یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو93 8/‏10
  • مقتول یا شہید ان میں کیا فرق ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مقتول یا شہید ان میں کیا فرق ہے؟‏
  • جاگو!‏—‏1993ء
  • ملتا جلتا مواد
  • دلیری کیساتھ راستی برقرار رکھنے والے نازی اذیت پر فتح پاتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • زمانۂ‌جدید کے شہید سویڈن میں گواہی دیتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • ‏”‏بھولے‌بسرے متاثرین“‏ کو یاد کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • 50 سال قبل دُنیا کیسی تھی؟‏
    جاگو!‏—‏1996ء
مزید
جاگو!‏—‏1993ء
جاگو93 8/‏10

مقتول یا شہید ان میں کیا فرق ہے؟‏

پوری تاریخ میں، آدمیوں، عورتوں اور بچوں کیساتھ نوع‌انسانی کا ظالمانہ سلوک غیرمختتم تکلیف کا سبب بنا ہے اور نتیجتاً لاکھوں اسکا شکار ہوئے ہیں۔ خواہ اسکی وجوہات سیاسی، قومی، نسلی یا مذہبی ہی کیوں نہ رہی ہوں، بے‌گناہوں کا خون بہایا گیا ہے اور ابھی تک بہایا جا رہا ہے۔ محبت اور مفاہمت پر نفرت غلبہ پاتی ہے۔ تعصب رواداری کا گلا گھونٹتا ہے۔ اور قتل‌وغارت جاری رہتی ہے۔‏

گذشتہ صدیوں میں، جنگ فوج کے خلاف فوج مدمقابل ہو کر لڑی جاتی تھی۔ لیکن شہری آبادی کی شمولیت نسبتاً کم تھی۔ لیکن ہماری اس ۲۰ ویں صدی میں، ہوائی بمباری، دور تک مار کرنے والی توپوں اور میزائل کی آمد کیساتھ شہری زخمیوں کی تعداد اس حد تک بڑھ گئی ہے۔ کہ ایک تجزیہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏اب زیادہ‌تر شہری آبادی ہی جنگوں میں مرتے ہیں۔ اس صدی میں پیشہ‌ور فوجیوں کی نسبت نہتے شہری جنگوں میں کہیں زیادہ تعداد میں مارے گئے ہیں۔“‏ سیاسی راہنماؤں کی چھیڑی ہوئی جنگی مہموں میں بے‌گناہ لوگ جنگی مشینوں کیلئے بطور چارا استعمال ہوئے ہیں۔ صرف ہماری صدی میں ہی، کوئی سو ملین اموات اور سینکڑوں ملین دیگر زخموں کی وجہ سے اور اپنے عزیزوں کی موت کے سبب سے ذہنی توازن کو کھو دینے کی وجہ سے جنگ کا ہدف بننے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔‏

جدید لڑائیوں سے ستم‌رسیدہ کے علاوہ، شہید ہونے والے بھی ہیںa‏۔ فرق کیا ہے؟ لاکھوں—‏یہودی، سلاوز، خانہ‌بدوش، ہمجنس‌پسند، اور کئی دوسرے—‏نازی جرمنی میں صرف اسلئے موت کا شکار ہوئے کیونکہ وہ یہودی، سلاوز، خانہ‌بدوش اور ہم‌جنس پسند تھے۔ انکے پاس اور کوئی راہ نہ تھی اور نہ ہی کوئی متبادل تھا۔ اس شریر نظام کے تحت، انکی موت یقینی تھی۔ اسکی دوسری طرف، بعض کے لئے مرنا لازمی نہ تھا۔ انکے پاس فرار کی راہ تھی اور اسکے باوجود بھی اپنے اصولوں کی خاطر انہوں نے راہ فرار اختیار نہ کی۔‏

ایک مشہور مثال کیتھولک پریسٹ مکسیملن کولبی کی تھی جس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران یہودی پناہ‌گزینوں کی امداد کی۔ ۱۹۴۱ میں اسے ”‏آشواتز [‏کے نازی کیمپ]‏ میں لے گئے جہاں اس نے سزایافتہ اپنے ساتھی فرانسیزک گئونزک کی خاطر رضاکارانہ اپنی زندگی دے دی۔ پہلے اسے بھوکا رکھا گیا اور پھر انجام کار اسے فینول کا انجکشن دیا گیا اور بعد میں جلا دیا گیا۔“‏ (‏انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا)‏ وہ ایک خودایثار شہید بنا—‏جہاں تک پروٹسٹنٹ اور کیتھولک مذاہب کا تعلق ہے انکے اصولوں کے بالکل برعکس۔‏

جرمنی میں نازی دور کے دوران (‏۱۹۳۳-‏۱۹۴۵)‏، یہوواہ کے گواہوں نے غیرجانبدار رہنے اور ہٹلر کی جنگی مہموں میں خدمت سے انکار کرنے کی جرات کرنے کی وجہ سے خوفناک اذیت برداشت کی۔ ہزاروں کو دہشت‌ناک اجتماعی کیمپوں میں ڈال دیا گیا جہاں بہتیروں کو کیمپوں میں سزا دی گئی اور دوسرے نارواسلوک کی وجہ سے مر گئے۔ تاہم ان کیلئے تکلیف اٹھانا اور مرنا ضروری نہ تھا۔ ان کے پاس انتخاب تھا۔ انہیں نکلنے کی راہ کی پیشکش کی تھی۔ اگر وہ اپنے ایمان سے دستبردار ہوتے ہوئے صرف ایک کاغذ پر دستخط کر دیتے تو وہ آزاد ہو کر جا سکتے تھے۔ ایک بھاری تعداد نے دستخط نہ کرنے کا انتخاب کیا اور یوں نہ صرف نازی دہشت کا نشانہ بنے بلکہ شہید بھی کر دئے گئے۔ پس جبکہ تمام شہید مقتول ہیں، صرف چند مقتول ہی شہید بننے انتخاب کر سکتے تھے اور انہوں نے کیا۔ وہ موت کے سامنے بھی فاتح رہے۔‏

گواہوں کے علاوہ دیگر لوگوں کی غیرجانبدارنہ شہادتیں بھی اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں۔ ”‏سویس پاسٹر برپ‌آکر نے ۱۹۳۹ میں یہ مشاہدہ کیا کہ ”‏جس وقت وہ لوگ جو مسیحی ہونے کا دعوی کرتے ہیں فیصلہ‌کن آزمائش میں ناکام ہو گئے تو یہ غیرمعروف یہوواہ کے گواہ، بطور مسیحی شہیدوں کے ضمیر کے خلاف دباؤ اور جھوٹی بت‌پرستی کے خلاف مسلسل مخالفت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ .‏.‏.‏ وہ تکلیف اٹھاتے اور موت گوارا کرتے ہیں، کیونکہ بطور یہوواہ کے گواہوں اور مسیح کی بادشاہی کے امیدواروں کے، وہ ہٹلر اور سواستیکا کی پرستش سے انکار کرتے ہیں۔“‏“‏

تاہم، یہ صرف نازی جرمنی میں ہی نہیں ہوا کہ یہوواہ کے گواہوں نے موت کے سامنے وفاداری کو برقرار رکھا۔ انہیں کمیونزم، فسطایئت، اور دیگر قسم کے سیاسی استبداد اور اسکے ساتھ مذہبی مخالفت کے سامنے اپنی جرأت کا مظاہرہ کرنا پڑا ہے۔ یہانتک کہ مغرب کے نام نہاد جمہوری ممالک میں بھی گواہوں نے تشدد کا سامنا کیا ہے۔ ہمارا اگلا مضمون ایسے کچھ واقعات کو تفصیل سے بیان کریگا جن میں ایسے گواہ شریک ہیں جنہوں نے موت کے سامنے فتح حاصل کی ہے۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ایک ستم‌رسیدہ کی تشریح ”‏ایک ایسے شخص“‏ کے طور پر کی جاتی ہے ”‏جسے کسی دوسرے کے ہاتھوں نقصان پہنچا ہو یا قتل کیا گیا ہو۔ .‏.‏.‏ ایسا شخص جسے کسی حالات، ایجنسی یا کسی کام کی وجہ سے نقصان پہنچا ہو یا تکلیف اٹھانی پڑے۔“‏ اسکی دوسری طرف، ایک شہید وہ ہے جو ”‏مذہبی اصولوں سے دستبردار ہونے کے برعکس مرنے کا انتخاب کرتا ہے۔ .‏.‏.‏ ایک ایسا شخص جو بہت سی قربانیاں کرتا یا کسی اعتقاد، سبب یا اصول کی خاطر تکلیف اٹھاتا ہے۔“‏—‏ دی امریکن ہیریٹیج ڈکشنری آف دی انگلش لینگویج، تھرڈ ایڈیشن۔‏

‏[‏تصویر]‏

دوسری عالمی جنگ کے بعد، مشرقی جرمنی کی عدالتوں نے غلط طور پر یہوواہ کے گواہوں کو امریکی جاسوسوں کے طور پر سزا دی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں