یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ع‌اس باب 19 ص.‏ 102-‏106
  • کیا آپ کو لڑائی کرنی چاہئے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ کو لڑائی کرنی چاہئے؟‏
  • عظیم اُستاد سے سیکھیں
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا آپ ہمیشہ اپنے فائدے کا سوچتے ہیں؟‏
    عظیم اُستاد سے سیکھیں
  • ‏”‏ایمان کی اچھی کشتی لڑ“‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۰
عظیم اُستاد سے سیکھیں
ع‌اس باب 19 ص.‏ 102-‏106

باب نمبر ۱۹

کیا آپ کو لڑائی کرنی چاہئے؟‏

کیا آپ ایسے لڑکے اور لڑکیوں کو جانتے ہیں جو دوسروں پر رُعب جماتے اور اُنہیں ڈراتے‌دھمکاتے ہیں؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیا آپ کو ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں؟ یا کیا آپ کو ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے ہیں؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ عظیم اُستاد یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏خوش ہیں وہ لوگ جو صلح‌پسند ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔“‏—‏متی ۵:‏۹‏، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔‏

کبھی‌کبھار دوسرے لوگ کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس پر ہمیں غصہ آتا ہے۔ کیا کبھی آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ شاید ہم غصے میں آکر ایسے لوگوں سے بدلہ لینا چاہیں۔ ایک بار یسوع مسیح کے شاگرد بھی دوسروں سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب وہ یسوع مسیح کے ساتھ یروشلیم جا رہے تھے۔ آئیں، مَیں آپ کو اِس واقعے کے بارے میں بتاتا ہوں۔‏

یسوع مسیح اور اُن کے شاگرد چلتے‌چلتے سامریہ کے علاقے میں پہنچے۔ یسوع مسیح نے اپنے چند شاگردوں کو ایک گاؤں میں بھیجا تاکہ وہ وہاں پر اُن کے ٹھہرنے کا انتظام کریں۔ لیکن اُس گاؤں کے لوگ نہیں چاہتے تھے کہ یسوع مسیح اور اُن کے شاگرد وہاں ٹھہریں۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ سامریوں کا مذہب یہودیوں کے مذہب سے فرق تھا۔ سامری اُن لوگوں کو پسند نہیں کرتے تھے جو عبادت کے لئے یروشلیم جاتے تھے۔‏

یعقوب اور یوحنا بہت غصے میں ہیں۔‏

یعقوب اور یوحنا سامریوں سے بدلہ لینے کے لئے کیا کرنا چاہتے تھے؟‏

اگر آپ یسوع مسیح کے ساتھ ہوتے تو آپ کیا کرتے؟ کیا آپ غصے میں آ جاتے؟ کیا آپ سامریوں سے بدلہ لینا چاہتے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یسوع مسیح کے شاگرد یعقوب اور یوحنا کو غصہ آ گیا اور وہ سامریوں سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے یسوع مسیح سے کہا:‏ ”‏کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم حکم دیں کہ آسمان سے آگ نازل ہو تاکہ یہ لوگ تباہ ہو جائیں؟“‏ لیکن یسوع مسیح نے اُن سے کہا کہ دوسروں کے ساتھ ایسا سلوک کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ یعقوب اور یوحنا اکثر غصے میں گرج پڑتے تھے۔ اِس لئے یسوع مسیح نے اُن کا نام ”‏گرج کے بیٹے“‏ رکھا۔—‏لوقا ۹:‏۵۱-‏۵۶؛‏ مرقس ۳:‏۱۷‏۔‏

کبھی‌کبھی لوگ ہم سے بُرا سلوک کرتے ہیں۔ شاید کچھ بچے آپ کو اپنے ساتھ کھیلنے نہ دیں۔ شاید وہ آپ سے کہیں:‏ ”‏جاؤ یہاں سے۔“‏ جب کوئی ہمارے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے تو ہمیں بہت بُرا لگتا ہے۔ شاید ہم بدلے میں اُن کے ساتھ بھی بُرا سلوک کرنا چاہیں۔ لیکن کیا ہمیں ایسا کرنا چاہئے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

آئیں، دیکھیں کہ بائبل میں اِس کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔ اپنی بائبل میں امثال ۲۴ باب کی ۲۹ آیت کھولیں۔ اِس میں لکھا ہے:‏ ”‏یوں نہ کہہ مَیں اُس سے ویسا ہی کروں گا جیسا اُس نے مجھ سے کِیا۔ مَیں اُس آدمی سے اُس کے کام کے مطابق سلوک کروں گا۔“‏

آپ کے خیال میں اِس آیت کا کیا مطلب ہے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں دوسروں سے بدلہ نہیں لینا چاہئے۔ اگر کوئی ہمارے ساتھ بُرا سلوک کرے تو ہمیں اُس کے ساتھ بُرا سلوک نہیں کرنا چاہئے۔ شاید کوئی آپ کو غصہ دلائے تاکہ آپ اُس سے لڑائی کریں۔ شاید وہ آپ کو گالیاں دے اور آپ کو چڑائے۔ شاید وہ آپ کا مذاق اُڑائے اور آپ کو ڈرپوک کہے۔ ایسی صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ کیا آپ کو اُس کے ساتھ لڑنا چاہئے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

آئیں، دیکھیں کہ بائبل اِس کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ اپنی بائبل میں متی ۵ باب اور اُس کی ۳۹ آیت کھولیں۔ اِس آیت میں یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۔“‏ آپ کے خیال میں کیا یسوع مسیح یہ کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی ہمیں مارےپیٹے تو ہمیں اُس سے مار کھا لینی چاہئے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

یسوع مسیح یہ نہیں کہنا چاہتے تھے۔ کبھی‌کبھی لوگ ہمیں غصہ دلانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہم اُن کے ساتھ لڑائی کریں۔ شاید کوئی ہمیں دھکا دے، ہمیں ٹکر مارے یا ہمیں تھپڑ مارے تاکہ ہم غصے میں آ جائیں اور اُس سے لڑنا شروع کر دیں۔ آپ کے خیال میں اگر ہم غصے میں آکر اُسے بھی دھکا دیں گے یا تھپڑ ماریں گے تو کیا ہوگا؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِس طرح لڑائی شروع ہو جائے گی۔‏

یسوع مسیح یہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے شاگرد کسی کے ساتھ لڑیں۔ اِس لئے اُنہوں نے کہا کہ اگر کوئی تمہیں تھپڑ مارے تو تمہیں اُس کو بدلے میں تھپڑ نہیں مارنا چاہئے۔ اگر ہم بھی لڑنے لگیں گے تو ہم میں اور اُس شخص میں کوئی فرق نہیں رہے گا جو ہمیں غصہ دلا رہا ہے۔ اِس لئے ہمیں لڑنا نہیں چاہئے۔‏

اگر آپ دیکھتے ہیں کہ معاملہ زیادہ بگڑ رہا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آپ کو وہاں سے چلے جانا چاہئے۔ شاید کوئی آپ کو اُکسانے کے لئے کئی بار آپ کو دھکے دے یا ٹکریں مارے۔ لیکن اگر آپ جواب میں کچھ نہیں کریں گے تو شاید وہ تھوڑی دیر بعد خود ہی آپ کا پیچھا چھوڑ دے۔ اگر آپ وہاں سے چلے جاتے ہیں تو اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ڈرپوک ہیں۔ صحیح کام کرنا آسان نہیں ہوتا ہے، اِس کے لئے ہمت چاہئے ہوتی ہے۔ اِس لئے آپ ڈرپوک نہیں ہیں۔‏

کچھ لڑکے ایک لڑکے سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ لڑکا وہاں سے جا رہا ہے۔‏

اگر کوئی ہم سے لڑنا چاہتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

اگر آپ کسی کے ساتھ لڑائی کرنے لگیں اور اُس سے جیت جائیں تو اِس کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ ہو سکتا ہے کہ وہ بدلہ لینے کے لئے اپنے کچھ دوستوں کو ساتھ لے آئے۔ شاید وہ آپ کو ڈنڈے یا چاقو سے ماریں اور آپ زخمی ہو جائیں۔ کیا اب آپ سمجھ گئے ہیں کہ یسوع مسیح نے کیوں کہا تھا کہ ہمیں لڑائی نہیں کرنی چاہئے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

اگر آپ دیکھتے ہیں کہ دو لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ کیا آپ کو اُن میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا چاہئے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آئیں، دیکھیں کہ امثال ۲۶ باب اور اُس کی ۱۷ آیت میں کیا کہا گیا ہے۔ اِس میں لکھا ہے:‏ ”‏جو راستہ چلتے ہوئے پرائے جھگڑے میں دخل دیتا ہے اُس کی مانند ہے جو کتّے کو کان سے پکڑتا ہے۔“‏

ایک لڑکے نے کتے کے کان پکڑے ہوئے ہیں اور کتا غصے سے غرا رہا ہے۔‏

اگر ہم کسی کی لڑائی میں پڑیں گے تو یہ کتّے کے کان پکڑنے کی طرح ہوگا۔ ایسا نہ کریں، آپ کو نقصان ہوگا۔‏

اگر آپ کتّے کے کان پکڑیں گے تو کیا ہوگا؟ اِس سے کتّے کو درد ہوگا اور وہ آپ کو کاٹنے کی کوشش کرے گا۔ کتا چھوٹنے کی جتنی زیادہ کوشش کرے گا، اُتنی ہی مضبوطی سے آپ کو اُس کے کان پکڑنے پڑیں گے۔ اگر آپ اُس کو چھوڑ دیں گے تو وہ آپ کو کاٹ لے گا۔ لیکن آپ ہمیشہ تو اُس کے کان پکڑ کر نہیں رکھ سکتے ہیں، ہے نا؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

اگر ہم دوسروں کی لڑائی میں پڑیں گے تو یہ ایسے ہی ہوگا جیسے ہم کتّے کے کان پکڑ رہے ہیں۔ شاید ہمیں پتہ نہ ہو کہ وہ لوگ آپس میں کیوں لڑ رہے ہیں اور اُن میں سے کس نے لڑائی شروع کی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ جس شخص کو مار پڑ رہی ہے، اُس نے چوری کی ہو۔ اگر ہم اُس کی مدد کریں گے تو اصل میں ہم ایک چور کی مدد کر رہے ہوں گے۔ اور یہ اچھی بات نہیں ہوگی۔‏

تو پھر جب آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اگر آپ سکول میں ہیں تو آپ اپنے اُستاد کو بلا سکتے ہیں۔ اگر آپ کسی اَور جگہ ہیں تو شاید آپ اپنے امی‌ابو یا کسی پولیس والے کو بتا سکتے ہیں۔ چاہے کچھ بھی ہو، ہمیں صلح‌پسند ہونا چاہئے اور کسی سے لڑائی‌جھگڑا نہیں کرنا چاہئے۔‏

ایک لڑکا اُس جگہ سے جا رہا ہے جہاں دو لڑکے آپس میں لڑ رہے ہیں جبکہ باقی لوگ کھڑے لڑائی کو دیکھ رہے ہیں۔‏

جب آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہئے؟‏

سچے مسیحی ہر طرح کے لڑائی‌جھگڑے سے باز رہتے ہیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن میں صحیح کام کرنے کی ہمت ہے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ یسوع مسیح کے شاگردوں کو ”‏جھگڑا نہیں کرنا چاہئے بلکہ سب کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہئے۔“‏—‏۲-‏تیمتھیس ۲:‏۲۴‏۔‏

ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ دوسروں سے ہماری لڑائی نہ ہو؟ آئیں، اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں:‏ رومیوں ۱۲:‏۱۷-‏۲۱‏؛ اور ۱-‏پطرس ۳:‏۱۰، ۱۱‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں