سے دو باتوں کی درخواست کی ہے۔ میرے مرنے سے پہلے انکو مجھ سے دریغ نہ کر۔ بطالت اور دورغگوئی کو مجھ سے دور کر دے۔ اور مجھ کو نہ کنگال کر نہ دولتمند۔ میری ضرورت کے مطابق مجھے روزی دے۔ ایسا نہ ہو کہ میں سیر ہو کر انکار کروں اور کہوں خداوند کون ہے؟ یا مبادا محتاج ہو کر چوری کروں اور اپنے خدا کے نام کی تکفیر کروں۔“ ایسی روح بتپرستانہ لالچ اور حرص سے بچنے کیلئے ہماری مدد کر سکتی ہے۔
خودپرستی سے بچیں
۲۰، ۲۱. یہوواہ کے لوگ خودپرستی سے کیسے بچتے ہیں؟
۲۰ یہوواہ کے لوگ خودپرستی سے بھی بچتے ہیں۔ اس دنیا میں اپنی ذات اور اپنی ذاتی مرضی کی پرستش کرنا عام ہے۔ شہرت اور ناموری کی خواہش بہتیروں کیلئے فریبدہ طریقوں سے کام کرنے کا سبب بنتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انکی مرضی پوری ہو نہ کہ خدا کی۔ اگر ہم فریبدہی سے اپنی مرضی منوانے کے طالب ہونے اور اسے دوسروں پر مسلّط کرنے کی کوشش کرنے سے خودپرستی کی خواہش کے سامنے جھک جاتے ہیں تو ہم خدا کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رکھ سکتے۔ (امثال ۳:۳۲، متی ۲۰:۲۰-۲۸، ۱-پطرس ۵:۲، ۳) یسوع کے پیروکاروں کے طور پر، ہم نے دنیا کی پوشیدہ باتوں کو ترک کر دیا ہے۔—۲-کرنتھیوں ۴:۱، ۲۔
۲۱ شہرت کے طالب ہونے کی بجائے، خدا کے لوگ پولس کی فہمائش پر عمل کرتے ہیں: ”پس تم کھاؤ یا پیو یا جو کچھ کرو سب خدا کے جلال کیلئے کرو۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۳۱) یہوواہ کے خادم ہوتے ہوئے، ہم بتپرستانہ طریقے سے اپنی مرضی پر زور نہیں دیتے بلکہ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کی طرف سے ہدایت قبول کرتے ہوئے اور یہوواہ کی تنظیم کیساتھ پوری طرح تعاون کرتے ہوئے خوشی سے الہٰی مرضی بجا لاتے ہیں۔—متی ۲۴:۴۵-۴۷۔
خبردار رہیں!
۲۲، ۲۳. ہم کس طریقے سے ہر قسم کی بتپرستی سے خبردار رہ سکتے ہیں؟
۲۲ یہوواہ کے لوگوں کے طور پر ہم مادی بتوں کے سامنے سجدہ نہیں کرتے۔ ہم بتپرستی کی پیچیدہ اقسام سے بھی بچتے ہیں۔ حقیقت میں، ہمیں ہر قسم کی بتپرستی سے بچتے رہنا چاہیے۔ اسلئے ہم یوحنا کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں: ”اپنے آپ کو بتوں سے بچائے رکھو۔“—۱-یوحنا ۵:۲۱۔
۲۳ اگر آپ یہوواہ کے خادموں میں سے ایک ہیں تو ہمیشہ بائبل سے تربیتیافتہ اپنے ضمیر اور حواس کو کام میں لائیں۔ (عبرانیوں ۵:۱۴) پھر آپ دنیا کی بتپرستانہ روح سے آلودہ نہیں ہونگے بلکہ تین وفادار عبرانیوں اور وفادار ابتدائی مسیحیوں کی مانند ہونگے۔ آپ یہوواہ کو بلاشرکت غیرے عقیدت دینگے اور وہ ہر قسم کی بتپرستی سے خبردار رہنے کیلئے آپکی مدد کریگا۔ (۲۵ ۱/۱۵ W۹۳)
آپکے خیالات کیا ہیں؟
▫ حزقیایل کی رویا میں دیکھی گئی بتپرستی کی اقسام سے یہوواہ کے گواہ کیسے بچتے ہیں؟
▫ مکاشفہ ۱۳:۱ کا ”حیوان“ کیا ہے، اور اسکے سلسلے میں یہوواہ کے خادم کیا موقف اختیار کرتے ہیں؟
▫ تفریحطبع اور سپورٹس کے ستاروں کے پرستار بننے سے کیوں بچیں؟
▫ ہم خودپرستی سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
▫ ہر قسم کی بتپرستی سے کیوں خبردار رہیں؟
[تصویر]
کیا آپ جانتے ہیں کہ حزقیایل کی رویا میں دیکھی گئی مکروہات نے مسیحی دنیا کی بتپرستی کا عکس کیسے پیش کیا تھا؟
[تصویر کا حوالہ]
Artwork )upper left( based on photo by Ralph Crane/Bardo Museum