”اس کی پرمحبت مہربانی زورآور ثابت ہوئی ہے“
جیسے ہوسے ویرگارا اوروسکو نے بتایا
کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ ۷۰ سال کی عمر میں آپ کی زندگی نئے جوش سے بھر سکتی ہے؟ میری تھی۔ اور یہ آج سے ۳۵ سال سے زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے۔
یہوواہ کی پرمحبت مہربانی کی بدولت، ۱۹۶۲ سے لیکر میں نے بطور ایک باقاعدہ پائنیر کے خدمت کی ہے، اور ۱۹۷۲ سے، میں میکسیکو کی ریاست جیلیسکو میں یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیا ایلکریزال میں ایک نگہبان ہوں۔ آئیں میں آپ کو اپنے پسمنظر کی بابت کچھ بتاؤں۔
میں میکسیکو میں، میکوآگان کی ریاست میں اگست ۱۸، ۱۸۸۶ میں پیدا ہوا۔ میرے والد فری میسن تھا، لہذا ہمارا خاندان کیتھولک چرچ نہیں جاتا تھا، اور نہ ہی ہم کسی بھی طرح سے کیتھولک مذہبی تقریبوں میں شریک ہوتے تھے اور نہ ہی کسی بھی طرح کی مذہبی مورتیں ہمارے گھر میں تھیں۔
جب میں ۱۶ برس کا ہوا تو میرا والد کام کی غرض سے ریاست ہائے متحدہ چلا گیا، لیکن اس نے ایک آدمی کا بندوبست کیا تاکہ مجھے کوئی ہنر سکھائے۔ تاہم، دو سال بعد، وہ شخص ایک فوجی اکیڈمی میں ٹریننگ کی غرض سے مجھے میکسیکو شہر لے گیا۔ اس کے بعد میں نے میکسیکن آرمی میں نوکری کا آغاز کیا۔
فوج میں اور اسکے بعد
میں ۱۹۱۰ میں ہونے والے میکسیکن انقلاب میں لڑا۔ اکیڈمی کے ہم سب نوجوانوں نے فرانسسکو آئی۔ میڈیرو، کی حمایت کی جو کہ پورفیریو ڈائز کی آمریت کے خلاف ایک انقلابپسند تھا۔ ہم نے ۱۹۱۳ میں میڈیرو کی وفات تک اس کی حمایت کی، اور اس کے بعد، ہم نے بانسٹیانو کارنزا کی حمایت کی جو کہ ۱۹۱۵ سے ۱۹۲۰ تک ریپبلک کا صدر رہا۔ ہمیں کارنسسٹاز کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
چار مختلف موقعوں پر میں نے فوج سے آزاد ہونے کی ناکام کوشش کی۔ آخرکار میں فرار ہو گیا اور ایک بھگوڑا بن گیا۔ نتیجہ کے طور پر، میرا والد جو کہ میکسیکو واپس آ گیا تھا، اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ایک دن، خود کو اس کا بھتیجا ظاہر کرتے ہوئے، میں نے جیل میں اس سے ملاقات کی۔ ہم نے کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں پر لکھ کر گفتگو کی تاکہ پہرےدار ہمیں سن نہ سکیں۔ اور اس کا یقین کرنے کے لئے کہ کسی کو یہ خبر نہ ہو کہ میں کون تھا، میں کاغذ کھا گیا۔
جیل سے میرے والد کی رہائی کے بعد، اس نے مجھ سے ملاقات کی اور یہ درخواست کی کہ میں اختیار والوں کو اپنی گرفتاری پیش کر دوں۔ میں نے ایسا ہی کیا، اور میری توقع کے برعکس جنرل انچارج نے مجھے گرفتار نہ کیا۔ اس کی بجائے، اس نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ریاستہائے متحدہ چلا جاؤں۔ میں نے اس کے مشورے پر عمل کیا اور ۱۹۱۶ سے ۱۹۲۶ تک وہیں رہا۔
میں نے ۱۹۲۳ میں، ایک میکسیکن عورت سے شادی کر لی جو کہ ریاستہائے متحدہ ہی میں رہ رہی تھی۔ میں نے فنتعمیر کا ہنر سیکھ لیا، اور ہم نے ایک چھوٹی لڑکی کو گود لے لیا۔ جب وہ ابھی ۱۷ ماہ کی تھی، ہم میکسیکو واپس آ گئے اور ہالپا، ٹاباسکو، میں رہائشپزیر ہوئے۔ اس وقت کرسٹیرو کی بغاوت شروع ہوگئی، اور یہ ۱۹۲۶ سے ۱۹۲۹ تک جاری رہی۔
کرسٹیروز یہ چاہتے تھے کہ میں ان کیساتھ شامل ہو جاؤں۔ تاہم، میں نے اور میرے خاندان نے، آگواسکالیانٹیز کی ریاست میں بھاگ جانے کو ترجیح دی۔ میکسیکن ریپبلک میں مختلف جگہوں پر رہنے کے بعد، ۱۹۵۶ میں ہم مستقل طور پر میٹامورس، ٹیمولیپاس میں مقیم ہو گئے، جہاں میں نے تعمیراتی کاموں کی نگرانی کا کام شروع کر دیا۔
میری زندگی تبدیل ہوتی ہے
یہ ہے وہ وقت جب میری زندگی تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ میری بیٹی، جس کی کہ اب شادی ہو چکی تھی اور جو سرحد پار براؤنزویلا، ٹیکساس، یو۔ ایس۔ اے میں رہتی تھی، وہ اکثر ہمارے پاس آیا کرتی تھی۔ ایک دن اس نے کہا: ”ڈیڈ، کافی زیادہ خاندان اس وقت یونین ہال میں جمع ہو رہے ہیں۔ چلیں ہم بھی دیکھیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔“ یہ یہوواہ کے گواہوں کی ایک اسمبلی تھی۔ میری بیٹی، داماد، نواسا، بیوی، اور میں اسمبلی کے پورے چار دنوں پر حاضر ہوئے۔
اس سال سے لیکر ہم یہوواہ کے گواہوں کے مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے لگے۔ میں نے میکسیکو میں روحانی طور پر ترقی کی، جبکہ میری بیٹی نے ریاستہائے متحدہ میں ایسا ہی کیا۔ جلد ہی میں جو بائبل سچائیاں سیکھ رہا تھا انہیں اپنے ساتھی کارکنوں کو بتانے لگا۔ مجھے دی واچٹاور اور اویک!، دونوں کی دس دس کاپیاں ملتی تھیں، جنہیں میں اپنے ساتھی کارکنوں میں بانٹ دیتا تھا۔ دفتر میں کام کرنے والوں میں سے پانچ اور انجینئروں میں سے تین اور اس کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے کارکن گواہ بن گئے۔
اف، دسمبر ۱۹، ۱۹۵۹ کو کسقدر سردی تھی، جب مجھے ایک دریا میں بپتسمہ دیا گیا! اس دن جتنوں نے بھی بپتسمہ لیا وہ سب شدید ٹھنڈے پانی کی وجہ سے بیمار ہو گئے۔ میری بیٹی نے مجھ سے بھی پہلے بپتسمہ لے لیا تھا، اور میری بیوی، اگرچہ اس نے بپتسمہ تو نہ لیا، تو بھی وہ بائبل سچائیوں کو ماننے کی حد تک پہنچ گئی تھی اور وہ بہت تعاون کرنے والی تھی۔
کلوقتی خدمت
میں خدا کی تمام پرمحبت مہربانی کے لئے خود کو مقروض محسوس کرتا تھا، لہذا فروری ۱۹۶۲ میں، جب میں ۷۵ سال کی عمر کا تھا تو میں نے بطور ایک پائنیر کے کلوقتی خدمت کا آغاز کیا۔ چند سال بعد، ۱۹۶۸ میں، میری بیوی وفات پا گئی۔ اس وقت میں نے چاہا کہ کسی دوسرے ملک میں جا کر خدمت کروں، لیکن میری عمر کے پیشنظر، بھائیوں نے اسے مناسب خیال نہ کیا۔ تاہم، ۱۹۷۰ میں، مجھے جیلیسکو کی ریاست کولوٹلن میں بطور ایک پائنیر کے تفویض کر دیا گیا، جہاں پر کہ ایک چھوٹی کلیسیا تھی۔
ستمبر ۱۹۷۲ میں، سرکٹ نگہبان نے یہ مشورہ دیا کہ میں ایلکاریزال کے چھوٹے قصبے میں چلا جاؤں جو کہ کولوٹلن کے قریب ہے۔ اسی سال نومبر میں، وہاں ایک کلیسیا بن گئی، اور مجھے ایک بزرگ مقرر کر دیا گیا۔ اگرچہ یہ ایک بالکل علیحدہ سا قصبہ ہے، تقریباً ۳۱ لوگ کلیسیائی اجلاسوں پر حاضر ہوتے ہیں۔
اپنی عمر کے باوجود، میں ابھی تک خدمت میں سرگرم ہوں، اور سخت کوشش کر رہا ہوں کہ لوگوں کو انکے اعتقادات کی بابت استدلال کرنے میں مدد دوں۔ مثال کے طور پر، روزری میں مخلص کیتھولک سلام اے مریم بار بار پڑھتے ہیں: ”سلام اے مریم پر فضل، خداوند تیرے ساتھ ہے۔“ دعا میں یہ بھی ہے: ”اے مقدسہ مریم خدا کی ماں۔“ میں ان سے پوچھتا ہوں: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر خدا مریم کا نجات دہندہ ہے تو وہ کیوں کر اس کے ساتھ ہی ساتھ اس کا بیٹا بھی ہو سکتا ہے؟“
اب میں ۱۰۵ سال کا ہوں اور میں نے ایلکاریزال جیلیسکو میں تقریباً ۲۰ سال تک بطور ایک بزرگ اور ایک پائنیر کے خدمت کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ یہوواہ کی مرضی ہی ہے کہ میں اتنے زیادہ سال تک زندہ ہوں، کیونکہ اسی طرح میں اس وقت کا ازالہ کر سکتا ہوں جو میں نے اس وقت گنوا دیا جب میں اس کی خدمت نہیں کر رہا تھا۔
ایک چیز جو میں جان گیا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ہمارا منصفاعلی اپنے راستی کے تخت سے ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہمیں ہماری ضروریات فراہم کرتا ہے۔ جیسے کہ زبور ۱۱۷:۲(NW) بیان کرتی ہے: ”ہمارے لئے اسکی پرمحبت مہربانی زورآور ثابت ہوئی ہے۔“ (۲۹ ۲/۱ w۹۲)