جب بچپن ایک بھیانک خواب ہوتا ہے
سپین میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
آج—۱۹۹۰ کے دہے کے ایک مثالی دن پر—۲ لاکھ بچے گوریلا جنگوں میں لڑیں گے، سکول جانے کی عمر کے ۱۰۰ ملین بچے سکول نہیں جائینگے، ۱۵۰ ملین بچے بھوکے سو جائینگے، ۳۰ ملین بچے سڑکوں پر سوئینگے اور ۴۰ ہزار بچے مر جائینگے۔
اگر مندرجہبالا اعداد خوفزدہ کرنے والے دکھائی دیتے ہیں، تو ان اعداد کے پیچھے چہرے دلشکن ہیں۔ ذیل میں پانچ بچوں کی مختصر سی سرگزشتیں ہیں جنکی مایوسکُن خستہحالی ہمیں اِن دہشتناک اعدادوشمار کے مطلب کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
ایک فوجی بچہ۔ محمدؔ صرف ۱۳ سال کا ہے، لیکن وہ پہلے ہی سات جنگوں کا تجربہکار، جنوب مغربی ایشیا کا ایک آزمودہکار فوجی سپاہی ہے۔ دس سال کی عمر میں—اس سے قبل کہ وہ جنگ کیلئے جاتا وہ بکریوں کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔ اب، محمدؔ حملہ کرنے کیلئے ہلکی اےکے.۴۷ (خودکار کلاشنکوف) رائفل کا مالک ہے، جسے استعمال کرنے سے وہ بالکل نہیں ہچکچاتا۔ ایک جھڑپ میں اس نے تھوڑے ہی فاصلے پر دو دشمن فوجیوں کو مار گرایا۔ جب یہ پوچھا گیا کہ وہ قتل کرنے کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے تو اس نے جواب دیا: ”میں خوش تھا کیونکہ میں نے انہیں مار دیا تھا۔“ بچے نسبتاً بہتر فوجی ثابت ہوتے ہیں، اس کا افسر وضاحت کرتا ہے، ”کیونکہ وہ خوفزدہ نہیں ہوتے۔“
ایک مزدور بچہ۔ کریبیئن جزیرے پر لکڑی اور سیمنٹ سے بنے ایک گھر میں چار سالہ وڈکیبیؔ رہتا ہے۔ گھر کے اپنے روزمرہ کے کاموں: کھانا پکانے، پانی لانے اور اپنے مالک کے گھر کو صاف کرنے کیلئے وہ صبح سویرے ۰۰:۶ بجے اٹھ جاتا ہے۔ اسے کوئی اُجرت نہیں ملتی اور غالباً وہ کبھی اسکول نہیں جائیگا۔ وڈکیبیؔ کہتا ہے کہ اسے اس کے والدین کی کمی محسوس ہوتی ہے، لیکن وہ نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں۔ اسکا دن رات کو ۳۰:۹ پر ختم ہوتا ہے اور اگر حالات اسکے لئے سازگار رہے تو وہ بھوکا نہیں سوئے گا۔
ایک بھوکی بچی۔ افریقہ کے گاؤں کوموساوا میں، ایک ۱۱ سالہ لڑکی تھکا دینے والا ہر دن گھاس پھوس صاف کرنے میں گزار دیتی ہے۔ پیاز کی گنٹھیاں—عملاً وہ سب کچھ ہے جو کہ خشک زمین میں اُگ سکتا ہے—اُسے اور اُسکے خاندان کو زندہ رکھتی ہیں۔ ان گنٹھیوں کو یا تو اُبال لیا جاتا ہے یا پھر پیس کر بھون لیا جاتا ہے۔ خشکسالی اور خانہجنگی کے مُہلک اتصال نے گاؤں والوں کو فاقوں کے کنارے لا کھڑا کیا ہے۔
گلیوں میں پھر نے والا ایک بےگھر بچہ۔ ایڈؔیسن جنوبی امریکہ کے ایک بڑے شہر کے ہزاروں بےگھر بچوں میں سے محض ایک ہے۔ وہ جوتے صاف کرکے تھوڑا پیسہ کماتا ہے اور وہ دیگر بچوں کے ہمراہ بس اسٹاپ کے فٹ پاتھ پر سوتا ہے، جو کہ سرد راتوں کے دوران ایک دوسرے کیساتھ جڑ جڑ کر لیٹتے ہیں۔ وہ ایک جوتے پالش کرنے والے لڑکے کے طور پر اپنی کمائی میں اضافہ کرنے کیلئے بعضاوقات چھوٹے موٹے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ دو مرتبہ وہ پولیس سے مار کھا چکا ہے اور وہ تین مہینے جیل میں گزار چکا ہے۔ ایڈؔیسن بڑے وثوق سے کہتا ہے کہ اب اس نے منشیات اور گلو سونگھنا ”تقریباً“ چھوڑ دیا ہے۔ وہ ایک مکینک بننے اور کوئی ہنر سیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔
ایک بچے کی موت۔ یہ مشرقِوسطیٰ کے ڈوگن پہاڑ پر ایک مرطوب، سرد صبح ہے۔ کفن میں لپٹا ایک کمسن بچہ ایک کم گہری قبر میں رکھا ہوا ہے۔ بچہ اسہال سے مر گیا—جو شیرخوار بچوں میں اموات کی ایک عام وجہ ہے۔ ماں ایک پناہگزین ہے اور بچاؤ کی خاطر ایک تھکا دینے والے طویل سفر کے دوران اسکا دُودھ خشک ہو گیا ہے۔ مایوسی کی حالت میں اس نے اپنے بچے کو چینی اور پانی پلایا، چونکہ پانی جراثیمآلودہ تھا، اسلئے بچہ مر گیا۔ اسی دن پر دفن کئے جانے والے دیگر ۲۵،۰۰۰ ہزار بچوں کی طرح، وہ اپنی پہلی سالگرہ تک نہ پہنچ پایا۔
ان المناک واقعات میں ہزاروں گنا اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کے بہتیرے بچوں کیلئے زندگی کیا معنی رکھتی ہے۔ بچپن، جو کہ پُرمحبت خاندان کے زیرِسایہ سیکھنے اور بالغ ہونے کا وقت ہے، اِن بچوں کیلئے ایک ایسا بھیانک تجربہ بن گیا ہے جس سے بہتیرے کبھی نکل نہیں پائینگے۔
دی سٹیٹ آف دی ورلڈ چلڈرن، کی رپورٹ کے ایڈیٹر، پیٹرؔ ایڈمسن نے ۱۹۹۰ میں بیان کیا: ”اس شرح سے موت اور دُکھ قطعاً ضروری نہیں؛ اسلئے وہ بالکل بھی قابلِقبول نہیں۔ نوعِانسان کو بامقصد طور پر استعداد کیساتھ کچھ کرنا چاہئے۔“ (۳ ۵/۸ g۹۴)