ذہنی دباؤ سے رِہائی
ذہنی دباؤ میں کیا ہوتا ہے؟
جب ہم کسی مشکل صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں تو ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہمارا پورا جسمانی نظام متاثر ہوتا ہے۔ ہمارا دماغ ہمارے جسم میں بہت سے ہارمون بھیجتا ہے جن کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے، پھیپھڑے پھیلنے یا سکڑنے لگتے ہیں اور پٹھے اکڑ جاتے ہیں۔ شاید ہمیں احساس نہ ہو لیکن ہمارا جسم دباؤ سے لڑنے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے۔ جب کوئی مشکل صورتحال ختم ہو جاتی ہے تو ہمارا جسم پہلے کی طرح کام کرنے لگتا ہے۔
فائدہمند اور نقصاندہ دباؤ
ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہمارے جسم میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ ایک فطری عمل ہے اور اِس کی شروعات ہمارے دماغ سے ہوتی ہے۔ اِس عمل کے ذریعے ہم مشکل یا خطرناک صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ دباؤ فائدہمند بھی ہو سکتا ہے اور نقصاندہ بھی۔ اچھی قسم کے دباؤ کی وجہ سے ہم فوراً قدم اُٹھا پاتے ہیں۔ ایسے دباؤ کی وجہ سے ہم اپنے منصوبے پورے کر پاتے ہیں یا فرق فرق صورتحال میں اچھی کارکردگی دِکھانے کی کوشش کرتے ہیں جیسے کہ اِمتحان کے دوران، نوکری کے لیے اِنٹرویو کے دوران یا کھیل کے دوران۔
لیکن اگر ایک شخص شدید ذہنی دباؤ یا لمبے عرصے تک ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے تو یہ اُس کے لیے نقصاندہ ہو سکتا ہے۔ جب اُس کا جسم مسلسل دباؤ سے لڑتا رہتا ہے تو اُس کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ اِس کے علاوہ دوسروں کے ساتھ اُس کا رویہ بدل سکتا ہے۔ شاید وہ ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے بہت زیادہ شراب پینے لگے، منشیات لینے لگے، سگریٹ پینے لگے، بہت زیادہ کھانے لگے یا دوسری بُری عادتوں میں پڑ جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ڈپریشن میں چلا جائے، شدید تھکاوٹ میں مبتلا رہے یا خودکُشی کے بارے میں سوچنے لگے۔
یہ سچ ہے کہ ذہنی دباؤ کا ہر کسی پر ایک جیسا اثر نہیں ہوتا۔ لیکن اِس کی وجہ سے بہت سی بیماریاں ہو سکتی ہیں اور جسم کا تقریباً ہر حصہ متاثر ہو سکتا ہے۔