کوہی ابابیل تیزپرواز پرندہ
کینیا میں ”جاگو!“ کے مراسلہنگار سے
زمین کی ایک تیزرفتار مخلوق اپنے درانتینما پروں کیساتھ ہوا میں سبکرفتاری سے اُڑتی ہے۔ اس پرندے کا وزن تو محض چند اونس ہے مگر یہ آسمان میں نہایت تیزرفتاری سے پرواز کر سکتا ہے۔ ”کوہی ابابیل کو ۱۶۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑنے کا اعزاز حاصل ہے،“ دی انسائکلوپیڈیا امریکانا بیان کرتا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کیڑےمکوڑوں کی تلاش میں زمین سے کافی بلندی پر پرواز کے دوران تیزرفتاری سے پہلو کے بل گھومنے اور مڑنے میں کوہی ابابیلوں کو کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ کوہی ابابیل دیگر پرندوں کی نسبت زیادہ فضا میں رہتی ہیں اور کھانا، پینا، گھونسلے کیلئے سامان جمع کرنا حتیٰکہ نسلکشی کیلئے ساتھی سے ملاپ بھی پرواز کے دوران ہی ہوتا ہے۔ یہ اُڑنے میں اتنا زیادہ وقت صرف کرتی ہیں کہ قدیم وقتوں کے بعض مشاہدین کا خیال تھا کہ کوہی ابابیل آسمان پر بادلوں میں ہی کسی نادیدہ مقام پر بسیرا کرتی ہیں۔ بعض کوہی ابابیلیں سال میں نو مہینوں تک ہوا میں اُڑ سکتی ہیں۔ یہ حیرانکُن چھوٹے پرندے دورانِپرواز سو بھی جاتے ہیں!
پرواز کیلئے تخلیقکردہ
کوہی ابابیلیں ہوائی حرکیات کا عجوبہ ہیں۔ ان کے ہلالی شکل کے پَر پیچھے کی طرف مڑے ہوتے ہیں اور ہوا کے دباؤ کو بڑی حد تک کم کر دیتے ہیں جو بیشتر پرندوں کی پرواز کو سُست کر دیتا ہے۔ جب یہ اُونچائی پر ہوتی ہیں تو تیز، سطحی پھڑپھڑاہٹ اور نوبتی کھسلواں حرکت کے ذریعے رفتار کو بڑھاتی ہیں۔
اُنکی غیرمعمولی حرکتپذیری کی وجہ بڑی حد تک دورانِپرواز ایک پَر کو دوسرے کی نسبت زیادہ تیزی سے پھڑپھڑانا ہے۔ پَروں کو ایک مخصوص طریقے سے ذرا ہٹ کر پھڑپھڑانا کوہی ابابیلوں کو رفتار میں کمی کئے بغیر مڑنے کے قابل بناتا ہے۔ اس سے وہ کسی اُڑتے ہوئے کیڑےمکوڑے کے گِرد بڑی تیزی کیساتھ گھومنے اور اُسے ہڑپ کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ اپنی تیزرفتار زندگی کیلئے توانائی کے کثیر تقاضوں کو پورا کرنے کی غرض سے کوہی ابابیلیں کیڑےمکوڑوں کی بھاری تعداد کو کھاتی ہیں۔ لہٰذا یہ پھرتیلے پرندے کیڑےمکوڑوں کی تلاش میں ایک دن کے اندر سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر سکتے ہیں۔
کوہی ابابیلوں کی معمولی وضعقطع اُنکی پرواز کی غیرمعمولی مہارتوں کے بالکل برعکس ہے۔ نر اور مادہ دونوں جاذبِتوجہ نہیں ہوتے اور اُن میں سے بیشتر ہلکے خاکستری یا بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ دُنیا بھر میں کوہی ابابیلوں کی کئی ایک اقسام پائی جاتی ہیں لیکن اِن میں سے بیشتر اقسام حاری اور نیم حاری علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ موسمِسرما کے دوران نصفکرۂ شمالی میں رہنے والی ابابیلیں ہزاروں کلومیٹر دُور گرم آبوہوا والے علاقوں میں نقلمکانی کر جاتی ہیں۔
گلو سے بنے گھونسلے
کوہی ابابیلیں اپنے گھونسلے بنانے کیلئے ایک انتہائی خلافِقیاس چیز—اپنا لعاب—استعمال کرتی ہیں! خاص لعابی غدود سے وہ بھاری مقدار میں لعاب پیدا کر سکتی ہیں جو گھونسلے کیلئے درکار اشیاء کو جوڑنے کے کام آتا ہے۔
کوہی ابابیلیں شاذونادر ہی زمین پر اُترتی ہیں اور وہ دوسرے پرندوں کی طرح بسیرا نہیں کر سکتیں۔ اُن کے پاؤں بہت چھوٹے اور آنکڑانما ہوتے ہیں اور ٹانگوں کی لمبائی اسقدر کم ہوتی ہے کہ پرندہ کھڑا ہوکر صحیح طور پر پَروں کو پھڑپھڑا بھی نہیں سکتا۔ تاہم، اُنکے پاؤں چٹانوں، غاروں اور عمارتوں کی دیواروں جیسی عمودی سطح کیساتھ چمٹ جانے کیلئے نہایت موزوں ہوتے ہیں۔ جب گھونسلا بنانے کا وقت آتا ہے تو کوہی ابابیل دوسرے پرندوں کی طرح زمین سے پتے، تنکے یا مٹی جمع نہیں کرتی۔ اسے کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔
چمنی ابابیل کسی کونپل کو گرفت میں لیکر اسے اپنی حرکت کی قوت سے توڑتی ہے اور یوں تیزی کیساتھ شاخدرشاخ اُڑتے ہوئے چھوٹی چھوٹی کونپلیں جمع کرتی ہے۔ اسکے بعد وہ کونپلوں کو عمودی رُخ پر اپنے لیسدار لعاب کے ذریعے جوڑتی ہے۔ امریکی پام کوہی ابابیل ہوا میں اُڑتے ہوئے بال، پَر، روئی کے ٹکڑے اور دیگر ہلکی پھلکی اشیاء کو بڑی سبکرفتاری سے جمع کرتی ہے اور پھر اُنہیں اپنے لعاب کیساتھ جوڑتے ہوئے گھونسلا بنانے کیلئے استعمال کرتی ہے۔
ایک دوسری قسم کی کوہی ابابیل کا گھونسلا کھانے کے کام آتا ہے۔ اسکا گھونسلا مکمل طور پر صرف اُسکے اپنے سخت لعابِدہن سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ صدیوں سے ان گھونسلوں کو بنانے میں استعمال ہونے والا لعابِدہن، مشرقی ممالک میں پرندوں کے گھونسلوں سے تیار ہونے والے لذیذ سوپ کا اہم جُز رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس خوشذائقہ سوپ کیلئے ہر سال لاکھوں گھونسلے استعمال کئے جاتے ہیں۔
ایک انتہائی دلچسپ گھونسلا افریقی پام کوہی ابابیل کے گلونما لعاب کا بنا ہوتا ہے۔ یہ چھوٹا سا پرندہ کھجور کے پتے کی نچلی طرف پَروں کی ایک چھوٹی سی چپٹی گدی چپکا دیتا ہے۔ گھونسلا اُلٹا لٹکا ہوتا ہے اور اکثر ہوا میں تیزی سے جھولتا رہتا ہے۔ تاہم، چھوٹا سا انڈا گھونسلے میں کیسے ٹھہرتا ہے؟ ڈیوڈ اٹنبرو، اپنی کتاب ٹرائلز آف لائف میں بیان کرتا ہے: ”ایک ننھے سے انڈے کا چھوٹے سے گھونسلے میں پڑے رہنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ یہ واقعی نیچے گِر سکتا ہے مگر یہ پرندہ نہ صرف گھونسلے کو پتے سے چپکا دیتا ہے بلکہ انڈے کو بھی گھونسلے سے چپکا دیتا ہے۔“ گھونسلا اور انڈا دونوں کھجور کے پتے سے مضبوطی کیساتھ چپکے ہوتے ہیں جبکہ نر اور مادہ اپنے ناخنوں کیساتھ گھونسلے کی دونوں اطراف لٹک کر باری باری انڈے کو سیتے ہیں۔ جب انڈے سے بچہ نکل آتا ہے تو وہ اُس وقت تک اپنے ہوا سے ہلنے والے گھونسلے کیساتھ چمٹا رہتا ہے جبتک اُسکے پَر نہیں نکل آتے۔
زور زور سے چہچہاتی ہوئی ہزاروں کوہی ابابیلوں کو تیزرفتار گردابی چکر کی صورت میں اُڑتے ہوئے دیکھنا ایک نہایت خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے۔ نیچے سے اُنہیں اُڑتے ہوئے دیکھنے والا ہر شخص اس بات سے حیران رہ جاتا ہے کہ وہ کیسی آزادی سے اِدھراُدھر پرواز کرتی ہیں، نیز جس ذہانت سے انہیں بنایا گیا ہے وہ بھی دیکھنے والوں کو قدردانی سے معمور کر دیتی ہے۔ واقعی، ان ہوائی بازیگروں کا حسنپرواز قابلِدید ہے!
[صفحہ 17 پر تصویریں]
چمنی کوہی ابابیل
الپائن کوہی ابابیل
[صفحہ 17 پر تصویر]
عام یورپی کوہی ابابیل