کیا بینالاقوامی سلامتی کے لئے منصوبے کامیاب ہوں گے؟
”سرد جنگ جس نے کوئی ۴۰ سال سے زائد عرصہ تک دنیا کو اپنی گرفت میں جکڑے رکھا، ایسے دکھائی دیتا ہے کہ خدا کے فضل سے ختم ہو گئی ہے،“ ڈبلیوسیسی (ورلڈ کونسل آف چرچز) کا ایک رسالہ ون ورلڈ بیان کرتا ہے۔ تھیولاجیکل ایجوکیشن (دینیاتی تعلیم) پر ڈبلیوسیسی۔ کے پروگرام کے بارے میں اینگلیکن مصنف جان پوبی اضافہ کرتا ہے، ”مشرقی اور وسطی یورپ کے اہم واقعات . . . یورپ اور باقی دنیا میں امن اور سلامتی کیلئے ایک اچھا شگون دکھائی دیتے ہیں۔“
بینالاقوامی سلامتی کیلئے انسان کے منصوبوں کو خدا کیساتھ جوڑنے میں ڈبلیوسیسی کے نمائندگان تنہا نہیں ہیں۔ اپریل ۱۹۹۱ میں، خلیج فارس میں جنگ چھڑنے کے تھوڑا ہی عرصہ بعد، پوپ جان پال نے اس وقت کے یواین سیکرٹری جنرل حویر پیریز ڈی کویلیار کو ایک پیغام بھیجا، جس میں اس نے کہا: ”مشرق وسطی اور مغرب کے کیتھولک چرچز کے بشپ صاحبان اقوام متحدہ کے کام پر بھروسہ رکھتے ہیں . . . انہیں امید ہے کہ وہ جنہیں حالیہ جنگ نے شدید مشکل کے دور میں دھکیل دیا، وہ اقوام متحدہ اور اس کی متخصص تنظیموں کے ذریعے بینالاقوامی اثرپذیری اور اتحاد حاصل کرنے میں ناکام نہیں ہوں گے۔“
علاوہازیں، ویٹیکن ان ۳۵ ریاستوں میں سے ایک تھا جنہوں نے ۱۹۷۵ کے ہیلسینکی معاہدے اور ۱۹۸۶ کے سٹاک ہوم دستاویز کو ترتیب بھی دیا اور ان پر دستخط بھی کئے۔ جب اقوام متحدہ نے ۱۹۸۶ کو ”بینالاقوامی امن کا سال“ قرار دیا تو پوپ نے دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کے نمائندگان کو ”امن کیلئے دعا کے عالمی دن“ کی ایک تقریب میں شرکت کرنے کے لئے دعوت دینے سے جوابی عمل دکھایا۔ اکتوبر ۱۹۸۶ میں، بدھسٹ، ہندو، اسلام، شنٹو، اینگلیکن، لوتھرن، گریک آرتھوڈکس، یہودی، اور دوسرے مذاہب کے نمائندگان اسیسی، اٹلی میں اکٹھے بیٹھے، اور عالمی امن کے لئے باری باری دعا کی۔
کچھ سالوں بعد، کینٹربری کے اینگلیکن آرچبشپ نے روم میں پیشکردہ اپنے وعظ کے دوران مندرجہبالا موقع کو یاد کرتے ہوئے یوں کہا، ”اسیسی میں، روم کا بشپ (پوپ) مسیحی چرچز کو اکٹھا کر سکا تھا۔ ہم اکٹھے دعا، باتچیت اور امن اور انسانی فلاح کیلئے کام کر سکے تھے . . . عالمی امن کیلئے دعا کی اس پیشقدمی پر میں نے محسوس کیا کہ میں خدا کی حضوری میں تھا جس نے کہا ”دیکھو میں ایک نیا کام کر رہا ہوں۔““
اگرچہ دوسرے مذاہب نے اسیسی میں نمائندگی نہ کی، وہ بھی بینالاقوامی سلامتی کیلئے انسان کے منصوبوں کی بابت پرامید ہیں۔ ساؤتھ افریقہ کے ڈچ ریفارمڈ چرچ کے باضابطہ جرنل، ڈی کرکبوڈ کے ایک اداریے نے کہا: ”ہم ایک نئے عالمی نظام میں بدلنے کے عبوری دور کا تجربہ کر رہے ہیں۔ جو چند سال پہلے ناقابلفہم دکھائی دیتا تھا اب ہماری اپنی ہی آنکھوں کے سامنے واقع ہو رہا ہے۔ سویت یونین اور مغرب کے مابین مصالحت عالمی افق پر نمایاں طور پر وقوعپذیر ہو رہی ہے جو وسیع علاقائی مفہوم رکھتا ہے۔ ہماری طرف کی دنیا میں، روایتی مخالف گروہ اور جانی دشمن ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ پیدا کر رہے ہیں، اور ”امن“ کے لئے آرزو ہر جگہ ابھر رہی ہے . . . مسیحی نقطہءنظر سے، لوگوں کے درمیان امن پیدا کرنے کی تمام کوششوں کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ ہم اپنے دور میں امن کے لئے دعا کر سکتے ہیں۔“
کیا خدا بینالاقوامی سلامتی کے لئے انسان کے منصوبوں کو برکت دے رہا ہے؟
بائبل کیا کہتی ہے؟
جب انسانی کاوشوں پر بھروسہ کرنے کی بات آتی ہے، تو بائبل ایک دیانتدارانہ آگاہی پیش کرتی ہے: ”نہ امرا پر بھروسہ کرو نہ آدمزاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا۔ اس کا دم نکل جاتا ہے تو وہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ اسی دن اس کے منصوبے فنا ہو جاتے ہیں۔“ (زبور ۱۴۶:۳، ۴) امن کی جانب عصرحاضرہ کی پیشرفت حوصلہافزا دکھائی دے سکتی ہے۔ لیکن ہمیں حقیقتپسند ہونا پڑے گا۔ انسانوں کے وسائل محدود ہیں۔ اکثر، واقعات ان کی بہنسبت کہیں بڑے ہوتے ہیں۔ وہ مخفی دھاروں، پوشیدہ قوتوں کو کموبیش ہی بھانپ سکتے ہیں، جو ان کے خوب مرتبکردہ منصوبوں کو درہمبرہم کرتی ہیں۔
یسوع کے زمانے سے سات سو سال پہلے، یسعیاہ نبی کے دنوں میں، یہودی لیڈر قریبی ممالک کیساتھ بینالاقوامی معاہدوں کے ذریعے سلامتی کیلئے اسی طریقے سے منصوبہسازی کر رہے تھے جس کا مقابلہ آجکل کے واقعات سے کیا جا سکتا ہے۔ ان دنوں میں بھی جو کچھ سیاستدان کر رہے تھے اس کی حمایت مذہبی لیڈروں نے کی تھی۔ لیکن یسعیاہ نے انتباہ کیا: ”تم منصوبہ باندھو پر وہ باطل ہوگا۔ تم کچھ کہو اور اسے قیام نہ ہوگا۔“ (یسعیاہ ۸:۱۰) ان کا منصوبہ ایک تباہ کن ناکامی ثابت ہوا۔ کیا آجکل بھی اسی طرح واقع ہو سکتا ہے؟
جیہاں، یہ ہو سکتا ہے کیونکہ اسی نبی کے ذریعے سے خدا نے یہ اعلان کیا تھا کہ زمین پر سلامتی لانے کیلئے اسکا اپنا طریقہ ہے۔ یہ کسی انسانی تنظیم کے ذریعے سے نہیں، بلکہ اسرائیلی بادشاہ داؤد کی نسل کے ذریعے ہوگا۔ (یسعیاہ ۹:۶، ۷) بادشاہ داؤد کا یہ وارث، یسوع مسیح ہے، جس نے پنطس پیلاطس کے سامنے پوچھ گچھ کے وقت اقرار کیا تھا کہ وہ بادشاہ تھا مگر کہا: ”میری بادشاہی اس دنیا کی نہیں۔“ (یوحنا ۱۸:۳۶، لوقا ۱:۳۲) حقیقت میں یسوع کی بادشاہی کو آسمانی ہونا تھا۔ اور اس کو ہی نہ کہ اقوام متحدہ یا کسی زمینی سیاسی قوم کو اس زمین پر دائمی، قابلبھروسہ سلامتی لانا تھی۔ دانیایل ۲:۴۴۔
یسوع مسیح نے پیشینگوئی کی تھی کہ اس کی بادشاہت اس وقت آسمانوں سے حکمرانی شروع کرے گی جب ”لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہوں“ کے ساتھ ”قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی“ کرے گی۔ پیشینگوئی کی تکمیل ۱۹۱۴ کی اس وقت کے طور پر نشاندہی کرتی ہے جب یہ واقع ہوا تھا اور اس کے بعد کے سالوں کی ”اس دستورالعمل کے خاتمے“ کے وقت کے طور پر شناخت کراتی ہے۔ متی ۲۴:۳، ۶-۸۔
اس کا کیا مطلب ہے؟ یہ کہ اس موجودہ دنیا کے انتظام کے لئے جو وقت باقی بچ گیا ہے وہ تھوڑا ہے، اور یہ جلد ختم ہو جائے گا۔ کیا یہ فکروتردد اور غمانگیزی کا باعث ہے؟ اگر ہم ظلم، ناانصافی، استبداد، جنگ و جدل، اور اس تمام تکلیف کو یاد رکھتے ہیں جو اس دستورالعمل کا خاصہ تو نہیں ہیں۔ ایک ایسے حکمران کے ماتحت رہنا یقیناً ایک تسکین ہوگی جس کی بابت خدا کا کلام، بائبل کہتا ہے: ”[یہوواہ] کی روح اس پر ٹھہرے گی۔ حکمت اور خرد کی روح مصلحت اور قدرت کی روح معرفت اور [یہوواہ] کے خوف کے روح۔“ یسعیاہ ۱۱:۲۔
زمین پر حقیقی سلامتی
درحقیقت زمین پر کوئی حقیقی سلامتی نہیں ہوگی جبتک کہ مسیح کی بادشاہت کے تحت، یسعیاہ کی پیشینگوئی ایک عالمگیر پیمانے پر پوری نہیں ہو جاتی: ”میں نئے [آسمانوں] اور نئی زمین کو پیدا کرتا ہوں اور پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہوگا۔“ (یسعیاہ ۶۵:۱۷) اس دنیا کی خاطر مذہبی لیڈر خواہ جتنی مرضی دعائیں پیش کریں، بینالاقوامی سلامتی کیلئے انسانی منصوبے امن اور سلامتی لانے کیلئے خدا کے طریقے کی جگہ نہیں لے سکتے۔
مستقل اور عالمگیر سلامتی جو خدا کی بادشاہت لاتی ہے پرشکوہ ہوگی۔ بائبل میں پائے جانے والے بیانات میں سے ایک یہ ہے: ”وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائیگی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے۔ تب ہر ایک آدمی اپنی اپنی تاک اور انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھیگا اور انکو کوئی نہ ڈرائیگا، کیونکہ [فوجوں کے یہوواہ] نے اپنے منہ سے یہ فرمایا ہے۔“ میکاہ ۴:۳، ۴۔
وہی سلامتی مستقل اور قابلبھروسہ ہو سکتی ہے جسکی ضمانت خود خدا نے دی ہے۔ لہذا، اپنا بھروسہ امرا پر رکھنے کی بجائے، کیوں نہ اپنا بھروسہ اس پر رکھیں؟ پھر آپ دیکھیں گے کہ زبورنویس کے الفاظ راست ہیں: ”خوشنصیب ہے وہ جسکا مددگار یعقوب کا خدا ہے اور جسکی امید [یہوواہ] اسکے خدا سے ہے جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور جو کچھ ان میں ہے بنایا۔ جو سچائی کو ہمیشہ قائم رکھتا ہے۔ زبور ۱۴۶:۵، ۶۔ (۵ ۳/۱ w۹۲)
[بکس]
کیتھولک چرچ اور بینالاقوامی سیاست
”اگرچہ مسیح نے کہا تھا کہ اس کی بادشاہت ”اس دنیا کی نہ تھی،“ تو بھی قسطنطین کے زمانے سے لیکر بڑے بڑے پادریوں اور پاپائیت نے ایک دستور کے طور پر بینالاقوامی اور قومی کشیدگیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔“ دی کیتھولک چرچ ان ورلڈ پولیٹکس [کیتھولک چرچ عالمی سیاسیات میں] جیزواٹ سینٹا کلیرا یونیورسٹی کے پروفیسر کی تصنیف