دنیاوی تصورات کو رد کریں، بادشاہتی حقائق کی جستجو میں رہیں
”بلکہ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اسکی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائینگی۔“—متی ۶:۳۳۔
۱. علامتی دل کی بابت خدا کا کلام کیا آگاہی دیتا ہے، اور اسکے بڑے بڑے طریقوں میں سے ایک کونسا ہے جسکے ذریعے یہ ہمیں دھوکہ دیتا ہے؟
”اپنے دل کی خوب حفاظت کر کیونکہ زندگی کا سرچشمہ وہی ہے۔“ (امثال ۴:۲۳) دانشمند بادشاہ سلیمان کے لئے یہ آگاہی دینا کیوں ضروری تھا؟ کیونکہ ”دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہباز اور لاعلاج ہے۔“ (یرمیاہ ۱۷:۹) بڑے بڑے طریقوں میں سے ایک جس سے ہمارا علامتی دل ہمیں دھوکا دے سکتا ہے وہ یہی ہے کہ ہمیں دنیاوی تصورات میں الجھا دے۔ لیکن تصورات ہیں کیا؟ یہ غیرحقیقی خیالی باتیں، خیالی پلاؤ، خالی ذہن کا بھٹکنا ہے۔ جب یہ خیالی پلاؤ دنیاوی تصورارت بن جاتے ہیں تو یہ نہ محض وقت کا زیاں ہی ہیں بلکہ یہ بہت نقصاندہ بھی ہیں۔ پس، ہمیں ان کو بالکل مسترد کرنا چاہیے۔ درحقیقت، اگر ہم یسوع کی طرح بےدینی سے نفرت کرتے ہیں تو ہم اپنے دل کو دنیاوی تصورات میں الجھنے سے بچائیں گے۔—عبرانیوں ۱:۸، ۹۔
۲. دنیاوی تصورات کیا ہیں، اور ہمیں ان کو کیوں رد کرنا چاہیے؟
۲ لیکن دنیاوی تصورات ہیں کیا؟ یہ وہ تصورات ہیں جو اس دنیا کا خاصہ ہیں جو کہ شیطان کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔ اس کی بابت رسول یوحنا نے لکھا: ”جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔“ (۱-یوحنا ۲:۱۶، ۵:۱۹) مسیحیوں کو کیوں دنیاوی تصورات کو مسترد کرنا چاہیے؟ اس لئے کہ اس قسم کے تصورات ذہن اور دل میں خودغرضانہ خواہشات کو بھڑکاتے ہیں۔ جو غلط ہے اسے کرنے کی بابت خیالی پلاؤ پکانا درحقیقت ذہن میں اس کام کی مشق کرنا ہے جو کوئی شخص واقعی کریگا۔ شاگرد یعقوب ہمیں آگاہ کرتا ہے: ”ہر شخص اپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر اور پھنس کر آزمایا جاتا ہے۔ پھر خواہش حاملہ ہو کر گناہ کو جنتی ہے اور گناہ جب بڑھ چکا تو موت پیدا کرتا ہے۔“—یعقوب ۱:۱۴، ۱۵۔
آگاہی کی مثالیں
۳. کس کا معاملہ خودغرض تصورات کی ضرررسانی کی بابت آگاہ کرنے والی ممتاز مثال فراہم کرتا ہے؟
۳ آئیں ہم ان مثالوں پر غور کریں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کیوں دنیاوی تصورات کو رد کرنا چاہیے۔ شیطان یعنی ابلیس کا معاملہ اس نقصان کی سب سے بڑی مثال فراہم کرتا ہے جو کہ خودغرضانہ تصورات میں الجھنے کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔ اس نے اپنے دل میں خودبینی کے احساسات کو اس حد تک بڑھنے کی اجازت دی کہ اس نے کائنات کے حاکماعلی کے طور پر یہوواہ کے منفرد مرتبے سے حسد کیا اور اپنی پرستش کا خواہاں ہوا۔ (لوقا ۴:۵-۸) ایک غیرحقیقی تصور؟ یقیناً یہ تھا! جب شیطان کو ہزار برس کیلئے باندھ دیا جائیگا تو یہ بلاشبہ ثابت ہو جائیگا اور بالخصوص اس وقت جب اسے ”آگ کی جھیل،“ یعنی دوسری موت میں ڈال دیا جائیگا۔—مکاشفہ ۲۰:۱-۳، ۱۰۔
۴. شیطان نے حوا کو کسطرح ورغلایا؟
۴ پہلی عورت، حوا، کے معاملے میں ہمارے پاس ایک اور آگاہی کی مثال ہے۔ اپنی خواہش کو پورا کرنے کیلئے شیطان کی کوششوں میں، اس نے حوا کے ذہن میں یہ تصور ڈال دینے سے اس کو ورغلایا کہ اگر وہ ممنوع پھل میں سے کھائیگی تو وہ ہرگز نہیں مرے گی بلکہ خدا کی مانند نیکوبد کی جاننے والی بن جائیگی۔ کیا یہ تصور غیرحقیقی، خودغرضانہ تھا؟ یقیناً وہ تھا، جیسا کہ ہم یہوواہ کی عدالت سے حوا اور اس کے شوہر آدم کو سزا پانے سے دیکھ سکتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، انہوں نے اپنے لئے اور اپنی تمام ناکامل اولاد کیلئے فردوس میں زندگی کا حق کھو دیا۔—پیدایش ۳:۱-۱۹، رومیوں ۵:۱۲۔
۵. کیا چیز خدا کے بعض ملکوتی بیٹوں کے زوال کا سبب بنی، اور انکے لئے کس نتیجے کیساتھ؟
۵ ہمارے پاس خدا کے بعض ملکوتی بیٹوں کی آگاہ کرنے والی مثالیں بھی ہیں۔ (پیدائش ۶:۱-۴) ان برکات سے مطمئن ہونے کی بجائے جن کا انہوں نے یہوواہ کی آسمانی حضوری میں لطف اٹھایا تھا، انہوں نے زمین پر کی عورتوں کی بابت اور ان کے ساتھ جنسی صحبت کرنا جسقدر مسرتبخش ہوگا اسکے تصور کو بڑھنے دیا۔ ان تصورات کو عملیجامہ پہنانے کی وجہ سے، نافرمان فرشتے اب روحانی تاریکی کی غاروں میں بند، یسوع مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی کے اختتام پر اپنی ہلاکت کے منتظر ہیں۔—۲-پطرس ۲:۴، یہوداہ ۶، مکاشفہ ۲۰:۱۰۔
دنیاوی تصورات کو مسترد کریں
۶، ۷. مادی دھندولت کی بابت دنیاوی تصورات مضر اور دھوکہ دینے والے کیوں ہیں؟
۶ آئیے اب ہم شیطان کی طرف سے فروغیافتہ بڑے عام اور خطرناک تصورات میں سے ایک پر غور کریں۔ ہر قسم کے ذرائعابلاغ سے ہم دنیاوی تصورات میں ملوث ہونے کی تحریک پاتے ہیں۔ یہ عموماً دولت کے لئے آرزومند ہونے کے سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ دولتمند ہونا بذاتخود برا نہیں۔ خداپرست ابرہام، ایوب، اور داؤد بادشاہ بہت امیر تھے، لیکن وہ مادی دھندولت کے آرزومند نہیں تھے۔ مادہپرستانہ تصورات دولت کے حصول کیلئے لوگوں کو سالوں تک انتھک محنت کیساتھ کام کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ ایسے تصورات انہیں ہر طرح کی جوئےبازی میں ملوث ہونے کے لئے بھی اکساتے ہیں، جیسے کہ گھوڑوں پر شرط لگانا اور لاٹری کے ٹکٹ خریدنا۔ پس آئیں ہم دولت کیلئے کسی بھی طرح کے فریب میں نہ پھنسیں۔ اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ مادی دھندولت تحفظ فراہم کریگی تو حقائق پر مبنی اس ضربالمثل پر غور کریں: ”قہر کے دن مال کام نہیں آتا لیکن صداقت موت سے رہائی دیتی ہے۔“ (امثال ۱۱:۴) بلاشبہ، ”بڑی مصیبت“ سے بچنے کے لئے مادی دھندولت کسی کام نہیں آئے گی۔—متی ۲۴:۲۱، مکاشفہ ۷:۹، ۱۴۔
۷ مادی دھندولت ہمیں بڑی آسانی سے دھوکا دے سکتی ہے۔ اسی لئے ہمیں بتایا گیا ہے: ”دولتمند آدمی کا مال محکم شہر اور اس کے تصور میں اونچی دیوار کی مانند ہے۔“ (امثال ۱۸:۱۱) جیہاں، صرف ”اس کے تصور میں“، کیونکہ مادی دولت بےقابو افراط زر، معاشی بحران، سیاسی انقلابات، یا میعادی بیماریوں، کے اوقات میں کم تحفظ پیش کرتی ہے۔ یسوع مسیح نے مادی دھندولت پر ہمارے بھروسہ کرنے کی حماقت کے خلاف آگاہ کیا تھا۔ (لوقا ۱۲:۱۳-۲۱) ہمارے پاس رسول پولس کے آگاہی دینے والے الفاظ بھی ہیں: ”زر کی دوستی ہر قسم کی برائی کی جڑ ہے جسکی آرزو میں بعض نے ایمان سے گمراہ ہوکر اپنے دلوں کو طرح طرح کے غموں سے چھلنی کر لیا ہے۔“—۱-تیمتھیس ۶:۱۰۔
۸. جنسی نوعیت کے دنیاوی تصورات کتنے مروج ہیں، اور یہ کونسے خطرات لاحق کرتے ہیں؟
۸ دوسرے تصورات جنس کے ناجائز استعمال سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس حد تک گنہگارانہ انسانی فطرت جنسی تصورات میں غرق رہنا پسند کرتی ہے اسے خاص ٹیلیفون نمبر ڈائیل کرکے فحش پیغامات کو سن کر دستیاب زبان کی گندگی کی مقبولیت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں، ٹیلیفون پر فحش کلامی کروڑوں ڈالر کا کاروبار ہے۔ اگر ہم نے اپنے ذہنوں کو ناجائز جنس پر ہی لگے رہنا دینا ہے تو کیا ہم بظاہر صاف ستھرے مسیحی دکھائی دے کر ریاکار نہیں ہونگے؟ اور کیا اس کا خطرہ نہیں کہ شاید اس طرح کے تصورات غیراخلاقی تعلقات پر منتج ہوں؟ ایسا واقع ہوا ہے اور یہ بعض کے لئے حرامکاری یا زناکاری کا مرتکب ہونے کی وجہ سے مسیحی کلیسیا سے خارج کر دئیے جانے پر منتج ہوا ہے۔ متی ۵:۲۷، ۲۸ میں یسوع کے الفاظ کے پیشنظر، کیا وہ سب جو متواتر ایسے تصورات میں پڑے رہتے ہیں اپنے دلوں میں حرامکاری کرنے کے مرتکب نہیں؟
۹. ہمیں دنیاوی تصورات سے آگاہ کرنے کی خاطر صحائف کے اندر کونسی اچھی مشورت پائی جاتی ہے؟
۹ اپنے گنہگار دلوں کی ایسے تصورات میں پڑنے کی رغبت کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں پولس کی اس آگاہی کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے: ”اور اس [خدا] سے مخلوقات کی کوئی چیز چھپی نہیں بلکہ جس سے ہم کو کام ہے اسکی نظروں میں سب چیزیں کھلی اور بےپردہ ہیں۔“ (عبرانیوں ۴:۱۳) ہمیں ہر موقع پر موسی کی مانند بننا چاہیے جو کہ ”اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت قدم رہا۔“ (عبرانیوں ۱۱:۲۷) جیہاں، ہمیں خود کو یہ باور کراتے رہنا چاہیے کہ دنیاوی تصورات یہوواہ کو ناراض کرتے ہیں اور ہمارے لئے یہ صرف نقصان پر منتج ہو سکتے ہیں۔ ہمیں خدا کی روح کے پھل بالخصوص ضبط نفس پیدا کرنے کی فکر میں رہنا چاہیے، کیونکہ ہم اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے کہ اگر ہم جسم کے لئے بوتے ہیں تو ہم جسم سے ہلاکت کی فصل ہی کاٹینگے۔—گلتیوں۵:۲۲، ۲۳، ۶:۷، ۸۔
