یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو94 8/‏1 ص.‏ 26-‏28
  • گردے کی پتھریاں ایک قدیم بیماری کا علاج کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • گردے کی پتھریاں ایک قدیم بیماری کا علاج کرنا
  • جاگو!‏—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • پھیلاؤ اور اسباب
  • نئے علاج
  • نہایت ہی کم سرجری والی تکنیک
  • سرجری کے بغیر علاج
  • روک تھام
  • مَیں نے خون کے بارے میں خدا کا نظریہ اپنا لیا
    جاگو!‏—‏2003ء
جاگو!‏—‏1994ء
جاگو94 8/‏1 ص.‏ 26-‏28

گردے کی پتھریاں ایک قدیم بیماری کا علاج کرنا

غالباً آپ کسی شخص کی بابت سن چکے ہیں جسے گردے کی پتھریوں کا مرض لاحق رہا ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں، ہر سال گردے کی پتھری والے کوئی ۳۰۰،۰۰۰ مریض ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں۔ درد شدید ہو سکتی ہے یعنی دردزہ کے برابر۔‏

بعض گردے کی پتھریوں کو صحت کا نسبتاً حالیہ مسئلہ خیال کرتے ہیں، ممکنہ طور پر جسکا تعلق جدید خوراک یا طرززندگی سے ہے۔ تاہم، حقیقت میں، پیشاب کی گزرگاہ کی پتھریوں نے صدیوں سے نوع‌انسانی کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ وہ ہزاروں سال پرانی مصری ممیوں (‏محفوظ‌کردہ لاشوں)‏ میں بھی پائی گئی ہیں۔‏

پتھریاں اس وقت بنتی ہیں جب پیشاب میں موجود نمکیات تحلیل ہو کر جسم سے باہر نکلنے کی بجائے ایک جگہ جمع ہونے اور بڑھنے لگتے ہیں۔ وہ مختلف شکلیں اختیار کر لیتی ہیں اور بہت سے مرکبات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ کلینیکل سمپوزیا کہتا ہے:‏ ”‏ریاستہائے متحدہ میں، [‏گردے کی]‏ تمام پتھریوں میں سے تقریباً ٪۷۵ بنیادی طور پر کیلشیم آگزیلیٹ پر مشتمل ہوتی ہیں، اور مزید ٪۵ خالص کیلشیم فاسفیٹ کا مرکب ہوتی ہیں۔“‏

پھیلاؤ اور اسباب

ایک رپورٹ کے مطابق، شمالی امریکہ میں تقریباً ۱۰ فیصد مردوں کو اور ۵ فیصد عورتوں کو اپنی زندگی میں گردے کی پتھری ہو جائیگی۔ اور دوبارہ ہو جانے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ۵ اشخاص میں سے ایک جسے گردے کی پتھری ہے اسے پانچ سالوں کے اندر اندر ایک اور پتھری ہو جائیگی۔‏

اس چیز نے بہت سالوں سے ڈاکٹروں کو حیرت میں ڈال رکھا ہے کہ کیوں بعض لوگوں کو گردے کی پتھریاں ہو جاتی ہیں اور دوسروں کو نہیں ہوتیں۔ پتھریاں متعدد وجوہات کی بنا پر پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان میں جسم کے میٹابولزم (‏کیمیاوی عمل)‏ کی خرابیاں، وبائی امراض، موروثی امراض، کرانک ڈی‌ہائڈریشن (‏جسم میں پانی کی دائمی کمی)‏، اور غذا شامل ہیں۔‏

تقریباً ۸۰ فیصد گردے کی پتھریاں پیشاب کرنے کے دوران خود خارج ہو جاتی ہیں۔ انہیں خارج کرنے میں مدد دینے کی خاطر، مریضوں کی حوصلہ‌افزائی کی جاتی ہے کہ زیادہ مقدار میں پانی پئیں۔ اگرچہ ایسی پتھریاں نسبتاً چھوٹی ہوتی ہیں، اکثر بمشکل نظر آتی ہیں، تو بھی درد شدید ہو سکتا ہے۔ اگر پیشاب کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے یا خارج ہونے کیلئے پتھری بہت بڑی ہو یہ (‏گالف کے گیند جتنی بڑی ہو سکتی ہیں،)‏ تو مریض کی صحت بچانے کیلئے طبی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔‏

نئے علاج

تقریباً ۱۹۸۰ تک، گردے کی ان پتھریوں کو نکالنے کیلئے بڑی سرجری درکار ہوتی تھی جو خودبخود خارج نہیں ہوتی تھیں۔ گردے میں یا پیشاب کے راستے میں پھنسی ہوئی پتھری تک پہنچنے کی خاطر پہلو میں کوئی ۳۰ سینٹی میٹر لمبا ایک تکلیف‌دہ، چیرا دیا جاتا تھا۔ اپریشن کے بعد عام طور پر صحت‌یابی کیلئے دو ہفتے کا وقت ہسپتال میں اور صحت کی بحالی کیلئے تقریباً دو مہینے گھر پر آرام کرنا ہوتا تھا۔ لیکن ”‏حالیہ تکنیکی ترقیوں کی بدولت،“‏ میڈیکل ٹیکسٹ‌بک قانز کرنٹ تھراپی (‏۱۹۸۹)‏ بیان کرتی ہے، ”‏انہیں براہ‌راست سرجری سے نکالنے کی ضرورت کبھی کبھار ہی ہوتی ہے۔“‏

اب، مشکل سے نکلنے والی پتھریوں کو بھی ایک ایسی تکنیک سے نکالا جا سکتا ہے جو نہایت ہی کم سرجری کو کام میں لاتی ہے۔ آجکل ایک اور تکنیک جو عام طور پر زیادہ استعمال ہوتی ہے، ایکسٹراکورپوریئل شاک ویو لیتھوٹرپسی (‏ای‌ایس‌ڈبلیوایل)‏ [‏پتھری توڑنے کیلئے جسم پر غیرمعمولی جھٹکا دینے والی لہر]‏ کہلاتی ہے، جس کیلئے کوئی سرجری درکار نہیں ہوتی۔ ان نئے طبی طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے، قانز کرنٹ تھراپی کہتی ہے کہ ”‏آجکل غالباً تمام [‏گردے کی پتھریوں]‏ کے صرف ۱ فیصد کو نکالنے کا انحصار سرجری ہے۔“‏

نہایت ہی کم سرجری والی تکنیک

وہ واحد تکنیک جو نہایت ہی کم سرجری کو کام میں لاتی ہے بعض اوقات پرکیوٹینیس الٹراسانک لیتھوٹرپسی کہلاتی ہے۔ ”‏پرکیوٹینیس“‏ کا مطلب ”‏جلد کے راستے،“‏ اور ”‏لیتھوٹرپسی“‏ کا لفظی مطلب ”‏ٹکڑے ٹکڑے کرنا“‏ ہے۔ جو سرجری درکار ہے وہ صرف پہلو میں ۱ سنٹی میٹر کا چیرا ہے۔ اس راستے کے ذریعے سسٹوسکوپ کی طرح کے آلے کو جو نیفروسکوپ کہلاتا ہے اندر داخل کیا جاتا ہے۔ گردے کے اندرونی حصے اور تکلیف پہنچانے والی پتھری کو سکوپ کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔‏

اگر پتھری نیفروسکوپ کے ذریعے نکالنے سے زیادہ بڑی ہے تو ایک الٹراسانک سلائی کو سکوپ میں ایک راستے کے ذریعے داخل کرکے گردے میں داخل کیا جاتا ہے۔ اسکے بعد، پتھری یا پتھریوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلئے، کھوکھلی سلائی کو ایک الٹراساؤنڈ جینریٹر کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے جو سلائی کو ایک سیکنڈ میں تقریباً ۲۳،۰۰۰ سے ۲۵،۰۰۰ مرتبہ مرتعش کرنے کا سبب بنتا ہے۔ الٹراسانک لہریں سلائی سے ایک جیک‌ہیمر (‏اوزار کا نام)‏ کی طرح کام کرواتی ہیں جو سخت‌ترین پتھروں کے سوا باقی سب سے ٹکرا کر انکو تقریباً پاش پاش کر دیتی ہے۔‏

سلائی کے ذریعے مسلسل خلا پیدا کرکے کھینچنے کا عمل درحقیت گردے کے اندرونی حصے کو خالی کر دیتا ہے، اور یوں اسے پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے صاف کرتا ہے۔ توڑ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرنے اور خلا پیدا کرکے کھینچنے کا عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جبتک کہ محتاط معائنہ یہ ظاہر نہیں کرتا کہ پتھری کا تمام کچرا سلائی کے ذریعے نکالا جا چکا ہے۔‏

تاہم، بعض اوقات پتھری کے ایسے ٹکڑے ہوتے ہیں جو سرکتے نہیں۔ اس صورت میں، ڈاکٹر نیفروسکوپ کے ذریعے ایک باریک ٹیوب داخل کر سکتا ہے جسکے ساتھ ایک چھوٹا سا آلہ فارسپس [‏جراحی چمٹی]‏ منسلک ہوتا ہے۔ اسکے بعد ڈاکٹر فارسپس کو کھول سکتا ہے، پتھری پکڑ سکتا ہے، اور اسے باہر کھینچ سکتا ہے۔‏

جب پرکیوٹینیس سرجری نے ترقی کی، تو بہت سے طریقے آزمائے گئے۔ چند سال قبل، یورولوجیک کلینکس آف نارتھ امریکہ (‏طبی جریدے)‏ نے کہا:‏ ”‏جلد کے راستے پتھری نکالنے کے نئے طریقے ہر مہینے طبی جریدوں کے نئے شماروں کیساتھ منظرعام پر آتے دکھائی دیتے ہیں۔“‏ جریدہ اظہارخیال کرتا ہے کہ اس طریق‌عمل کی کامیابی کا امکان، ”‏پتھری کی جسامت اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔“‏ لیکن سب سے اہم عنصر، جریدے نے وضاحت کی ”‏آپریٹر کی مہارت اور تجربہ“‏ ہے۔‏

اگرچہ پتھریوں کو توڑنے کیلئے کافی توانائی پیدا کی جاتی ہے تو بھی طریق‌عمل نسبتاً محفوظ ہے۔ ”‏خون بہنا کوئی اہم مسئلہ نہیں رہا ہے،“‏ کلینیکل سمپوزیا کہتا ہے۔ تاہم، ایک رپورٹ یہ ضرور کہتی ہے کہ تقریباً ۴ فیصد مریضوں میں زیادہ خون بہنے کا مسئلہ رہا ہے۔‏

اس طریق‌عمل کے فوائد میں نہایت ہی کم بے‌چینی اور صحتیابی کیلئے نہایت مختصر عرصہ شامل ہے۔ زیادہ مریضوں کے معاملے میں ہسپتال میں صرف پانچ یا چھ دن گزارے جاتے ہیں، جبکہ بعض مریض صرف تین دن کے بعد ہی گھر چلے جاتے ہیں۔ یہ فائدہ خاص طور پر محنت‌کشوں کیلئے معنی‌خیز ہے، جو ہسپتال چھوڑتے ہی واپس کام پر جانے کیلئے تیار ہو سکتے ہیں۔‏

سرجری کے بغیر علاج

ایک شاندار نیا علاج جو میونخ، جرمنی میں، ۱۹۸۰ میں متعارف کرایا گیا، ایکسٹراکورپوریئل شاک ویو لیتھوٹرپسی (‏ای‌ایس‌ڈبلیوایل)‏ کہلاتا ہے۔ کچھ بھی ہو یہ چیرے کے بغیر پتھریوں کو توڑنے کیلئے ہائی‌انرجی شاک ویوز [‏جھٹکا دینے والی تیز توانائی والی لہروں]‏ کو کام میں لاتا ہے۔‏

مریض کو سٹین‌لیس‌سٹیل کے ٹینک میں اتار دیا جاتا ہے جسکا نصف حصہ گرم پانی سے بھرا ہوتا ہے۔ اسے احتیاط سے صحیح جگہ پر رکھا جاتا ہے تاکہ جس گردے کا علاج کرنا مقصود ہے وہ زیرآب برقی‌شرارے کے اخراج کے ذریعے پیداکردہ شاک ویوز کے نقطۂ‌ماسکہ پر ہو۔ لہریں آسانی سے نرم انسانی خلیوں سے گزرتی اور اپنی کسی توانائی کو ضائع کئے بغیر پتھری تک پہنچ جاتی ہیں۔ وہ پتھری پر برستی رہتی ہیں جبتک کہ یہ ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جاتی۔ زیادہ مریض پھر آسانی سے پتھری کے کچرے کو خارج کر دیتے ہیں۔‏

۱۹۹۰ تک، تمام پتھریوں کے ۸۰ فیصد اخراج کیلئے ای‌ایس‌ڈبلیوایل استعمال ہو رہا تھا۔ دی آسٹریلین فیملی فزیشن نے گزشتہ سال رپورٹ دی کہ اس تکنیک کے متعارف کرائے جانے سے لیکر، ”‏گردے کی پتھریوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلئے کئی ایک شاک‌ویو جنریٹرز کو استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا میں ۳ ملین سے زیادہ مریضوں کا ۱۱۰۰ سے زائد مشینوں پر علاج کیا گیا ہے۔“‏

اگرچہ ای‌ایس‌ڈبلیوایل گردے کے حصے کو کچھ زخم پہنچاتا ہے، دی آسٹریلین فیملی فزیشن وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏یہ شاذونادر ہی متصل اعضاؤں جیسے کہ تلی، جگر، لبلبہ اور انتڑیوں کو کوئی نقصان پہنچاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے زخم کے اثر کو مریض نہایت ہی کم تکلیف کے ساتھ آسانی سے برداشت کر لیتے ہیں اور زیادہ مریض صرف پردہَ‌شکم میں خفیف [‏اعصابی اور استخوانی درد]‏ کی اور تھیراپی کے بعد ۲۴ سے ۴۸ گھنٹوں کیلئے بہت معمولی [‏پیشاب میں خون کی]‏ شکایت کرتے ہیں۔“‏ بچوں کا علاج بھی کامیابی سے کیا گیا ہے۔ اس آسٹریلین جریدے نے نتیجہ اخذ کیا:‏ ”‏۱۰ سال تک قدروقیمت کا اندازہ لگانے کے بعد ای‌ایس‌ڈبلیوایل ازحد محفوظ طریقہءعلاج معلوم ہوتا ہے۔“‏

واقعی، علاج اتنا موثر ہے کہ گزشتہ سال کے قانز کرنٹ تھیراپی نے وضاحت کی:‏ ”‏(‏ای‌ایس‌ڈبلیوایل)‏ نے علامت ظاہر کرنے والی پتھریوں کو اتنی آسانی سے اور بیماری کے اسقدر کم حلقہءاثر کے ساتھ نکالنے کو ممکن بنایا ہے کہ مریض اور فزیشن پیشاب سے متعلق پتھری کی بیماری کی احتیاطی تدابیر اور علاج کی بابت نرم پڑ گئے ہیں۔“‏

تاہم، گردے کی پتھریاں ایک تکلیف‌دہ بیماری ہے جسے آپ یقینی طور پر نہیں چاہتے۔ انہیں روکنے کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

روک تھام

چونکہ گردے کی پتھریاں اکثر دوبارہ ہو جاتی ہیں، اسلئے اگر آپ کو ایک بار ہو چکی ہے تو آپ عقلمندی سے کافی پانی پینے کی نصیحت پر عمل کریں گے۔ ہر روز دو لیٹر سے زیادہ پیشاب کے اخراج کی سفارش کی جاتی ہے، اور اسکا مطلب کافی زیادہ پانی پینا ہے!‏

اسکے علاوہ، یہ دانشمندی کی بات ہے کہ اپنی غذا میں ردوبدل کیا جائے۔ ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے کھانے میں سرخ گوشت (‏چھوٹا یا بڑا گوشت)‏ نمک، اور ایسے کھانوں کی مقدار کم کریں جس میں زیادہ آگزیلیٹ پایا جاتا ہے، جنکی بابت خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پتھریاں بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے کھانوں میں نٹس، [‏اخروٹ، مونگ پھلی، پستہ، بادام]‏ چاکلیٹ، کالی مرچ، اور سبز پتوں والی سبزیاں، جیسے کہ پالک، شامل ہیں۔ ڈاکٹر بھی پہلے کیلشیم کھانے کی مقدار میں کمی کرنے کی سفارش کرتے تھے، لیکن حالیہ تحقیق اسکے برعکس یہ ظاہر کرتی ہے کہ غذا میں کیلشیم کا اضافہ پتھریاں بنانے کے رجحان کو کم کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔‏

تاہم، آپکی طرف سے کی جانے والی ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود، اگر آپکو ایک اور پتھری ہو ہی جاتی ہے تو یہ جاننا کسی حد تک تسکین‌بخش ہے کہ انکا علاج کرنے کے بہتر طریقے موجود ہیں۔ (‏20 g 93 8/22 p)‏

‏[‏تصویر]‏

ایک مشین جو لیتھوٹریپٹر کہلاتی ہے اسے استعمال کرتے ہوئے گردے کی پتھری کا سرجری کے بغیر علاج

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں