بائبل کا نقطۂنظر
فنگ شوئے—کیا یہ مسیحیوں کیلئے جائز ہے؟
ایشیا میں اِس کے مطابق قبروں کیلئے جگہ منتخب کی جاتی ہے۔ اسکے مطابق عمارتوں کے نقشے بنتے اور اُنہیں آراستہ کِیا جاتا ہے۔ اسی کی بِنا پر املاک کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ چینی زبان میں اِسے فنگ شوئے کہتے ہیں جو دراصل علمِرمل یا فالگیری کی ایک قسم ہے۔ اگرچہ ایشیا میں فنگ شوئے کئی صدیوں سے مقبول ہے توبھی حالیہ برسوں میں اِسے مغربی ممالک میں مقبولیت حاصل ہونے لگی ہے۔ بعض معمار اسے فلکبوس عمارات، دفاتر اور گھر بنانے کے سلسلے میں استعمال کر رہے ہیں۔ بعض خواتین اِسے گھریلو سجاوٹ کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ درجنوں کتابیں اور انٹرنیٹ ویب سائٹس اسکی تعلیموتشہیر کو فروغ دیتے ہیں۔
اسکی مقبولیت میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟ اِسکے ایک حمایتی نے کہا کہ فنگ شوئے کا عمل ”معیارِزندگی، صحت، ازدواجی بندھن یا شراکت کو بہتر بنانے کے علاوہ دولت اور ذہنی سکون میں اضافہ“ بھی کر سکتا ہے۔ یہ ساری باتیں اچھی معلوم ہوتی ہیں مگر یہ ہے کیا اور مسیحیوں کو اِسے کیسا خیال کرنا چاہئے؟
یہ کیا ہے؟
چینی زبان کے الفاظ فنگ شوئے کا لغوی مطلب ”ہوا پانی“ ہے۔ فنگ شوئے کا آغاز بھی ہزاروں سال پہلے اُس وقت ہوا جب دیگر بہتیری مشرقی فیلسوفیاں فروغ پا رہی تھیں۔ ان میں ین اور یانگ (تاریکی اور روشنی، گرم اور سرد، منفی اور مثبت) میں توازن پر ایمان بھی شامل ہے۔ ین اور یانگ کا نظریہ ”کائے“ سے بھی وابستہ ہے جسکا لفظی مطلب ”ہوا“ یا ”سانس“ ہے۔ ین، یانگ اور کائے پانچ عناصر لکڑی، زمین، پانی، آگ اور دھات سے ملکر فنگ شوئے کے لازمی اجزا کو تشکیل دیتے ہیں۔ فنگ شوئے کو عمل میں لانے والے مانتے ہیں کہ ہر قطعۂاراضی میں توانائی کے خطوط ہوتے ہیں۔ اصل مقصد ایسے مقامات ڈھونڈنا ہے جہاں زمین اور آسمان کی توانائی یا کائے آپس میں متوازن ہوگی۔ اس مقصد کے حصول کیلئے زمین یا اس پر بنی ہوئی عمارت میں ردوبدل کِیا جاتا ہے۔ ایسے توازن کو پیدا کرنا اس قطعۂاراضی پر کام کرنے یا رہنے والوں کیلئے مبیّنہ خوشحالی کا باعث بنتا ہے۔
عموماً، فنگ شوئے کے ماہر ایک رمالی قُطبنما استعمال کرتے ہیں۔a یہ مقناطیسی قُطبنما ایک جوتشی چارٹ کے وسط میں لگا ہوتا ہے۔ یہ قُطبنما ہممرکز دائروں پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں مختلف خطوط قطع کرتے ہیں۔ رمالی قُطبنما میں ستاروں کے جھرمٹ، موسموں اور شمسی چکروں کی مدت کا حساب بھی ہوتا ہے۔ کسی زمین یا عمارت کا جائزہ لیتے وقت اس قُطبنما کو کئی مرتبہ استعمال کِیا جاتا ہے۔ فنگ شوئے کا ماہر دیکھتا ہے کہ قُطبنما کی سوئیاں بیرونی خطوط اور دائروں کو کن نکات پر قطع کرتی ہیں جس سے وہ تعیّن کرتا ہے کہ اُس جگہ کو ”درست“ کرنے کیلئے کیا کِیا جانا چاہئے۔
کسی جگہ میں توازن لانے کیلئے محلِوقوع، پانی کے ذخائر، سیوریج اور عمارت میں کھڑکیوں اور دروازوں کے مقام پر گہرا غوروخوض کِیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، کینیڈا میں ایک دکاندار اپنی دکان کے دروازوں کی حالت کو ”درست“ کرنے کیلئے اسکے عقبی دروازے پر شیشہ لٹکاتی ہے۔ اسی طرح رمال پودوں یا فرنیچر کو اِدھراُدھر منتقل کرنے، کوئی تصویر بدلنے، بادی گھنٹیاں لگانے یا گھر میں آبی پودے یا جانور رکھنے کا مشورہ دے سکتے ہیں تاکہ عمارت یا کمرے میں توازن پیدا کِیا جا سکے۔
مسیحی نظریہ
بہتیرے کُتبخانوں میں فنگ شوئے پر ایسی کتابیں دستیاب ہیں جن میں علمِنجوم اور قسمت کا حال بتانے والی تحریریں پائی جاتی ہیں۔ دراصل، ویبسٹرز نائنتھ نیو کالجیٹ ڈکشنری علمِرمل کی تعریف یوں کرتی ہے: ”اعداد، خطوط یا جغرافیائی معلومات سے غیبدانی کرنا۔“ (نسخ ہمارا۔) لہٰذا، یہ تسلیمشُدہ بات ہے کہ فنگ شوئے اور علمِرمل کی دیگر اقسام فالگیری اور قسمت کا حال بتانے سے وابستہ ہیں۔ ان میں غیبدانی اور ارواحپرستی شامل ہے جو نوعِانسان کیلئے کسی بھی طرح نئی نہیں ہیں۔
جب اسرائیلی مصر سے نکل کر بالآخر ۱۵ ویں صدی ق.س.ع. میں ملکِکنعان میں داخل ہوئے تو اِن دونوں ملکوں میں غیبدانی کا بڑا رواج تھا۔ خدا نے موسیٰ کی معرفت استثنا ۱۸:۱۴ میں فرمایا: ”وہ قومیں جن کا تُو وارث ہوگا شگون نکالنے والوں اور فالگیروں کی سنتی ہیں پر تجھ کو [یہوواہ] تیرے خدا نے ایسا کرنے نہ دیا۔“ مصر اور کنعان کی غیبدانی کی بیشتر اقسام قدیم بابلی اصل سے ہیں۔ جب یہوواہ نے بابل کے لوگوں کی زبان میں اختلاف ڈالا تو وہ اپنے گِردونواح کے علاقوں میں پھیل گئے اور بابلی غیبدانی اور ارواحپرستی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔—پیدایش ۱۱:۱-۹۔
یہوواہ نے اسرائیل کو باربار سختی سے آگاہ کِیا کہ وہ دوسروں کی طرح غیبدانی کے پھندے میں نہ پھنسیں۔ لہٰذا، اُس نے فرمایا: ”تجھ میں ہرگز کوئی . . . فالگیر یا شگون نکالنے والا یا افسونگر . . . [نہ ہو]۔ . . . کیونکہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں [یہوواہ] کے نزدیک مکروہ ہیں اور ان ہی مکروہات کے سبب سے [یہوواہ] تیرا خدا اُنکو تیرے سامنے سے نکالنے پر ہے۔“ (استثنا ۱۸:۹-۱۲؛ احبار ۱۹:۲۶، ۳۱) غیبدانوں اور فالگیروں کو ضرور ہلاک کر دیا جانا تھا۔—خروج ۲۲:۱۸؛ احبار ۲۰:۲۷۔
غیبدانی کی اتنی سخت مذمت کیوں کی گئی تھی؟ اعمال ۱۶:۱۶-۱۹ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت میں ”غیبدان رُوح“ تھی۔ جیہاں، غیبدانی کا تعلق شیاطینپرستی سے ہے۔ غیبدانی کی تمام اقسام شیطان اور اُسکے شیاطین سے منسلک ہیں! یہ روحانی تباہی کا باعث بن سکتی ہیں۔—۲-کرنتھیوں ۴:۴۔
زمین اور گھر کو آراستہ کرنے کے بعض شرقیوغربی مقبول طریقوں کی ابتدا شاید فنگ شوئے کی طرح جھوٹے مذاہب سے ہوئی ہو۔ تاہم، اکثراوقات ایسے طریقوں کو کوئی مذہبی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اسکے باوجود، مستقبل کا حال جاننے، اپنا نصیب سنوارنے یا مالودولت حاصل کرنے کیلئے فنگ شوئے کو استعمال کرنا خدائی شرح کی سنگین خلافورزی ہوگی۔ ایسا کرنا ”ناپاک“ چیزوں کو نہ چھونے کے سلسلے میں بائبل کے واضح حکم کا عدول ہوگا۔—۲-کرنتھیوں ۶:۱۴-۱۸۔
[فٹنوٹ]
a مغربی ممالک میں فنگ شوئے کے ماہرین نے اس میں سائنسی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض نے تو جغرافیائی مقام کے جائزے کیلئے کمپیوٹر کو بھی استعمال کِیا ہے۔
[صفحہ ۲۳ پر تصویر]
ایک رمالی قُطبنما
[تصویر کا حوالہ]
Pages 2 and 23: Hong Kong Tourism Board