بادشاہتی حقائق
۱۰، ۱۱. (ا) کونسے حقائق خالق کی حقیقت کی دلیل دیتے ہیں؟ (ب) کیا ثبوت موجود ہے کہ بائبل واقعی خدا کا کلام ہے؟ (پ) خدا کی بادشاہت کے بادشاہ کی حقیقت کی بابت کیا شہادت موجود ہے؟
۱۰ دنیاوی تصورات کو مسترد کرنے کا بہترین طریقہ بادشاہتی حقائق کی جستجو میں رہنا ہے۔ بادشاہی کے حقائق جو کہ خدا پیدا کرتا ہے وہ دنیاوی تصورات کے بالکل برعکس ہیں۔ کیا خدا ایک حقیقت ہے؟ اس کی موجودگی کی بابت کوئی شبہ نہیں۔ دیدنی مخلوقات اس حقیقت کی شہادت دیتی ہے۔ (رومیوں ۱:۲۰) آج سے ایک سو سال سے زیادہ عرصہ پہلے واچٹاور سوسائٹی کی شائعکردہ کتاب دی ڈیوائن پلان آف دی ایجز، میں جو کچھ کہا گیا تھا ہمیں اس کی یاددہانی کرائی جاتی ہے۔ اس نے بیان کیا: ”وہ جو دوربین کے ذریعے، یا صرف اپنی فطرتی آنکھ سے ہی آسمان پر دیکھ سکتا ہے، اور وہاں تخلیق کی عظیم وسعت، اسکی ہمآہنگی، خوبصورتی، ترتیب، تطابقت اور رنگارنگی کو دیکھ لے اور پھر بھی اس کی بابت شک کرے کہ ان کا خالق حکمت اور قوت دونوں میں اس سے بالاتر ہے، یا جو شاید ایک لمحے کیلئے یہ فرض کر لے کہ ایسا نظموضبط خالق کے بغیر اتفاقاً پیدا ہو گیا تو اس نے اس حد تک استدلال کی خوبی کو نہیں جانا یا اسے نظرانداز کیا ہے تاکہ مناسب طور پر اسے وہی سمجھا جائے جسے بائبل احمق (ایک ایسا شخص جو نظرانداز کرتا ہے یا جس میں استدلال کی کمی ہے) کہتی ہے۔“—زبور ۱۴:۱۔
۱۱ بادشاہی کی بابت سب کچھ ہم مقدس بائبل سے سیکھتے ہیں۔ کیا بائبل درحقیقت خدا کا تحریری کلام ہے؟ نہایت یقینی طور پر یہ ہے، جیسا کہ اس کی ہمآہنگی، اس کی سائنسی درستگی، اور لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کرنے کی اس کی قوت اور بالخصوص اس کی پیشنگوئیوں کی تکمیل سے دیکھا جا سکتا ہے۔a خدا کی بادشاہی کے بادشاہ یسوع مسیح کی بابت کیا ہے؟ کیا واقعی اس کا وجود تھا؟ انجیلی بیانات اور مسیحی یونانی صحائف میں خدا کی طرف سے الہامیافتہ خطوط واضح اور قائل کرنے والے طریقے سے یسوع مسیح کی تاریخی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ یسوع کی تاریخی حقیقت کے سلسلے میں یہودی تالمود کی شہادت بھی ہے جو اسکا ایک شخص کے طور پر حوالہ دیتی ہے۔ پہلی صدی س۔ع۔ کے یہودی اور رومی تاریخدان بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔
۱۲، ۱۳. کونسے حقائق خدا کی بادشاہت کی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں؟
۱۲ بادشاہت کی اپنی حقیقت کی بابت کیا ہے؟ اسے مسیحی دنیا نے بڑی حد تک نظرانداز کیا ہے، جیسے کہ ایک پریسبٹیرین کی اس شکایت سے ظاہر ہوا ہے: ”یقیناً تیس سالوں سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ جب سے میں نے کسی پادری کو اپنے لوگوں کے سامنے انکے لئے بادشاہت کی حقیقت کو بیان کرنے کی کوشش کرتے سنا ہو۔“ تاہم، بادشاہت کے ذریعے یہوواہ کے نام کی تقدیس اسکے کلام کا موضوع ہے۔ خدا نے خود یہ کہتے ہوئے پہلا بادشاہتی وعدہ کیا: ”میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کچلیگا اور تو اسکی ایڑی پر کاٹیگا۔“ (پیدایش ۳:۱۵) بادشاہت کا عکس بنیاسرائیل کے ذریعے، خاص طور پر بادشاہ سلیمان کی حکومت کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ (زبور ۷۲) اسکے علاوہ، یسوع کی منادی کا موضوع بادشاہت تھا۔ (متی ۴:۱۷) اس نے اسے اپنی بہت سی تمثیلوں میں پیش کیا تھا، جیسے کہ وہ جو متی ۱۳ باب میں ہیں۔ یسوع نے ہمیں حکم دیا کہ بادشاہت کیلئے دعا کریں اور پہلے اسکی تلاش کرتے رہیں۔ (متی ۶:۹، ۱۰، ۳۳) درحقیقت، خدا کی بادشاہت کا مسیحی یونانی صحائف میں تقریباً ۱۵۰ مرتبہ ذکر کیا گیا ہے۔
۱۳ بادشاہت قوت اور اختیار والی ایک حقیقی حکومت ہے، اور یہ تمام جائز توقعات کو پورا کریگی۔ اسکے پاس قوانین کا مجموعہ ہے جو بائبل میں موجود ہے۔ بادشاہت پہلے ہی بہت سی چیزوں کو حقیقی جامہ پہنا چکی ہے۔ یہ وفادار رعیت—۴،۰۰۰،۰۰۰ سے زائد یہوواہ کے گواہ—رکھتی ہے۔ متی ۲۴:۱۴ کی تکمیل میں وہ ۲۱۱ ممالک میں خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کر رہے ہیں۔ ۱۹۹۱ کے اپنے خدمتی سال کے دوران، بادشاہتی پیغام کی منادی میں انہوں نے ۹۵۱،۸۷۰،۰۲۱ گھنٹے صرف کئے۔ جب انبوہ بائبل سچائی کی ”خالص زبان“ سیکھتے ہیں تو یہ کارگزاری واضح، دائمی نتائج پیدا کر رہی ہے۔—صفنیاہ ۳:۹۔
بادشاہتی حقائق کی جستجو میں رہنا
۱۴. بادشاہت کی حقیقت کے لئے اپنی قدردانی کو ہم کیسے تقویت دے سکتے ہیں؟
۱۴ لہذا، ہم کسطرح بادشاہتی حقائق کی جستجو کر سکتے ہیں؟ ہماری امید کو مضبوطی کیساتھ پختہ یقین پر مبنی ہونا چاہیے۔ خدا کی موعودہ نئی دنیا کو ہمارے لئے حقیقی ہونا چاہیے۔ (۲-پطرس ۳:۱۳) اور ہمیں اس وعدے پر یقین رکھنا چاہیے کہ خدا ”[ہماری] آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔“ (مکاشفہ ۲۱:۴) ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ یہ کوئی تصور نہیں ہے؟ اسے خدا کے اپنے وقت پر پورا ہونا لازمی ہے، کیونکہ اسکے لئے جھوٹ بولنا ناممکن ہے۔ (ططس ۱:۱، ۲، عبرانیوں ۶:۱۸) ہمیں ان وعدوں پر غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے۔ خود کو خدا کی نئی دنیا میں تصور کرنا اور اسکی برکات سے لطفاندوز ہونا کوئی غیرحقیقی تصور نہیں ہے بلکہ یہ ایمان کی شہادت دیتا ہے۔ جیسے پولس نے اسکی تشریح کی، ”ایمان امید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی [حقیقتوں، NW] کا ثبوت ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱) آئیں ہم خدا کے کلام اور مسیحی مطبوعات سے باقاعدگی کیساتھ خوراک حاصل کرنے سے اپنے ایمان کو تقویت دیں جو اسے سمجھنے اور اسکا اطلاق کرنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ اور رسمی اور غیررسمی طور پر، بادشاہت کی بابت دوسروں کو بتانے کیلئے جتنا زیادہ وقت ہم مختص کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ اس میں ہم اپنے ایمان کو مضبوط اور اپنی امید کو روشن کرتے ہیں۔
۱۵. مسیحی خدمتگزاری کے سلسلے میں ہم کیا ذمہداری رکھتے ہیں؟
۱۵ ہمیں اپنی خدمتگزاری کی خوبی کو بہتر بنانے سے بادشاہتی حقائق کی مطابقت میں کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ چونکہ ابھی تک کافی کام کرنا باقی ہے، ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ (متی ۹:۳۷، ۳۸) یہ کہاوت سچی ہے کہ سیکھنے کیلئے کوئی اتنا بوڑھا نہیں ہوتا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنے سالوں سے ہم گواہی دینے کے کام میں حصہ لے رہے ہیں، پھر بھی ہم بہتری لا سکتے ہیں۔ خدا کے کلام کو پیش کرنے میں زیادہ مؤثر بننے سے، ہم بادشاہ، یسوع مسیح کی آواز سننے میں دوسروں کی مدد کرنے کے زیادہ قابل ہوتے ہیں۔ (مقابلہ کریں یوحنا ۱۰:۱۶۔) جب ہم اس پر غور کرتے ہیں کہ لوگوں کے ابدی انجام الجھے ہوئے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اپنے علاقے میں پوری طرح سے کام کریں تاکہ انہیں باربار موقع دیں کہ ”بھیڑوں“ یا ”بکریوں“ کے طور پر انہیں کیا مقام حاصل ہے۔ (متی ۲۵:۳۱-۴۶) بلاشبہ، اسکا مطلب گھر پر نہ ملنے والوں اور خاص طور پر بادشاہتی پیغام میں دلچسپی رکھنے والوں کا مفصل ریکارڈ رکھنا ہوگا۔
بادشاہت کی جستجو کرتے رہیں
۱۶. بادشاہتی حقائق کی جستجو میں کن لوگوں نے عمدہ نمونہ قائم کیا ہے، اور وہ کیسے بادشاہت کو ”چھین“ رہے ہیں؟
۱۶ بادشاہتی حقائق کی جستجو کرتے رہنے کے لئے سنجیدہ کوشش درکار ہے۔ کیا ہم ممسوح مسیحیوں کے بقیے کے سرگرم نمونے سے حوصلہافزائی نہیں پاتے؟ وہ عشروں سے بادشاہتی حقائق کی جستجو کرتے رہے ہیں۔ اس جستجو کو یسوع کے الفاظ میں بیان کیا گیا تھا: ”یوحنا بپتسمہ دینے والے کے دنوں سے اب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہوتا رہا ہے اور زورآور اسے چھین لیتے ہیں۔“ (متی ۱۱:۱۲) یہاں پر دشمنوں کے بادشاہی کو چھیننے کا خیال پیش نہیں کیا گیا۔ بلکہ، اس کا تعلق ان لوگوں کی کارگزاری کیساتھ ہے جو بادشاہت کی صف میں ہیں۔ ایک بائبل عالم نے کہا: ”اس آنے والی مسیحائی بادشاہی کیلئے بیتابی، زوردار جدوجہد، اور کشمکش کو اسطرح سے بیان کیا گیا ہے۔“ ممسوح لوگوں نے بادشاہی کو اپنا بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ خدا کی آسمانی بادشاہت کی زمینی رعایا بننے کے لائق ثابت ہونے کیلئے ”دوسری بھیڑوں“ سے بھی اسی طرح کی پرجوش کوششوں کا تقاضا کیا جاتا ہے۔—یوحنا ۱۰:۱۶۔
۱۷. جو دنیاوی تصورات کی جستجو میں رہتے ہیں ان کا انجام کیا ہوگا؟
۱۷ سچ ہے کہ ہم موقع حاصل کرنے کے ایک خاص وقت میں رہ رہے ہیں۔ وہ جو دنیاوی تصورات کی جستجو میں رہتے ہیں انہیں ایک دن بالکل تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایسے لوگوں کے انجام کو ان الفاظ میں بڑی اچھی طرح بیان کیا گیا ہے: ”جیسے بھوکا آدمی خواب میں دیکھے کہ کھا رہا ہے پر جاگ اٹھے اور اس کا جی نہ بھرا ہو یا پیاسا آدمی خواب میں دیکھے کہ پانی پی رہا ہے پر جاگ اٹھے اور پیاس سے بیتاب ہو اور اسکی جان آسودہ نہ ہو۔“ (یسعیاہ ۲۹:۸) یقینی طور پر، دنیا کے تصورات کسی شخص کو کبھی بھی آسودہ اور خوش نہیں کرینگے۔
۱۸. بادشاہت کی حقیقت کے پیشنظر، ہمیں کونسی روش کی جستجو کرنی چاہیے، کس امکان کے پیشنظر؟
۱۸ یہوواہ کی بادشاہت ایک حقیقت ہے۔ یہ سرگرمی سے حکمرانی کر رہی ہے، جبکہ اس شریر دستورالعمل کو ایک سر پر کھڑی، مستقل ہلاکت کا سامنا ہے۔ لہذا، پولس کی اس مشورت پر دل لگائیں: ”پس اوروں کی طرح سو نہ رہیں بلکہ جاگتے اور ہوشیار رہیں۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۶) دعا ہے کہ ہم اپنے دلوں اور ذہنوں کو بادشاہتی حقائق پر لگائے رکھیں اور یوں ابدی برکات سے لطفاندوز ہوں۔ اور دعا ہے کہ ہمارا یہ انجام ہو کہ ہم اس بادشاہی کے بادشاہ کو ہم سے یہ کہتے سنیں: ”آؤ میرے باپ کے مبارک لوگو جو بادشاہی بنایعالم سے تمہارے لئے تیار کی گئی ہے اسے میراث میں لو۔“—متی ۲۵:۳۴۔ (۱۳ ۷/۱۵ w۹۲)
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ کتاب دی بائبل—گاڈز ورڈ آر مینز؟ کو دیکھیں۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ دنیاوی تصورات کیا ہیں، اور ہمیں کیوں ان کو رد کرنا چاہیے؟
▫ کونسی مثالیں دنیاوی تصورات میں پڑ جانے کی حماقت کو ظاہر کرتی ہیں؟
▫ کونسے حقائق خالق، اس کے تحریری کلام، یسوع مسیح، اور بادشاہت کی حقیقت کو ثابت کرتے ہیں؟
▫ ہم کیسے بادشاہتی حقائق میں اپنے ایمان کو مضبوط کر سکتے ہیں؟
[تصویر]
مادی دولت کیلئے شدید خواہش اکثر دنیاوی تصورات کا سبب بنتی ہے۔
[تصویر]
خوشخبری کی منادی کرنا بادشاہتی حقائق کی جستجو میں رہنے کا ایک طریقہ ہے
[تصویر]
کیا آپ مستعدی سے خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے سے بادشاہتی حقائق کی جستجو کر رہے ہیں؟