موت کے سامنے فاتح
”تو بھی نازیوں کیلئے حیرانکن بات یہ تھی کہ [گواہوں] کو بھی ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان کو جتنا زیادہ دبایا گیا وہ اپنی مزاحمت میں ہیرے کی طرح سخت بنتے ہوئے، اتنے ہی زیادہ مضبوط ہوتے گئے۔ ہٹلر نے انہیں عقیدۂ جرموسزا کی جنگ میں جھونک دیا، اور وہ اسکے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہے۔ ... ان کا تجربہ ان سب کیلئے بیشقیمت مواد ہے جو شاید دباؤ کے تحت بقا کا مطالعہ کرتے ہیں کیونکہ وہ زندہ ہی بچ نکلے تھے۔“—جریدے ٹوگیدر میں تاریخنویس ڈاکٹر کرسٹین کنگ سے منسوب۔
یہوواہ کے گواہوں کو اس ۲۰ ویں صدی کی تاریخ میں زمین پر پوری دنیا میں سب سے زیادہ خواہمخواہ بدنام اور اذیت اٹھانے والے مذہبی گروہ کے طور پر خیال کیا جانا چاہیے۔ انہیں غلط سمجھا گیا ہے اور اکثر انکے ساتھ محض اپنی مسیحی غیرجانبداری کو برقرار رکھنے اور جنگی مشقوں میں حصہ لینے سے انکار کی وجہ سے ناروا سلوک کیا گیا ہے تمام طرح کے سیاسی گٹھ جوڑ سے انکی علیحدگی بہتیرے ملکوں میں انہیں اجتماعی ریاستی حکمرانوں کے زیرعتاب لے آئی ہے۔ تاہم ان کی قطعی غیرجانبداری اور مستقل وفاداری کا ریکارڈ جدید تاریخ کے لئے ان کے عطیات میں سے ایک رہا ہے۔a
برطانوی تاریخنویس آرنلڈ ٹونبی نے ۱۹۶۶ میں تحریر کیا: ”ہمارے زمانے میں جرمنی میں ایسے مسیحی شہید رہے ہیں جنہوں نے بےلگام قومپرستی کو جس کی انسانی دیوتا ایڈولف ہٹلر نے نمائندگی کی، خراجعقیدت پیش کرنے کی بجائے اپنی جانیں قربان کر دیں۔“ حقائق روشن کرتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہ ان شہیدوں میں ممتاز تھے۔ بعض تجربات ہمیں یہ بتائینگے کہ کیسے انہوں نے اپنی وفاداری کو قائم رکھنے کیلئے اذیت اور یہانتک کہ موت بھی برداشت کی—اور یہ سب کچھ صرف نازی حکومت کے دور تک ہی محدود نہیں تھا۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں، موت کے سامنے انکی وفاداری کا ریکارڈ بااصول اور بینظیر ہے۔
یوکرین کے انانی گروگل کی سرگزشت
”میرے والدین ۱۹۴۲ میں، دوسری عالمی جنگ کے دوران یہوواہ کے گواہ بنے، جب میری عمر ۱۳ سال تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد، میرے والد کو گرفتار کر لیا گیا، جیل میں ڈال دیا گیا اور بعد میں، یورل کی پہاڑیوں میں واقع سوویت کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔ ۱۹۴۴ میں، جب میں ۱۵ سال کا تھا تو فوجی حکام نے مجھے مسلح افواج میں ابتدائی تربیت کیلئے بلایا۔ جیسا کہ یہوواہ پر میرا ایمان پہلے ہی سے بہت پختہ تھا، میں نے جنگ سیکھنے سے انکار کر دیا، اس وجہ سے، اس نوعمری میں، مجھے پانچ سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔
”اس کے بعد ۱۹۵۰ کا بیحد مشکل سال آ پہنچا۔ مجھے پھر سے گرفتار کر لیا گیا اور ایک گواہ کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے ۲۵ سال کی قید کی سزا کا حکم دے دیا گیا۔ میں ۲۱ سال کا تھا۔ میں نے لیبر کیمپوں میں سات سال اور چار مہینے گزارے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو مرتے، بھوک سے اپھرتے ہوئے اور سخت محنت سے ختم ہوتے دیکھا۔
”۱۹۵۳ میں اسٹالن کی وفات کے بعد، حالات نے تبدیل ہونا شروع کر دیا اور ۱۹۵۷ میں حکام نے مجھے جیل سے رہا کر دیا۔ ایک بار پھر میں نے آزادی کا تجربہ کیا۔ لیکن اس بار پھر انہوں نے مجھے دس سال کیلئے سائبیریا میں جلاوطن کر دیا گیا۔“
میری بہن کی ظالمانہ اذیت
”سائیبریا میں مجھے میری سگی چھوٹی بہن کیساتھ رکھا گیا جو کہ معذور ہو گئی تھی۔ ۱۹۵۰ میں میرے گرفتار ہونے کے بالکل ٹھیک دو ہفتے بعد اسے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے معاملے میں تفتیش بالکل غیرقانونی طریقے سے عمل میں آئی تھی۔ انہوں نے اسے قیدتنہائی میں ڈال دیا اور پھر اسکی کوٹھڑی میں چوہے چھوڑ دئے۔ وہ اس کے پاؤں کترتے اور اسکے بدن پر رینگتے ہوئے چلتے رہے۔ اسکے بعد، اسے اذیت دینے والوں نے اسے اسکی چھاتی تک ٹھنڈے پانی میں کھڑا کر دیا اور خود اسے تکلیف میں مبتلا دیکھنے لگے۔ اسکے منادی کا کام کرنے کی وجہ سے اسے ۲۵ سال کی سزا سنائی گئی۔ اسکی دونوں ٹانگیں مفلوج ہو گئیں، لیکن وہ اپنے ہاتھوں اور بازوؤں کو استعمال کر سکتی تھی۔ پانچ سال تک انہوں نے اسے کیمپ کے ہسپتال میں رکھا اور بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ ناکارہ ہو چکی ہے۔ اسکے بعد انہوں نے اسے ہمارے والدین کے پاس منتقل کر دیا، جنہیں انہوں نے پہلے ہی ۱۹۵۱ میں زندگی بھر کیلئے سائبیریا میں جلاوطن کر دیا تھا۔“
یوکرین میں واپسی اور مزید اذیت
”سائبیریا میں میری ملاقات نادیہ سے ہوئی جو میری بیوی بنی اور جس نے ہمارے بچوں کو جنم دیا۔ سائبیریا میں بھی ہم نے اپنے منادی کے کام کو جاری رکھا۔ مجھے بائبل لٹریچر کی اشاعت اور نقلیں بنانے کا کام دیا گیا۔ ہر رات میرا بھائی جیکب اور میں تہہخانے کے ایک کھدے ہوئے حصے میں دی واچٹاور کی نقلیں بنانے میں مصروف رہتے۔ ہمارے پاس دو ٹائپ رائٹر اور ایک گھر میں تیار کی گئی نقلیں بنانے والی مشین تھی۔ پولیس باقاعدگی سے ہمارے گھر کی تلاشی لیتی تھی۔ ہر بار انہیں خالی ہاتھ ہی واپس جانا پڑتا۔
”آخر میری جلاوطنی اختتام کو پہنچی۔ اپنے پورے خاندان کیساتھ میں یوکرین واپس آ گیا، لیکن اذیت نے ہمارا پیچھا نہ چھوڑا۔ مجھے سفری نگہبان کے طور پر کام کرنے کی تفویض دی گئی۔ اپنے خاندان کی کفالت کرنے کیلئے مجھے نوکری کرنا تھی۔ ہر مہینے کئی بار خفیہ پولیس کے لوگ میرے کام کی جگہ پر آئے اور مجھے اپنے ایمان کی مصالحت کرنے پر اکسانے کی کوشش کی۔ ایک بار یہوواہ کی مدد کو میں نے ایک خاص طریقے سے محسوس کیا۔ وہ مجھے گرفتار کرکے کیو میں خفیہ پولیس کے دفتر لے گئے، جہاں انہوں نے مجھے چھ دن تک رکھا۔ اس سارے وقت میں وہ دہریت کے پروپگینڈے سے مجھے پریشان کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اپنے بیدین طور طریقے سے انہوں نے دی واچٹاور اور واچٹاور سوسائٹی کی دیگر اشاعتوں پر تبصرے کئے۔ دباؤ تقریباً ناقابل برداشت ہو گیا۔ غسلخانے میں جا کر میں اپنے گھٹنوں پر گر جاتا اور خوب روتا، اور یہوواہ کے سامنے گریہوزاری کرتا۔ آزادی کیلئے نہیں بلکہ طاقت کیلئے تاکہ میں برداشت کر سکوں اور اپنے بھائیوں کو دھوکا نہ دوں۔
”اس کے بعد پولیس کا چیف مجھے ملنے کو آیا اور میرے سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں واقعی جس چیز کا دفاع کر رہا ہوں اس سے پوری طرح سے قائل ہوں۔ میں نے اسے مختصر سی گواہی دی اور سچائی کیلئے اپنی جان تک دے دینے کی آمادگی کا اظہار کیا۔ اس کا جواب تھا: ”آپ ایک مبارک شخص ہیں۔ اگر مجھے یہ یقین ہو جائے کہ سچائی یہی ہے تو میں اس کی خاطر نہ صرف ۳ یا ۵ سال تک قید میں رہنے کیلئے تیار ہونگا بلکہ ۶۰ سال تک ایک ٹانگ پر کھڑے رہنے کو بھی تیار ہونگا۔ کچھ وقت کیلئے وہ خاموشی سے بیٹھا سوچتا رہا اور پھر کہنے لگا: ”یہ ہمیشہ کی زندگی کا معاملہ ہے۔ کیا آپ اسکا تصور کر سکتے ہیں کہ ہمیشہ کی زندگی دراصل کیا مطلب رکھتی ہے؟“ تھوڑے وقفے کے بعد اس نے کہا: ”گھر جاؤ!“ ان الفاظ نے مجھے غیرمتوقع قوت بخشی۔ اب میں مزید بھوکا نہ تھا۔ میں وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ یہوواہ ہی ہے جس نے مجھے قوت بخشی تھی۔
”حالیہ برسوں میں سابقہ سویت یونین کے حالات بہت بدل گئے ہیں۔ اب وہاں بائبل لٹریچر کی افراط ہے۔ ہم سرکٹ اور ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر حاضر ہونے کے قابل ہیں اور ہم بشمول گھرباگھر کی خدمت کے منادی کی تمام کارگزاریوں میں شرکت کرتے ہیں۔ یقیناً یہوواہ نے ہمیں بیشمار مصیبتوں کے سامنے فتح بخشی ہے!“
افریقہ میں راستی آزمائی گئی
۱۹۶۰ کے آخری دہوں میں، نائیجریا ایک تباہکن خانہجنگی میں الجھا ہوا تھا۔ بڑھتے ہوئے نقصان کے پیشنظر، الگشدہ خطے کے فوجیوں نے جس کا نام اس وقت پھر سے بیافرا رکھ دیا گیا، نوجوان آدمیوں کو جبراً فوج میں بھرتی کرنا شروع کر دیا۔ چونکہ یہوواہ کے گواہ سیاسی طور پر غیرجانبدار رہتے اور جنگ میں شمولیت سے انکار کرتے ہیں، اسلئے بیافرا میں بہتیرے گواہوں کا پیچھا کیا گیا، ان کیساتھ سفاکی سے برتاؤ کیا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک نے کہا: ”ہم چوہوں کی مانند تھے۔ جب کبھی ہم سنتے کہ سپاہی آ رہے ہیں تو ہمیں چھپنا پڑتا۔“ اکثر چھپنے کا وقت نہیں ہوتا تھا۔
۱۹۶۸ میں جمعہ کی ایک صبح، فلپ، ایک ۳۲ سالہ کل وقتیخادم، یومیومو کے گاؤں میں ایک بزرگ آدمی کو منادی کر رہا تھا کہ جبری بھرتی کی مہم پر نکلے ہوئے فوجی احاطہ میں گھس آئے۔
”تم کیا کر رہے ہو؟“ یونٹ لیڈر نے سوال کیا۔ فلپ نے کہا کہ وہ یہوواہ کی آنے والی بادشاہی کے بارے میں گفتگو کر رہا تھا۔
”یہ منادی کرنے کا وقت نہیں ہے!“ ایک اور فوجی چلایا۔ ”یہ جنگ کا وقت ہے اور ہم ہٹےکٹے جوانوں کو یونہی بیکار پھرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔“ اس کے بعد فوجیوں نے فلپ کو ننگا کر دیا، اسکے ہاتھ باندھے اور اسے لے گئے۔ ۴۳ سالہ ایک مسیحی ایلڈر، اسرائیل کے پاس بھی چھپنے کا وقت نہ تھا۔ اسے اس وقت پکڑا گیا جب کہ وہ اپنے بچوں کے لیے کھانے پکا رہا تھا۔ دوپہر ۲ بجے تک فوجیوں نے سو کے لگبھگ آدمیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ انہوں نے اپنے قیدیوں کو یومواکا مبیدیالا کے ملٹری کیمپ تک ۲۵ کلومیٹر کی دوڑ لگانے کو کہا۔ جو کوئی پیچھے رہ جاتا اسے کوڑے لگائے جاتے۔
اسرائیل کو بتایا گیا کہ اسے ایک بھاری مشینگن اٹھانا ہوگی، فلپ کو ایک ہلکی مشینگن چلانے کی تربیت دی جانی تھی۔ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ وہ فوج میں اسلئے شمولیت نہیں کر سکتے کیونکہ یہوواہ اسے منع کرتا ہے تو کمانڈر نے حکم دیا کہ انہیں بند کر دیا جائے۔ شام ۴ بجے تمام جبراً بھرتیکردہ اشخاص کو بشمول گارڈ روم میں بند اشخاص کے ایک قطار بنانے کا حکم دیا گیا۔ اس کے بعد سپاہیوں نے ہر ایک کو ایسے کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا جو کہ فوج میں بھرتی ہونے کی ان کی رضامندی کو ظاہر کریگا۔ جب اسکے دستخط کرنے کی باری آئی تو فلپ نے ۲_تیمتھیس ۲:۳، ۴ کا حوالہ دیتے ہوئے کمانڈر سے کہا: ”میں تو پہلے ہی سے ”مسیح کا ایک اچھا سپاہی“ ہوں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں مسیح کیلئے بھی لڑوں اور کسی دوسرے شخص کیلئے بھی لڑائی کروں۔ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مسیح مجھے غدار خیال کریگا۔“ کمانڈر نے اسکے سر پر ضرب لگاتے ہوئے کہا: ”بطور مسیح کے فوجی تمہاری تقرری کو ختم کیا جاتا ہے! اب سے تم بیافرا کے فوجی سپاہی ہو۔“
فلپ نے جواب دیا: ”یسوع نے ابھی تک مجھے مطلع نہیں کیا کہ بطور اسکے سپاہی کے میری تقرری ختم ہو چکی ہے، لہذا میری تقرری اس وقت تک قائم ہے جبتک مجھے اس قسم کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہو جاتی۔“ یہ سنتے ہی سپاہیوں نے فلپ اور اسرائیل کو اوپر اٹھا کر زمین پر پٹک دیا۔ بدحواسی اور آنکھوں، ناک اور منہ سے بہتے خون کیساتھ وہ ان دونوں کو گھسیٹ کر لے گئے۔
گولیاں چلانے والے دستے کے سامنے
اسی دن بعد میں، اسرائیل اور فلپ نے خود کو گولیاں چلانے والے ایک دستے کے سامنے پایا۔ لیکن فوجی سپاہیوں نے انہیں گولی نہ ماری۔ اسکی بجائے انہوں نے انہیں اپنے مکوں اور رائفلوں کے بٹوں کیساتھ مارا۔ اسکے بعد کیمپ کمانڈر نے انہیں کوڑے مار مار کر ختم کر دینے کا فیصلہ کیا۔ ایسا کرنے کے لئے اس نے ۲۴ فوجی سپاہیوں کو مقرر کیا۔ چھ نے فلپ کو کوڑے لگانے تھے اور دوسرے چھ نے اسرائیل کو کوڑے لگانے تھے۔ دیگر ۱۲ فوجی سپاہیوں نے انہیں بینت وغیرہ فراہم کرنے تھے اور جب وہ تھک جائیں تو ان کی جگہ لینی تھی۔
فلپ اور اسرائیل کے ہاتھ پاؤں باندھ دئے گئے تھے۔ اسرائیل بیان کرتا ہے: ”مجھے یاد نہیں کہ اس رات ہمیں کتنے کوڑے لگے۔ جب ایک فوجی تھک جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ وہ ہمیں بےہوش ہو جانے کے باوجود کوڑے لگاتے رہے۔“ فلپ کہتا ہے: ”اذیت کے دوران متی ۲۴:۱۳ جو کہ آخر تک برداشت کرنے کی بابت بیان کرتی ہے میرے ذہن میں آ گئی اور اس نے مجھے تقویت بخشی۔ مار کی درد کا احساس مجھے صرف چند سیکنڈ تک ہی ہوا۔ ایسا دکھائی دیتا تھا جیسے کہ یہوواہ نے اپنے ایک فرشتے کو ہماری مدد کے لیے بھیج دیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس نے دانیایل کے وقت کیا تھا۔ ورنہ اس بھیانک رات شاید ہم بچ نہیں سکتے تھے۔“
جب فوجی سپاہیوں نے اپنا کام پورا کر لیا تو وہ اسرائیل اور فلپ کو مردہ سمجھ کر چھوڑ کر چلے گئے۔ اس وقت بارش ہو رہی تھی۔ اگلی صبح تک ان دونوں مسیحیوں کو بمشکل ہوش آیا۔ جب فوجی سپاہیوں نے یہ دیکھا کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں تو وہ انہیں واپس کھینچ کر گارڈ روم میں لے گئے۔
”تم سے تو پہلے ہی مردہ لاشوں کی سی بو آتی ہے“
کوڑوں نے ان کے سارے جسم کو زخموں کیساتھ سرخ کر دیا تھا اور جگہ جگہ سے گوشت نکل آیا تھا۔ اسرائیل یاد کرتا ہے: ”ہمیں اپنے زخموں کو دھونے کی اجازت نہیں تھی۔ کچھ دنوں کے بعد مکھیاں مسلسل ہمارے جسموں پر بسیرا کر چکیں تھیں۔ تکلیف کی وجہ سے ہم کھانے کے قابل نہیں تھے۔ ایک ہفتے بعد صرف اتنا ہوا کہ ہم پانی کے علاوہ کوئی چیز اپنے حلق سے نیچے اتارنے کے قابل ہوئے۔“
ہر صبح فوجی سپاہی ان میں سے ہر ایک کو ۲۴ کوڑے لگاتے۔ فوجی سپاہی سادیتپسندی سے اسکو ”ناشتے“ یا ”صبح کی گرم گرم چائے“ کا نام دیتے۔ ہر دوپہر فوجی انہیں میدان میں لے آتے تاکہ ۱ بجے تک انہیں گرم مرطوب سورج میں رکھیں۔ چند دنوں تک ایسے سلوک کے بعد، کمانڈر نے انہیں بلایا اور پوچھا کہ آیا وہ اب اپنے موقف سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔
کمانڈر نے کہا: ”تم اپنی کوٹھڑی میں مر جاؤ گے۔ درحقیقت، تم سے تو پہلے ہی لاشوں کی سی بو آتی ہے۔“
فلپ نے جواب دیا: ”بیشک اگر ہم مر جائیں، ہم جانتے ہیں کہ مسیح جس کی خاطر ہم لڑ رہے ہیں وہ ہمیں زندہ کریگا۔“
وہ کیسے اس خوفناک وقت سے بچے؟ اسرائیل بیان کرتا ہے: ”اپنی تمام مشکل کے دوران میں اور فلپ ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کرتے رہے۔ شروع میں میں نے اس سے کہا، ”ڈرنا مت۔ حالات چاہے کچھ بھی ہوں، یہوواہ ہماری مدد کریگا۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، کوئی چیز مجھے فوج میں شامل نہیں کر سکتی۔ چاہے مجھے مرنا ہی کیوں نہ پڑے، میں اپنے ان ہاتھوں کیساتھ کبھی بندوق نہیں اٹھاؤنگا۔““ فلپ نے کہا کہ اس نے بھی اسی طرح کا عزم کیا ہے۔ وہ دونوں مل کر مختلف صحائف کو دوہراتے اور ان پر گفتگو کرتے۔
ایک نئے کمانڈر نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئی ایک سو جبراً بھرتی لوگوں کو آئیبیما منتقل کر دیا جائے، مبانو کے اس علاقے کا ایک تربیتی کیمپ جو کہ اب ایمو ریاست کا علاقہ ہے۔ اس کے بعد کیا واقع ہوا اسرائیل بیان کرتا ہے: ”ایک بڑا ٹرک تیار تھا اور سارے رنگروٹ اس میں تھے۔ میری بیوی جون بھاگ کر فوجیوں کے پاس گئی اور بڑے حوصلے کیساتھ ان سے منت سماجت کرنے لگی کہ ہمیں وہاں سے نہ لیجایا جائے۔ جب انہوں نے اسکی سننے سے انکار کر دیا تو وہ ٹرک کے پاس آ کر گٹھنوں پر گری اور دعا کی اور زوردار آمین کے ساتھ ختم کی۔ اسکے بعد ٹرک آگے بڑھ گیا۔“
ایک ہمدرد بھاڑے کے سپاہی سے ملاقات
اگلی سہپہر ٹرک آئیبیما کے کیمپ پہنچ گیا۔ وہاں کا انچارج ایک اسرائیلی بھاڑے کا سپاہی تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ فلپ اور اسرائیل کس قدر بری طرح سے زخمی اور کمزور ہیں تو وہ انکے قریب آیا اور پوچھا کہ وہ کیونکر اس بری حالت کو پہنچے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہوواہ کے گواہ ہیں اور انہوں نے فوجی تربیت سے انکار کیا ہے۔ بڑے غصے میں وہ دوسرے فوجی افسران کی طرف مڑا۔ ”یقیناً بیافرا یہ جنگ ہار جائیگا،“ اس نے کہا۔ ”جنگ میں ملوث کوئی بھی ملک جو یہوواہ کے گواہوں کو پریشان کرتا ہے وہ یقیناً ہارے گا۔ تمہیں یہوواہ کے گواہوں کو جبراً بھرتی نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی گواہ جنگ میں جانے کو تیار ہے تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر وہ انکار کرتا ہے تو اسے مجبور نہ کریں۔“
کیمپ کے ڈاکٹر نے دریافت کیا کہ آیا گواہوں کو بالمثل ٹیکہجات لگائے گئے ہیں اور کیا انکے پاس میڈیکل فٹنس کا سرٹیفیکٹ ہے۔ اب چونکہ ان کے پاس نہیں تھے، لہذا بھاڑے کے سپاہی نے تمام جبراً بھرتی کیے گئے لوگوں کو مسترد کر دیا اور یہ آرڈر دیا کہ انہیں واپس یوموآچا لیجایا جائے۔
”اپنی راہ لو، جاؤ اپنے خدا کی خدمت کرو“
اسکے بعد، اسرائیل کی بیوی اور فلپ کی ماں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ یوموآچا کیمپ میں انکی ملاقات کو جائینگی شاید کوئی خبر سننے کو ملے۔ جیسے ہی وہ قریب پہنچیں، انہوں نے کیمپ میں ہلچل سنی۔ گیٹ پر ہی گارڈ نے کہا: ”یہوواہ کی گواہ! تمہاری دعا کا جواب مل گیا ہے۔ جس گروپ کو تین دن پہلے لیجایا گیا تھا انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے۔“
اسی دن، فلپ اور اسرائیل کو کیمپ سے رہا کر دیا گیا۔ کمانڈر نے جون سے کہا: ”کیا تم جانتی ہو یہ تمہاری دعا ہی تھی جس نے ہماری تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا؟“ اسکے بعد اس نے فلپ اور اسرائیل سے کہا: ”اپنی راہ لو، جاؤ اپنے خدا کی خدمت کرو، اور یہوواہ کیلئے اپنی راستی پر ہمیشہ قائم رہو۔“
جہاں تک اسرائیل اور فلپ کا تعلق ہے وہ صحتیاب ہو گئے اور مسیحی کارگزاری کو جاری رکھا۔ جنگ کے بعد، اسرائیل نے دو سالوں تک کلوقتی خدمت کو جاری رکھا اور وہ ابھی تک مسیحی بزرگ کے طور پر خدمت انجام دے رہا ہے۔ فلپ نے دس سال تک سفری نگہبان کی خدمت انجام دی اور ابھی تک سارے وقت کیلئے منادی کے کام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ بھی ایک کلیسیا میں بزرگ ہے۔
اسلحے کیلئے عطیات دینے سے انکار
زبولون نکومالو اور پولائیٹ موگانی جنوبی افریقہ کے دو نوجوان کل وقتی خادم ہیں۔ زبولون بیان کرتا ہے: ”اتوار کی ایک صبح، آدمیوں کا ایک گروہ ہمارے گھر آیا اور اسلحہ خریدنے کیلئے ۲۰ رینڈ (تقریباً ۷یو۔ ایس۔ ڈالر) کا تقاضا کیا۔ بڑے احترام سے ہم نے انہیں اس شام آنے کو کہا، کیونکہ اتوار کا ہمارا جدول بہت مصروف تھا اور اسی وقت ان سے بات کرنے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں تھا۔ حیرانی کی بات ہے کہ وہ مان گئے۔ اس شام، ۱۵ آدمی پہنچ گئے۔ ان کے چہروں کے تاثرات نے یہ واضح کر دیا کہ وہ اس سلسلے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ بڑی نرمی سے اپنا تعارف کروانے کے بعد، ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ اور زیادہ اور بہتر اسلحہ خریدنے کیلئے انہیں پیسوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ مخالف سیاسی پارٹی کو زیر کر سکیں۔
”میں نے ان سے پوچھا: ”کیا آگ کو پٹرول سے بجھانا ممکن ہے؟“
”انہوں نے جواب دیا: ”نہیں یہ ناممکن ہوگا۔“
”ہم نے وضاحت کی کہ اسی طرح تشدد محض تشدد اور انتقامی کارگزاری کو ہوا دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں کریگا۔
”ایسا لگا جیسے اس بات نے وہاں موجود کئی آدمیوں کو طیش دلا دیا۔ ان کا تقاضا اب ایک فیصلہکن دھمکی بن گیا۔ ”نظریات کا یہ تبادلہ محض وقت کا زیان ہے۔“ وہ غرائے۔ ”لازمی عطیے میں کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی، اس سلسلے میں بحث کرنا فضول ہے۔ یا تو تم رقم ادا کرو یا پھر اس کے نتائج بھگتنے کیلئے تیار ہو جاؤ!“
”اس وقت،“ زبولون یاد کرتا ہے، ”جوں ہی حالات قابو سے باہر ہونے لگے، ان کا لیڈر اندر داخل ہوا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ مسئلہ کیا تھا۔ ہم نے اپنا موقف بیان کیا، اور اس نے بڑی توجہ سے سنا۔ ہم نے انکی سیاسی پارٹی کیلئے ان کی عقیدت کو ہی بطور ایک مثال کے استعمال کیا۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنی تنظیم کے ایک تربیتیافتہ سپاہی سے اس وقت کیسے ردعمل کی توقع کرینگے جب وہ گرفتار ہو جاتا ہے اور اسے اپنے موقف کی بابت مصالحت کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ایسے شخص کو اپنے نظریات کیلئے مرنے کو بھی تیار ہونا چاہیے۔ جب ہم نے انکے جواب کیلئے انکی تعریف کی تو وہ مسکرانے لگے۔ انہیں یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ہمارا معاملہ واضح کرنے کیلئے انہوں نے ہمیں ایک سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔ ہم نے وضاحت کی کہ ہم مسیحی دنیا کے گرجا گھروں سے مختلف ہیں۔ خدا کی بادشاہی کے حمایتیوں کے طور پر، ہمارا آئین بائبل پر مبنی ہے، جو کہ ہر قسم کے قتلوغارت کو رد کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ہم اسلحہ خریدنے کیلئے ایک سینٹ بھی دینے کو تیار نہیں۔
”اس وقت تک جبکہ گفتگو عروج کو پہنچ چکی تھی، اور زیادہ لوگ ہمارے گھر میں داخل ہو چکے تھے، اور یوں دکھائی دے رہا تھا کہ گویا ہم سامعین کے ایک بڑے گروہ سے مخاطب تھے۔ انہیں اسکا بالکل احساس نہ ہوا کہ ہم اس ساری گفتگو سے سازگار نتائج برآمد ہونے کیلئے کتنے جوش سے دعا کر رہے تھے۔
”ہمارے اپنے موقف کی وضاحت کر دینے کے بعد، بڑی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ بالآخر ان کے لیڈر نے اپنے گروپ سے کہا: ”معزز سامعین، میں ان آدمیوں کی حالت کو سمجھتا ہوں۔ اگر ہمیں ایک اولڈ ایج ہوم بنانے کیلئے رقم درکار ہو، یا ہمارے آسپڑوس میں سے کسی کو ہسپتال جانے کیلئے پیسوں کی ضرورت ہو تو یہ آدمی اپنی جیبیں خالی کر دینے کو بھی تیار ہونگے۔ لیکن یہ ہمیں قتلوغارت کیلئے پیسہ دینے کو رضامند نہیں۔ ذاتی طور پر میں انکے اعتقاد کے خلاف نہیں۔“
”اسی کے ساتھ وہ سب کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ہاتھ ملائے اور انکے صبر کیلئے شکریہ ادا کیا۔ وہ سب کچھ جس کا آغاز ایک ایسی خطرناک حالت کے ساتھ ہوا جو کہ ہماری جانیں لے سکتی تھی وہ اب ایک شاندار فتح پر اختتامپذیر ہوا تھا۔“
مذہبی لیڈروں کی پیشوائی کے تحت ہجوم
پولینڈ کے گواہ یرزی کولیشا کی زبانی:
”جہاں تک جوشوجذبے اور خدا کی بادشاہی کو پہلا درجہ دینے کا سوال ہے، میرا والد، الیکسینڈر کولیشا ایک قابل تقلید نمونہ تھا۔ میدانی خدمت، مسیحی اجلاس، اور ذاتی اور خاندانی مطالعہ اسکے لئے پاک چیزیں تھیں۔ نہ برفانی طوفان اور نہ ہی شدید سردی نہ ہی طوفانی ہوا اور نہ ہی گرمی اسکے لئے کسی طرح کی رکاوٹ بن سکتی تھی۔ سردیوں میں وہ اپنے برفانی جوتے پہن کر، اپنے تھیلے میں بائبل لٹریچر بھر کر پولینڈ کے دوردراز کے علاقوں میں چند دنوں کیلئے روانہ ہو جاتا۔ اسے مختلف طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا جس میں پرتشدد گوریلا گروپ بھی شامل ہوتے۔
بعض اوقات مذہبی پیشوا گواہوں کے خلاف بھڑکا دیتے۔ وہ ان کا تمسخر اڑاتے اور ان پر پتھراؤ کرتے یا انہیں مارتے۔ لیکن وہ خوش ہو کر واپس گھر لوٹتے کیونکہ انہوں نے مسیح کی خاطر بےعزتی برداشت کی ہوتی تھی۔
”دوسری عالمی جنگ کے بعد، ان شروع کے سالوں کے دوران حکومتیں ملک میں نظمونسق بحال کرنے کے قابل نہ تھیں۔ ہر طرف سخت بدنظمی اور بربادی کا سماں تھا۔ دن میں تو پولیس اور خفیہ پولیس کا راج ہوتا تھا، جبکہ رات میں کئی گوریلا اور دیگر تنظیمیں سرگرمعمل ہوتی تھیں۔ چوری اور ڈاکہزنی قابو سے باہر تھی اور اکثر قتلوغارت کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ نہتے یہوواہ کے گواہ بڑی آسانی سے نشانہ بن جاتے تھے، خاص طور پر اس لئے کہ مذہبی راہنماؤں کی پیشوائی میں چلنے والے گروپ عموماً گواہوں پر توجہ دیتے تھے۔ وہ ہمارے گھروں پر حملہ کرنے کا یہ جواز پیش کرتے تھے کہ وہ اپنے آباؤاجداد کے کیتھولک ایمان کا دفاع کر رہے تھے۔ ایسے موقعوں پر وہ کھڑکیوں کو توڑ ڈالتے، مویشی چوری کر لیتے اور کپڑے، اشیائے خوردونوش، اور لٹریچر کو برباد کرتے۔ بائبلوں کو کنوؤں میں پھینک دیتے تھے۔“
غیرمتوقع شہادت
”جون ۱۹۴۶ میں ایک دن، اس سے پہلے کہ ہم اپنی سائیکلوں پر بیٹھ کر ایک دوردراز کے علاقے میں جانے کیلئے جمع ہوں، ایک نوجوان بھائی، کازیمارش کڈجیلا ہمارے ہاں آیا اور دھیمی آواز میں میرے والد کیساتھ باتچیت کرتا رہا۔ میرے والد نے ہمیں علاقے کی طرف روانہ کیا، لیکن وہ خود ہمارے ساتھ نہ گیا، اس بات نے ہمیں پریشان کر دیا۔ وجہ ہمیں بعد میں معلوم ہونی تھی۔ گھر واپس آنے پر ہمیں پتہ چلا کہ گزشتہ رات کڈجیلا خاندان کو وحشیانہ انداز میں مارا گیا ہے، پس میرا والد شدید زخمی بھائیوں اور بہنوں کی تیماداری کیلئے گیا ہوا تھا۔
”جب میں بعد میں اس کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ لیٹے ہوئے تھے تو اس منظر کو دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ چھت اور دیواریں خون کے چھینٹوں سے بھری پڑی تھیں۔ پٹیوں میں لپٹے ہوئے جسموں پر نیل کے نشانوں والے، سوجے ہوئے، ٹوٹی پسلیوں اور ٹوٹے ہوئے ہاتھ پاؤں والے لوگ بستروں پر لیٹے ہوئے تھے۔ انہیں پہچاننا بھی بڑا مشکل تھا۔ بہن کڈجیلا، جو کہ اس خاندان کی ماں تھیں، اسے بری طرح مارا پیٹا گیا تھا۔ میرا والد انکی دیکھبھال کر رہا تھا اور وہاں سے جانے سے پہلے اس نے یہ معنیخیز الفاظ کہے: ”او، میرے خدایا، میں کتنا توانا اور باصلاحیت آدمی ہوں [وہ اس وقت ۴۵ سال کی عمر کا تھا اور کبھی بیمار نہیں ہوا تھا]، اور مجھے کبھی یہ شرف حاصل نہیں ہوا کہ تیری خاطر تکلیف اٹھاؤں۔ اس عمررسیدہ بہن کیساتھ ایسا کیوں ہوا؟“ شاید وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کیساتھ کیا ہونے والا تھا۔
”جوں ہی سورج غروب ہوا ہم دو میل کی مسافت پر واقع اپنے گھر واپس آ گئے۔ ۵۰ مسلح آدمیوں کے ایک گروپ نے ہمارے گھر کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ ونسٹ شوک خاندان کو بھی وہیں لے آئے تھے، یوں سب کو ملا کر وہاں ہم نو افراد تھے۔ ہم میں سے ہر ایک سے سوال کیا گیا: ”کیا تم یہوواہ کے گواہ ہو؟“ جب ہم نے جواب دیا کہ ہاں تو ہمیں مارا پیٹا گیا۔ اسکے بعد ان وحشیوں میں سے دو نے باری باری میرے والد کو مارنا شروع کر دیا اور اسکے ساتھ ساتھ وہ اس سے یہ پوچھتے جاتے کہ آیا وہ بائبل پڑھنا اور اسکی منادی کرنا بند کریگا یا نہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا وہ گرجا جا کر اپنے گناہوں کا اعتراف کریگا یا نہیں۔ وہ یہ کہہ کر اسکا تمسخر اڑا رہے تھے: ”ہم آج ہی تمہیں بشپ بنا دینگے۔“ میرے والد نے نہ تو کوئی بات کہی اور نہ ہی ایک دفعہ بھی آہ بھری۔ اس نے انکی تمام اذیت کو بڑی خاموشی سے بالکل ایک بھیڑ کی طرح برداشت کیا۔ دن چڑھنے پر، ان مذہبی غنڈوں کے جانے کے کوئی ۱۵ منٹ بعد، وہ مہلک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گیا۔ لیکن جانے سے پہلے انہوں نے اپنے اگلے شکار کے طور پر میرا انتخاب کیا۔ اس وقت میری عمر ۱۷ سال تھی۔ مار کے دوران کئی بار میں بےہوش ہو گیا۔ مکوں کی وجہ سے کمر سے اوپر اوپر کا میرا سارا بدن نیلا تھا۔ چھ گھنٹوں تک ہم بدسلوکی کا نشانہ بنے رہے۔ صرف اس وجہ سے کہ ہم یہوواہ کے گواہ تھے!“
ایک وفادار بیوی کی حمایت
”میں ان ۲۲ گواہوں کے گروپ میں سے ایک تھا جنہیں ایک سو سے بھی کم مربع فٹ کی اندھیری کوٹھڑی میں دو ماہ کیلئے بند کر دیا گیا تھا۔ اس عرصہ کے اختتام پر ہماری خوراک کا راشن کم کر دیا گیا تھا۔ ہر روز ہمیں تھوڑی سی روٹی اور کڑوی کافی کی ایک پیالی دی جاتی تھی۔ سیمنٹ کے ننگے اور ٹھنڈے فرش پر سونے کیلئے لیٹنا صرف اسی صورت میں ممکن تھا جب کسی کو رات کے وقت تفتیش کیلئے کوٹھڑی سے باہر لیجایا جاتا تھا۔
”مسیحی کارگزاری کی وجہ سے پانچ بار مجھے قید کیا جو مجموعی طور پر آٹھ سال تھے۔ میرے ساتھ خاص قیدیوں والا سلوک کیا جاتا تھا۔ اسکی بابت میرے ذاتی ریکارڈ میں ایک نوٹ درج تھا: ”کولیشا کو اتنا برہم کرو کہ یہ اس کام [مسیحی خدمتگزاری] کو کرنے کی اپنی خواہش کو ہی کھو بیٹھے۔“ تاہم جب ہر بار مجھے رہا کر دیا جاتا تو میں خود کو مسیحی خدمت کیلئے پیش کر دیتا۔ ارباباختیار نے میری بیوی ارزولا، اور ہماری دو چھوٹی بیٹیوں کیلئے بھی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ مثال کے طور پر، دس سال تک افسرقانون (بیلف) میری بیوی کی محنت کی کچھ کمائی کو چھین لیتا رہا۔ یہ کہا جاتا تھا کہ یہ میرے خفیہ طور پر بائبل لٹریچر چھاپنے کی ٹیکس ہے۔ جن چیزوں کو ضروریاتزندگی خیال کیا جاتا تھا انکے سوا تمام چیزیں ضبط کر لی گیئں تھیں۔ میں اپنی بہادر بیوی کیلئے یہوواہ کا شکرگزار ہوں، جس نے صبر سے میرے ساتھ ان تمام اذیتوں کو برداشت کیا اور جو کہ سارا وقت میرے لیے ایک حقیقی مدد تھی۔
”یہاں پولینڈ میں ہم نے روحانی فتح دیکھی ہے، اب یہاں، وارسا کے قریب، نادازین میں ہمارے پاس واچٹاور سوسائٹی کا ایک قانونی طور پر منظورشدہ برانچ آفس ہے۔ کئی دہوں کی سخت اذیت کے بعد، اب یہاں ۱۰۸،۰۰۰ گواہ ہیں جو ۱،۳۴۸ کلیسیاؤں کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں۔“
اتنے زیادہ شہید کیوں؟
اس بیسویں صدی میں یہوواہ کے گواہوں کی وفاداری کا ریکارڈ حقیقت میں کتابوں کی کئی جلدیں بھر دیگا—ہزاروں ملاوی اور موزنبیق جیسی جگہوں پر بطور شہیدوں کے مر مٹے ہیں، یا قید، ناقابل بیان اذیت، زنابالجبر اور لوٹمار، کی تکلیف میں مبتلا ہوئے ہیں، اسپین میں فاشیت کے تحت، یورپ میں نازیت کے تحت، مشرقی یورپ میں اشتمالیت کے تحت اور ریاستہائے متحدہ میں دوسری عالمی جنگ کے دوران۔ سوال اٹھتا ہے کیوں؟ اسلئے بےلوچ سیاسی اور مذہبی لیڈروں نے ان سچے مسیحیوں کے بائبل سے تربیتیافتہ ضمائر کی قدر کرنے سے انکار کیا ہے جو کہ جنگ کی تربیت حاصل کرنے سے انکار کرتے ہیں اور جنہوں نے خود کو ہر طرح کی سیاست سے الگ رکھا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے مسیح نے کہا تھا ایسا ہوگا جیسا کہ یوحنا ۱۵:۱۷-۱۹ میں درج ہے: ”میں تمہیں ان باتوں کا حکم اسلئے دیتا ہوں کہ تم ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اگر دنیا تم سے عداوت رکھتی ہے تو تم جانتے ہو کہ اس نے تم سے پہلے مجھ سے بھی عداوت رکھی ہے۔ اگر تم دنیا کے ہوتے تو دنیا اپنوں کو عزیز رکھتی لیکن چونکہ تم دنیا کے نہیں بلکہ میں نے تم کو دنیا میں سے چن لیا ہے اس واسطے دنیا تم سے عداوت رکھتی ہے۔“
اس عالمگیر اذیت کے باوجود، یہوواہ کے گواہوں میں اضافہ ہوا ہے—۱۹۴۳ میں ۵۴ ملکوں میں ۱۲۶،۰۰۰ کی تعداد سے اب ۱۹۹۳ میں ۲۲۹ ملکوں میں تقریباً ۴،۵۰۰،۰۰۰ ہیں۔ انہوں نے موت کے سامنے بھی فتح کا ذائقہ چکھا ہے۔ وہ اس وقت تک بادشاہت کی خوشخبری سنانے کے اپنے اس منفرد تعلیمی کام کو جاری رکھنے کا عزممصصم کئے ہوئے ہیں جبتک یہوواہ خود اس کام کو بند کرنے کا حکم نہیں دے دیتا۔—یسعیاہ ۶:۱۱، ۱۲، متی ۲۴:۱۴، مرقس ۱۳:۱۰۔
[فٹنوٹ]
a راستی ”کسی بھی واضح اخلاقی ضابطہ کی مستحکم حمایت ہے۔“— دی امریکن ہیریٹیج ڈکشنری، تیسرا ایڈیشن۔
[بکس/تصویر]
جرمنی میں شہادت پر منتج ہونے والی سختیاں
آگست ڈکمین اس وقت ۲۳ برس کا تھا جب ایس ایس لیڈر ہنرک ہملر نے یہ حکم دیا کہ اسے زاکسنہاؤسن اسیروں کے کیمپ میں موجود دوسرے تمام گواہوں کے سامنے گولی مار دی جائے۔ گستاو آشنر ایک چشمدید گواہ نے رپورٹ دی: ”انہوں نے بھائی ڈکمین کو گولی مار دی اور ہمیں بتایا کہ اگر ہم اپنے ایمان سے انکار کرنے کے معاہدے پر دستخط نہیں کرینگے تو ہم سب کو بھی اسی طرح گولی سے اڑا دیا جائیگا۔ ہم میں سے ۳۰ یا ۴۰ کو ایک ساتھ ریت کے ٹیلے پر کھڑا کیا جائے گا اور وہ ہم سب کو اکٹھے گولی مار دیں گے۔ اگلے روز بھی ایس ایس والے ہمارے پاس ایک کاغذ لائے کہ یا تو اس پر دستخط کرو ورنہ تمہیں گولی مار دی جائیگی۔ کاش آپ اس وقت انکے لٹکے ہوئے منہ دیکھ سکتے جب ہم میں سے ایک نے بھی اس پر دستخط نہ کئے اور انہیں خالی ہاتھ واپس جانا پڑا۔ انہیں امید تھی کہ کھلے عام سزا دینے سے وہ ہمیں ڈرا لیں گے۔ لیکن ہمیں ان کی گولیوں سے مرنے سے زیادہ یہوواہ کو ناراض کرنے کا ڈر تھا۔ اسکے بعد انہوں نے ہم میں سے کسی کو سب کے سامنے گولی نہ ماری۔“
[بکس]
یزری کولیزا
بعض اوقات موت کے سامنے فتح میں شاید جان قربان کر دینا شامل ہو۔ ساؤتھ افریقہ کے صوبے ناٹل کے شمالی حصے میں، نسیلینی کلیسیا سے موصول ہونے والا ایک خط، ایک دردناک کہانی بیان کرتا ہے: ”یہ خط ہم آپکو اس لئے لکھ رہے ہیں تاکہ آپ کو اپنے عزیز بھائی موزیز نیاموسوآ کی موت سے آگاہ کر دیں۔ وہ کاروں کی ویلڈنگ اور مرمت کا کام کرتا تھا۔ ایک مرتبہ کسی سیاسی گروپ کے ایک شخص نے اسے انکی گھر میں بنائی ہوئی رائفلوں کی ویلڈنگ کرنے کیلئے کہا جس سے اس نے انکار کر دیا۔ اسکے بعد، ۱۶ فروری، ۱۹۹۲ کو انکا سیاسی اجتماع تھا، جس میں انہوں نے مخالف گروپ کے لوگوں کیساتھ لڑائی کی۔ اسی دن شام کو لڑائی سے واپسی پر انہوں نے بھائی کو ایک شاپنگ سینٹر کی طرف جاتے دیکھا۔ انہوں نے اسے وہیں اپنی برچھیوں سے مار ڈالا۔ انکے پاس کیا وجہ تھی؟ ”تم نے ہماری رائفلوں کو ویلڈ کرنے سے انکار کیا تھا اور اسکی وجہ سے اب ہمارے ساتھی لڑائی میں مارے گئے ہیں۔“
”کلیسیا کا سیکریٹری بھائی ڈوماکوڈی کہتا ہے کہ ”اس سے بھائیوں کو بہت دکھ پہنچا ہے۔ ”لیکن“ وہ مزید اضافہ کرتا ہے، ”ہم اس سب کے باوجود اپنی خدمت کو جاری رکھیں گے۔“
[بکس/تصویر]
پولینڈ میں شہادت
۱۹۴۴ میں، جب جرمن فوجیں بڑی تیزی سے پسپا ہو رہیں تھیں اور جنگی محاذ پولینڈ کے مشرقی حصے کے ایک گاؤں کے قریب پہنچ گیا تھا تو اس وقت قابض حکام نے شہریوں کو ٹینکشکن خندقیں کھودنے کے لئے مجبور کیا۔ یہوواہ کے گواہوں نے اس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ایک نوجوان گواہ اسٹفن کاراوے—جس نے صرف دو ماہ پہلے بپتسمہ لیا تھا—اسے ایک بریگیڈ میں کام کرنے کے لئے مجبور کیا گیا تھا، لیکن اس نے بڑی دلیری سے ویسا ہی غیرجانبدارانہ موقف اختیار کیا۔ اس کی راستی کو توڑنے کیلئے مختلف اقدام اٹھائے گئے۔
ایک دلدل والے علاقے میں اسے ایک درخت کیساتھ ننگا باندھ دیا گیا تاکہ موٹے مچھر اور دیگر کیڑے مکوڑے اس پر حملہ کریں۔ اس نے اسے اور اسی طرح کی اور بہت ساری اذیتوں کو برداشت کیا، پس انہوں نے اسے اذیت دینی بند کر دی۔ تاہم، جب ایک اعلی افسر نے بریگیڈ کا معائنہ کیا تو کسی نے اسے بتا دیا کہ یہاں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو کسی بھی حالت میں اسکے حکم کو نہیں مانے گا۔ اسٹفن کو تین بار خندق کھودنے کا حکم دیا گیا۔ اس نے بیلچہ اٹھانے سے بھی انکار کر دیا۔ اسے گولی مار دی گئی۔ اس منظر کو دیکھنے والے سینکڑوں لوگ اسے ذاتی طور پر جانتے تھے۔ اس کی شہادت اس عظیم قوت کی گواہ ٹھہری جو یہوواہ فراہم کر سکتا ہے۔
[تصویر]
انانائی گروگل
[تصویر]
آخری قیمت