باب نمبر ۳۲
خدا نے یسوع کی حفاظت کی
یہوواہ خدا کو بچوں کی بڑی فکر ہے کیونکہ وہ کمزور ہوتے ہیں۔ اُس نے اُن کی حفاظت کے لئے طرحطرح کے انتظام کئے ہیں۔ یہوواہ خدا کو جانوروں کے بچوں کی بھی فکر ہے۔ آئیں، مَیں آپ کو اِس کی مثال دیتا ہوں۔
جب آپ کسی پارک یا کھیت میں سیر کے لئے جاتے ہیں تو شاید آپ کو زمین پر ایک چڑیا نظر آئے۔ ایسا لگتا ہے کہ اُس کے پَر کو چوٹ لگی ہے اور وہ اُڑ نہیں سکتی۔ جب آپ اُس کے نزدیک جاتے ہیں تو وہ اپنا پَر گھسیٹتی ہوئی آپ سے کچھ قدم دُور ہو جاتی ہے۔ جیسےجیسے آپ اُس کی طرف بڑھتے ہیں، وہ پیچھے ہٹتی جاتی ہے۔ پھر ایک دم سے وہ اُڑ جاتی ہے۔ اصل میں اُسے چوٹ نہیں لگی تھی۔ تو پھر وہ یہ ڈرامہ کیوں کر رہی تھی؟ کیا آپ کو پتہ ہے؟ ......
جہاں پر آپ نے چڑیا کو دیکھا تھا وہاں قریب ہی اُس کا گھونسلا تھا جس میں اُس کے بچے تھے۔ چڑیا کو یہ ڈر تھا کہ آپ اُس کے بچوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ اُس نے یہ ڈرامہ اِس لئے کِیا تاکہ آپ اُس کے گھونسلے سے دُور چلے جائیں۔ اِس طرح چڑیا نے اپنے بچوں کی حفاظت کی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری حفاظت کون کرتا ہے؟ ...... یہوواہ خدا ہماری حفاظت کرتا ہے۔ بائبل میں کہا گیا ہے کہ جس طرح پرندے اپنے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں اُسی طرح یہوواہ خدا اپنے خادموں کی حفاظت کرتا ہے۔—استثنا ۳۲:۱۱، ۱۲۔
چڑیا اپنے بچوں کی حفاظت کیسے کرتی ہے؟
یہوواہ خدا نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کی بھی حفاظت کی۔ یہ سچ ہے کہ جب یسوع مسیح آسمان پر تھے تو اُن کو حفاظت کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ روحانی جسم رکھتے تھے اور بہت طاقتور تھے۔ لیکن جب وہ زمین پر ایک ننھے بچے کے طور پر پیدا ہوئے تو وہ کمزور تھے۔ اُس وقت اُنہیں حفاظت کی ضرورت تھی۔
یہوواہ خدا نے یسوع مسیح کو ایک خاص کام کرنے کے لئے زمین پر بھیجا تھا۔ شیطان نہیں چاہتا تھا کہ یسوع مسیح یہ کام کریں۔ اِس لئے جب یسوع چھوٹے تھے تو شیطان نے باربار اُنہیں مار ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن یہوواہ خدا نے اُن کی حفاظت کی۔ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ یہوواہ خدا نے اپنے بیٹے کی حفاظت کیسے کی؟ ...... آئیں، مَیں آپ کو اِس کے بارے میں بتاتا ہوں۔
یسوع کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد شیطان نے آسمان پر ایک ستارہ چمکایا۔ کچھ مجوسیوں نے اِس ستارے کو دیکھ لیا۔ یہ لوگ ملک اسرائیل سے بہت دُور مشرق میں رہتے تھے۔ وہ نجومی تھے اور ستاروں کا علم رکھتے تھے۔ مجوسی اِس ستارے کے پیچھےپیچھے چلتے ہوئے یروشلیم پہنچ گئے۔ وہاں پر اُنہوں نے لوگوں سے پوچھا: ”وہ بچہ کہاں پیدا ہوا ہے جو یہودیوں کا بادشاہ بنے گا؟“ کچھ لوگوں کو پتہ تھا کہ بائبل میں لکھا ہے کہ یہ بچہ شہر بیتلحم میں پیدا ہوگا۔ اِس لئے اُنہوں نے مجوسیوں سے کہا: ”بیتلحم میں۔“—متی ۲:۱-۶۔
یہوواہ خدا نے مجوسیوں کو کون سی ہدایت دی جس سے یسوع کی جان بچ گئی؟
اُس وقت ہیرودیس بادشاہ یروشلیم میں حکومت کر رہے تھے۔ وہ اچھے بادشاہ نہیں تھے۔ جب اُن کو پتہ چلا کہ بیتلحم میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو یہودیوں کا بادشاہ بنے گا تو اُنہوں نے مجوسیوں سے کہا: ”جا کر پتہ کرو کہ یہ بچہ کہاں ہے اور جب وہ مل جائے تو آکر مجھے خبر دو۔“ کیا آپ جانتے ہیں کہ بادشاہ نے یہ کیوں کہا تھا؟ ...... ہیرودیس بادشاہ، یسوع کو مار ڈالنا چاہتے تھے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے علاوہ کوئی اَور بادشاہ بنے۔
کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہوواہ خدا نے اپنے بیٹے کی حفاظت کیسے کی؟ ...... آئیں، دیکھیں کہ آگے کیا ہوا۔ جب مجوسی یسوع کے گھر پہنچے تو اُنہوں نے اُن کو قیمتی تحفے دئے۔ پھر خدا نے مجوسیوں کو خواب میں یہ ہدایت دی کہ ”ہیرودیس کے پاس واپس نہ جاؤ۔“ اِس لئے مجوسی یروشلیم نہیں گئے بلکہ کسی اَور راستے سے اپنے ملک لوٹ گئے۔ جب ہیرودیس بادشاہ کو پتہ چلا کہ مجوسی اُن کو کچھ بتائے بغیر واپس چلے گئے ہیں تو اُن کو بہت غصہ آیا۔ اُنہوں نے حکم دیا کہ بیتلحم میں اُن سب لڑکوں کو مار ڈالا جائے جن کی عمر دو سال اور اِس سے کم ہے۔ لیکن یسوع بچ گئے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یسوع کیسے بچ گئے؟ ...... مجوسیوں کے جانے کے بعد یہوواہ خدا نے مریم کے شوہر یوسف سے کہا: ”بچے اور اُس کی ماں کو لے کر ملک مصر کو بھاگ جاؤ۔“ اِس طرح یسوع قتل ہونے سے بچ گئے۔ اِس کے کچھ سال بعد یوسف، مریم اور یسوع مصر سے اپنے ملک واپس گئے۔ لیکن خدا نے ایک خواب میں یوسف کو ہدایت دی کہ وہ بیتلحم میں نہیں بلکہ ناصرت میں رہیں کیونکہ وہاں یسوع کی جان کو خطرہ نہیں تھا۔—متی ۲:۷-۲۳۔
خدا نے یسوع کو بچانے کے لئے یوسف کو کون سی ہدایت دی؟
کیا آپ کو پتہ چل گیا ہے کہ یہوواہ خدا نے اپنے بیٹے کو کیسے بچا لیا؟ ...... ہم نے دیکھا تھا کہ چڑیا کے بچوں کو حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جب یسوع چھوٹے تھے تو اُن کو بھی حفاظت کی ضرورت تھی۔ آپ بھی چھوٹے ہیں۔ کیا آپ کو بھی حفاظت کی ضرورت ہے؟ ...... آپ کو بھی حفاظت کی ضرورت ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کون آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں؟ ......
بائبل میں بتایا گیا ہے کہ شیطان ببر شیر کی طرح ہے جو ہمیں کھانا چاہتا ہے۔ شیر اکثر چھوٹے جانوروں کا شکار کرتا ہے۔ اِسی طرح شیطان اور شیاطین اکثر بچوں کو اپنا شکار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (۱-پطرس ۵:۸) لیکن یہوواہ خدا، شیطان سے زیادہ طاقتور ہے۔ وہ اپنے خادموں کی حفاظت کر سکتا ہے۔ اور اگر شیطان اُن کو نقصان پہنچائے بھی تو یہوواہ خدا اِس نقصان کو مٹا سکتا ہے۔
اِس کتاب کے باب نمبر ۱۰ میں ہم نے سیکھا تھا کہ شیطان اور شیاطین ہمیں کون سے کام کرنے پر اُکساتے ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے؟ ...... وہ ہمیں ناجائز جنسی ملاپ کرنے پر اُکسانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ جنسی ملاپ کن لوگوں کے لئے جائز ہے؟ ...... خدا کا حکم ہے کہ صرف وہی مرد اور وہی عورت جنسی ملاپ کر سکتے ہیں جن کی آپس میں شادی ہوئی ہو۔
لیکن افسوس کی بات ہے کہ کچھ ایسے بڑے ہیں جو بچوں کے ساتھ جنسی ملاپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب وہ بچوں کے ساتھ ایسے گندے کام کرتے ہیں تو بچے اُن سے یہ کام سیکھ جاتے ہیں۔ اور پھر یہ بچے دوسرے بچوں کے ساتھ ایسے گندے کام کرتے ہیں۔ پُرانے زمانے میں شہر سدوم میں ایسا ہی ہوا۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ جب خدا کے خادم لوط کے گھر دو آدمی آئے تو نہ صرف شہر کے آدمی بلکہ لڑکے بھی اِن آدمیوں سے جنسی ملاپ کرنا چاہتے تھے۔—پیدایش ۱۹:۴، ۵۔
جس طرح یسوع کو حفاظت کی ضرورت تھی اِسی طرح آپ کو بھی حفاظت کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ بڑے یا بچے آپ سے جنسی ملاپ کرنے کی کوشش کریں۔ اکثر ایسے لوگ کہتے ہیں کہ وہ آپ کے دوست ہیں۔ شاید وہ آپ سے کہیں کہ ”کسی کو مت بتانا کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔“ شاید وہ آپ کو اچھیاچھی چیزیں لے کر دیں تاکہ آپ کسی کو نہ بتائیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ لوگ آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ شیطان اور شیاطین کی طرح یہ لوگ بھی صرف اپنی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کی خواہش یہ ہے کہ وہ بچوں سے جنسی ملاپ کریں۔ یہ بہت ہی غلط کام ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے کیا کرتے ہیں؟ ...... شاید وہ آپ کے جنسی اعضا کو چھیڑنے کی کوشش کریں۔ یا پھر وہ اپنے جنسی اعضا سے آپ کے جنسی اعضا کو چُھونے کی کوشش کریں۔ لیکن کسی کو اِس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے جنسی اعضا کو چھیڑے۔ یہاں تک کہ آپ کو اپنے بہنبھائیوں اور اپنے امیابو کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔
اگر کوئی آپ کے ساتھ گندے کام کرنا چاہے تو آپ کو کیا کرنا چاہئے؟
اگر کوئی آپ کے ساتھ گندے کام کرنا چاہتا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ ...... اُس کو اِس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے جنسی اعضا کو چُھوئے۔ اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اُس سے اُونچی آواز میں کہیں: ”ایسا مت کریں۔ مَیں سب کو بتاؤں گا۔“ اگر وہ آپ سے کہے کہ ”جو کچھ بھی ہوا ہے، یہ سب تمہاری غلطی ہے“ تو اُس کی بات نہ مانیں۔ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اِس بات کا بالکل لحاظ نہ کریں کہ وہ شخص کون ہے۔ جا کر کسی بڑے کو بتائیں کہ اُس نے کیا کِیا ہے۔ آپ کو تب بھی اُس کی شکایت کرنی چاہئے جب وہ آپ کا کوئی دوست، رشتہدار، اُستاد یا مذہبی رہنما ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ سے کہے کہ ”یہ تو ہماری آپس کی بات ہے۔ اِس کے بارے میں کسی کو نہیں بتانا۔“ شاید وہ آپ کو چپ رکھنے کے لئے آپ سے کہے کہ وہ آپ کو بہت سے تحفے دے گا۔ یا پھر شاید وہ آپ کو دھمکیاں دے۔ لیکن اُس کی باتوں میں نہ آئیں بلکہ جا کر کسی بڑے کو بتائیں کہ اُس نے کیا کِیا ہے۔
یہ سچ ہے کہ سارے لوگ بُرے نہیں ہوتے لیکن پھر بھی آپ کو ہوشیار رہنا چاہئے۔ یاد رکھیں کہ کچھ لوگ اور کچھ جگہیں آپ کے لئے خطرناک ہو سکتی ہیں۔ اِس لئے جب آپ کے امیابو آپ کو ایسے لوگوں سے ملنے یا پھر ایسی جگہوں پر جانے سے منع کرتے ہیں تو اُن کا کہنا مانیں۔ یوں آپ اُن لوگوں سے بچ سکتے ہیں جو آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
آپ ایسے لوگوں سے کیسے بچ سکتے ہیں جو آپ کے ساتھ جنسی ملاپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں: پیدایش ۳۹:۷-۱۲؛ امثال ۴:۱۴-۱۶؛ امثال ۱۴:۱۵، ۱۶؛ ۱-کرنتھیوں ۶:۱۸؛ اور ۲-پطرس ۲:۱۴۔