یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • qbwji مضمون 119
  • ‏”‏خدا کا کلام“‏ کون یا کیا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏خدا کا کلام“‏ کون یا کیا ہے؟‏
  • پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • پاک کلام کا جواب
  • یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا کیوں کہا گیا ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • باپ، بیٹے اور روحُ‌القدس کے بارے میں سچائی کیا ہے؟‏
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • یسوع مسیح خدا کا بیٹا کیوں کہلاتا ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2006ء
  • یسوع مسیح کون ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
مزید
پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
qbwji مضمون 119
یسوع مسیح نے ایک طومار پکڑا ہوا ہے اور وہ بات کر رہے ہیں۔‏

‏”‏خدا کا کلام“‏ کون یا کیا ہے؟‏

پاک کلام کا جواب

اِصطلا‌ح ”‏خدا کا کلام“‏ عام طور پر اُس پیغام کی طرف اِشارہ کرتی ہے جو خدا کی طرف سے ہو۔ (‏لُوقا 11:‏28‏)‏ پاک صحیفوں میں کچھ جگہوں پر اِصطلا‌ح ”‏خدا کا کلام“‏ یا ”‏کلام“‏ خطاب کے طور پر بھی اِستعمال ہوئی ہے۔—‏مکاشفہ 19:‏13؛‏ یوحنا 1:‏14‏۔‏

خدا کی طرف سے پیغام۔‏ نبیوں نے اکثر کہا کہ جو پیغام وہ دے رہے ہیں، وہ خدا کا کلام ہے۔ مثال کے طور پر یرمیاہ نبی نے لوگوں کو پیغام سنانے سے پہلے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔“‏ (‏یرمیاہ 1:‏4،‏ 11،‏ 13؛‏ 2:‏1‏)‏ اِس کے علاوہ سموئیل نبی نے ساؤل کو یہ بتانے سے پہلے کہ خدا نے اُنہیں بادشاہ کے طور پر چُنا ہے، اُن سے کہا:‏ ”‏تُو ابھی کھڑا رہ کہ مَیں [‏خدا]‏ کا کلام تجھے سناؤں۔“‏—‏1-‏سموئیل 9:‏27‏، کیتھولک ترجمہ۔‏

ایک خطاب۔‏ پاک صحیفوں سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع مسیح کو ’‏خدا کے کلام‘‏ کا خطاب دیا گیا ہے۔ اُن کے لیے یہ خطاب آسمان پر ایک روحانی ہستی کے طور پر بھی اِستعمال ہوا ہے اور زمین پر ایک اِنسان کے طور پر بھی۔ آئیں، ایسا کہنے کی کچھ وجوہات پر غور کریں:‏

  • کلام باقی سب مخلوقات سے پہلے موجود تھا۔ ”‏شروع میں کلام تھا۔ .‏.‏.‏ وہ شروع میں خدا کے ساتھ تھا۔“‏ (‏یوحنا 1:‏1، 2‏)‏ یسوع کو ”‏سب چیزوں سے پہلے بنایا گیا۔ .‏.‏.‏ وہ سب چیزوں سے پہلے موجود تھا۔“‏—‏کُلسّیوں 1:‏13-‏15،‏ 17‏۔‏

  • کلام ایک اِنسان کے طور پر زمین پر آیا۔ پاک صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏کلام اِنسان بن کر ہمارے درمیان رہا۔“‏ (‏یوحنا 1:‏14‏)‏ یسوع مسیح نے ”‏سب کچھ چھوڑ دیا اور غلام کی طرح بن گئے، ہاں، ایک اِنسان بن گئے۔“‏—‏فِلپّیوں 2:‏5-‏7‏۔‏

  • کلام خدا کا بیٹا ہے۔ یہ کہنے کے بعد کہ ’‏کلام اِنسان بنا‘‏ یوحنا رسول نے کہا:‏ ”‏ہم نے اُس کی ایسی شان دیکھی جیسی باپ کے اِکلوتے بیٹے کی ہوتی ہے۔“‏ (‏یوحنا 1:‏14‏)‏ یوحنا نے یہ بھی کہا:‏ ”‏یسوع، خدا کے بیٹے ہیں۔“‏—‏1-‏یوحنا 4:‏15‏۔‏

  • کلام میں خدا جیسی خصوصیات ہیں۔ ”‏کلام ایک خدا تھا۔“‏ (‏یوحنا 1:‏1‏)‏ یسوع ”‏خدا کی شان کا عکس ہے اور ہوبہو اُس کی طرح ہے۔“‏—‏عبرانیوں 1:‏2، 3‏۔‏

  • کلام ایک بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرتا ہے۔ پاک صحیفوں میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے کلام کے ”‏سر پر بہت سے تاج“‏ ہیں۔ (‏مکاشفہ 19:‏12، 13‏)‏ کلام کو ”‏بادشاہوں کا بادشاہ اور مالکوں کا مالک“‏ بھی کہا گیا ہے۔ (‏مکاشفہ 19:‏16‏)‏ یسوع مسیح کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ”‏بادشاہوں کا بادشاہ اور مالکوں کا مالک ہے۔“‏—‏1-‏تیمُتھیُس 6:‏14، 15‏۔‏

  • کلام خدا کا نمائندہ ہے۔ خطاب ”‏کلام“‏ سے پتہ چلتا ہے کہ جس ہستی کو یہ خطاب دیا گیا ہے، اُس کے ذریعے خدا معلومات اور ہدایات دیتا ہے۔ یسوع مسیح نے اپنے بارے میں کہا:‏ ”‏میرا باپ جس نے مجھے بھیجا ہے، اُس نے مجھے حکم دیا ہے کہ مجھے کیا بولنا اور کیا کہنا ہے۔ .‏.‏.‏ اِس لیے مَیں جو کچھ کہتا ہوں، بالکل ویسے کہتا ہوں جیسے باپ نے مجھے بتایا ہے۔“‏—‏یوحنا 12:‏49، 50‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں