یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏4 ص.‏ 23-‏27
  • ‏”‏جب مَیں کمزور ہوتی ہوں اُسی وقت زورآور ہوتی ہوں“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏جب مَیں کمزور ہوتی ہوں اُسی وقت زورآور ہوتی ہوں“‏
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • اپنی روحانی ضرورت سے باخبر
  • ٹیلی‌فون کے ذریعے گواہی دینا
  • یہوواہ کی قوت کے ذریعے ایک زمینی فردوس
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏4 ص.‏ 23-‏27

‏”‏جب مَیں کمزور ہوتی ہوں اُسی وقت زورآور ہوتی ہوں“‏

مَیں نے سان فرانسسکو، کیلیفورنیا کے جنوب میں، پیٹولوما کے ایک چھوٹے قصبے میں پرورش پائی۔ میری والدہ قدرے مذہبی تھی لیکن میرا والد مذہب کو اچھا خیال نہیں کرتا تھا۔ مَیں ہمیشہ خالق پر ایمان رکھتی تھی—‏اگرچہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہے۔‏

بچپن میں، مَیں ایک ہنس‌مکھ بچی تھی۔ اُن خوشگوار دنوں کو یاد کرکے مَیں کتنی خوش ہوتی ہوں!‏ اُس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے بدن کے اندر کیا کچھ واقع ہو رہا ہے جو میری آزادی کو کافی حد تک سَلب کر لیگا۔ یہ ۱۹۶۰ کی بات ہے، جب میرا ہائی سکول کا آخری سال تھا، مجھے یاد ہے کہ مَیں نے اپنی بہترین سہیلی کو اُس درد کی بابت بتایا جو میری کئی انگلیوں میں ہو رہا تھا۔‏

جلد ہی میرے پاؤں مجھے اتنی زیادہ تکلیف دینے لگے کہ میری والدہ مجھے سان فرانسسکو کے ایک ہسپتال میں لے گئی جہاں مَیں تقریباً چھ دن داخل رہی۔ اُس وقت میری عمر ۱۸ سال تھی اور ٹیسٹ کے نتائج نے آشکارا کِیا کہ مجھے جوڑوں کے درد کا مرض تھا۔ مَیں نے گولڈ سوڈیم تھائیوسلفیٹ کے ٹیکے لگوانے شروع کر دئے اور پھر پریڈنی‌سون اور اسکے بعد ایک اَور طرح کا کارٹی‌سون لیا۔ مجموعی طور پر مَیں نے ۱۸ سال تک یہ ادویات لیں اور ہر ایک چند سال تک درد میں افاقہ کرتی لیکن پھر آہستہ آہستہ غیرمؤثر ہو جاتی اور مَیں پھر دوسری شروع کر دیتی۔ مستقل درد کو نظرانداز نہیں کِیا جا سکتا تھا اور مَیں کسی اَور قسم کی طبّی امداد کی تلاش کیلئے بیتاب ہو گئی۔ مَیں نے علاج کے کچھ متبادل طریقے تلاش کر لئے ہیں جو کسی حد تک مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ شکر ہے کہ اب اُسی طرح کے درد کا تجربہ نہیں کرنا پڑتا جیسے اُس وقت کرنا پڑتا تھا جب بیماری میرے سارے بدن میں پھیلنے کے شدید مراحل میں تھی۔‏

۱۹۷۵ میں ایک دن، اچانک میرے بیٹے کی نظر ایک ریکارڈ بُک پر پڑی جو میری والدہ نے بچپن میں میری بابت رکھی ہوئی تھی۔ مجھے پتا چلا کہ جب مَیں چھ ماہ کی تھی تو ڈاکٹر نے بڑے ہوئے تیموسیہ (‏تھائمس)‏ کیلئے ایکسریز سے علاج شروع کِیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ شاید بچپن میں میرے لئے تجویزکردہ ایکسریز سے علاج ہی کی وجہ سے آج میری یہ حالت ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ کتنی بڑی غلطی تھی!‏

۱۹۶۲ میں میری شادی ہو گئی۔ ۱۹۶۸ میں، بیماری کے ابتدائی مراحل کے دوران، مَیں اور میرا شوہر لین، اپنی ذاتی بیکری میں کام کرتے تھے۔ ہم صبح تقریباً ۴ بجے اُٹھ جاتے تھے اور میرا شوہر آٹا گوندھتا اور کبھی‌کبھار جبکہ بریڈ اوَن میں ہوتی تھی تو آٹے کی بوریوں پر ہی سو جاتا تھا۔ ہم اسے کاٹتے اور پیک کرتے تھے اور پھر لین اسے تقسیم کرتا تھا۔ ایک مرتبہ انشورنس کا ایک سیلزمین بیکری پر آیا اور ہمیں خدا کی موعودہ بادشاہت کی بابت بتایا۔ جو کچھ ہم نے سنا ہمیں پسند آیا مگر ہم بہت مصروف تھے۔ بریڈ کی ہماری تقسیم میں اضافہ ہو رہا تھا اور ہم اپنے دُنیاوی کام میں اَور زیادہ اُلجھ گئے تھے۔ ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی جب ایک دوسری بڑی بیکری نے ہماری بیکری بھی خرید لی!‏ لین اُن کیلئے کام کرنے لگا اور مَیں نے ایک بیوٹی شاپ میں کام کرنا شروع کر دیا۔ تاہم، جُوں‌جُوں جوڑوں کا درد بڑھنے لگا، مَیں ہفتے میں صرف تین دن ہی کام کر سکتی تھی اور بالآخر مجھے بالکل ہی چھوڑنا پڑا۔‏

اس عرصہ کے دوران، یہوواہ کی ایک گواہ ہمارے گھر باقاعدہ آنے لگی اور مجھے مینارِنگہبانی اور جاگو!‏ رسالے پیش کرتی۔ مَیں ہمیشہ اُسے ہدیہ دے دیتی، یہ سوچتے ہوئے کہ مَیں اُس کے ساتھ نیکی کر رہی ہوں۔ اُس کے جانے کے بعد، مَیں اُنہیں چند دن کیلئے ایک بند شلف میں رکھ دیتی اور اسکے بعد ہم میں سے کوئی ایک ہمیشہ اُنہیں پھینک دیتا تھا۔ یہ بہت ہی بُری بات تھی کیونکہ اب ہم اُنکی روحانی قدروقیمت کو سمجھتے ہیں۔ تاہم، اُس وقت مذہبی معاملات بہت اہم دکھائی نہیں دیتے تھے۔‏

اپنی روحانی ضرورت سے باخبر

ایک شام مَیں اور میرا شوہر گفتگو کر رہے تھے کہ ہماری زندگی میں کھانے پینے اور اتنا زیادہ کام کرنے کے علاوہ کچھ اَور بھی ہونا چاہئے۔ ہم نے روحانیت کی تلاش شروع کر دی جسکی ہماری زندگیوں میں کمی تھی۔ ہم نے گلی کے آخر پر واقع ایک چھوٹے چرچ میں جانا شروع کر دیا لیکن ہمیں روحانی تقویت نہ مل سکی جسکی ہم نے توقع کی تھی۔ چرچ کے ارکان زیادہ‌تر اپنے ذاتی مسائل کی بابت ہی گفتگو کرتے رہتے تھے۔‏

رسالے لیکر آنے والی گواہ کو آتے ہوئے تقریباً ایک سال ہو گیا تھا لیکن میرے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا تھا جبتک کہ مَیں نے بالآخر اکتوبر ۸، ۱۹۶۸ کے جاگو!‏ کے شمارے بعنوان ”‏کیا آپ کے خیال میں بہت دیر ہو گئی ہے؟“‏ کو نہ پڑھا۔ جوکچھ مَیں نے پڑھا وہ مجھے بہت پسند آیا اور خوشی کی بات ہے کہ اس نے میرے شوہر کو بھی اسی طرح سے متاثر کِیا۔ ہم نے مطالعہ کرنا اور بہت جلد سچائی سیکھنا شروع کر دیا۔ ہم جو بھی حیران‌کُن باتیں سیکھ رہے تھے ہم فوراً اُنہیں قبول کرنے لگے۔ ۱۹۶۹ میں ہم نے بپتسمہ لیا۔‏

جُوں‌جُوں وقت گزرتا گیا، میرے لئے اُٹھنا بیٹھنا مشکل ہوتا گیا اور چلنا تو نہایت ہی دشوار تھا۔ کار میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے لئے مجھے زبردستی اپنے گھٹنوں کو موڑنا پڑتا تھا۔ مَیں نے معذوری اور درد کے ساتھ جوکہ اکثر مجھے بہت زیادہ رُلاتا تھا زندہ رہنا سیکھ لیا تھا۔ پس مَیں ذرا سا میک‌اپ دُرست کرتی اور ہم اجلاسوں یا میدانی خدمت کے لئے چل پڑتے۔ جب تک ممکن ہوتا مَیں گھرباگھر پیدل چلتی تھی۔ مَیں اُس وقت تک ہفتے میں ایک یا دو بار میدانی خدمت میں جانے کی کوشش کرتی رہی جب تک میرے گھٹنوں اور پاؤں کی اینٹھن نے اسے ناممکن نہ بنا دیا۔ مَیں اکثر اپنے گِرنے اور پھر اُٹھ نہ سکنے کی بابت فکرمند ہوتی تھی۔ جب مَیں یہوواہ سے مخاطب ہوتی تو اس سے مجھے مدد ملتی۔ بعض‌اوقات تو مَیں اُسکے حضور آنسوؤں سے روتی ہوں۔‏

تاہم، آنسو بہانا بھی ہمیشہ ممکن نہیں تھا۔ جوڑوں کے درد میں مبتلا شخص کی آنکھیں بھی خشک ہو سکتی ہیں۔ مجھے ایسے اوقات کا بھی تجربہ ہوا جب خشکی اِسقدر زیادہ ہوتی تھی کہ پڑھنا بھی مشکل ہو جاتا تھا۔ جب ایسا ہوتا تو مَیں بائبل ٹیپس سنتی تھی۔ اکثر مَیں آنکھیں بند کر کے چلتی پھرتی تھی کیونکہ میرے پپوٹے ہلانے سے میری آنکھوں میں خارش ہوتی تھی۔ اس سے مَیں اپنی بینائی بھی کھو سکتی تھی۔ کبھی‌کبھار مجھے ہر پانچ منٹ بعد اپنی آنکھوں میں مصنوعی آنسو ڈالنے پڑتے تھے۔ اس سے بھی بدتر یہ کہ مجھے اپنی آنکھوں میں مرہم ڈال کر پانچ یا چھ دن تک اُن پر پٹی باندھنی پڑتی تاوقتیکہ وہ دوبارہ بہتر نہیں ہو جاتیں۔ جب کوئی شخص ایسی طویل علالت کے ساتھ نبردآزما ہو جو اس نظام میں معقول طور پر ٹھیک نہیں ہو سکتی تو شکرگزار ہونا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔‏

۱۹۷۸ میں مجھے ویل‌چیئر کا سہارا لینا پڑا۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا۔ مَیں اُس وقت تک اسے پسِ‌پُشت ڈالتی رہی جبتک مَیں ڈال سکتی تھی لیکن اب میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ مَیں جانتی تھی کہ ایک دن ایسا آئیگا مگر مجھے اُمید تھی کہ خدا کی نئی دُنیا پہلے آ جائیگی۔ لین ایک بڑی سی ڈرافٹ‌مین والی کرسی لے آیا جسکا پانچ پہیوں والا چوڑا پیندا تھا۔ اسکے ساتھ، مَیں سارے گھر میں چل‌پھر سکتی تھی۔‏

چونکہ مَیں اپنے بازؤں کو پھیلا نہیں سکتی تھی اور اپنی مڑی ہوئی انگلیوں کے ساتھ اچھی طرح پکڑ بھی نہیں سکتی اسلئے کسی چیز تک پہنچنے میں مجھے پریشانی ہوتی تھی۔ ایسی صورتحال میں مَیں اپنی ”‏گِرفت والی“‏ چھڑی استعمال کرتی تھی۔ اس کیساتھ، مَیں فرش سے چیزیں اُٹھا سکتی ہوں، الماری کھول سکتی اور برتن نکال سکتی یا ریفریجریٹر میں سے کوئی چیز نکال سکتی ہوں۔ اپنی ”‏گِرفت والی“‏ چھڑی کیساتھ نئی مہارتیں حاصل کر لینے کے بعد مَیں گھر کے کچھ کام‌کاج کرنے کے قابل ہو گئی ہوں۔ مَیں کھانا پکا سکتی ہوں، برتن دھو سکتی، کپڑے استری کر سکتی اور اُنہیں تہہ کر سکتی اور فرش صاف کر سکتی ہوں۔ جب میری صحت کسی حد تک بحال ہوتی ہے تو مَیں فخر محسوس کرتی ہوں اور مَیں خوش ہوں کہ مَیں ابھی بھی گھر کے بعض کاموں میں اپنا حصہ ادا کر سکتی ہوں۔ تاہم، جو کام مَیں منٹوں میں کرنے کے قابل تھی اب اُس میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔‏

ٹیلی‌فون کے ذریعے گواہی دینا

اس میں وقت تو لگا لیکن مَیں نے کوشش کی کہ ٹیلی‌فون کے ذریعے گواہی دینے کیلئے ہمت باندھوں۔ میرا خیال تھا کہ مَیں ایسا نہیں کر سکتی لیکن اب مَیں اس سے واقعی لطف اُٹھا رہی ہوں اور مجھے کچھ کامیابی بھی ہوئی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ تو بالکل گھرباگھر جانے کی طرح ہے کیونکہ مَیں لوگوں سے یہوواہ اور اُسکے مقاصد کی بابت بات کرنے کے قابل ہوئی ہوں۔‏

ایک پیشکش جو مَیں استعمال کرتی ہوں اس طرح سے ہے:‏ ”‏ہیلو، کیا آپ مسٹر—‏ہیں؟ مَیں مسز ماس ہوں۔ مَیں لوگوں سے مختصراً بات کر رہی ہوں اور اگر آپ کے پاس چند منٹ ہوں تو کیا مَیں آپکے ساتھ بات کر سکتی ہوں؟ (‏ایک مخصوص جواب ہوتا ہے:‏ ”‏کس چیز کی بابت؟“‏)‏ آجکل دُنیا میں جوکچھ واقع ہو رہا ہے کیا یہ دہشت‌انگیز نہیں ہے؟ (‏مَیں جواب دینے کیلئے وقت دیتی ہوں۔)‏ مَیں آپ کے سامنے بائبل کا یہ نظریہ پیش کرنا چاہونگی جو مستقبل کے لئے حقیقی اُمید دِلاتا ہے۔“‏ اس کے بعد مَیں دُعائے خداوندی اور ممکن ہو تو ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳ پڑھتی ہوں۔ اپنی طرف سے پیروی کرنے کیلئے مَیں نے بعض ملاقاتیں دیگر مسیحی بہنوں یا لین کو دی ہیں۔‏

سالوں کے دوران، میری کافی اچھی بات‌چیت ہوئی ہے اور مَیں دلچسپی ظاہر کرنے والوں کو بروشر، رسالے اور کتابیں بھیجنے کے قابل ہوئی ہوں۔ بعض نے فون کے ذریعے بائبل مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ ایک خاتون نے جس سے میری بات‌چیت ہوئی بیان کِیا کہ وہ محسوس کرتی تھی کہ خود ہی مطالعہ کر لینا کافی ہوگا۔ لیکن کئی ایک مباحثوں کے بعد، وہ بائبل مطالعہ کرنے کیلئے ہمارے گھر آنے پر رضامند ہوگئی کیونکہ مَیں نے اُسے اپنے حالات کی بابت بتایا تھا۔‏

ایک دوسرے وقت پر جب مَیں کال کر رہی تھی تو ایک ریکارڈنگ نے مجھے ایک نیا نمبر دیا۔ اگرچہ مَیں ہمیشہ لوکل کالز ہی کرتی تھی اور یہ اس علاقے سے باہر کی تھی، بہرصورت مَیں نے کال کرنے کی تحریک محسوس کی۔ کچھ دیر میرے ساتھ بات کرنے کے بعد، اُس خاتون نے جس نے فون کا جواب دیا تھا کہا کہ وہ اور اُس کا شوہر ایسے لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں جو سچے مسیحی ہیں۔ لہٰذا مَیں اور لین اُن کیساتھ مطالعہ کرنے کیلئے، تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع اُن کے گھر گئے۔‏

مَیں ابھی بھی دوسروں سے یہوواہ اور اُسکے نئے آسمان اور نئی زمین کے وعدے کی بابت گفتگو کرنے سے خوش ہوتی ہوں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔ حال ہی میں، ایک عورت نے جس سے مَیں کئی مہینوں سے گفتگو کر رہی ہوں مجھے بتایا:‏ ”‏جب بھی مَیں آپ سے بات کرتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مَیں اَور زیادہ علم حاصل کر رہی ہوں۔“‏ مَیں جانتی ہوں کہ مَیں جس علم میں دوسروں کو شریک کر رہی ہوں وہ ہمیشہ کی زندگی کا باعث بنتا ہے اور ایسی خوشی پیدا کرتا ہے جو مجھ جیسے اپاہج سے بھی نمایاں ہے۔ دیگر اوقات کی نسبت بعض‌اوقات مَیں زیادہ خدمت کرنے کے قابل ہوتی ہوں لیکن کاش مَیں ہمیشہ ہی زیادہ کر سکوں!‏ مَیں جانتی ہوں کہ یہوواہ ہر شخص کے حالات سے واقف ہے اور یہ کہ وہ جوکچھ ہم کرنے کے قابل ہیں اُس کی قدر کرتا ہے خواہ یہ بہت تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔ مَیں نے اکثر امثال ۲۷:‏۱۱ پر غور کِیا ہے:‏ ”‏اَے میرے بیٹے دانا بن اور میرے دل کو شاد کر تاکہ مَیں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں،“‏ اور مَیں اُن میں شامل ہونا چاہتی ہوں جو شیطان کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔‏

ہمیشہ اجلاسوں پر موجود ہونا حوصلہ‌افزا ہے اگرچہ میرے لئے وہاں پہنچنا مشکل ہے۔ روحانی طور پر ہمیں خوب سیر کرنے کیلئے یہوواہ نے ہمارے لئے بہت سی ایسی شاندار فراہمیاں کی ہیں کہ مَیں اُن سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہتی ہوں۔ ہم کتنے خوش ہیں کہ ہمارے دونوں بچوں نے سچائی کو اپنایا ہے!‏ ہماری بیٹی ٹیری کی شادی ایک اچھے بھائی سے ہوئی ہے اور اُنکے چار بچے ہیں جن سے مَیں بہت محبت کرتی ہوں۔ اپنے اسباط کو بھی یہوواہ سے محبت کرتے دیکھنا ہمارے دلوں کو کسقدر گرما دیتا ہے!‏ ہمارا بیٹا جیمز اور اُس کی بیوی ٹیوزڈے نے، نیو یارک میں یہوواہ کے گواہوں کے عالمی ہیڈکواٹرز میں، بروکلن بیت‌ایل میں، یہوواہ کی خدمت کرنے کا انتخاب کِیا ہے۔‏

یہوواہ کی قوت کے ذریعے ایک زمینی فردوس

مَیں فردوسی زمین کی بابت یہوواہ کے شاندار وعدے کو یاد رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس وقت بھی خوشی حاصل کرنے کیلئے اُسکی بیشمار مخلوق ہے۔ مَیں خوبصورت غروبِ‌آفتاب سے خوش ہوتی ہوں۔ مَیں رنگ‌برنگے پھولوں اور اُنکی خوشبو کو پسند کرتی ہوں۔ مجھے گلاب بہت پسند ہیں!‏ عموماً تو مَیں گھر سے باہر نہیں جا سکتی لیکن جب مَیں جاتی ہوں تو مَیں پوری طرح سے گرم دھوپ کا مزہ لیتی ہوں۔ مَیں اپنی آنکھیں بند کر کے پہاڑوں پر ایک خوبصورت منظر کا تصور کرتی ہوں جہاں میرا خاندان پھولوں سے بھرے سبزہ‌زاروں میں خوشی منا رہا ہے۔ وہاں پُرشور بہتا ہوا ایک چشمہ ہے اور سب کیلئے رس‌بھرے میٹھے تربوز بکثرت ہیں!‏ جب ممکن ہوتا ہے تو مَیں ایسی چیزوں کی تصاویر بناتی ہوں جو مجھے آنے والے موعودہ زمینی فردوس کی بابت سوچنے میں مدد دیتی ہیں۔ جب مَیں تصویر بنا رہی ہوتی ہوں تو مَیں خود کو وہاں تصور کرتی ہوں۔ مَیں جانتی ہوں کہ یہوواہ میرے گراں‌بہا ذہنی تصورات کو جنہیں مَیں عزیز رکھتی ہوں حقیقت بنا سکتا ہے۔‏

مَیں یعقوب ۱:‏۱۲ کے صحیفے کو یاد رکھنا پسند کرتی ہوں۔ یہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏مبارک وہ شخص ہے جو آزمایش کی برداشت کرتا ہے کیونکہ جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ تاج حاصل کریگا جسکا خداوند نے اپنے محبت کرنے والوں سے وعدہ کِیا ہے۔“‏ پولس نے اپنی بیماری کو ’‏شیطان کے ایک فرشتے سے منسوب کِیا جو اُسے مکے مارتا رہتا ہے۔‘‏ اُس نے دُعا کی کہ یہوواہ اُسکی معذوری کو ختم کر دے مگر اُسے کہا گیا کہ اُسکی کمزوری میں خدا کی قدرت پوری ہوتی ہے۔ پس کمزوری کے باوجود پولس کی کامیابی خدا کی قدرت کے اُس پر سایہ کرنے کا ثبوت تھی۔ پولس نے کہا:‏ ”‏جب مَیں کمزور ہوتا ہوں اُسی وقت زورآور ہوتا ہوں۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۲:‏۷-‏۱۰‏)‏ مَیں محسوس کرتی ہوں کہ اپنی معذوریوں کے باوجود مَیں جوکچھ بھی کر سکتی ہوں وہ میرے ساتھ خدا کی قدرت کی بدولت ہے۔‏

یوحنا نے ایک سرگزشت بیان کی جو درحقیقت میری حوصلہ‌افزائی کرتی ہے۔ یہ ایک شخص کی بابت ہے جو ۳۸ برس سے چارپائی پر پڑا ہوا تھا۔ اپنے آپ کو تندرست دیکھنے کی شدید آرزؤ کیساتھ وہ بھی دیگر بیمار لوگوں کے ہمراہ پُراُمید طور پر پانی کے حوض کے پاس لیٹا ہوا تھا۔ وہ اُس پانی تک پہنچنے کے قابل نہیں تھا جو اُسکے خیال میں اُسے شفا دے سکتا تھا۔ ایک دن یسوع نے اُسے دیکھا اور اُس سے پوچھا:‏ ”‏کیا تُو تندرست ہونا چاہتا ہے؟“‏ مَیں کیسے خوشی کے آنسوؤں کیساتھ اس کا جواب دونگی!‏ ”‏یسوع نے اُس سے کہا اُٹھ اور اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پھر۔“‏ (‏یوحنا ۵:‏۲-‏۹‏)‏ ہمارے اندر بہتیرے ایسے ہیں جو ایسی پکار کو سننے کے مشتاق ہیں!‏—‏لیورٹا ماس کی زبانی۔‏

‏[‏صفحہ 24 پر تصویر]‏

مَیں نے ایک بچی کا تصور کِیا جو لوگوں سے پیار کرتی ہے اور دیکھیں وہ خوشی سے سبزہ‌زار میں سے گزر رہی ہے

‏[‏صفحہ 25 پر تصویر]‏

زندہ‌دلی کے موڈ میں، مَیں نے پایوں والے بانس پر ایک مہم‌جُو لڑکے کا تصور کِیا جسکا کتا نیچے کھڑا ہے

‏[‏صفحہ 26 پر تصویریں]‏

میدانی خدمت کیلئے فون نمبر اکٹھے کرتے ہوئے

فون ڈائیل کرتے ہوئے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں