کہانی نمبر ۲۲
یوسف قیدخانے میں
جب سوداگر یوسف کو مصر لے گئے تو یوسف صرف ۱۷ سال کے تھے۔ وہاں ایک آدمی نے یوسف کو خرید لیا۔ اِس آدمی کا نام فوطیفار تھا۔ وہ مصر کے بادشاہ کے محل میں افسر تھے۔ مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے ہیں۔
یوسف بہت محنتی تھے۔ اِس لئے فوطیفار اُن سے بہت خوش تھے۔ پھر جب یوسف تھوڑے بڑے ہوئے تو فوطیفار نے اُن کو اپنے پورے گھر کی ذمہداری دے دی۔ لیکن ذرا تصویر کو دیکھیں۔ یوسف قید میں کیوں ہیں؟ یہ سب فوطیفار کی بیوی کی وجہ سے ہوا۔
یوسف بہت خوبصورت آدمی تھے۔ فوطیفار کی بیوی چاہتی تھیں کہ یوسف اُن کے ساتھ جنسی ملاپ کریں۔ لیکن یوسف جانتے تھے کہ ایسا کرنا غلط ہے۔ اِس لئے اُنہوں نے فوطیفار کی بیوی کی بات نہیں مانی۔ فوطیفار کی بیوی کو یوسف پر بہت غصہ آیا۔ پھر جب فوطیفار گھر آئے تو اُن کی بیوی نے اُن سے جھوٹ بولا۔ اُنہوں نے کہا کہ ”یوسف بہت بُرا ہے۔ اُس نے میری عزت لُوٹنے کی کوشش کی۔“ یہ سُن کر فوطیفار بہت غصے میں آ گئے اور اُنہوں نے یوسف کو قیدخانے میں ڈلوا دیا۔
قیدخانے کے افسر نے دیکھا کہ یوسف اچھے آدمی ہیں۔ اِس لئے اُنہوں نے یوسف کو باقی سب قیدیوں کی دیکھبھال کرنے کی ذمہداری دے دی۔ ایک دن فرعون نے غصے میں آکر ساقیوں کے سردار اور نان بنانے والوں کے سردار کو قید میں ڈلوا دیا۔ پھر ایک رات نان بنانے والے اور ساقی نے ایکایک خواب دیکھا۔ وہ بہت پریشان تھے کیونکہ وہ اپنے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے تھے۔ یوسف نے اُن سے کہا کہ ”مجھے اپنےاپنے خواب بتائیں۔“ پھر یوسف نے یہوواہ خدا کی مدد سے اُن کے خوابوں کا مطلب بتایا۔
یوسف نے ساقی سے کہا کہ ”تین دن کے بعد آپ آزاد ہو جائیں گے اور پھر سے فرعون کی خدمت کریں گے۔“ پھر یوسف نے اُس سے کہا کہ ”فرعون کو میرے بارے میں ضرور بتائیں تاکہ مَیں بھی اِس قیدخانے سے نکل سکوں۔“ اِس کے بعد یوسف نے نان بنانے والوں کے سردار کو بتایا کہ ”تین دن کے بعد فرعون آپ کا سر کٹوا دیں گے۔“
اور تین دن بعد ویسا ہی ہوا جیسا یوسف نے کہا تھا۔ فرعون نے نان بنانے والوں کے سردار کا سر کٹوا دیا۔ لیکن اُنہوں نے ساقیوں کے سردار کو قید سے آزاد کر دیا تاکہ وہ پھر سے اُن کی خدمت کریں۔ مگر ساقیوں کے سردار یوسف کو بھول گئے۔ اُنہوں نے فرعون کو یوسف کے بارے میں نہیں بتایا اور یوسف قید میں رہے۔