نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . .
مَیں کیوں اسقدر بیمار ہوں؟
جب جےسن ۱۳ سال کا تھا تو اُس نے بیتایل، بروکلن، نیویارک میں یہوواہ کے گواہوں کے عالمی ہیڈکواٹرز، میں کُلوقتی خادم کی حیثیت سے خدمت کرنے کا عزم کِیا۔ اُس نے اپنے لئے لکڑی کا ایک بکس بنایا جسے وہ اپنا بیتایل بکس کہتا تھا۔ وہ اِس میں ایسی چیزیں جمع کرنے لگا جو اُسکے خیال میں اُس کی بیتایل خدمت کے آغاز میں کارآمد ثابت ہونگی۔
تاہم، اپنے ۱۸ویں جنمدن کے محض تین ماہ بعد، تشخیص کی گئی کہ جےسن مرضِکروہن—آنتوں کی شدید، تکلیفدہ بیماری میں مبتلا تھا۔ ”اِس نے مجھے مُضمحل کر دیا۔“ وہ یاد کرتا ہے۔ ”مجھ سے صرف یہی ہو سکا کہ جائےملازمت پر اپنے والد کو آگاہ کروں اور رو دُوں۔ مَیں جانتا تھا کہ اور کچھ نہیں تو یہ حقیقت میرے بیتایل جانے کے خواب کی راہ میں رُکاوٹ ضرور تھی۔“
بیماری ایک بنیادی وجہ ہے جسکے باعث ”ساری مخلوقات مل کر اب تک کراہتی ہے اور دردِزہ میں پڑی تڑپتی ہے۔“ (رومیوں ۸:۲۲) لاکھوں نوجوان لوگ اِن بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ بہت سے نوجوان لوگ انجامکار صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ لیکن دیگر کو مزمن یا بعض صورتوں میں جانلیوا بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نوجوان عموماً دمہ، ذیابیطس، سیکل سیل انیمیا، وبائی امراض، مرگی، دماغی علالت اور کینسر جیسی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض نوجوان متعدد بیماریوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
’میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟‘
بیماری، جسمانی تکلیف کیساتھ ساتھ ذہنی اور جذباتی دباؤ کا سبب بھی بنتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ بیماری کی وجہ سے مہینوں سکول نہیں جاتے تو آپ نہ صرف سکول کے کام میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ معاشرتی لحاظ سے بھی خود کو الگتھلگ محسوس کرینگے۔ جب ۱۲سالہ سنی کو وقتاًفوقتاً ہسپتال میں رہنے کی وجہ سے سکول سے غیرحاضر ہونا پڑا تو وہ پریشان ہوتا ہے کہ ’میرے ہمجماعت کیا کر رہے ہیں؟ مَیں آج کس چیز سے محروم رہا ہوں؟‘
اِسی طرح جب آپ اتنے بیمار ہیں کہ مسیحی اجلاسوں پر حاضر نہیں ہو سکتے، حتیٰکہ بائبل بھی نہیں پڑھ سکتے تو روحانی ترقی متاثر ہوتی ہوئی نظر آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں آپ کو اضافی جذباتی اور روحانی حمایت کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ پہلےپہل آپ تشخیص کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیں۔ بعدازاں، شاید آپ یہ سوچتے ہوئے اپنے آپ پر ہی انتہائی غصہ محسوس کریں کہ آپ بہرحال اِس بیماری سے بچ سکتے تھے۔ شاید آپ بےاختیار کہہ اُٹھیں، ’خدا نے میرے ساتھ کیوں ایسا ہونے دیا؟‘ (مقابلہ کریں متی ۲۷:۴۶۔) درحقیقت، کچھنہکچھ افسردگی کا تجربہ کرنا ایک عام سی بات ہے۔
علاوہازیں، ایک نوجوان یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ اگر وہ کچھ خاص جدوجہد کرتا ہے جیسےکہ بہت زیادہ نیک بننے کی کوشش کرے تو خدا اُسکی بیماری دُور کر دیگا۔ تاہم، ایسی سوچ مایوس کر سکتی ہے کیونکہ خدا اِس وقت معجزانہ شفا کا وعدہ نہیں کرتا ہے۔—۱-کرنتھیوں ۱۲:۳۰؛ ۱۳:۸، ۱۳۔
شاید آپکی یہ اُمید تھی کہ آپ کبھی نہیں مریں گے—یہ کہ آپ اُس وقت تک زندہ ہونگے جب خدا ”بڑی مصیبت“ لاتا ہے۔ (مکاشفہ ۷:۱۴، ۱۵؛ یوحنا ۱۱:۲۶) اگر ایسا ہے توپھر یہ جاننا کہ آپ کسی جانلیوا بیماری میں مبتلا ہیں آپ کے لئے دوہرے صدمے کا باعث بن سکتا ہے۔ شاید آپ پریشان ہوں کہ آپ نے یہوواہ کو رنجیدہ کرنے والا کوئی کام کِیا ہے یا پھر یہ سوچیں کہ خدا نے آپ کو وفاداری کے کسی خاص امتحان کے لئے منتخب کِیا ہے۔ تاہم، یہ موزوں نتائج نہیں ہیں۔ ”نہ تو خدا بدی سے آزمایا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے،“ خدا کا کلام، بائبل بیان کرتی ہے۔ (یعقوب ۱:۱۳) بیماری اور موت موجودہ انسانی حالت کا ناخوشگوار حصہ ہیں اور ہم سب کو ”وقت اور حادثے“ کا سامنا ہے۔—واعظ ۹:۱۱۔
خوف کا سامنا کرنا
کسی مُہلک بیماری میں مبتلا ہونا بھی پہلےپہل آپ کیلئے شدید خوف کا باعث بن سکتا ہے۔ کتاب ہاؤ اٹ فِیلز ٹو فائیٹ فار یور لائف سنگین بیماریوں میں مبتلا ۱۴ نوجوان لوگوں کے تجربات بیان کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، دسسالہ اہتھیںلفظاتان خوفزدہ تھا کہ وہ دمہ کے شدید دَورے کے باعث مر جائیگا۔ ۱۶سالہ الزبتھ جو ہڈیوں کے کینسر کیساتھ نبردآزما تھی، سونے اور پھر کبھی نہ اُٹھنے کے خوف کا شکار تھی۔
تاہم، بعض نوجوان مختلف نوعیت کے خوف کا سامنا کرتے ہیں—یہ خوف کہ کوئی بھی اُن سے شادی کرنا نہیں چاہے گا یا یہ خوف کہ آئندہ زندگی میں وہ صحتمند بچے پیدا نہیں کر سکیں گے۔ دیگر نوجوان خواہ اُنکی بیماری متعدی ہے یا نہیں اس بات سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ کہیں یہ خاندان کے دوسرے افراد کو نہ لگ جائے۔
اگرچہ بیماری ایک جگہ پر رُک گئی ہے یا اُس میں کمی واقع ہو رہی ہے تَوبھی کسی نئے حملے کیساتھ اندیشے دوبارہ اُبھر سکتے ہیں۔ اگر آپ نے ایسے اندیشے محسوس کئے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ یہ بالکل حقیقی ہیں۔ خوشقسمتی سے، منفی جذبات کی یہ ابتدائی لہر وقت کے ساتھساتھ مدھم ہو جائیگی۔ تب آپ معقول طور پر اپنے حالات کا اندازہ لگانا شروع کر سکتے ہیں۔
بیمار ہونے کا چیلنج
”جب آپ جوان ہیں تو آپ خود کو انتہائی مضبوط خیال کرتے ہیں۔“ جےسن نے بیان کِیا جسکا پہلے تذکرہ کِیا گیا ہے۔ ”پھر اچانک، تشویشناک علالت آپ کی اُس غلطفہمی کو دُور کر دیتی ہے۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ ایک ہی رات میں بوڑھے ہو گئے ہیں کیونکہ آپکو اپنی سرگرمیاں محدود کرنا پڑتی ہیں۔“ جیہاں، نئی حدبندیوں کا سامنا کرنا چیلنجخیز ہے۔
جےسن نے محسوس کِیا کہ ایک اَور بڑا چیلنج اُس وقت درپیش ہوتا ہے جب دوسرے آپ کی حالت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جےسن ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے جسے ”بظاہر نظر نہ آنے والی علالت“ کہا جا سکتا ہے۔ اُسکی ظاہری حالت اُسکی اندرونی تکالیف کو ڈھانپ لیتی ہے۔ ”میرا جسم خوراک کو اُسطرح سے ہضم نہیں کرتا جسطرح اِسے کرنا چاہئے،“ جےسن وضاحت کرتا ہے، ”اسلئے مجھے باربار کھانا پڑتا ہے اور مَیں کئی ایک کی نسبت زیادہ کھاتا ہوں۔ لیکن پھربھی مَیں دُبلاپتلا ہوں۔ نیز، بعضاوقات مَیں اِسقدر تھک جاتا ہوں کہ نصف دن کے بعد مَیں اپنی آنکھیں کھلی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن لوگ ایسے تبصرے کرتے ہیں جو کہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مجھے حد سے زیادہ منموجی اور سُست سمجھتے ہیں۔ وہ کچھ اِس قسم کی باتیں کرتے ہیں: ’کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ اِس سے بہتر کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ تو کوشش بھی نہیں کرتے!‘“
جےسن کے چھوٹے بہن بھائی ہیں جو ہمیشہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ جےسن اب وہ سب کچھ کیوں نہیں کر سکتا جو وہ پہلے کِیا کرتا تھا، جیساکہ اُنہیں بال کھیلنے کیلئے باہر لے جانا۔ ”مگر مَیں جانتا ہوں کہ اگر مَیں زخمی ہو گیا،“ جےسن اظہارِخیال کرتا ہے ”تو مجھے ٹھیک ہونے میں ہفتے لگ سکتے ہیں۔ وہ میری تکلیف کا اپنے درد سے موازنہ کرنے کا رُجحان رکھتے ہیں اور کہتے ہیں، ’وہ محض توجہ حاصل کرنے کیلئے شور مچا رہا ہے۔‘ اُن کیلئے شدید درد شاید پاؤں کی موچ ہے، لہٰذا وہ میری تکلیف کی نوعیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔“
اگر آپ کی بیماری آپکے خاندان کیلئے بوجھ بنتی دکھائی دیتی ہے تو آپ خود کو خطاوار محسوس کر سکتے ہیں۔ آپکے والدین بھی خطاوار محسوس کر سکتے ہیں۔ ”میرے والدین سمجھتے ہیں کہ شاید اُن دونوں نے مجھے یہ بیماری دی ہے،“ جےسن کہتا ہے۔ ”اپنی بیماری کو سمجھ لینے کے بعد بچے عموماً اُس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ لیکن والدین کیلئے یہ وقت انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ وہ بار بار مجھ سے معذرت کرتے ہیں۔ اُنکے احساسِندامت کو ختم کرنے کیلئے مجھے مسلسل اپنی پوری کوشش کرنی پڑتی ہے۔“
طبّی ملاقاتیں—کوئی مذاق نہیں
ڈاکٹر کے ساتھ باربار ملاقاتیں بھی پریشانی کی وجہ بن سکتی ہیں۔ وہ آپ میں بےوقعت اور بےبس ہونے کا احساس پیدا کر سکتے ہیں۔ ہسپتال میں انتظارگاہ میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنا خوفزدہ کرنے والا ہو سکتا ہے۔ ”آپ بالکل تنہا . . .محسوس کرتے ہیں اور یہ اچھا ہوگا کہ اگر کوئی شخص آپکے ساتھ موجود رہے،“ ۱۴سالہ جوزف بیان کرتا ہے جوکہ عارضۂقلب میں مبتلا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض نوجوانوں کو ایسا تعاون حاصل نہیں ہوتا، حتیٰکہ اُنکے اپنے والدین کی طرف سے بھی نہیں۔
اِسی طرح میڈیکل ٹسٹ بھی پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔ صاف بات تو یہ ہے کہ بعض ٹسٹ ناخوشگوار بھی ہو سکتے ہیں۔ بعدازاں، نتائج کے انتظار میں آپکو پریشانی کے عالم میں کئی دن یا ہفتے انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں: میڈیکل ٹسٹ کروانا آپکے سکول کے ٹسٹ سے مختلف ہے؛ کسی طبّی نقص میں مبتلا ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ فیل ہو گئے ہیں۔
درحقیقت، ایک ٹسٹ بہت سی مفید معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ یہ بتا سکتا ہے کہ آپ کسی طبّی مسئلے کا شکار ہیں جسکا علاج بآسانی ممکن ہے۔ یا اگر ایسا نہیں ہے تو ٹسٹ یہ جاننے میں آپکی مدد کر سکتا ہے کہ آپ اِس مسئلے کے ساتھ کس طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ اِس سے یہ بھی ظاہر ہو سکتا ہے کہ آپکو جس مرض کا یقین تھا، آپ بہرحال اُس میں مبتلا نہیں ہیں۔ لہٰذا اپنی حالت کے متعلق جلدبازی سے نتائج اخذ نہ کریں۔
حد سے زیادہ پریشان ہونا آپکو محض تھکائیگا۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”آدمی کا دل فکرمندی سے دب جاتا ہے۔“ (امثال ۱۲:۲۵) اِسکی بجائے، خدا ہمیں دعوت دیتا کہ ہم اُسے اپنے تفکرات سے آگاہ کریں۔ ہمیں یہ یقین رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ہماری فکر کرتا ہے اور یہ کہ مسئلے سے خوش اسلوبی کیساتھ نمٹنے کیلئے وہ ہمیں اپنی حکمت اور راہنمائی مہیا کریگا۔—زبور ۴۱:۳؛ امثال ۳:۵، ۶؛ فلپیوں ۴:۶، ۷؛ یعقوب ۱:۵۔
ہم خوش ہو سکتے ہیں کہ ہمارے خالق، یہوواہ خدا نے ایک نئی راستباز دُنیا میں داخل ہونے کا موقع فراہم کِیا ہے۔ وہ اُن تمام لوگوں کو بھی زندہ کریگا جو مر چکے ہیں تاکہ وہ بھی اُس نئی دنیا سے لطف اُٹھا سکیں۔ بائبل ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اُس وقت ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہے گا کہ مَیں بیمار ہوں۔“—یسعیاہ ۳۳:۲۴۔
اُس وقت تک ہو سکتا ہے کہ آپکو مُہلک بیماری سے نبردآزما رہنا ہے۔ تاہم، بہت سے ایسے عملی کام ہیں جنکے ذریعے آپ اپنی حالت سے بخوبی نپٹ سکتے ہیں۔ ہم اگلے مضمون میں اُن کے متعلق باتچیت کرینگے۔
[صفحہ 18 پر تصویر]
شاید آپ پوچھیں، ’خدا نے میرے ساتھ ایسا کیوں ہونے دیا؟‘