یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏4 ص.‏ 18-‏22
  • گھاس سبز کیوں ہے ضیائی‌تالیف کا ایک قریبی جائزہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • گھاس سبز کیوں ہے ضیائی‌تالیف کا ایک قریبی جائزہ
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏ضیائی‌تالیف کے عمل“‏ کا جائزہ لینا
  • ‏”‏فاضل“‏ جسے ضائع نہیں کِیا جاتا
  • پانی کے مالیکیولز کو الگ کرنا
  • رات کی شفٹ
  • گھاس سبز کیوں ہے؟‏
  • دو اہم سوال
    جاگو!‏—‏2015ء
  • گھاس محض سبزہ نہیں
    جاگو!‏—‏2002ء
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏4 ص.‏ 18-‏22

گھاس سبز کیوں ہے ضیائی‌تالیف کا ایک قریبی جائزہ

‏”‏گھاس سبز کیوں ہے؟“‏ شاید جب آپ بچے تھے تو آپ نے یہ سوال پوچھا ہو۔ کیا آپ جواب سے مطمئن ہو گئے تھے؟ بچوں کے اس طرح کے سوال بڑے عمیق ہو سکتے ہیں۔ وہ ہمارے لئے روزمرّہ چیزوں کی بابت جنہیں ہم معمولی خیال کرتے ہیں زیادہ گہرائی سے سوچنے کا سبب بن سکتے ہیں اور ایسے پوشیدہ عجائب آشکارا کر سکتے ہیں جنکی بابت ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔‏

یہ سمجھنے کیلئے کہ گھاس سبز کیوں ہے، کسی ایسی چیز کی بابت سوچیں جس کی گھاس سے کوئی مناسبت دکھائی نہ دیتی ہو۔ ایک مکمل فیکٹری کا تصور کرنے کی کوشش کریں۔ کیا ایک مکمل فیکٹری کارکردگی میں پُرسکون اور دیکھنے میں دلکش نہیں لگے گی؟ آلودہ کرنے کی بجائے، مکمل فیکٹری اپنی کارکردگی سے درحقیقت ماحول کو بہتر بنائیگی۔ بِلاشُبہ، یہ کوئی کارآمد—‏واقعی ہر ایک کیلئے ضروری چیز پیدا کریگی۔ آپ کے خیال میں کیا ایسی فیکٹری شمسی توانائی سے نہیں چلے گی؟ اس طرح اسے توانائی حاصل کرنے کیلئے بجلی کے کنکشن یا کوئلے یا تیل کی رسد کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔‏

بِلاشُبہ مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلنے والی فیکٹری بجلی سے متعلق انسانی ٹیکنالوجی سے کہیں اعلیٰ شمسی بیٹری کو استعمال میں لائیگی۔ وہ تیاری اور استعمال دونوں میں انتہائی اثرآفریں، ارزاں اور آلودگی سے پاک ہوگی۔ اگرچہ یہ تصور سے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کریگی، برقی‌رو میں غیرمتوقع خرابی، بجلی بند ہونے یا غیرمختتم نوچ‌کھوسٹ کے بغیر جس کی بابت دکھائی دیتا ہے کہ آجکل کی نمایاں ٹیکنالوجی کو اسکی ضرورت ہے، ایک مکمل فیکٹری بِلامداخلت کام کریگی۔ ایک مکمل فیکٹری سے ہم کسی بھی انسانی توجہ کے بغیر خودکار طریقے سے کام کرنے کی توقع کرینگے۔ بِلاشُبہ، یہ ازخود مرمت کرنے، قائم رہنے اور اپنی نقل تیار کرنے کے قابل ہوگی۔‏

کیا ایک مکمل فیکٹری محض ایک سائنسی افسانہ ہے؟ محض ایک ناقابلِ‌حصول غیرحقیقی خیال ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ مکمل فیکٹری اتنی ہی حقیقی ہے جتنی آپکے پاؤں کے نیچے کی گھاس۔ درحقیقت، یہ آپکے پاؤں کے نیچے کی گھاس، آپکے دفتر میں موجود فرن اور آپکی کھڑکی کے باہر کا درخت ہی تو ہے۔ درحقیقت، ہر سبز پودا ایک مکمل فیکٹری ہے!‏ سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرکے، سرسبز درخت زمین پر زندہ رہنے کی تقریباً ہر حالت میں براہِ‌راست یا بالواسطہ کاربن ڈائی‌آکسائیڈ، پانی اور معدنیات استعمال کرتے ہیں۔ اس عمل میں، وہ کاربن ڈائی‌آکسائیڈ کو ختم کرتے ہوئے اور صاف آکسیجن خارج کرتے ہوئے، فضا کو ازسرِنو تازہ کرتے رہتے ہیں۔‏

مجموعی طور پر، زمین کے سبز پودے ہر سال تخمیناً ۱۵۰ بلین سے ۴۰۰ بلین ٹن شکر پیدا کرتے ہیں—‏انسان کی تمام‌تر فولاد، سٹیل، آٹوموبائل اور ہوائی‌جہازوں کی فیکٹریوں کی مشترکہ پیداوار سے کہیں زیادہ۔ ایسا کرنے کے لئے وہ پانی کے مالیکیولز سے ہائیڈروجن کے ایٹمز کو الگ کرنے کیلئے سورج کی توانائی کو استعمال کرتے ہیں اور پھر ہائیڈروجن کے ان ایٹمز کو ہوا میں موجود کاربن ڈائی‌آکسائیڈ کے مالیکیولز کیساتھ ملا دیتے ہیں اور یوں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کاربوہائیڈریٹ میں تبدیل کر دیتے ہیں جو شکر کے طور پر مشہور ہے۔ یہ غیرمعمولی عمل ضیائی‌تالیف کہلاتا ہے۔ پھر پودے اپنی شکر کے نئے مالیکیولز کو توانائی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں یا پھر اُنہیں خوراک کا ذخیرہ کرنے کی غرض سے سٹارچ یا پودے کے ریشے کو ترتیب دینے والے سخت مادے، سیلولوز کو بنانے کے لئے اکٹھا کر سکتے ہیں۔ ذرا سوچیں!‏ اپنی نشوونما کے دوران سیکویا کا دیوقامت درخت جو آپ سے ۹۰ میٹر اُونچا ہو گا کلوروپلاسٹ کہلانے والے کئی ملین خوردبینی ’‏اجتماعی عوامل‘‏ کے دوران یکے‌بعددیگرے ہوا سے حاصل ہونے والے ایک کاربن ڈائی‌اکسائیڈ کے مالیکیول اور ایک پانی کے مالیکیول سے ملکر بنتا ہے۔ لیکن کیسے؟‏

‏”‏ضیائی‌تالیف کے عمل“‏ کا جائزہ لینا

لطیف ہوا (‏نیز پانی اور چند معدنیات)‏ سے سیکویا کو وجود میں لانا واقعی حیران‌کُن عمل ہے لیکن یہ کوئی جادو نہیں ہے۔ یہ انسان کی حاصل‌کردہ پیچیدہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ ذہین ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہے۔ آہستہ آہستہ، سائنسدان ضیائی‌تالیف کا راز جاننے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس عمل میں واقع ہونے والے انتہائی پیچیدہ کیمیاوی‌عمل کو سمجھ سکیں۔ آئیے اُن کیساتھ ملکر اس ”‏ضیائی‌تالیف کے عمل“‏ کا جائزہ لیں جو زمین پر تقریباً تمام زندگی کا ذمہ‌دار ہے۔ شاید ہمیں بھی اپنے اس سوال کا جواب مل جائے کہ ”‏گھاس سبز کیوں ہے؟“‏

اپنی قابلِ‌اعتماد خوردبین نکالتے ہوئے آئیے ایک مثالی پتے کا جائزہ لیں۔ آنکھ کو پتا سبز ہی دکھائی دیتا ہے، مگر یہ نظر کا دھوکا ہے۔ بہرصورت پودے کے انفرادی خلیے جو ہم خوردبین سے دیکھتے ہیں وہ اتنے سبز نہیں ہوتے ہیں۔ اسکی بجائے وہ عموماً بے‌رنگ ہوتے ہیں مگر ہر ایک میں شاید ۵۰ سے ۱۰۰ تک ننھے سبز نقطے ہوتے ہیں۔ یہ نقطے کلوروپلاسٹ ہیں جن میں روشنی کیلئے حساس سبز کلوروفل پایا جاتا ہے اور یہاں ضیائی‌تالیف کا عمل واقع ہوتا ہے۔ کلوروپلاسٹ کے اندر کیا واقع ہو رہا ہے؟‏

کلوروپلاسٹ ایک چھوٹے بیگ کی مانند ہے جس میں اس سے بھی چھوٹے چھوٹے چپٹے بیگ ہوتے ہیں جو تھائی‌لاکوڈز کہلاتے ہیں۔ بالآخر، ہم نے گھاس میں سبز رنگ کو ڈھونڈ لیا ہے۔ کلوروفل کے سبز مالیکیول تھائی‌لاکوڈز کی سطح پر جمے ہوتے ہیں یونہی اِدھراُدھر بکھرے ہوئے نہیں بلکہ مکمل طور پر منظم مجموعوں میں جو فوٹوسسٹم کہلاتے ہیں۔ زیادہ‌تر سبز پودوں میں دو قسم کے فوٹوسسٹم ہوتے ہیں جو PSI (‏فوٹوسسٹم ۱)‏ اور PSII (‏فوٹوسسٹم ۲)‏ کہلاتے ہیں۔ فوٹوسسٹم فیکٹری میں ایک خاص پروڈکشن ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک ضیائی‌تالیف میں مخصوص اقدام کے سلسلے کی دیکھ‌بھال کرتا ہے۔‏

‏”‏فاضل“‏ جسے ضائع نہیں کِیا جاتا

جب سورج کی روشنی تھائی‌لاکوڈز کی سطح پر پڑتی ہے تو کلوروفل مالیکیولز کی PSII قطاریں جو لائٹ ہاروسٹنگ کمپلیکس کہلاتی ہیں اس پر جھپٹنے کی منتظر ہوتی ہیں۔ یہ مالیکیول خاص طور پر مخصوص طولِ‌موج کی سرخ روشنی کو جذب کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تھائی‌لاکوڈ کے مختلف مقامات پر، PSI کی قطاریں روشنی کی قدرے زیادہ لمبی طولِ‌موج کی تلاش میں ہوتی ہیں۔ اس اثنا میں، کلوروفل اور بعض دیگر مالیکیول جیسے‌کہ کارٹینائڈز، دونوں نیلی اور بنفشی روشنی کو جذب کر رہے ہوتے ہیں۔‏

پس گھاس سبز کیوں ہے؟ پودوں پر پڑنے والی تمام طولِ‌موجوں میں سے صرف سبز روشنی ہی اُن کیلئے بیکار ہے، اسلئے یہ مشاہدہ کرنے والی ہماری آنکھوں اور کیمروں کی طرف مڑ جاتی ہے۔ اسکی بابت ذرا سوچیں!‏ موسمِ‌بہار کی ہریالی اور موسمِ‌گرما کی گہری ہریالی ایسی طول‌موجوں سے پیدا ہوتی ہے جنکی پودوں کو ضرورت نہیں ہوتی لیکن ہم انسان اُسکی قدر کرتے ہیں!‏ آلودگی اور انسانی فیکٹریوں کی ضمنی‌پیداوار کے برعکس جب ہم زندگی کے حسین‌ترین رنگ سے اپنے آپکو تازہ‌دم کرنے کیلئے، خوبصورت سبزہ‌زاروں یا جنگلات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ”‏فاضل“‏ روشنی یقینی طور پر ضائع نہیں ہوتی۔‏

کلوروپلاسٹ میں، PSII کی قطار میں، سورج کی روشنی کے سُرخ حصے میں سے توانائی کلوروفل کے الیکٹران کے مالیکیولز میں منتقل ہو چکی ہے، انجام‌کار ایک الیکٹران اِسقدر توانائی حاصل کر لیتا ہے یا ”‏جوش میں آ جاتا ہے“‏ کہ یہ تھائی‌لاکوڈ جھلی کے منتظر مالیکیول کی قطار میں، چھلانگ لگا دیتا ہے۔ ایک ڈانسر کی طرح ایک ساتھی کے بعد دوسرے ساتھی کیساتھ، الیکٹران ایک مالیکیول کیرئیر سے دوسرے تک جاتا ہے جبکہ اسکی توانائی بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ جب اسکی توانائی بہت کم ہو جاتی ہے تو اسے محفوظ طور پر ایک دوسرے فوٹوسسٹم، PSI میں، الیکٹران کی جگہ لینے کیلئے استعمال کِیا جا سکتا۔—‏دیکھیں ڈائیگرام نمبر۱۔‏

اس اثنا میں، PSII کی قطار میں ایک الیکٹران کی کمی واقع ہو جاتی ہے جو اسے پازیٹو طور پر چارج اور ایک الیکٹران حاصل کرنے کیلئے تیار کر دیتا ہے جسکی اس میں کمی ہوتی ہے۔ ایک شخص کی طرح جسے ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ اُسکی جیب کاٹ لی گئی ہے، PSII کا حلقہ جو آکسیجن خارج کرنے والے کمپلیکس کے طور پر مشہور ہے مضطرب ہوتا ہے۔ الیکٹران کہاں سے حاصل کِیا جا سکتا ہے؟ اسکے قریب ہی پانی کا ایک بدقسمت مالیکیول موجود ہوتا ہے۔ اسے اچانک ایک خراب تجربہ ہونے والا ہے۔‏

پانی کے مالیکیولز کو الگ کرنا

پانی کا ایک مالیکیول آکسیجن کے ایک نسبتاً بڑے اور ہائیڈروجن کے دو چھوٹے ایٹمز پر مشتمل ہوتا ہے۔ PSII کا آکسیجن کی نشوونما کرنے والا کمپلیکس منگنیز دھات کے چار برق‌پاروں پر مشتمل ہوتا ہے جو پانی کے مالیکیول میں ہائیڈروجن کے ایٹمز میں سے الیکٹران کو خارج کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پانی کا مالیکیول دو پازیٹو ہائیڈروجن برق‌پاروں (‏پروٹونز)‏ میں منقسم ہو جاتا ہے، ایک ایٹم آکسیجن کا اور دو الیکٹران۔ جُوں‌جُوں پانی کے زیادہ مالیکیول ٹوٹتے ہیں تو آکسیجن کے ایٹم آکسیجن گیس کے طور پر جوڑے بنتے جاتے ہیں جو پودے ہمارے استعمال کیلئے واپس ہوا میں بھیج دیتے ہیں۔ ہائیڈروجن برق‌پارے تھائی‌لاکوڈ ”‏بیگ“‏ کے اندر جمع ہونے شروع ہو جاتے ہیں جہاں اُنہیں پودے استعمال کر سکتے ہیں اور الیکٹران PSII کمپلیکس کو دوبارہ سپلائی کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں جو اب ایک سیکنڈ میں کئی مرتبہ عمل کو دہرانے کیلئے تیار ہے۔—‏دیکھیں ڈائیگرام نمبر۲۔‏

تھائی‌لاکوڈ کی تھیلی کے اندر، ہائیڈروجن کے جمع‌شُدہ برق‌پارے باہر نکلنے کی راہ تلاش کرنے لگتے ہیں۔ جب بھی پانی کا مالیکیول ٹوٹتا ہے تو صرف دو ہائیڈروجن برق‌پاروں کا اضافہ ہی نہیں ہوتا بلکہ PSI کمپلیکس میں سے گزرنے والے PSII الیکٹران کے ذریعے دیگر ہائیڈروجن برق‌پارے بھی تھائی‌لاکوڈ کی تھیلی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ بہت جلد، ہائیڈروجن برق‌پارے حد سے زیادہ بھرے ہوئے شہد کے چھتے میں ناراض مکھیوں کی طرح بھنبھنانے لگتے ہیں۔ وہ کیسے باہر نکل سکتے ہیں؟‏

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ضیائی‌تالیف کے ذہین‌ترین نمونہ‌ساز نے ایک خاص قسم کے انزائم کی صورت میں جو ایک انتہائی اہم جوف‌دار ایندھن ATP (‎ایڈینوسن ٹرائی‌فاسفیٹ)‏ بنانے میں استعمال ہوتا ہے صرف یک‌طرفہ گھومنے والا دروازہ فراہم کِیا ہے۔ جُوں ہی ہائیڈروجن برق‌پارے اس گھومنے والے دروازے میں سے زبردستی باہر نکلتے ہیں تو وہ صرف‌شُدہ ATP مالیکیولز کو دوبارہ چارج کرنے کیلئے درکار توانائی فراہم کرتے ہیں۔ (‏دیکھیں ڈائیگرام نمبر۳۔)‏ATP مالیکیول چھوٹی جوف‌دار بیٹریوں کی مانند ہیں۔ سیل میں ہونے والے ہر قسم کے ردِعمل کیلئے وہ اُسی جگہ فوری طور پر بھرپور توانائی فراہم کرتے ہیں۔ بعدازاں، یہ ATP مالیکیول شکر کے ضیائی‌تالیف کے عمل کیلئے درکار ہونگے۔‏

ATP کے علاوہ، ایک اَور چھوٹا مالیکیول شکر کی پیداوار کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہ NADPH (‏نیکوٹینامائیڈ ایڈینائن ڈائی‌نیوکلیوٹائیڈ فاسفیٹ کا مخفف)‏ کہلاتا ہے۔ NADPH کے مالیکیول چھوٹے ڈیلیوری ٹرکوں کی مانند ہیں، جس میں سے ہر ایک اُس منتظر انزائم کے پاس ہائیڈروجن ایٹم لیجاتا ہے جسے شکر کا مالیکیول بنانے کیلئے ہائیڈروجن ایٹم کی مدد درکار ہوتی ہے۔ NADPH پیدا کرنا PSI کمپلیکس کا کام ہے۔ جب ایک فوٹوسسٹم (‏PSII)‏ پانی کے مالیکیولز کو الگ کرنے اور اُنہیں ATP پیدا کرنے کیلئے استعمال کرنے میں مصروف ہوتا ہے تو دوسرا فوٹوسسٹم (‏PSI)‏ روشنی جذب کرتا ہے اور الیکٹران خارج کرتا ہے جو انجام‌کار NADPH پیدا کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ ATP اور NADPH دونوں کے مالیکیول مستقبل میں شکر کے عمل میں استعمال کیلئے تھائی‌لاکوڈ کی بیرونی جگہ پر جمع ہو جاتے ہیں۔‏

رات کی شفٹ

ضیائی‌تالیف کے ذریعے ہر سال لاکھوں ٹن شکر پیدا ہوتی ہے، تاہم ضیائی‌تالیف کے اندر ہلکے‌پھلکے عمل درحقیقت کسی بھی طرح کی شکر نہیں بناتے۔ جو کچھ وہ بناتے ہیں وہATP (‏”‏بیٹریاں“‏)‏ اورNADPH (‏”‏ڈیلیوری ٹرک“‏)‏ ہیں۔ اس مقام سے، سٹروما میں یا تھائی‌لاکوڈز کے بیرونی حصے میں موجود انزائمز ATP اور NADPH کو شکر بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ درحقیقت، پودے مکمل تاریکی ہی میں شکر تیار کرتے ہیں!‏ آپ کلوروپلاسٹ کا موازنہ تھائی‌لاکوڈ کے اندر دو طرح کے عملے (‏PSI اور PSII)‏ والے کارخانے کیساتھ کر سکتے ہیں جو باہر سٹروما میں ایک تیسرے عملے (‏خاص انزائمز)‏ کے ذریعے استعمال کئے جانے کیلئے بیٹریاں اور ڈیلیوری ٹرک (‏ATP اور NADPH)‏ تیار کرتا ہے۔ (‏دیکھیں ڈائیگرام نمبر۴۔)‏ یہ تیسرا عملہ ہائیڈروجن ایٹمز اور کاربن ڈائی‌آکسائیڈ مالیکیولز کا اضافہ کرتے ہوئے کیمیائی تعامل کے ایک مختصر سلسلے میں سٹروما میں پائے جانے والے انزائمز کو استعمال کرتے ہوئے شکر تیار کرتا ہے۔ تینوں کے تینوں عملے دن کے دوران کام کر سکتے ہیں اور شکر کا عملہ رات کی شفٹ میں بھی کام کرتا ہے، تاوقتیکہ دن کی شفٹ سے حاصل ہونے والے ATP اور NADPH کی سپلائی استعمال نہیں ہو جاتی۔‏

آپ سٹروما کو ایک قسم کی جوف‌دار جوڑے بنانے والی ایجنسی خیال کر سکتے ہیں جو ایسے ایٹمز اور مالیکیولز سے بھری پڑی ہے جنکی ایک دوسرے سے ”‏شادی“‏ کرانے کی ضرورت ہے مگر جو خود سے ایک دوسرے سے کبھی بھی ملاپ نہیں کرینگے۔ بعض انزائمز بڑی حد تک زبردستی جوڑے بنانے والے ہوتے ہیں۔‏a یہ خاص اشکال والے پروٹین مالیکیول ہیں جو اُنہیں مخصوص تعامل کیلئے مناسب ایٹمز یا مالیکیولز کو گرفت میں لینے کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم وہ محض مستقبل کے مالیکیول ازدواجی ساتھیوں کو متعارف کرانے سے مطمئن نہیں ہوتے ہیں۔ انزائمز اُس وقت تک مطمئن نہیں ہوتے جبتک وہ شادی انجام پاتے دیکھ نہیں لیتے، لہٰذا وہ مستقبل کے ساتھیوں کو پکڑتے ہیں اور ہچکچاہٹ محسوس کرنے والے ساتھیوں کا براہِ‌راست ایک دوسرے سے رابطہ کرواتے ہیں اور ایک طرح سے اُنہیں بندوق کی نوک پر بائیوکیمیکل شادی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اتحاد ہو جانے کے بعد، انزائمز نئے مالیکیول کو چھوڑ دیتے ہیں اور بار بار اس عمل کو دہراتے ہیں۔ سٹروما میں انزائمز جزوی طور پر مکمل شکر کو غیرمعمولی رفتار کیساتھ گھماتے، اُنہیں دوبارہ ترتیب دیتے، ATP سے تقویت فراہم کرتے، کاربن ڈائی‌آکسائیڈ شامل کرتے ہوئے، ہائیڈروجن کو جوڑتے ہوئے اور انجام‌کار، تین کاربن والی شکر کو مزید شکل دئے جانے کیلئے خلیے میں دوسری جگہ پر گلوکوز اور دیگر بہت سی اقسام میں منتقل کرتے ہیں۔—‏دیکھیں ڈائیگرام نمبر۵۔‏

گھاس سبز کیوں ہے؟‏

ضیائی‌تالیف محض ایک بنیادی کیمیائی تعامل سے کہیں زیادہ کچھ ہے۔ یہ حیران‌کُن پیچیدگی اور پوشیدگی کی ایک بائیوکیمیکل ہم‌آہنگی ہے۔ کتاب لائف پروسیسیز آف پلانٹس اسے یوں بیان کرتی ہے:‏ ”‏سورج کے فوٹونز کی توانائی کو پیدا کرنے کیلئے ضیائی‌تالیف ایک غیرمعمولی، انتہائی باقاعدہ عمل ہے۔ پودے کا پیچیدہ ڈیزائن اور غیرمعمولی طور پر اُلجھے ہوئے بائیوکیمیکل اور توارثی ضوابط جو ضیائی‌تالیف کی کارگزاری کو باقاعدہ بناتے ہیں فوٹون کو قابو کرنے اور اسکی توانائی کو کیمیائی شکل میں تبدیل کرنے کے بنیادی عمل کی باریکیوں کے طور پر خیال کئے جا سکتے ہیں۔“‏

باالفاظِ‌دیگر، گھاس سبز کیوں ہے کی بابت جاننے کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے جوکچھ بھی ایجاد کِیا ہے اُس سے کہیں بالاتر ٹیکنالوجی اور ڈیزائن پر حیرت سے نظر ڈالنا—‏خودکار، قائم رہنے والی، خوردبینی ”‏مشینیں“‏ جو سورج کی روشنی کو شکر میں تبدیل کرتے ہوئے، (‏بغیر شور، آلودگی یا گندگی کے)‏ ایک سیکنڈ میں ہزاروں یا لاکھوں چکر لگاتی ہیں۔ ہمارے لئے اسکا مطلب ایک نمونہ‌ساز اور ممتاز انجینیئر—‏ہمارے خالق، یہوواہ خدا کے دماغ کی ایک جھلک دیکھنا ہے۔ اگلی دفعہ جب آپ یہوواہ کی ایک خوبصورت، قائم رہنے والی، مکمل فیکٹری کی تعریف کرتے ہیں یا جب آپ دوبارہ اُس خوبصورت سبز گھاس پر چلتے ہیں تو اس کی بابت سوچیں۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بعض دیگر اقسام کے انزائمز زبردستی طلاق دلوانے والے چھوٹے وکلاء کی مانند ہوتے ہیں، اُنکا کام مالیکیولز کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ہے۔‏

‏[‏صفحہ 19 پر تصویر]‏

ضیائی‌تالیف نے اس درخت کی نشوونما میں کیسے مدد کی؟‏

‏[‏صفحہ 20 پر ڈائیگرام]‏

ڈائیگرام نمبر۱

‏[‏صفحہ 20 پر تصویر]‏

ڈائیگرام نمبر۲

‏[‏صفحہ 21 پر تصویر]‏

ڈائیگرام نمبر۳

‏[‏صفحہ 21 پر تصویر]‏

ڈائیگرام نمبر۴

‏[‏صفحہ 22 پر تصویر]‏

ڈائیگرام نمبر۵

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں