یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏3 ص.‏ 24-‏29
  • وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • وفادار ہونے کا جو مطلب ہے
  • سیکھی ہوئی باتوں کیلئے قدردانی
  • مسیحی برادری کی قدر کریں
  • کہیں اور جانے کی کوئی جگہ نہیں
  • ترقی کا باعث ہوں
  • ابلیس کا مقابلہ کریں!‏
  • دعا کے ساتھ خدا پر بھروسہ رکھیں
  • وفادار پر توجہ کریں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • یہوواہ کی تنظیم کیساتھ وفاداری سے خدمت کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • یہوواہ کی اٹوٹ محبت سے آپ کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
  • وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏3 ص.‏ 24-‏29

وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کریں

‏”‏وفادار کے ساتھ تو [‏یہوواہ]‏ وفاداری کریگا۔“‏‏—‏۲-‏سموئیل ۲۲:‏۲۶‏، NW۔‏

۱.‏ یہوواہ انکے ساتھ کیسے پیش آتا ہے جو اسکے ساتھ وفادار ہیں؟‏

یہوواہ کو ان تمام کاموں کے لئے ماوضہ ادا نہیں کیا جا سکتا جو وہ اپنے لوگوں کیلئے کرتا ہے۔ (‏زبور ۱۱۶:‏۱۲‏)‏ اسکا پرمحبت رحم اور روحانی اور مادی بخششیں کتنی شاندار ہیں! قدیم اسرائیل کا بادشاہ داؤد جانتا تھا کہ خدا بھی ان کیساتھ وفاداری سے پیش آتا ہے جو اسکے ساتھ وفادار رہتے ہیں۔ ایک گیت میں داؤد نے ایسا کہا جو اس نے اس وقت لکھا ”‏جب خداوند نے [‏ا سے]‏ اسکے سب دشمنوں اور ساؤل [‏بادشاہ]‏ کے ہاتھ سے رہائی دی۔“‏—‏۲-‏سموئیل ۲۲:‏۱‏۔‏

۲.‏ ۲-‏سموئیل ۲۲ باب میں درج داؤد کے گیت میں پیش‌کردہ بض نکات کونسے ہیں؟‏

۲ داؤد نے دعا کے جواب میں ”‏چھڑانے والے“‏ کے طور پر یہوواہ کی تریف کرتے ہوئے اپنا گیت (‏مماثل زبور ۱۸‏)‏ شروع کیا۔ (‏۲-‏سموئیل ۲۲:‏۲-‏۷‏)‏ اپنی آسمانی ہیکل سے، خدا نے اپنے وفادار خادم کو طاقتور دشمنوں سے چھڑانے کیلئے کارروائی کی۔ (‏۸-‏۱۹ آیات)‏ یوں داؤد کو راست روش کی جستجو کرنے اور یہوواہ کی راہوں پر قائم رہنے کا اجر ملا تھا۔ (‏۲۰-‏۲۷ آیات)‏ اسکے بد خداداد قوت سے کئے گئے کاموں کا شمار کیا گیا۔ (‏۲۸-‏۴۳ آیات)‏ آخر میں، داؤد نے وطن میں نکتہ‌چینی کرنے والوں اور دوسری دشمن اقوام سے رہائی کا ذکر کیا اور یہوواہ کی شکرگزاری کی جو ”‏اپنے بادشاہ کو بڑی نجات عنایت کرتا ہے اور اپنے ممسوح .‏ .‏ .‏ پر ہمیشہ شفقت کرتا ہے۔“‏ (‏۴۴-‏۵۱ آیات)‏ یہوواہ ہمیں بھی رہائی دے سکتا ہے اگر ہم ایک راست روش کے حصول میں لگے رہیں اور طاقت کیلئے اس پر بھروسہ کریں۔‏

