بنجر علاقے کو زرخیز بنانا
بھارت میں جاگو! کا رائٹر
بھارت کے شمالی علاقے، لداخ کی بنجر زمین کو کیسے پھلدار بنایا جا سکتا ہے؟ ایک ریٹائرڈ سول انجینیئر، چیوانگ نورفل کے ذہن پر یہی سوال سوار تھا۔ اپریل میں بارش بہت کم ہوتی ہے جبکہ کسانوں کو اپنے کھیتوں کی آبیاری کیلئے پانی کی سخت ضرورت پڑتی ہے۔ کوہِہمالیہ کی انتہائی بلندی پر واقع گلیشیرز کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ جون میں پگھلنے لگتے ہیں۔ نورفل نے اس مسئلے کا ایک عمدہ حل نکالا: کم بلندی والی جگہوں پر مصنوعی گلیشیرز بنائے جائیں جہاں سے برف سال کے شروع میں پگھلنے لگے گی۔
بھارتی نیوز میگزین دی ویک کے مطابق، نورفل اور اُس کے ساتھیوں نے ایک پہاڑی ندی کا رُخ ۷۰ مخرجوں والے ۲۰۰ میٹر لمبے ایک مصنوعی راستے کی طرف موڑنے کا بیڑا اُٹھایا۔ اُن میں سے پانی کم رفتار سے بہتا ہوا نیچے آئے گا اور پشتی دیواروں تک پہنچنے سے پہلے ہی منجمد ہو جائیگا۔ برف آہستہ آہستہ دیواروں پر جم کر مصنوعی گلیشیر بن جائیگی۔ پہاڑ کے سائے میں ہونے کی وجہ سے گلیشیر اپریل میں درجۂحرارت بڑھنے سے پگھل کر پانی مہیا کرے گا جسکی اُس وقت آبیاری کیلئے اشد ضرورت پڑتی ہے۔
کیا مصنوعی گلیشیر بنانے کا یہ خیال کامیاب ثابت ہوا؟ درحقیقت نورفل کا منصوبہ اسقدر عملی ثابت ہوا کہ لداخ میں ایسے دس گلیشیر بنائے جا چکے ہیں اور مزید پر کام جاری ہے۔ ایک ایسا ہی گلیشیر، ۴،۵۰۰ فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے جو تقریباً نو ملین گیلن پانی فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اس پر کتنی لاگت آتی ہے؟ دی ویک کے مطابق، ”ایک مصنوعی گلیشیر کی تعمیر میں تقریباً دو مہینے اور ۸۰،۰۰۰ روپے [۱،۸۶۰ ڈالر] لگتے ہیں جس میں سے زیادہتر رقم اُجرت پر خرچ ہوتی ہے۔“
اگر انسانی مہارتوں کو صحیح مقاصد کیلئے استعمال کِیا جائے تو یہ واقعی مفید ثابت ہوتی ہیں۔ ذرا سوچیں کہ خدا کی آسمانی بادشاہت کی راہنمائی میں نوعِانسان کیا کچھ کرنے کے قابل ہونگے! بائبل کا وعدہ ہے: ”بیابان اور ویرانہ شادمان ہونگے اور دشت خوشی کریگا اور نرگس کی مانند شگفتہ ہوگا۔ . . . بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھوٹ نکلینگی۔“ (یسعیاہ ۳۵:۱، ۶) اپنی زمین کے حسن کو نکھارنے میں شریک ہونا کتنا مسرتبخش ہوگا!
[صفحہ ۳۱ پر تصویروں کے حوالہجات]
.Mountain High Maps® Copyright © 1997 Digital Wisdom, Inc
Arvind Jain, The Week Magazine