چراپونجی—دُنیا کا سب سے زیادہ بارش والا علاقہ
انڈیا سے جاگو! کا رائٹر
دُنیا کا سب سے زیادہ بارش والا علاقہ؟ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ انڈیا میں پانی کی کافی قلّت ہے اور بیشتر اوقات آپکو چھتری کی ضرورت بھی نہیں پڑتی! ہم کس غیرمانوس علاقے کی بات کر رہے ہیں؟ یہ بنگلہدیش کی سرحد پر انڈیا کی شمالمشرقی ریاست میگھالیہ کا قصبہ چراپونجی ہے۔ میگھالیہ اسقدر خوبصورت ہے کہ اسے ”مشرقی سکاٹلینڈ“ کہا جاتا ہے۔ اسکے نام کا مطلب ہی ”بادلوں کا مسکن“ ہے۔ مگر عرصۂدراز سے چراپونجی کو دُنیا کا سب سے زیادہ بارش والا علاقہ کیوں خیال کِیا جاتا ہے؟ آئیے اس تجسّسانگیز قدرتی عجوبے کا مختصراً جائزہ لیں۔a
ہم اپنے سفر کا آغاز میگھالیہ کے داراُلحکومت شیلانگ سے کرتے ہیں۔ ٹورسٹ بس پر سوار ہو کر ہم جنوب کی جانب سفر کرتے ہیں۔ طویل پہاڑی سلسلوں اور وسیع سبزہزاروں سے گزرتے ہوئے ہم اپنے آگے برسنے کو تیار بادل دیکھتے ہیں جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ نام میگھالیہ بالکل موزوں ہے۔
ہماری سڑک بل کھاتی ہوئی درختوں سے چھپی گھاٹی کے کیساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ بہت بلندی سے آبشاریں وادی میں سے گزرنے والے دریا میں گر رہی ہیں۔ جب ہماری بس مادوک میں رُکتی ہے تو ہمیں نیچے بادل پہاڑیوں میں چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اچانک وہ تمام منظر کو آنکھوں سے اُوجھل کر دیتے ہیں مگر پھر جلدی سے ہٹ جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر کیلئے تو ہم بھی ان بادلوں میں گِھر جاتے ہیں گویا کوئی سفید چادر ہمیں نظروں سے اُوجھل کر دیتی ہے۔ تاہم، کچھ ہی دیر میں، بادل اُڑ جاتے ہیں اور سورج کی کرنیں دمبخود کر دینے والے منظر کو روشن کر دیتی ہیں۔
چراپونجی سطحسمندر سے ۴،۰۰۰ فٹ کی بلندی پر ہے۔ جب ہم قصبے میں پہنچتے ہیں تو برسنے والے بادل کا کہیں دُور دُور تک نامونشان نہیں ہے اور کسی کے پاس چھتری بھی نہیں ہے۔ صرف ہم سیاح ہی بارش کیلئے تیار ہیں! پس بارش کب ہوتی ہے؟
جب سورج سمندر کے گرم حصوں سے بڑی مقدار میں پانی کو بخارات میں تبدیل کر دیتا ہے تو حاری علاقوں میں شدید بارش ہوتی ہے۔ جب بحرِہند سے مرطوب ہوائیں کوہِہمالیہ کی جنوبی ڈھلوانوں سے ٹکرانے کے بعد اَور زیادہ بلندی پر چلی جاتی ہیں تو وہ طوفانی بارش کی صورت میں اپنا بوجھ ہلکا کرتی ہیں۔ سب سے زیادہ بارش میگھالیہ کی سطحمرتفع پر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، چونکہ یہ اُونچا علاقہ سارا دن حاری سورج کے زیرِعتاب ہوتا ہے اسلئے برساتی بادل اُس وقت تک اس جگہ پر منڈلاتے رہتے ہیں جبتک شام کے وقت ہوا ٹھنڈی نہیں ہو جاتی۔ اس سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ رات ہی کو زیادہ بارش کیوں ہوتی ہے۔
جولائی ۱۸۶۱ میں چراپونجی میں ۹۳۰ سینٹیمیٹر بارش ہوئی! اسکے علاوہ یکم اگست، ۱۸۶۰ سے لیکر جولائی ۳۱، ۱۸۶۱ تک ۱۲ مہینوں کے دوران ۲،۶۴۶ سینٹیمیٹر بارش ہوئی۔ آجکل چراپونجی میں سال میں اوسطاً ۱۸۰ دن بارش ہوتی ہے۔ جون سے ستمبر تک شدید بارش ہوتی ہے۔ چونکہ زیادہتر بارش رات کو ہوتی ہے لہٰذا سیاح بارش میں بھیگے بغیر دلکش مناظر سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں۔
یہ بات ناقابلِیقین ہے کہ اتنی زیادہ بارش کے باوجود اس علاقے میں پانی کی قلّت ہو سکتی ہے۔ تاہم، موسمِسرما میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ مونسون کی بارشیں کہاں ہوتی ہیں؟ چراپونجی کے گردونواح میں وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے بارش کا پانی اس سطحمُرتفع سے وادی کے دریاؤں میں چلا جاتا ہے جنکا رُخ بنگلہدیش کی طرف ہے۔ ندینالوں پر بند باندھنے اور پانی ذخیرہ کرنے کے پروجیکٹس پر غور کِیا جا رہا ہے۔ مگر میسنرام کے قبائلی بادشاہ، جی. ایس. ملنجیانگ کے مطابق، ”پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی سے کچھ نہیں کِیا جا رہا۔“
چراپونجی کی سیر یقیناً خوشگوار اور معلوماتی ثابت ہوئی ہے۔ اس علاقے کے نظارے کیا ہی دمبخود کر دینے والے ہیں! اس کے علاوہ یہاں خوبصورت پھول بھی ہیں جن میں ۳۰۰ اقسام کے سحلبیے اور آدمخور پچر پلانٹ کی منفرد قسم بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنگلی جانوروں کی مختلف اقسام بھی یہاں پائی جاتی ہیں اور تحقیقوتفتیش کے شائقین کے لئے چونے کے پتھر کی غاریں اور کلاںسنگ بھی ہیں۔ اس علاقے میں کثرت سے پائے جانے والے سنگتروں کے باغات رسیلے پھل پیدا کرنے کے علاوہ سنگتروں کے شہد کی قدرتی پیداوار کو بھی ممکن بناتے ہیں۔ یہ سب کچھ میگھالیہ یعنی ”بادلوں کے مسکن“ اور دُنیا کے سب سے زیادہ بارش والے علاقے، چراپونچی میں سیاحوں کی آمد کا منتظر ہے۔
[فٹنوٹ]
a ہوائی کے جزیرے کوائی پر کوہِوالیل اور چراپونجی سے تقریباً ۱۶ کلومیٹر دُور میسنرام میں بعضاوقات چراپونجی کی نسبت زیادہ بارش ہوئی ہے۔
[صفحہ ۲۲ پر نقشہ]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
انڈیا
چراپونجی
[تصویر کا حوالہ]
.Mountain High Maps® Copyright © 1997 Digital Wisdom, Inc
[صفحہ ۲۳ پر تصویر]
آدمخور پچر پلانٹ کی یہ قسم دُنیا کے صرف اسی خطے میں پائی جاتی ہے
[صفحہ ۲۳ پر تصویر]
آبشاریں وادی سے گزرنے والے دریا میں گِرتی ہیں
[تصویر کا حوالہ]
Photograph by Matthew Miller