نوح اور بڑے طوفان کی کہانی— کیا یہ صرف ایک افسانہ ہے؟
پاک کلام کا جواب
ایک بہت بڑا طوفان سچ میں آیا تھا۔ یہ طوفان خدا لایا تھا تاکہ وہ بُرے لوگوں کو ختم کر دے۔ لیکن اُس نے نوح کو حکم دیا کہ وہ ایک کشتی بنائیں تاکہ اچھے لوگوں اور جانوروں کو بچایا جا سکے۔ (پیدائش 6:11-20) ہم اِس بات پر یقین رکھ سکتے ہیں کہ طوفان واقعی آیا تھا کیونکہ اِس کا ذکر اُن صحیفوں میں کِیا گیا ہے جو ”خدا کے اِلہام“ سے ہیں۔—2-تیمُتھیُس 3:16۔
حقیقت یا افسانہ
بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ نوح ایک حقیقی اِنسان تھے اور طوفان واقعی آیا تھا؛ یہ کوئی قصہ یا کہانی نہیں ہے۔
بائبل کو لکھنے والے یہ مانتے تھے کہ نوح ایک حقیقی شخص تھے۔مثال کے طور پر بائبل کی کتابیں لکھنے والے عزرا اور لُوقا ماہر تاریخدان تھے۔ جب اُنہوں نے بنیاِسرائیل کا نسبنامہ لکھا تو اُنہوں نے اُس میں نوح کا بھی ذکر کِیا۔ (1-تواریخ 1:4؛ لُوقا 3:36) متی اور لُوقا نے اپنی اِنجیلوں میں وہ باتیں لکھیں جو یسوع مسیح نے نوح اور طوفانِنوح کے بارے میں کہی تھیں۔ —متی 24:37-39؛ لُوقا 17:26، 27۔
حِزقیایل نبی اور پولُس رسول نے بھی نوح کا ذکر ایک ایسے شخص کے طور پر کِیا جو ایمان اور نیکی کی عمدہ مثال تھا۔ (حِزقیایل 14:14، 20؛ عبرانیوں 11:7) ظاہر ہے کہ حِزقیایل اور پولُس ایک ایسے شخص کی مثال پر عمل کرنے کے لیے نہیں کہیں گے جو کبھی تھا ہی نہیں۔ نوح اور اُن جیسے مرد اور عورتیں ہمارے لیے ایمان کی عمدہ مثال ہیں کیونکہ وہ حقیقی لوگ تھے۔—عبرانیوں 12:1؛ یعقوب 5:17۔
بائبل میں طوفان کے بارے میں کچھ خاص تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ جب بائبل میں طوفان کا ذکر کِیا گیا تو اِسے کسی قصے یا کہانی کے طور پر شروع نہیں کِیا گیا جیسے کہ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ...۔“ اِس کی بجائے بائبل میں بتایا گیا ہے کہ طوفان سے جُڑے واقعات کس سال، کس مہینے اور کس دن ہوئے۔ (پیدائش 7:11؛ 8:4، 13، 14) بائبل میں اُس کشتی کی لمبائی، چوڑائی اور اُونچائی بھی بتائی گئی ہے جو نوح نے بنائی تھی۔ (پیدائش 6:15) اِن سب باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ بائبل میں طوفان کا ذکر کسی قصے یا کہانی کے طور پر نہیں بلکہ ایک حقیقی واقعے کے طور پر ہوا ہے۔
طوفان کیوں آیا تھا؟
بائبل کے مطابق طوفان سے پہلے”اِنسان کی بُرائی بہت بڑھ گئی“ تھی۔ (پیدائش 6:5) اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ” زمین سچے خدا کی نظر میں خراب ہو چُکی تھی“ کیونکہ اِس پر ظلموتشدد اور حرامکاری بہت بڑھ گئی تھی۔—پیدائش 6:11؛ یہوداہ 6، 7۔
بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ بُرے فرشتوں کی وجہ سے بُرائی میں اِضافہ ہوا جو عورتوں سے جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے آسمان کو چھوڑ کر زمین پر آئے۔ اِن فرشتوں کی اولاد کو جبّار کہا جاتا ہے جس نے اُس زمانے کے لوگوں پر بہت ظلم کِیا اور اُنہیں بڑا نقصان پہنچایا۔ (پیدائش 6:1، 2، 4) اِس لیے خدا نے یہ فیصلہ کِیا کہ وہ بُرائی کو مٹا دے گا اور نیک لوگوں کو ایک نئی شروعات کرنے کا موقع دے گا۔—پیدائش 6:6، 7، 17۔
کیا لوگوں کو پتہ تھا کہ طوفان آنے والا ہے؟
جی۔ خدا نے نوح کو بتایا کہ کیا ہونے والا ہے اور اُنہیں ہدایت دی کہ وہ اپنے گھرانے اور جانوروں کو بچانے کے لیے ایک کشتی بنائیں۔ (پیدائش 6:13، 14؛ 7:1-4) نوح نے لوگوں کو آنے والی تباہی سے خبردار کِیا لیکن اُنہوں نے اُن کی باتوں کو نظرانداز کر دیا۔ (2-پطرس 2:5) بائبل میں بتایا گیا ہے کہ”لوگ اُس وقت تک لاپرواہ رہے جب تک طوفان نہیں آیا اور جب طوفان آیا تو وہ سب ڈوب کر مر گئے۔“—متی 24:37-39۔
نوح نے جو کشتی بنائی، وہ دِکھنے میں کیسی تھی؟
وہ کشتی ایک بڑے صندوق کی طرح تھی جس کی لمبائی 133 میٹر ( 437 فٹ)، چوڑائی 22 میٹر (73 فٹ) اور اُونچائی 13 میٹر یعنی (44 فٹ) تھی۔a یہ گوپھر کی لکڑی سے بنی ہوئی تھی اور اِس کے اندر اور باہر تارکول لگایا گیا تھا۔ اِس کشتی میں تین منزلیں اور کچھ خانے تھے۔ اِس کے ایک طرف ایک دروازہ تھا اور اُوپر غالباً ایک کھڑکی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ کشتی کی چھت بیچ میں سے تھوڑی اُبھری ہوئی تھی تاکہ پانی چھت پر جمع نہ ہو بلکہ نیچے گِر جائے۔—پیدائش 6:14-16۔
نوح کو کشتی بنانے میں کتنا عرصہ لگا؟
بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نوح کو کشتی بنانے میں کتنے سال لگے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اُنہیں کشتی بنانے میں کئی دہائیاں لگیں۔ جب نوح کا پہلا بیٹا پیدا ہوا تو اُن کی عمر 500 سال سے زیادہ تھی اور جب طوفان آیا تو اُن کی عمر 600 سال تھی۔b—پیدائش 5:32؛ 7:6۔
جب خدا نے نوح کو کشتی بنانے کے لیے کہا تب تک نوح کے تینوں بیٹے بڑے ہو چُکے تھے اور اُن کی شادیاں ہو چُکی تھیں۔ اِس سب میں شاید 50 سے 60 سال لگے ہوں۔ (پیدائش 6:14، 18) اِن باتوں کی بِنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اُنہیں کشتی کو بنانے میں 40 سے 50 سال لگے ہوں گے۔
a بائبل میں کشتی کی لمبائی، چوڑائی اور اُونچائی کے لیے جو اِکائی اِستعمال کی گئی ہے، وہ ہاتھ ہے۔ قدیم زمانے میں ”ایک ہاتھ 45.44 سینٹیمیٹر (5.17اِنچ) کے برابر تھا۔“—دی اِلسٹریٹِڈ بائبل ڈکشنری، ریوائزڈ ایڈیشن، حصہ 3، صفحہ 1635۔
b اِس بارے میں اَور جاننے کے لیے کہ نوح کے زمانے میں لوگوں کی عمریں کتنی لمبی ہوا کرتی تھیں، ”جاگو!“ اکتوبر 2007ء میں مضمون ”کیا ان کی عمر واقعی اتنی لمبی تھی؟“ کو دیکھیں۔