مَیں نے ایک بےمقصد زندگی میں مقصد پا لیا
صبح سویرے میری بےآرامی اور دہشت کا تصور کریں جب بیڈروم کی تلاشی لینے والے دو ہٹےکٹے آدمیوں نے مجھے غیرمتوقع طور پر نیند سے بیدار کر دیا۔ میری ماں، یقیناً پریشانی کے عالم میں، پژمُردہ اور بےبس، پاس کھڑی تھی۔ یہ آدمی سراغرساں تھے۔
مَیں نے فوراً بھانپ لیا کہ وہ کیا ڈھونڈ رہے تھے۔ مَیں نے بڑی دلیری اور جارحیت سے سامنا کِیا، اگرچہ اندرونی طور پر مَیں خائف تھا۔ مَیں سمجھ گیا کہ نیو جرسی، یو.ایس.اے. میں نوجوان چوروں کے ہمارے گروہ کے گرد پولیس کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ سراغرساں مجھے بڑی ترشروئی سے کپڑے پہننے کیلئے کہنے لگے اور پھر مجھے تفتیش کیلئے پولیس ہیڈکوارٹرز لے گئے۔
مَیں اس بُری حالت کو کیسے پہنچا تھا؟ یہ تو اوائل عمری میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ جبکہ مَیں ابھی جواںسالی کے وسط میں ہی تھا، مَیں خود کو پکا نوعمر مجرم خیال کرتا تھا۔ ۱۹۶۰ کے عشرے کے دوران، بہتیرے نوجوان بِلاوجہ باغی بن جانے کو ”ہردلعزیز“ خیال کرتے تھے، اور مَیں پوری طرح اس سے متفق تھا۔ لہٰذا، ۱۶ سال کی عمر میں، ہائی سکول سے نکال دئیے جانے پر، مَیں علاقے کی بلیئرڈ کی دُکان پر اپنا وقت ضائع کرنے لگا۔ یہاں پر مَیں نوجوانوں کے ایک گروہ میں شامل ہو گیا جو چوریاں کِیا کرتا تھا۔ نسبتاً چھوٹیموٹی چوریوں میں اُن کے ساتھ شامل ہونے کے بعد، مَیں پُرجوش اور سنسنیخیز واقعات سے لطف اُٹھانے لگا اور ہر تجربے کو واقعی بہت ہیجانخیز پایا۔
یوں آزادانہ چوریچکاری کے نو ماہ کا آغاز ہو گیا۔ ایک گروہ کے طور پر، ہم نے خصوصاً اپنی توجہ پیشہوارانہ دفاتر پر مرکوز رکھی جہاں اکثر بڑی رقوم رکھی جاتی تھیں۔ گرفتار ہوئے بغیر ہم نے جتنی زیادہ چوریاں کیں، ہم اتنے ہی بےباک ہوتے گئے۔ آخرکار، ہم نے ضلعی بینک کی ایک شاخ کو لوٹنے کا فیصلہ کِیا۔
پہلی مرتبہ، حالات بگڑنے لگے۔ اگرچہ ہم بغیر کسی دشواری کے بینک میں داخل تو ہو گئے، مگر اندر ہم نے انتہائی مایوسکُن رات گذاری کیونکہ ہم صرف کیشیئر کی الماریوں تک ہی پہنچنے کے قابل ہوئے۔ ایک اَور سنگین مسئلہ یہ تھا کہ ہماری چوری محکمۂوفاقیتحقیقات (ایفبیآئی) کو سامنے لے آئی۔ ایفبیآئی کو ہمارے مقدمے کی تحقیقات کرتے ہوئے، زیادہ وقت نہیں لگا تھا کہ ہم سب گرفتار ہو گئے۔
غلطکاری کے افسوسناک اثرات
مجھ پر ۷۸ چوریوں کا الزام عائد کِیا گیا اور جن میں سے ہر ایک کی تفصیلات عدالت میں پڑھے جانے سے ندامت اُٹھانی پڑی۔ اس نے، مقامی اخبارات میں ہمارے جرائم کی بابت تمامتر نشرواشاعت میں اضافہ کر دیا جس کا میرے والدین پر نہایت بُرا اثر پڑا۔ لیکن مَیں اُن کیلئے جس ذلت اور پریشانی کا باعث بن رہا تھا مجھے اُسکی اُسوقت زیادہ فکر نہیں تھی۔ مجھے حکومت کے ایک اصلاحی قیدخانے میں غیرمُعیّنہ مدت کی سزا سنائی گئی، جس کا مطلب میرے لئے اُسوقت تک حراست میں رہنا ہو سکتا تھا جبتککہ مَیں ۲۱ سال کا نہیں ہو جاتا۔ تاہم، ایک تجربہکار وکیل کی کاوشوں کے نتیجے میں، مجھے ایک مخصوص اصلاحی سکول میں منتقل کر دیا گیا۔
اگرچہ مَیں قید کی میعاد سے بچ گیا تھا لیکن شرط یہ تھی کہ مجھے آبادی اور میرے تمام سابقہ دوستوں سے کہیں دُور بھیج دیا جائے۔ اس مقصد کیلئے، مجھے نیوارک میں ایک ایسے پرائیوٹ سکول میں داخل کرا دیا گیا جو مجھ جیسے مجرم بچوں کا خاص خیال رکھتا تھا۔ اسکے علاوہ، پیشہوارانہ مدد حاصل کرنے کیلئے مجھ سے ایک ماہرِنفسیات کیساتھ ہفتہوار ملاقاتیں کرنے کا تقاضا کِیا گیا۔ ان تمام شرائط کو میرے والدین نے—خود ایک بھاری مالی بوجھ برداشت کرکے—پورا کِیا۔
اصلاحی کوششیں
بِلاشُبہ ہمارے مقدمے کی خوب تشہیر کے نتیجے میں، ہمارے آبائی قصبے کے اخبار میں ایک اداریہ شائع ہوا جس کا عنوان تھا، ”چھڑی باز رکھنے سے۔“ یہ مضمون بظاہر اُس نرم برتاؤ پر تنقید تھی جو گروہ کیساتھ کِیا گیا تھا۔ اس اداریے کے تبصروں نے، پہلی بار، میرے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ لہٰذا مَیں نے اخبار سے اس حصے کو کاٹ لیا اور اپنےآپ سے عہد کِیا کہ ایک دن، کسی نہ کسی طریقے سے، مَیں اس تمام رنج، پریشانی اور نقصان کی تلافی کرونگا جو مَیں نے اپنے والدین کو پہنچایا تھا۔
مَیں نے سوچا کہ اپنے والدین پر یہ بات ثابت کرنے کا کہ مَیں بدل سکتا ہوں ایک طریقہ اپنی اصل جماعت کیساتھ ہائی سکول سے گریجوایشن کرنا ہے۔ مَیں نے اس حد تک پڑھنا شروع کر دیا کہ اتنا مَیں نے پہلے کبھی اپنی زندگی میں نہیں پڑھا تھا۔ نتیجہ یہ رہا کہ سکول کے اختتام پر، جب، اپنے اصلاحی افسر کی موجودگی میں، مَیں دوبارہ اُسی جج کے سامنے پیش ہوا جس نے مجھے سزا دی تھی تو اُسکے سخت چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی جب اُس نے یہ دیکھا کہ مَیں نے ہر امتحان میں بی-پلس کی اوسط حاصل کی ہے۔ پس اب میرے لئے اپنے پُرانے ہائی سکول میں واپس آنے کا موقع کُھل گیا، اور مَیں نے اگلے ہی سال گریجوایشن کر لی۔
میری بےمقصدیت قائم رہتی ہے
یہ ۱۹۶۶ کی بات ہے، جب میرے بہتیرے ہمجماعت ویتنام میں جنگ کیلئے چلے گئے، اور مَیں مغربی ورجینیا میں کنکورڈ کالج میں چلا گیا۔ کالج میں مجھے منشیات، امن ریلیوں، اور ایک بالکل نئی ثقافت سے متعارف کرایا گیا جو میرے لئے روایتی اقدار کو مشکوک بنا دینے کا باعث بنی۔ مَیں کسی چیز کی تلاش میں تھا لیکن مَیں اُس چیز کو نہیں جانتا تھا۔ جب یومِتشکر کی تعطیلات آئیں تو گھر جانے کی بجائے، مَیں دوسروں کی گاڑیوں میں لفٹ لیکر جنوب میں بلیو رِج ماؤکِھچےجمیاینز کے دوسری طرف فلوریڈا چلا گیا۔
مَیں نے پہلے کبھی اتنا سفر نہیں کِیا تھا، اور مَیں بہت سی نئی اور مختلف جگہوں کو دیکھنے سے محظوظ ہو رہا تھا—یہ سلسلہ صرف یومِتشکر کے وقت تک ہی جاری رہا جب مجھے آوارہگردی کے الزام میں ڈےٹونا بیچ کی جیل میں قید کر دیا گیا۔ مَیں اپنے والدین سے رابطہ کرنے میں بڑی شرمندگی محسوس کر رہا تھا، لیکن قیدخانہ کے حکام نے ایسا کر دیا۔ ایک بار پھر، میرے والد نے میرے قید کی سزا کاٹنے کی بجائے بھاری جرمانہ ادا کرنے کے انتظامات کر دیئے۔
اس کے بعد مَیں کالج میں نہ ٹھہرا۔ بلکہ، صرف ایک سوٹکیس اور سیاحت کیلئے بیدار ہونے والی ایک نئی اُمنگ کیساتھ، مَیں نے پھر سے سفر کرنا شروع کر دیا، بِلامقصد ریاستہائےمتحدہ کے مشرقی ساحلی علاقے میں بیگانی گاڑیوں میں لفٹ لیکر ادھراُدھر گھومتا رہا اور اپنی کفالت کیلئے عارضی ملازمتوں پر کام کرتا رہا۔ میرے والدین کو بمشکل ہی یہ خبر ہوتی تھی کہ مَیں کہاں ہوں، اگرچہ مَیں کبھیکبھار اُن سے ملنے کیلئے چلا جایا کرتا تھا۔ میرے لئے حیرانی کی بات تھی کہ وہ ہمیشہ مجھ سے مل کر خوش ہوتے تھے، لیکن مَیں آرام سے نہ بیٹھ سکا۔
اب جبکہ مَیں کالج میں نہیں تھا تو مَیں اپنے طالبعلم ہونے کے درجے کو بھی کھو بیٹھا تھا، جس نے فوجی خدمت سے مستثنیٰ قرار دئیے جانے کی منظوری دے رکھی تھی۔ فوجی خدمت کیلئے میرا درجہ اب ۱-اے ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر کے بعد مجھے فوج میں بھرتی ہونے کیلئے بلا لیا جانا تھا۔ سخت نظموضبط اور اپنی نئی آزادی کو کھو دینے کا خیال بعیدازقیاس تھا۔ لہٰذا مَیں نے بحری جہاز کے ذریعے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس عمل کے دوران میرے لئے ایک نئے پیشے کا موقع کُھل گیا۔ کیا یہ بالآخر میری زندگی کا حقیقی مقصد ہو سکتا تھا؟
سمندر میں اُجرتی سپاہی کے طور پر زندگی
ہمارے خاندان کا ایک پُرانا دوست ریاستہائےمتحدہ کے تجارتی بیڑے کا کپتان تھا۔ اُس نے مجھے حال ہی میں شروع ہونے والے بحری انجینیئروں کیلئے تربیتی پروگرام کی بابت بتایا۔ مجھے دو سالہ مختصر پروگرام میں بخوشی قبول کر لیا گیا، جسکا فوجی خدمت سے مستثنیٰ قرار دئیے جانے اور بحری انجینیئرنگ کی ڈگری کے امکانات کا دوہرا فائدہ تھا۔ مَیں نے ۱۹۶۹ میں ڈپلومہ لیکر گریجوایشن کی اور سانفرانسسکو میں اپنے پہلے بحری جہاز پر ایک تیسرے درجے کے انجینیئرنگ آفیسر کی حیثیت سے کام شروع کر دیا۔ ہم نے اسلحے سے لدے ہوئے جہاز کیساتھ ویتنام کی طرف فوراً سفر شروع کر دیا۔ یہ دَورہ بڑا معمولی سا تھا، اور جب ہم سنگاپور پہنچے تو مَیں نے اُس جہاز کو چھوڑ دیا۔
سنگاپور میں مَیں نے ایک نیم سرکاری پرچمبردار جہاز پر کام شروع کر دیا کیونکہ اس نے بندرگاہوں سے یونین کے بغیر تمام مزدوروں کو اُجرت پر رکھ لیا۔ اس جہاز کو ویتنام میں ساحل کیساتھ ساتھ، جنوب میں خلیج کیم ران سے لیکر شمال میں ڈا ننگ تک، فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے علاقے کے قریب چلنے کیلئے استعمال کِیا گیا۔ یہاں بیرحم بمباری کی گونجتی ہوئی گرج کبھی بند نہیں ہوتی تھی۔ تاہم، مالی لحاظ سے یہ راستہ فائدہمند تھا، اور جنگ کے خطرے اور براہِراست گولیوں کی زد میں ہونے کی صورت میں کبھیکبھار ملنے والے خطرے اور نقصان کا ازالہ کرنے والے بونسوں کے ساتھ، مَیں نے خود کو ایک زرخرید جنگی سپاہی کے طور پر سال میں ۳۵،۰۰۰ ڈالروں سے بھی زیادہ کماتے ہوئے پایا۔ اس نئی امارت کے باوجود، مَیں نے ابھی تک بےمقصد محسوس کِیا اور سوچا کہ زندگی کا مقصد کیا ہے—مَیں کدھر جا رہا تھا؟
زندگی کے مقصد کی ایک جھلک
دشمن کی گولیوں کے ایک مخصوص خوفناک حملے کے بعد، میرے بوائلر کی دیکھبھال کرنے والے ملازم، البرٹ نے مجھے بتانا شروع کِیا کہ کیسے خدا بہت جلد ایک دن زمین پر امن لانے والا ہے۔ ان غیرمعمولی معلومات پر میرے کان کھڑے ہو گئے۔ جب ہم دوبارہ سنگاپور روانہ ہوئے تو البرٹ نے مجھے بتایا کہ وہ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک ہوا کرتا تھا مگر سرگرم نہ رہا۔ لہٰذا ہم دونوں نے ملکر سنگاپور میں مقامی گواہوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ کوئی بھی ہماری مدد کرنے کے قابل نظر نہ آیا، لیکن ہمارے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے کی رات البرٹ کو ایک ہوٹل کی لابی میں واچٹاور رسالہ مل گیا۔ اس پر ایک پتہ چھپا ہوا تھا۔ ہمارے پاس اسکی تصدیق کرنے کا وقت نہیں تھا، تاہم، اگلی صبح ہم ساسیبو، جاپان، روانہ ہوگئے، جہاں پر جہاز کے دو ہفتوں تک خشک گودی میں جانے کا انتظام کِیا گیا تھا۔
وہاں ہم نے جہاز کے عملے کو تنخواہ دی، اور البرٹ اپنی راہ چلا گیا۔ لیکن صرف ایک ہفتے کے بعد، مَیں اُسکی طرف سے ایک ٹیلیگرام موصول ہونے پر حیران تھا جس میں مجھے بتایا گیا کہ آئندہ ویکاینڈ پر ساسیبو میں یہوواہ کے گواہوں کی ایک کنونشن منعقد ہونے والی تھی۔ مَیں نے وہاں جانے اور یہ دیکھنے کا فیصلہ کر لیا کہ اس کنونشن کا مقصد کیا تھا۔
اگست ۸، ۱۹۷۰ کا وہ دن میرے ذہن میں ہمیشہ تازہ رہیگا۔ مَیں ٹیکسی پر کنونشن کی جگہ پر پہنچا اور تمام کے تمام نفیس لباس پہنے ہوئے، سینکڑوں جاپانیوں کے درمیان تیزتیز چلنے لگا۔ اگرچہ اُن میں سے زیادہتر انگلش تو نہیں بول سکتے تھے، پھربھی ایسا لگتا تھا کہ وہ سب مجھ سے مصافحہ کرنا چاہتے تھے۔ مَیں نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا تھا، اور جاپانی زبان میں پروگرام کا ایک بھی لفظ سمجھ نہ آنے کے باوجود، مَیں نے فیصلہ کِیا کہ مَیں اگلے دن پھر جاؤنگا—محض یہ دیکھنے کیلئے کہ آیا مجھے دوبارہ ایسے ہی خیرمقدم کا تجربہ ہوگا یا نہیں۔ مجھے ہوا!
ہم نے ایک نئے عملے کو ملازم رکھا اور ایک ہفتے کے بعد سنگاپور جانے کیلئے پھر سمندر پر آ گئے۔ وہاں پہنچ کر جو پہلا کام مَیں نے کِیا وہ ٹیکسی لیکر واچٹاور رسالے پر چھپے ہوئے پتے پر جانا تھا۔ ایک بامرّوت خاتون گھر سے نکلی اور پوچھا کہ آیا وہ کوئی مدد کر سکتی ہے۔ مَیں نے اُسے دی واچٹاور پر لکھا ہوا پتہ دکھایا، اور اُس نے فوراً مجھے اندر بلا لیا۔ پھر مَیں اُسکے شوہر سے ملا اور پتہ چلا کہ وہ آسڑیلیا سے آئے ہوئے مشنری تھے، نورمن اور گلیڈس بیلوٹی۔ مَیں نے وضاحت کی کہ مجھے اُن کا پتہ کیسے ملا۔ اُنہوں نے میرا بہت خیرمقدم کِیا اور میرے بہت سے سوالات کا جواب دیا، اور مَیں بائبل لٹریچر کا ایک شاپنگ بیگ بھر کر وہاں سے روانہ ہوا۔ اگلے چند ماہ تک، ویتنام میں ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے، مَیں نے سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے سمیت بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں۔
اب، اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ، مجھے حقیقی مقصد اور راہنمائی کا احساس ہوا۔ سنگاپور کے اگلے دورے پر، مَیں نے جہاز سے استعفیٰ دے دیا۔
گھر پر ایک مایوسکُن واپسی
یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ میرا گھر جانے کو واقعی جی چاہا۔ اور پھر چند ہفتوں بعد، مَیں اپنے والدین کو یہوواہ کے گواہوں کی بابت سب کچھ بتانے کی خواہش لیکر بڑے جوش کیساتھ گھر واپس لوٹا۔ وہ میرے جوشوخروش میں ذرا بھی شریک نہ ہوئے۔ یہ بات قابلِسمجھ تھی کیونکہ اسکے لئے میرے رویے نے کوئی حمایت نہ کی۔ مجھے گھر لوٹے ابھی صرف چند ہی ہفتے گزرے تھے جب، غصے کے عالم میں، مَیں نے ایک مقامی نائٹکلب میں توڑپھوڑ کر دی۔ اور مجھے جیل کی کوٹھڑی میں جاکر ہوش آیا۔
اب مجھے یہ یقین ہونے لگا کہ میرے کبھی سدھرنے اور اپنے متشدّد مزاج پر قابو پانے کی کوئی حقیقی اُمید نہیں تھی۔ شاید مَیں نے ہمیشہ بِلاوجہ باغی ہی بنے رہنا تھا۔ مجھے یہ احساس ہوا کہ مَیں گھر میں مزید نہیں رہ سکتا۔ مجھے جانا ہی تھا۔ لہٰذا چند روز کے اندر، مَیں نے انگلینڈ جانے والے ناروے کے مالبردار بحری جہاز میں سفر کی ٹکٹ محفوظ کرا لی۔
انگلینڈ اور ڈرامہ سکول
مَیں نے انگلینڈ میں اپنے قیام سے بہت لطف اُٹھایا، لیکن ملازمت مسئلہ بن گئی۔ لہٰذا مَیں نے مختلف ڈرامہ سکولوں کیلئے آزمائشی کام کرنے کا فیصلہ کِیا، اور میرے لئے تعجب کی بات تھی کہ مجھے لنڈن سکول آف ڈرامیٹک آرٹ میں قبول کر لیا گیا۔ لندن میں میرے دو سال بہت زیادہ شرابنوشی، دوستواحباب کی محفل، اور، یقیناً، ہر طرح کی منشیات استعمال کرنے میں گزر گئے۔
اچانک مَیں نے یہ فیصلہ کِیا کہ مجھے ایک بار پھر ریاستہائےمتحدہ میں اپنے خاندان سے ملنے جانا چاہئے۔ لیکن کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس مرتبہ میری ڈرامائی وضعقطع نے اُنہیں کتنی حیرت میں ڈال دیا ہوگا؟ مَیں نے ایک سیاہ قبا اور گلے میں دو سنہری شیر کے سروں والی سونے کی زنجیر، سُرخ مخملی واسکٹ، اور سیاہ مخملی پتلون اور گھٹنوں تک لمبے چمڑے کی لڑیوں والے بوٹ پہن رکھے تھے۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ میرے والدین یقیناً اس سے متاثر نہ ہوئے اور مجھے اُنکے روایتی ماحول میں مکمل طور پر اجنبیت کا احساس ہوا! پس مَیں انگلینڈ واپس چلا گیا، جہاں مَیں نے ۱۹۷۲ میں ڈرامیٹک آرٹ میں ڈپلومہ حاصل کِیا۔ اب مجھے ایک اَور منزل مِل گئی تھی۔ لیکن بار بار ذہن میں آ کر دق کرنے والا یہ سوال ابھی تک موجود تھا کہ مَیں یہاں سے کدھر جاؤنگا؟ مَیں ابھی تک زندگی میں حقیقی مقصد کی ضرورت محسوس کرتا تھا۔
بےمقصدیت بالآخر ختم ہو رہی تھی
اسکے بعد زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ مَیں نے محسوس کِیا کہ آخرکار میری زندگی میں کچھ استحکام آنے لگا تھا۔ اسکا آغاز میری پڑوسن کیرولین کیساتھ دوستی سے ہوا۔ وہ آسٹریلیا کی ایک سکول ٹیچر تھی اور ایک رسمورواج کی پابند، متوازن خاتون تھی—میری شخصیت کے بالکل برعکس۔ ہم کسی رومانوی وابستگی کے بغیر دو سال سے دوست تھے۔ پھر کیرولین تین ماہ کیلئے امریکہ چلی گئی، اور ہماری اچھی دوستی کی وجہ سے، مَیں نے کئی ہفتوں کیلئے اپنے والدین کیساتھ اُسکے رہنے کا بندوبست کر دیا۔ اُنہوں نے غالباً سوچا ہوگا کہ اُسکا مجھ جیسے شخص کیساتھ کیونکر واسطہ ہوگا۔
کیرولین کے چلے جانے کے تھوڑی ہی دیر بعد، مَیں نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ مَیں بھی گھر جا رہا ہوں، اور اُنہوں نے مجھے بڑے تپاک سے الوداع کِیا۔ لیکن واپس امریکہ جانے کی بجائے، مَیں صرف جنوبی کینسنگچُنیںکُتا، لنڈن، تک گیا، جہاں مَیں نے ایک تہہخانہ کرائے پر لیا اور لندن میں یہوواہ کے گواہوں کے برانچ دفتر کو ٹیلیفون کِیا۔ مَیں سمجھ چکا تھا کہ میری زندگی کو کس راہ پر گامزن ہونا چاہئے۔ ایک ہفتے کے اندر ایک خوشباش شادیشُدہ جوڑا میرے پاس آیا اور فوراً میرے ساتھ ایک باقاعدہ بائبل مطالعہ شروع کرنے کا بندوبست کِیا۔ چونکہ مَیں گواہوں کی مطبوعات پہلے سے پڑھ چکا تھا، اب مَیں بہت شوق رکھتا تھا اور ہر ہفتے دو مطالعوں کیلئے درخواست کی۔ میرے جوشوجذبے کو دیکھتے ہوئے، بوب نے جلد ہی مجھے کنگڈم ہال آنے کی دعوت دی، اور جلد ہی مَیں تمام ہفتہوار اجلاسوں پر حاضر ہو رہا تھا۔
جب مجھے معلوم ہوا کہ یہوواہ کے گواہ سگریٹنوشی نہیں کرتے تو مَیں نے فوراً اس عادت کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن میری وضعقطع کی بابت کیا ہے؟ اب مَیں اجنبیت محسوس نہیں کرنا چاہتا تھا، اسلئے مَیں نے ایک قمیض، ٹائی، اور سوٹ خرید لیا۔ جلد ہی مَیں گھرباگھر منادی کی کارگزاری میں حصہ لینے کے لائق بن گیا—اور اگرچہ پہلی مرتبہ بہت گھبرایا ہوا تھا، مَیں اس سے لطفاندوز ہونے لگا۔
میرے خیال میں، جب کیرولین واپس آئے گی تو وہ بہت حیران ہوگی۔ یہ بات تو بالکل بِلامبالغہ ثابت ہوئی! وہ اتنے مختصر عرصے میں—میری آرائشوزیبائش اور وضعقطع میں اور دیگر بہت سے طریقوں میں میرے اندر ایسی تبدیلی کا یقین نہ کر سکی۔ مَیں نے وضاحت کی کہ کیسے میرے بائبل مطالعوں نے میری مدد کی ہے اور اُسے بھی بائبل مطالعے کی دعوت دی۔ شروع شروع میں تو ڈری مگر آخرکار وہ آمادہ ہو گئی، اس شرط پر کہ وہ صرف میرے ساتھ مطالعہ کریگی۔ مَیں یہ دیکھ کر خوش تھا کہ اُس نے کتنی جلدی جوابیعمل دکھایا تھا، اور زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ وہ بائبل کی سچائی کی قدر کرنے لگی تھی۔
چند ماہ کے بعد، کیرولین نے آسٹریلیا واپس جانے کا فیصلہ کر لیا، اور اُس نے سڈنی میں اپنا بائبل مطالعہ دوبارہ شروع کِیا۔ مَیں اپنے بپتسمے تک، جو مَیں نے سات ماہ بعد حاصل کِیا، لندن ہی میں قیامپذیر رہا۔ اب مَیں ریاستہائےمتحدہ میں دوبارہ گھر جانا چاہتا تھا اور اپنے سارے خاندان کو دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ مَیں اپنی منزل کو حاصل کرنے کا عزم کئے ہوئے تھا!
ایک فرق کیساتھ گھر واپسی
حیرت میں مبتلا میرے والدین جاننا چاہتے تھے کہ اس مرتبہ کیا ہونے والا تھا—مَیں بہت مہذب دکھائی دے رہا تھا! لیکن اب مَیں واقعی اپنائیت محسوس کرکے خوش تھا۔ اگرچہ میرے والدین کو فطرتی طور پر میری اس ڈرامائی تبدیلی پر تعجب ہوا، وہ موقعشناس تھے اور حسبِمعمول اپنی مہربانی اور صبر سے جوابیعمل ظاہر کِیا۔ اِسکے بعد کے مہینوں کے دوران، مجھے اُنہیں بائبل کا مطالعہ کرانے کا شرف حاصل ہوا۔ مَیں نے اپنی دو بڑی بہنوں کیساتھ مطالعہ شروع کِیا، وہ بھی بِلاشُبہ میرے تبدیلشُدہ طرزِزندگی سے اثرپذیر ہوئی تھیں۔ جیہاں، یہ گھر میں حقیقی واپسی تھی!
اگست ۱۹۷۳ میں، مَیں کیرولین کے پیچھے آسٹریلیا گیا، جہاں مَیں ۱۹۷۳ میں یہوواہ کے گواہوں کی بینالاقوامی کنونشن پر دیگر ۱۲۰۰ لوگوں کیساتھ اُسے بھی بپتسمہ لیتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اگلے ہفتے آسٹریلیا کے قومی دارالحکومت، کینبیرا میں ہم نے شادی کر لی۔ یہاں مَیں نے کُلوقتی منادی کے کام میں گزشتہ ۲۰ سال سے اور بطور بزرگ مقامی کلیسیا میں ۱۴ سال سے خدمت سرانجام دی ہے۔
میری بیوی کے تعاون کی بدولت، ہم نے تین بچوں کی پرورش کی ہے—ٹوبی، امبر، اور جوناتھن۔ اگرچہ ہمیں عام خاندانی مسائل کا سامنا ہوتا ہے، پھربھی، مَیں کُلوقتی پائنیر کے طور پر منادی کے کام میں حصہ لینے کیلئے وقت نکالتا ہوں اور اس کیساتھ ساتھ اپنے خاندان کی مادّی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہوں۔
آج، ریاستہائےمتحدہ میں، میرے والدین یہوواہ کے مخصوصشُدہ خادم ہیں، اور اگرچہ وہ دونوں اپنے ۸۰ کے دہوں میں ہیں، وہ ابھی تک بادشاہت کی عوامی منادی میں شریک ہوتے ہیں۔ میرے والد مقامی کلیسیا میں خدمتگزار خادم کے طور پر خدمت کرتے ہیں۔ میری دو بڑی بہنیں بھی یہوواہ کی خدمت کیلئے سرگرم ہیں۔
مَیں یہوواہ خدا کا کسقدر مشکور ہوں کہ میری بےمقصد آوارگی کے بہتیرے سال اب بیت چکے ہیں! اُس نے نہ صرف اپنی زندگی کو استعمال کرنے کا بہترین طریقہ سیکھنے میں میری مدد کی ہے بلکہ اُس نے مجھے ایک متحد اور فکر کرنے والے خاندان کی برکت سے بھی نوازا ہے۔—ڈیوڈ زگ پیٹرک کی زبانی۔
[تصویر]
ڈیوڈ اور اُسکی اہلیہ، کیرولین