وفادار ہونے کا جو مطلب ہے

۳.‏ صحیفائی نکتہ‌نظر سے وفادار ہونے کا کیا مطلب ہے؟‏

۳ رہائی کی بابت داؤد کا گیت ہمیں یہ تسلی‌بخش یقین‌دہانی کراتا ہے:‏ ‏”‏وفادار کے ساتھ تو [‏یہوواہ]‏ وفاداری کریگا۔“‏ (‏۲-‏سموئیل ۲۲:‏۲۶‏، NW)‏ یہ عبرانی اسم‌صفت خاسد ہے جو ”‏کسی وفادار،“‏ یا ”‏شفقت کرنے والے“‏ کو ظاہر کرتا ہے۔ (‏زبور ۱۸:‏۲۵‏، فٹ‌نوٹ، NW)‏ اسم خیسد مہربانی کا مفہوم رکھتا ہے جو پرمحبت طریقے سے خود کو کسی چیز کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جبتک کہ اسکے ساتھ وابستہ مقصد حاصل نہیں ہو جاتا۔ یہوواہ اپنے خادموں کیلئے اس قسم کی مہربانی ظاہر کرتا ہے جسطرح کہ وہ بھی اسکے لئے ظاہر کرتے ہیں۔ اس راست، پاک وفاداری کا ترجمہ [‏”‏شفقت“‏، NW]‏ اور [‏”‏وفادار محبت“‏، NW]‏ کیا گیا ہے۔ (‏پیدایش ۲۰:‏۱۳،‏ ۲۱:‏۲۳‏)‏ یونانی صحائف میں ”‏وفاداری“‏ پاکیزگی اور تظیم کا مفہوم رکھتی ہے۔ جسے اسم ہوسیوتس اور اسم‌صفت ہوسیوس میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسی وفاداری میں ایمانداری اور عقیدت شامل ہے اور اسکا مطلب عقیدتمند ہونا اور خدا کے لئے تمام فرائض کو احتیاط کیساتھ انجام دینا ہے۔ یہوواہ کیلئے وفادار ہونے کا مطلب عقیدت سے اسکے ساتھ اتنی مضبوطی سے جڑے رہنا ہے کہ یہ ایک طاقتور سریش کی طرح کام کرتی ہے۔‏

۴.‏ کسطرح سے یہوواہ کی وفاداری ظاہر ہوتی ہے؟‏

۴ یہوواہ کی اپنی وفاداری بہت سے طریقوں سے ظاہر ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر، وہ اپنے لوگوں کیلئے وفادار محبت اور راستبازی اور انصاف کیساتھ وفاداری کی وجہ سے شریروں کے خلاف عدالتی کارروائی کرتا ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۵:‏۳، ۴،‏ ۱۶:‏۵‏)‏ ابرہام کے ساتھ اپنے عہد سے وفاداری نے اسے اسرائیلیوں کیساتھ تحمل سے پیش آنے کی تحریک دی۔ (‏۲-‏سلاطین ۱۳:‏۲۳‏)‏ جو خدا سے وفادار ہیں اپنی وفادار روش کے اختتام تک اسکی مدد پر بھروسہ کر سکتے ہیں اور یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ انہیں یاد رکھے گا۔ (‏زبور ۳۷:‏۲۷، ۲۸،‏ ۹۷:‏۱۰‏)‏ یسوع کو اس علم سے تقویت ملی تھی کہ خدا کی اعلی [‏”‏وفادار ہستی“‏، NW]‏ کے طور پر اسکی جان کو قبر میں چھوڑا نہیں جائیگا۔—‏زبور ۱۶:‏۱۰،‏ اعمال ۲:‏۲۵،‏ ۲۷‏۔‏

۵.‏ چونکہ یہوواہ وفادار ہے، وہ اپنے خادموں سے کس چیز کا تقاضا کرتا ہے، اور کس سوال پر غوروخوض کیا جائیگا؟‏

۵ یہوواہ خدا چونکہ وفادار ہے اسلئے وہ اپنے خادموں سے وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔ (‏افسیوں ۴:‏۲۴‏)‏ مثال کے طور پر، مردوں کو کلیسیائی بزرگوں کے طور پر تقرری کے لائق ٹھہرنے کیلئے وفادار ہونا چاہیے۔ (‏ططس ۱:‏۸‏)‏ کونسے عناصر کو یہوواہ کے لوگوں کو وفاداری سے اسکی خدمت کرنے کی تحریک دینی چاہیے؟‏

سیکھی ہوئی باتوں کیلئے قدردانی

۶.‏ صیحفائی چیزوں کی بابت ہمیں کیسا محسوس کرنا چاہیے جو ہم نے سیکھ لی ہیں، اور اس قسم کے علم کی بابت ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟‏

۶ سیکھی ہوئی صحیفائی باتوں کیلئے شکرگزاری کو ہمیں وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے کی تحریک دینی چاہیے۔ پولس رسول نے تیمتھیس کو تلقین کی تھی:‏ ”‏تو ان باتوں پر جو تو نے سیکھی تھیں اور جنکا یقین تجھے دلایا گیا تھا یہ جانکر قائم رہ کہ تو نے انہیں کن لوگوں سے سیکھا تھا۔ اور تو بچپن سے ان پاک نوشتوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لانے سے نجات حاصل کرنے کیلئے دانائی بخش سکتے ہیں۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۴، ۱۵‏)‏ یاد رکھیں کہ ایسا علم ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کے ذریے خدا کی طرف سے آیا ہے۔—‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏۔‏

۷.‏ خدا کی طرف سے دیانتدار نوکر کے ذریے فراہم‌کردہ روحانی خوراک کی بابت بزرگوں کو کیسا محسوس کرنا چاہیے؟‏

۷ خاص طور پر مقررشدہ بزرگوں کو دیانتدار خادم کے ذریے خدا کی طرف سے فراہم‌کردہ غذائیت‌بخش روحانی خوراک کی قدر کرنی چاہیے۔ کئی سال پہلے چند بزرگوں میں ایسی قدردانی کا فقدان تھا۔ ایک مشاہدہ کرنے والی نے نوٹ کیا کہ وہ آدمی ”‏مینارنگہبانی کے مضامین پر نکتہ‌چینی کرتے تھے اور اسے .‏ .‏ .‏ سچائی کے خدائی سلسلہ کے طور پر تسلیم کرنا نہیں چاہتے تھے، ہمیشہ دوسروں کو اپنے اندازفکر سے گرویدہ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔“‏ تاہم، وفادار بزرگ دیانتدار خادم کے ذریے خدا کی طرف سے فراہم‌کردہ کسی بھی روحانی خوراک کو رد کرنے کیلئے دوسروں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کبھی نہیں کرتے۔‏

۸.‏ اس وقت کیا ہو جب ہم دیانتدار اور عقلمند نوکر کے ذریے پیش‌کردہ کسی صحیفائی نکتے کی پوری طرح سے قدر نہیں کرتے؟‏

۸ یہوواہ کے مخصوص‌شدہ گواہوں کے طور پر ہم سب کو اس سے اور اسکی تنظیم سے وفادار ہونا چاہیے۔ ہمیں خدا کی شاندار روشنی سے مُنہ پھیرنے، برگشتہ روش پر چلنے کی بابت کبھی سوچنا بھی نہیں چاہیے، جو اب روحانی موت اور انجام‌کار بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔ (‏یرمیاہ ۱۷:‏۱۳‏)‏ لیکن اگر دیانتدار خادم کے ذریے پیش‌کردہ کسی صحیفائی نکتے کو قبول کرنا یا پوری طرح اسکی قدر کرنا ہمارے لئے مشکل ہو جائے تو کیا ہو؟ تو پھر آئیں ہم فروتنی سے یہ تسلیم کریں کہ ہم نے سچائی کہاں سے سیکھی اور اس آزمائش سے نپٹنے کی خاطر حکمت کیلئے دعا کریں جبتک کہ یہ ماملات کی کسی شائع‌شدہ وضاحت کیساتھ ختم نہیں ہو جاتی۔—یقوب ۱:‏۵-‏۸۔‏

مسیحی برادری کی قدر کریں

۹.‏ ۱-‏یوحنا ۱:‏۳-‏۶ کیسے ظاہر کرتی ہیں کہ مسیحیوں کو رفاقت کی روح رکھنی چاہیے؟‏

۹ ہماری مسیحی برادری کے اندر موجود رفاقت کے جذبے کیلئے دلی قدردانی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے کے ایک اور محرک کو فراہم کرتی ہے۔ درحقیقت، خدا اور مسیح کے ساتھ ہمارا رشتہ اس جذبے کے بغیر روحانی طور پر مضبوط نہیں ہو سکتا۔ یوحنا رسول نے ممسوح مسیحیوں کو بتایا تھا:‏ ”‏جو کچھ ہم نے دیکھا اور سنا ہے تمہیں بھی اسکی خبر دیتے ہیں تاکہ تم بھی ہمارے شریک [‏”‏رفاقت میں،“‏ ڈائیگلاٹ]‏ ہو اور ہماری شراکت باپ کیساتھ اور اسکے بیٹے یسوع مسیح کیساتھ ہے۔ .‏ .‏ .‏ اگر ہم کہیں کہ ہماری اسکے ساتھ شراکت ہے اور پھر تاریکی میں چلیں تو ہم جھوٹے ہیں اور حق پر عمل نہیں کرتے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۱:‏۳-‏۶‏)‏ یہ اصول تمام مسیحیوں پر عائد ہوتا ہے، خواہ انکی امید آسمانی ہے یا زمینی۔‏

۱۰.‏ اگرچہ ظاہری طور پر یوؤدیہ اور سنتخے کو ایک ذاتی مسئلے کو دور کرنے میں مشکل تھی، تو بھی پولس نے ان عورتوں کو کیسا خیال کیا؟‏

۱۰ رفاقت کے جذبے کو قائم رکھنے کیلئے کوشش درکار ہے۔ مثال کے طور پر، مسیحی عورتوں یوؤدیہ اور سنتخے نے ظاہری طور پر اپنے درمیان مسئلے کو دور کرنا مشکل پایا تھا۔ پس پولس نے انہیں ”‏خداوند میں یکدل رہنے“‏ کی تاکید کی۔ اس نے اضافہ کیا:‏ ”‏اور اے سچے ہمخدمت! تجھ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ تو ان عورتوں کی مدد کر کیونکہ انہوں نے میرے ساتھ خوشخبری پھیلانے میں کلیمینس اور میرے ان باقی ہمخدمتوں سمیت جانفشانی کی جنکے نام کتاب‌حیات میں درج ہیں۔“‏ (‏فلپیوں ۴:‏۲، ۳‏)‏ ان خداپرست عورتوں نے ”‏خوشخبری پھیلانے میں“‏ پولس اور دوسروں کیساتھ جانفشانی کی تھی، اور اسے یقین تھا کہ وہ ان میں شامل تھیں ”‏جنکے نام کتاب حیات میں درج ہیں۔“‏

۱۱.‏ اگر ایک وفادار مسیحی کو کسی روحانی مسئلے کا سامنا ہو تو کس چیز کو ذہن میں رکھنا موزوں ہوگا؟‏

۱۱ یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ انہیں یہوواہ کی تنظیم میں کیا کرنے کا استحقاق حاصل ہے اور انہوں نے کس وفاداری سے خدمت کی ہے مسیحی کوئی اعزازی بلے لگا کر نہیں پھرتے۔ اگر انہیں کوئی روحانی مسئلہ درپیش ہو تو یہوواہ کے لئے انکی وفادار خدمت کے سالوں کو نظرانداز کر دینا کتنا غیرمشفقانہ ہوگا! غالباً جسے ”‏اے سچے ہمخدمت“‏ کہا گیا وہ وفادار بھائی تھا جو دوسروں کی مدد کرنے کا مشتاق تھا۔ اگر آپ ایک بزرگ ہیں تو کیا آپ ”‏سچے ہمخدمت“‏ ہیں جو ایک رحمدل طریقے سے مدد دینے کو تیار ہو؟ دعا ہے کہ ہم سب خدا کی طرح اس نیکی کا لحاظ رکھیں جو ساتھی ایمانداروں نے کی ہے اور پرمحبت طور پر انکی مدد کریں تاکہ وہ اپنے بوجھ اٹھائیں—‏گلتیوں ۶:‏۲،‏ عبرانیوں ۶:‏۱۰‏۔‏

کہیں اور جانے کی کوئی جگہ نہیں

۱۲.‏ جب یسوع ”‏کے بیانات بہتیرے شاگردوں کے پیچھے کی چیزوں کی طرف چلے جانے کا سبب بنے“‏ تو پطرس نے کیا موقف اختیار کیا؟‏

۱۲ اگر ہم یاد رکھتے ہیں کہ ابدی زندگی کیلئے کہیں اور جانے کی کوئی جگہ نہیں تو ہم وفاداری سے یہوواہ کی تنظیم کے ساتھ اسکی خدمت کرنے کیلئے آمادہ ہونگے۔ جب ”‏یسوع کے بیانات بہیترے شاگردوں کے پیچھے کی چیزوں کی طرف چلے جانے کا سبب بنے“‏ تو اس نے اپنے رسولوں سے پوچھا:‏ ”‏کیا تم بھی چلا جانا چاہتے ہو؟“‏ پطرس نے جواب دیا:‏ ”‏اے خداوند! ہم کس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زندگی کی باتیں تو تیرے ہی پاس ہیں۔ اور ہم ایمان لائے اور جان گئے ہیں کہ خدا کا قدوس تو ہی ہے۔“‏—‏یوحنا ۶:‏۶۶-‏۶۹‏۔‏

۱۳، ۱۴.‏ (‏ا)‏پہلی صدی کی یہودیت الہٰی مقبولیت سے کیوں محروم تھی؟ (‏ب)‏ خدا کی دیدنی تنظیم کی بابت یہوواہ کے ایک پرانے گواہ نے کیا کہا؟‏

۱۳ پہلی صدی س۔ع۔ کی یہودیت میں ”‏ہمیشہ کی زندگی کی باتیں“‏ نہیں ملتی تھیں۔ اسکا بڑا گناہ مسیحا کے طور پر یسوع کو رد کرنا تھا۔ اپنے طریقوں میں سے کسی بھی طرح یہودیت پورے طور پر عبرانی صحائف پر مبنی نہ تھی۔ صدوقی، فرشتوں کے وجود کے منکر تھے اور قیامت پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اگرچہ فریسی ان پہلوؤں میں ان سے متفق نہیں تھے، تو بھی انہوں نے گنہگارانہ طریقے سے اپنی غیرصحیفائی روایات کی وجہ سے خدا کے کلام کو باطل کر دیا۔ (‏متی ۱۵:‏۱-‏۱۱،‏ اعمال ۲۳:‏۶-‏۹‏)‏ ان روایات نے یہودیوں کو غلام بنا لیا اور بہتیروں کیلئے یسوع مسیح کو قبول کرنا مشکل بنا دیا۔ (‏کلسیوں ۲:‏۸‏)‏ ”‏اپنے بزرگوں کی روایتوں“‏ کیلئے جوش ساؤل (‏پولس)‏ کیلئے اسکی لاعلمی میں مسیح کے پیروکاروں کو تندمزاج ایذا دینے والا بننے کا سبب بنا۔—‏گلتیوں ۱:‏۱۳، ۱۴،‏ ۲۳‏۔‏

۱۴ یہودیت خدا کے لطف‌وکرم سے محروم تھی، مگر یہوواہ نے اس تنظیم—”‏نیک کاموں میں سرگرم امت“‏—کو برکت دی جو اسکے بیٹے کے پیروکاروں پر مشتمل تھی۔ (‏ططس ۲:‏۱۴‏)‏ وہ تنظیم آج بھی موجود ہے اور اس میں سے یہوواہ کے ایک پرانے گواہ نے کہا:‏ ”‏میرے لئے اگر کوئی نہایت ہی اہم چیز رہی ہے تو وہ یہوواہ کی دیدنی تنظیم کی قربت میں رہنے کا ماملہ رہا ہے۔ میرے ابتدائی تجربے نے مجھے سکھایا کہ انسانی استدلال پر بھروسہ کرنا کتنا مغالطہ‌آمیز ہے۔ جب میرے ذہن نے اس ماملے پر ایک مرتبہ شک کو دور کر لیا تو میں نے وفادار تنظیم کیساتھ رہنے کا تہیہ کر لیا۔ کسی اور طریقے سے کوئی کیسے یہوواہ کی کرم‌فرمائی اور برکت حاصل کر سکتا ہے؟“‏ الہٰی کرم‌فرمائی اور ابدی زندگی کیلئے جانے کی کوئی اور جگہ نہیں ہے۔‏

۱۵.‏ یہوواہ کی دیدنی تنظیم اور اسکے اندر ذمہ‌داری اٹھانے والوں کے ساتھ کیوں تاون کریں؟‏

۱۵ ہمارے دلوں کو ہمیں یہوواہ کی تنظیم کیساتھ تاون کرنے کیلئے آمادہ کرنا چاہیے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ صرف یہی اسکی روح سے ہدایت پاتی ہے اور اسکے نام اور مقاصد کی بابت بتا رہی ہے۔ بیشک، اس کے اندر ذمہ‌داری اٹھانے والے ناکامل ہیں۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ لیکن جب انہوں نے موسی کی نکتہ‌چینی کی اور بھول گئے کہ انکو نہیں، بلکہ اسکو خداداد ذمہ‌داری سونپی گئی تھی تو ”‏خداوند کا غضب“‏ ہارون اور مریم پر بھڑکا۔ (‏گنتی ۱۲:‏۷-‏۹)‏ آجکل، وفادار مسیحی، ”‏پیشواؤں“‏ کیساتھ تاون کرتے ہیں کیونکہ یہوواہ اسی کا تقاضا کرتا ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۷،‏ ۱۷‏)‏ ہماری وفاداری کی شہادت میں باقاعدگی کیساتھ مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونا اور ایسے تبصرے کرنا شامل ہے جو ”‏محبت اور نیک کاموں کی دوسروں کو ترغیب“‏ دیتے ہیں۔—‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

ترقی کا باعث ہوں

۱۶.‏ دوسروں کے لئے کیا کرنے کی خواہش کو ہمیں وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے کی بھی تحریک دینی چاہیے؟‏

۱۶ دوسروں کیلئے ترقی کا باعث بننے کی خواہش کو ہمیں وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے کی تحریک دینی چاہیے۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏علم غرور پیدا کرتا ہے لیکن محبت ترقی کا باعث ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۸:‏۱‏)‏ چونکہ کسی خاص قسم کا علم اسکے رکھنے والے کو مغرور بنا دیتا ہے، اسلئے پولس کا لازماً یہ مطلب ہوگا کہ محبت ایسا وصف ظاہر کرنے والوں کیلئے بھی ترقی کا باعث بنتی ہے۔ ایک کتاب از پروفیسران وائس اور انگلش کہتی ہے:‏ ”‏وہ شخص جو محبت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے عام طور پر اسکے بدلے میں محبت پاتا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو میں خیرخواہی اور پاس‌ولحاظ دکھانے کی صلاحیت .‏ .‏ .‏ اس شخص پر واضح تمیری اثر رکھتی ہے جو ایسے احساسات ظاہر کرتا ہے نیز اس شخص پر بھی جو انہیں حاصل کرتا ہے اور یوں دونوں کے لئے خوشی کا باعث ہوتی ہے۔“‏ محبت دکھانے سے، ہم اپنی اور دوسروں کی ترقی کا باعث بنتے ہیں جیسے یسوع کے الفاظ دلالت کرتے ہیں:‏ ”‏دینا لینے سے مبارک ہے۔“‏—‏اعمال ۲۰:‏۳۵‏۔‏

۱۷.‏ محبت ترقی کا باعث کیسے بنتی ہے، اور یہ ہمیں کیا کرنے سے روکے گی؟‏

۱۷ پولس نے اصولی محبت کا مفہوم دیتے ہوئے ۱-‏کرنتھیوں ۸:‏۱ میں یونانی لفظ اگاپے استمال کیا۔ یہ ترقی کا باعث بنتی ہے کیونکہ یہ صابر اور مہربان ہے، سب کچھ سہہ لیتی ہے اور سب باتوں کی برداشت کرتی ہے، اور ناکام نہیں ہوتی۔ یہ محبت غرور اور حسد جیسے تباہ‌کن جذبات کو دور کرتی ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴-‏۸‏)‏ ایسی محبت ہمیں اپنے بھائیوں کی بابت شکایت کرنے سے باز رکھے گی، جو ناکامل ہیں جیسے کہ ہم بھی ناکامل ہیں۔ یہ ہمیں ان ”‏بے‌دین آدمیوں“‏ کی طرح بننے سے روکے گی جو پہلی صدی کے مسیحیوں میں ”‏چپکے سے آ ملے“‏ تھے۔ یہ آدمی ”‏حکومت کو ناچیز جانتے اور عزتداروں پر لن‌طن کرتے“‏ تھے، ظاہری طور پر یہ ممسوح مسیحی نگہبانوں جیسے اشخاص پر تہمت لگا رہے تھے جنہیں کچھ بزرگی عطا کی گئی تھی۔ (‏یہوداہ ۳، ۴،‏ ۸‏)‏ یہوواہ کے لئے وفاداری میں، آئیں ہم کبھی بھی اس طرح کا کوئی کام کرنے کی آزمائش کے سامنے جھک نہ جائیں۔‏

ابلیس کا مقابلہ کریں!‏

۱۸.‏ شیطان یہوواہ کے لوگوں کیساتھ کیا کرنا پسند کریگا، لیکن وہ کیوں ایسا نہیں کر سکتا؟‏

۱۸ اس علم کو وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے کے ہمارے عزم‌مُصمم کو بڑھانا چاہیے کہ شیطان خدا کے لوگوں کے طور پر ہمارے اتحاد کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ شیطان تو خدا کے تمام لوگوں ہی کو ختم کرنا چاہے گا اور ابلیس کے زمینی خادم بض اوقات سچے پرستاروں کو ہلاک کرتے ہیں۔ لیکن خدا شیطان کو اجازت نہیں دے گا کہ ان سب کو صفحہ‌ہستی سے مٹا دے۔ یسوع اس لئے مرا کہ ”‏اس کو جسے موت پر قدرت حاصل تھی ینی ابلیس کو تباہ کر دے۔“‏ (‏عبرانیوں ۲:‏۱۴‏)‏ ۱۹۱۴ میں مسیح کے بادشاہ بننے کے بد آسمان سے شیطان کے نکالے جانے سے لیکر خاص طور پر اختیار چلانے کے لئے اس کی عملداری کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اور یہوواہ کے مقررہ وقت پر، یسوع شیطان اور اس کی تنظیم کو برباد کرے گا۔‏

۱۹.‏ (‏ا)‏کئی سال پہلے اس رسالے نے شیطان کی کوششوں کی بابت کیا آگاہی دی تھی؟ (‏ب)‏ شیطان کے پھندوں سے بچنے کیلئے، ہمیں ساتھی ایمانداروں کے ساتھ برتاؤ میں کیا احتیاط برتنی چاہیے؟‏

۱۹ اس رسالے نے ایک مرتبہ آگاہ کیا تھا:‏ ”‏اگر شیطان، ابلیس، خدا کے لوگوں میں ابتری پیدا کر سکتا ہے، آپس میں جھگڑنے اور لڑائی کرنے، یا ایک خودغرضانہ خصلت ظاہر کرنے اور پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے جو بھائیوں کیلئے محبت کی تباہی پر منتج ہوگا، تو یوں وہ انہیں پھاڑ کھانے میں کامیاب ہو جائیگا۔“‏ (‏دی واچ‌ٹاور، مئی ۱، ۱۹۲۱، صفحہ ۱۳۴)‏ آئیے ہم ابلیس کو اجازت نہ دیں کہ شاید ہمیں ایک دوسرے پر الزام لگانے، یا لڑائی کرنے کی ترغیب دیکر ہمارے اتحاد کو تباہ کرے۔ (‏احبار ۱۹:‏۱۶)‏ دعا ہے کہ شیطان کسی ایسے طریقے سے ہمارے ساتھ چالاکی نہ کرے کہ ہم ذاتی طور پر وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے والوں کو نقصان پہنچائیں یا انکے لئے زندگی کو زیادہ مشکل بنا دیں۔ (‏مقابلہ کریں ۲-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۰، ۱۱‏۔)‏ اسکی بجائے، آئیے ہم پطرس کے الفاظ کا اطلاق کریں:‏ ”‏تم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تمہارا مخالف ابلیس گرجنے والے شیر ببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔ تم ایمان میں مضبوط ہو کر .‏ .‏ .‏ اسکا مقابلہ کرو۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۸، ۹‏)‏ شیطان کے خلاف مضبوطی سے ڈٹے رہنے سے، ہم یہوواہ کے لوگوں کے طور پر اپنے بابرکت اتحاد کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ —‏زبور ۱۳۳:‏۱-‏۳‏۔‏

دعا کے ساتھ خدا پر بھروسہ رکھیں

۲۰، ۲۱.‏ یہوواہ پر دعائیہ بھروسے کا وفاداری سے اسکی خدمت کرنے سے کیونکر تلق ہے؟‏

۲۰ خدا پر دعائیہ بھروسہ وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کیلئے ہماری مدد کریگا۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری دعاؤں کے جواب دے رہا ہے تو ہم اسکے اور زیادہ نزدیک ہو جاتے ہیں۔ جب پولس رسول نے یہ لکھا تو یہوواہ خدا پر دعائیہ بھروسے کی تلقین کی گئی تھی:‏ ”‏پس میں چاہتا ہوں کہ مرد ہر جگہ بغیر غصہ اور تکرار کے پاک ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کیا کریں۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۸‏)‏ مثال کے طور پر، یہ کتنا اہم ہے کہ بزرگ دعائیہ طور پر خدا پر بھروسہ کریں! یہوواہ کیلئے وفاداری کا ایسا اظہار کلیسیائی ماملات پر بات‌چیت کرنے کی غرض سے ملنے کے وقت نہ ختم ہونے والی تکرار اور ممکنہ غصے کے پھوٹ پڑنے کو روکنے کیلئے مدد دیگا۔‏

۲۱ یہوواہ خدا پر دعائیہ بھروسہ اسکی خدمت میں استحقاقات کی نگہداشت کرنے کیلئے ہماری مدد کرتا ہے۔ ایک آدمی جو دہوں تک وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر چکا تھا کہہ سکتا تھا:‏ ”‏خدا کی عالمگیر تنظیم میں ہمیں دی گئی کسی بھی تفویض کیلئے ہماری رضامند قبولیت، اور اپنے کام پر ہمارا لگے رہنا، قائم رہنا، ہماری سنجیدہ کوششوں پر خدا کی پسندیدہ منظوری لاتا ہے۔ خواہ دیا گیا کام ادنی دکھائی دے، اکثر یہ ثابت ہوا ہے کہ اسکے وفاداری سے کئے جانے کے بغیر دوسرے نہایت اہم کام نہیں کئے جا سکتے۔ پس اگر ہم فروتن ہیں اور براہ‌راست اپنے نہیں بلکہ یہوواہ کے نام کو جلال دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پھر ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ”‏ثابت‌قدم، قائم، یہوواہ کے کام میں افزایش کرتے رہینگے۔“‏“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۵۸‏۔‏

۲۲.‏ یہوواہ کی بہت سی برکات کو ہماری وفاداری پر کسطرح اثرانداز ہونا چاہیے؟‏

۲۲ اس سے قطع‌نظر کہ ہم یہوواہ کی خدمت میں کیا کرتے ہیں، یقیناً، جو کچھ وہ ہمارے لئے کرتا ہے ہم اسے اسکا ماوضہ ادا نہیں کر سکتے۔ خدا کے دوستوں کے گھیرے میں رہتے ہوئے ہم اسکی تنظیم میں کتنے محفوظ ہیں! (‏یقوب ۲:‏۲۳)‏ یہوواہ نے ہمیں اتنی گہری برادرانہ محبت سے حاصل ہونے والے اتحاد سے نوازا ہے جسے شیطان خود بھی اکھاڑ نہیں سکتا۔ پس آئیے ہم اپنے وفادار آسمانی باپ کیساتھ چمٹے رہیں اور اسکے لوگوں کے طور پر ملکر کام کریں۔ آئیے ہم اب اور ابدالآباد تک وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کریں۔ (‏۱۸ ۱۱/۱۵ w۹۲)‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ وفادار ہونے کا کیا مطلب ہے؟‏

▫ بض عناصر کیا ہیں جنہیں ہمیں وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے کی تحریک دینی چاہیے؟‏

▫ ہمیں ابلیس کا مقابلہ کیوں کرنا چاہیے؟‏

▫ یہوواہ کے وفادار خادم ہونے کیلئے دعا کسطرح ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

یہوواہ کے وفادار خادم اپنے شیرنما دشمن، ابلیس کو اپنے اتحاد کو توڑنے کی اجازت نہیں دیتے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں