یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏10/‏99 ص.‏ 24-‏27
  • معیاری کافی درخت سے آپکی پیالی تک

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • معیاری کافی درخت سے آپکی پیالی تک
  • جاگو!‏—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہ کہاں سے آتی ہے؟‏
  • معیاری کافی کی کاشت
  • درجہ‌بندی
  • آمیزش اور بھوننا
  • ‏’‏من‌پسند کپ‘‏ تیار کرنا
  • کافی کا سفرنامہ
    جاگو!‏—‏2006ء
  • کیا کافی آپکے کولیسٹرول میں اضافہ کر رہی ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2000ء
جاگو!‏—‏1999ء
جاگو 8/‏10/‏99 ص.‏ 24-‏27

معیاری کافی درخت سے آپکی پیالی تک

برازیل میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

فن‌لینڈ کے باشندے اسے اپنا قومی مشروب کہتے ہیں۔ بیشتر اطالوی لوگوں کیلئے اسے تیار کرنا معمول کی بات ہے۔ فرانس، جرمنی، میکسیکو، ریاستہائے متحدہ اور کئی دیگر ممالک میں یہ ناشتے کا جزوِلازم ہے۔ چائے کے بعد، یہ دُنیا کا پسندیدہ مشروب ہے۔ یہ کیا ہے؟ دُنیا کی تقریباً ایک تہائی کا صرف ایک ہی جواب ہو سکتا ہے—‏کافی!‏

اس سے قطع‌نظر کہ آپ ذاتی طور پر اس کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں، کافی کی مقبولیت سے کسی کو انکار نہیں۔ معیاری کافی دستیاب کرنے میں کیا کچھ شامل ہوتا ہے؟ یہ کہاں اُگتی ہے؟ اس کی پیداوار کیسے ہوتی ہے؟ کیا کافی کی اقسام میں واقعی کوئی نمایاں فرق پایا جاتا ہے؟ کونسے عوامل اس کے معیار، ذائقے اور قیمت پر اثرانداز ہوتے ہیں؟‏

یہ کہاں سے آتی ہے؟‏

کافی کا سدابہار درخت نیم‌حاری خطوں میں اُگتا ہے جس کے پتے گہرے سبز اور چمکیلے ہوتے ہیں، اس کے بیجوں کو بھون کر کافی تیار کی جاتی ہے۔ یہ درخت اپنے جوبن پر سفید کلیوں سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے جن سے چنبیلی کے پھولوں کی مہک آتی ہے۔ صرف چند دن بعد اِن پھولوں کی جگہ چیری‌نما سبز پھلوں کے گچھے آ جاتے ہیں جو رفتہ رفتہ بڑھنے لگتے ہیں اور پوری طرح پکنے کے وقت تک سبز سے سنہری‌بادامی، سُرخ یا زرد مختلف رنگت اختیار کرتے ہیں۔‏

کافی کے درختوں کی تقریباً ۷۰ مختلف اقسام ہیں جن میں پست‌قامت جھاڑیاں اور ۴۰ فٹ لمبے درخت شامل ہیں لیکن عالمی پیداوار کا تقریباً ۹۸ فیصد حصہ ان میں سے صرف دو اقسام کافیا عربیکا یا صرف عربیکا اور کافیا کینفورا سے آتا ہے جسے روبسٹا بھی کہا جاتا ہے۔ عربیکا اقسام والی کافی نفیس‌ترین ہیں بالخصوص وہ جو بلند مقامات پر اُگتی ہیں۔ یہ درخت ۱۴ تا ۲۰ فٹ کی بلندی تک اُگتے ہیں اگرچہ انہیں عام طور پر تقریباً ۱۲ فٹ کی بلندی تک رکھنے کیلئے تراش دیا جاتا ہے۔ روبسٹا اکثر فوری حل ہو جانے والی کافی کیلئے استعمال کِیا جاتا ہے جس میں کیفین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ‌تر پھیکی ہوتی ہے۔‏

معیاری کافی کی کاشت

معیاری کافی کی پیداوار میں کیا کچھ شامل ہے؟ ایک لفظ میں، محنت!‏ اس کام کا آغاز ایک ایسی نرسری میں بالخصوص پیوندی بیجوں کی کاشت سے ہوتا ہے جو درست مقدار میں دھوپ اور سایہ فراہم کرنے کیلئے تیار کی جاتی ہے۔ تقریباً چھ ماہ بعد، پنیری کو کھیت میں منتقل کِیا جاتا ہے جس کی مٹی کھاد اور معدنیات کیساتھ تیار کی گئی ہے۔ کافی کی پنیری کو ڈھلوانی کیاریوں میں بویا جاتا ہے۔ نشوونما اور درختوں اور زمین کی دیکھ‌بھال اور کٹائی کو سہل بنانے کیلئے ان میں وقفہ دیا جاتا ہے۔‏

درختوں کو پھلدار بنانے کے لئے ان پر سارا سال مسلسل توجہ دی جانی چاہئے۔ اس میں زمین کی غذائیت کو چھیننے والی جڑی بوٹیاں صاف کرنا اور سیم سنڈی جیسے کیڑےمکوڑوں اور کافی پھپھوندی جیسی بیماریوں کو ختم کرنے کے لئے فطرکش اور حشرات‌کش ادویات کا باقاعدہ چھڑکاؤ شامل ہے۔‏

ننھے پودوں کے پھل لانے میں کم‌ازکم دو سال لگتے ہیں۔ جب کٹائی کا وقت آتا ہے تو کام ڈرامائی طور پر بڑھ جاتا ہے۔ صرف پکے ہوئے دانوں کو ایک ایک کر کے ہاتھوں سے توڑنا بہترین طریقہ ہے جسے کولمبیا اور کوسٹاریکا میں بھی استعمال کِیا جاتا ہے۔‏

اس طرح سے حاصل ہونے والے دانوں کو ایک خاص عمل سے گزارا جاتا ہے جسے ویٹ پروسس (‏ترطریقہ)‏ کہتے ہیں۔ اس عمل میں دانوں کو گودا نکالنے والی مشین میں رکھا جاتا ہے جو زیادہ‌تر بیجوں کا گودا نکالتی ہے۔ اس کے بعد بیجوں کو ایک سے تین دن کے لئے ڈبوں میں رکھا جاتا ہے جس کے دوران قدرتی طور پر پیدا ہونے والے انزایم عملِ‌تخمیر کے ذریعے بچاکھچا گودا بھی نکال لیتے ہیں۔ بعدازاں بیجوں کو دھویا جاتا ہے تاکہ اگر کچھ گودا پھربھی رہ گیا ہے تو اُسے بھی نکال لیا جائے۔ کچھ بیجوں کو پکی چھتوں یا میزوں پر دھوپ میں ڈالنے اور کچھ کو گرم ہوا والے ڈرائیر سے گزارنے سے سکھایا جاتا ہے۔ اس کے بعد نقرئی رنگت والے چھلکے کو مشین کیساتھ بیج پر سے اُتار دیا جاتا ہے۔ پکے ہوئے دانوں کو ویٹ پروسس سے گزارنے کے دوران واقع ہونے والے عملِ‌تخمیر سے اعلیٰ معیار کی ہلکی کافی پیدا ہوتی ہے۔‏

دُنیا میں سب سے زیادہ کافی پیدا کرنے والے ملک برازیل میں کافی کاشت کرنے والے بیشتر لوگ کٹائی کے لئے مقبول طریقہ ڈیریکا استعمال کرتے ہیں۔ اس میں تمام دانوں کو خواہ پکے ہوں یا کچے ایک ہی وقت میں ہاتھ سے توڑ لیا جاتا ہے۔ حالیہ وقتوں میں بعض صنعت‌کار معیار اور پیداوار بڑھانے کی غرض سے کٹائی کرنے کے مشینی یا نیم‌مشینی طریقوں کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ ایک طریقے میں ہوائی دباؤ والے دستی آلے کو استعمال کِیا جاتا ہے جس کے لمبے بازو کے سرے پر تیز ”‏نوکیں“‏ لگی ہوتی ہیں جو شاخوں کو ایسے ہلاتی ہیں کہ صرف پکے ہوئے دانے ہی زمین پر گرتے ہیں۔‏

گرے ہوئے دانوں کو ہاتھ یا مشین سے جمع کِیا جانا اور چُنا جانا چاہئے تاکہ ان میں پتے، گندگی یا تنکے نہ رہیں۔ اس کے بعد دانوں کو ۶۰ لیٹر کی گنجائش والے بڑے ٹوکروں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ چنے ہوئے دانوں کو کنکریٹ کے حوض یا اس مقصد کیلئے بنائی گئی مشین میں دھویا جاتا ہے۔ دھلائی والا عمل پکے ہوئے دانوں کو گلنے سڑنے والے پُرانے خشک دانوں سے علیٰحدہ کرتا ہے۔‏

دھونے کے بعد، کافی کو ۱۵ تا ۲۰ دنوں کیلئے خشک کرنے کی خاطر کنکریٹ کے بہت بڑے چھت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس وقت کے دوران، دانوں کو تقریباً ہر ۲۰ منٹ کے بعد اُلٹایا جاتا ہے تاکہ وہ ہر طرف سے ایک جیسا خشک ہوں۔ بعض‌اوقات خشک کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے کیلئے مشینی ڈرائیر استعمال کئے جاتے ہیں۔ کافی میں نمی کی وقتاًفوقتاً جانچ کی جانی چاہئے تاکہ اسے حد سے زیادہ خشک نہ کر دیا جائے کیونکہ اس سے دانے خستہ ہوکر ٹوٹ جائینگے اور یوں ان کی کوئی قدر نہیں رہیگی۔ جب نمی ۱۱ سے ۱۲ فیصد کے معیاری درجے تک پہنچ جاتی ہے تو مشین کی مدد سے کافی کو چھلکے سے نکال لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بیجوں کو ۶۰ کلوگرام کی پٹ‌سن کی بوریوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس مقام پر کافی کو عام طور پر کوآپریٹو میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں اس کی درجہ‌بندی کی جاتی ہے اور کچھ اَور مخصوص عوامل سے گزارا جاتا ہے۔‏

درجہ‌بندی

کوآپریٹو پر ٹرکوں سے کافی کے تھیلے ایک ایک کرکے اُتارے جاتے ہیں۔ تھیلوں کو نیچے رکھنے سے پہلے مزدور ایک شخص کے پاس سے گزرتے ہیں جو ہر تھیلے میں ایک لمبا نوکدار اوزار ڈالتا ہے اور اس میں سے تھوڑا سا سیمپل نکال لیتا ہے۔ اسی ٹرک کے تمام تھیلوں سے نکالے گئے سیمپل کو ملا کر ایک سیمپل بنایا جاتا ہے جس پر لیبل لگا کر اس کی درجہ‌بندی کی جاتی ہے۔‏

ایک مرتبہ جب سیمپل لے لئے جاتے ہیں تو مختلف ٹرکوں کی بوریوں سے لی جانے والی کافی کو یکجا کر لیا جاتا ہے اور اس کی معیار کو بہتر بنانے کیلئے مزید عمل سے گزارا جاتا ہے۔ اسے پہلے گندگی صاف کرنے والی مشین سے، پھر سائز کے مطابق علیٰحدہ کرنے والی مشینی چھلنی سے گزارا جاتا ہے اور اس کے بعد ایک مرتعش میز پر رکھا جاتا ہے جو انہیں وزن کے اعتبار سے علیٰحدہ‌علیٰحدہ کرتا ہے۔ اس کے بعد سیم کو ایک ایسی برقی مشین سے گزارا جاتا ہے جو کشیدہ کی ہوئی کافی کے ذائقہ کو خراب کرنے والی سیاہ یا سبز دانوں کو نکال دیتی ہے۔ باقی بچی ہوئی کافی ذخیرہ خانوں میں پہنچائی جاتی ہے اور بعدازاں تھیلوں میں ڈال دی جاتی ہے۔ اب ان تھیلوں میں یکساں سائز اور معیار کے دانے ہوتے ہیں جو برآمد کرنے والوں یا مقامی خریداروں کو فروخت کئے جانے کیلئے تیار ہیں۔‏

پہلے حاصل کئے جانے والے سیمپل کس مصرف میں آتے ہیں؟ ان کی درجہ‌بندی سے قیمت کا تعیّن کیا جاتا ہے جو ہر کاشتکار کو اس کی کافی کے بدلے میں ملیگی۔ سب سے پہلے تو دس اونس کے سیمپل میں نقائص کی مقدار کے حساب سے اُنکی درجہ‌بندی کی جاتی ہے۔ نقائص میں سیاہ، سبز یا خستہ دانے اور بھوسی، تنکے اور کنکر جیسی گندگی شامل ہوتی ہے۔ اس کے بعد دانوں کو سلسلہ‌وار چھلنی سے گزار کر حجم کے حساب سے علیٰحدہ کر لیا جاتا ہے۔‏

آخرکار ذائقے کی جانچ کا مرحلہ آتا ہے۔ سیمپل کو ہلکا سا بھون کر پیس لیا جاتا ہے اور اسکا کچھ حصہ کئی گلاسوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پھر اس میں اُبلا ہوا پانی ملا کر اجزاء کو ہلایا جاتا ہے اور تجربہ‌کار چکھنے والا ہر سیمپل سے اُٹھنے والی مہک سونگھتا ہے۔ سیمپل ٹھنڈا ہونے اور تلچھٹ بیٹھنے کے بعد وہ ایک چمچ سے کچھ سیمپل نکال کر گھونٹ بھرتا ہے اور جلدی سے تھوک دیتا ہے اور پھر تیزی سے اگلے گلاس پر جا کر یہی عمل دہراتا ہے۔ تمام سیمپل چکھنے کے بعد وہ ہلکی (‏خوشگوار، لطیف، تقریباً شیریں)‏ اور کڑوی (‏تیز، آیوڈین جیسے ذائقے والی)‏ کافی کی درجہ‌بندی کرتا ہے۔‏

ذائقے کی تیز حس کے علاوہ چکھنے والے کے پاس کافی کے بہتیرے مغالطہ‌آمیز ذائقوں میں امتیاز کرنے کیلئے خاصہ علم اور تجربہ بھی ہونا چاہئے۔ کافی کی قیمت طے کرنے کا بنیادی عنصر ہونے کیساتھ ساتھ چکھنے کا عمل معیاری کافی پیدا کرنے کے اگلے مرحلے کیلئے بھی بہت ضروری ہے۔‏

آمیزش اور بھوننا

آمیزش کیلئے عموماً خام دانے استعمال کئے جاتے ہیں، یہ دلکش ذائقے اور خوشبو والی معیاری مصنوع تیار کرنے کے لئے تکمیلی خصوصیات والی مختلف اقسام کی کافی کو ملانے کا فن ہے۔ آمیزش کرنے پر معمور لوگوں کیلئے بے‌مثال خوبیوں والا خوش‌ذائقہ مشروب تیار کرنے کی خاطر تمام اجزاء کی مقدار کو یکساں رکھنا واقعی ایک چیلنج ہوتا ہے۔‏

اس کے بعد بھوننے کا اگلا قدم بھی کافی کے معیار کیلئے نہایت ضروری ہے۔ اس مرحلے کے دوران امتیازی کافی کی خوشبو خارج کرتے ہوئے دانے کے اندر پیچیدہ کیمیائی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ ذائقے اور کشیدہ کرنے کیلئے استعمال کئے گئے طریقۂ‌کار کے حساب سے بھوننے کا عمل ہلکا، درمیانہ یا طویل ہو سکتا ہے۔ تاہم، حد سے زیادہ بُھنائی خوشبودار تیل کے نقصان کے سبب سے دانے کی شکل چمکدار بنا سکتی ہے۔ یہ کم خوشبو والی کڑوی کافی پر منتج ہوتا ہے۔‏

اعلیٰ معیار والی کافی بنانے کیلئے مناسب پسائی بھی لازمی ہے۔ پسائی کی حد کا تعیّن بھی کشیدہ کرنے کیلئے استعمال ہونے والے طریقے سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، درمیانی پسائی اس کافی کیلئے استعمال کی جاتی ہے جس کی تیاری میں کپڑا یا پیپر فلٹر استعمال ہوتا ہے جبکہ عمدہ پسائی تُرکی کافی کیلئے استعمال ہوتی ہے جسے فلٹر نہیں کِیا جاتا۔‏

پسائی کے بعد کافی کو پیک کرکے ترسیل کر دیا جاتا ہے۔ پلاسٹک میں پیک کی ہوئی کافی ۶۰ دن تک چلتی ہے جبکہ ہوابند ڈبوں میں پیک کی ہوئی کافی ایک سال تک چلتی ہے۔ کھلنے کے بعد کافی کو سیل ڈبوں میں، ترجیحاً ریفریجریٹر میں رکھا جانا چاہئے۔‏

‏’‏من‌پسند کپ‘‏ تیار کرنا

کاشتکاری، کٹائی، تیاری، درجہ‌بندی، آمیزش، بُھنائی اور پسائی کے تمام کام کے بعد اب ہم آخرکار اس حصے پر آتے ہیں جس کے آپ منتظر ہیں—‏’‏من‌پسند کپ‘‏ تیار کرنا!‏ کشیدہ کرنے کے مختلف طریقہ‌کار ہیں جیسے کہ ٹرکش، آٹومیٹک ڈرپ اور اطالوی موکہ، وغیرہ وغیرہ—‏ہر ایک کی تیاری کا طریقہ مختلف ہے۔ تاہم، عام طور پر یہ سفارش کی جاتی ہے کہ آپ چھ تا آٹھ کھانے کے چمچ فی لیٹر پانی میں استعمال کریں۔ ایک وقت میں جتنی آپ پیش کرنا چاہتے ہیں اُتنی ہی تیار کریں۔ کافی کے دانوں کو دوبارہ استعمال نہ کریں اور ہمیشہ کافی کی کیتلی، فلٹر ہولڈر اور دیگر برتن استعمال کے فوراً بعد دھویں۔‏

اگلی مرتبہ جب آپ اپنی پسندیدہ کافی کا مزہ اور خوشبو لینے بیٹھیں تو خواہ یہ برازیلی کیفزینو ہو کولمبیا کی ٹنٹو ہو، اطالوی ایس‌پریسو ہو یا آپ کی کوئی اپنی پسندیدہ کافی ہو تو کیوں نہ لمحہ‌بھر کیلئے رُکیں اور سوچیں کہ اس معیاری کافی کو درخت سے آپ کی پیالی تک پہنچانے کیلئے کتنی سخت محنت کی گئی ہے۔‏

‏[‏صفحہ 24 پر تصویر]‏

نرسری میں پنیری درست مقدار میں دھوپ اور سایہ حاصل کرتی ہے

‏[‏صفحہ 24 پر تصویر]‏

کافی کے بڑے درختوں کے جُھنڈ

‏[‏صفحہ 25 پر تصویر]‏

کافی کے دانوں کو شاخوں سے توڑ کر جمع کر لیا جاتا ہے

‏[‏صفحہ 25 پر تصویر]‏

برازیلی کٹائی کرنے والا پتوں اور گندگی کو نکالنے کیلئے ہاتھ سے دانے چھانٹ رہا ہے

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

دس اونس دانوں میں نقائص کی مقدار کے حساب سے سیمپلوں کی درجہ‌بندی کی جاتی ہے

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

چکھنے والے کے پاس بہت زیادہ تجربہ ہونا چاہئے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں