والدین، اپنے بچوں کو دانشمند بنائیں تاکہ وہ نجات پائیں
”آپ بچپن سے پاک صحیفوں سے واقف ہیں جو آپ کو دانشمند بنا سکتے ہیں تاکہ آپ مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کر سکیں۔“—2-تیمُتھیُس 3:15۔
1، 2. جب بچے اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کرنا اور بپتسمہ لینا چاہتے ہیں تو بعض والدین کے ذہن میں خدشے کیوں پیدا ہو سکتے ہیں؟
ہر سال بائبل کورس کرنے والے ہزاروں لوگ اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کرتے ہیں اور بپتسمہ لیتے ہیں۔ اِن میں سے بہت سے نوجوان ہوتے ہیں جو بچپن سے سچائی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور زندگی کی بہترین راہ کا اِنتخاب کرتے ہیں۔ (زبور 1:1-3) اگر آپ یہوواہ کے گواہ ہیں اور آپ کے بچے ہیں تو بِلاشُبہ آپ اُس دن کے منتظر ہوں گے جب آپ کا بیٹا یا بیٹی بپتسمہ لے گی۔—3-یوحنا 4 پر غور کریں۔
2 لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں کچھ خدشے بھی ہوں۔ شاید آپ نے دیکھا ہو کہ کچھ نوجوان بپتسمہ تو لے لیتے ہیں لیکن بعد میں اِس بات پر شک کرنے لگتے ہیں کہ آیا اُنہیں خدا کے معیاروں پر چلنے سے واقعی فائدہ ہوتا ہے۔ بعض نوجوانوں نے تو کلیسیا کو چھوڑ بھی دیا ہے۔ لہٰذا شاید آپ کو یہ فکر لاحق ہو کہ آپ کا بچہ یہوواہ کی خدمت شروع تو کرے گا لیکن بعد میں اُس کے دل میں سچائی کے لیے محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلی صدی میں رہنے والے اِفسس کے مسیحیوں کی طرح بن جائے جن سے یسوع نے کہا تھا: ”آپ کی محبت ویسی نہیں رہی جیسی شروع میں تھی۔“ (مکاشفہ 2:4) آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ کا بچہ یہوواہ سے محبت کرنا نہ چھوڑے اور ”بڑھتے بڑھتے نجات حاصل“ کر سکے؟ (1-پطرس 2:2) اِس سلسلے میں آئیں، تیمُتھیُس کی مثال پر غور کریں۔
’آپ پاک صحیفوں سے واقف ہیں‘
3. (الف) تیمُتھیُس مسیحی کیسے بنے تھے اور ہمیں کیسے پتہ ہے کہ اُنہوں نے اُن باتوں پر عمل کِیا تھا جو اُنہوں نے سیکھی تھیں؟ (ب) پولُس رسول نے سچائی سیکھنے کے حوالے سے تیمُتھیُس کی توجہ کون سی تین باتوں پر دِلائی تھی؟
3 پولُس رسول 47ء میں پہلی دفعہ لِسترہ گئے تھے۔ غالباً اُسی دوران تیمُتھیُس نے یسوع مسیح کی تعلیمات کے بارے میں سیکھا ہوگا۔ حالانکہ اُس وقت تیمُتھیُس نوجوان تھے لیکن پھر بھی اُنہوں نے اُن باتوں پر عمل کِیا جو اُنہوں نے سیکھی تھیں۔ دو سال کے بعد تیمُتھیُس پولُس رسول کے ساتھ مل کر کلیسیاؤں کا دورہ کرنے لگے۔ اِس کے تقریباً 16 سال بعد پولُس نے تیمُتھیُس کو لکھا: ”اُن باتوں پر عمل کرتے رہیں جو آپ نے سیکھی تھیں اور جن پر ایمان لانے کے لیے آپ کو قائل کِیا گیا تھا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ نے یہ باتیں کن سے سیکھی ہیں۔ آپ بچپن سے پاک صحیفوں [یعنی عبرانی صحیفوں] سے واقف ہیں جو آپ کو دانشمند بنا سکتے ہیں تاکہ آپ مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کر سکیں۔“ (2-تیمُتھیُس 3:14، 15) ذرا غور کریں کہ پولُس نے کہا کہ تیمُتھیُس (1) پاک صحیفوں سے واقف تھے، (2) اُن باتوں پر ایمان لانے کے لیے قائل ہو گئے تھے جو اُنہوں نے سیکھی تھیں اور (3) مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کرنے کے لیے دانشمند بن گئے تھے۔
اگر آپ کا بچہ بہت چھوٹا ہے تو بھی وہ اُن لوگوں اور واقعات کے بارے میں سیکھ سکتا ہے جن کا بائبل میں ذکر کِیا گیا ہے۔
4. آپ نے اپنے بچے کو بائبل کی تعلیم دینے کے حوالے سے کون سی مطبوعات کو مؤثر پایا ہے؟ (اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔)
4 ایک ماں یا باپ کے طور پر یقیناً آپ چاہتے ہوں گے کہ آپ کا بچہ پاک صحیفوں سے واقف ہو جن میں آج عبرانی اور یونانی دونوں صحیفے شامل ہیں۔ اگر آپ کا بچہ بہت چھوٹا ہے تو بھی وہ اُن لوگوں اور واقعات کے بارے میں سیکھ سکتا ہے جن کا بائبل میں ذکر کِیا گیا ہے۔ یہوواہ کی تنظیم نے بہت سی کتابیں، رسالے اور ویڈیوز فراہم کی ہیں جن کے ذریعے والدین اپنے بچوں کو سکھا سکتے ہیں۔ اِن میں سے کون سی آپ کی زبان میں دستیاب ہیں؟ یاد رکھیں کہ آپ کا بچہ تبھی یہوواہ کی قربت حاصل کر پائے گا جب وہ پاک صحیفوں کا علم حاصل کرے گا۔
”ایمان لانے کے لیے آپ کو قائل کِیا گیا“
5. ہم کیسے جانتے ہیں کہ تیمُتھیُس یسوع پر ایمان لانے کے لیے قائل ہو گئے تھے؟
5 بچوں کو پاک صحیفوں کی تعلیم دینے میں صرف یہ شامل نہیں کہ ہم اُنہیں اُن لوگوں اور واقعات کے بارے میں بتائیں جن کا بائبل میں ذکر کِیا گیا ہے۔ یاد رکھیں کہ تیمُتھیُس کو بھی ’ایمان لانے کے لیے قائل‘ کِیا گیا تھا۔ تیمُتھیُس بچپن سے عبرانی صحیفوں سے واقف تھے۔ لیکن بعد میں وہ اِس بات کے قائل ہو گئے کہ یسوع ہی مسیح ہیں۔ تیمُتھیُس کا ایمان اِتنا مضبوط تھا کہ اُنہوں نے بپتسمہ لیا اور پولُس کے ساتھ مشنری کے طور پر خدمت کرنے لگے۔
6. آپ خدا کے کلام پر ایمان مضبوط کرنے کے سلسلے میں اپنے بچوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
6 آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ کا بچہ تیمُتھیُس کی طرح ’ایمان لانے کے لیے قائل‘ ہو جائے؟ سب سے پہلے تو آپ کو صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مضبوط ایمان راتوں رات پیدا نہیں ہوتا۔ اِس کے علاوہ اگر آپ کسی چیز پر ایمان رکھتے ہیں تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے بچوں کے اندر بھی اُس چیز کے لیے خودبخود ہی ایمان پیدا ہو جائے گا۔ ہر بچے کو ”اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت“ کو اِستعمال کر کے بائبل پر اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ (رومیوں 12:1 کو پڑھیں۔) لیکن والدین کے طور پر آپ اپنے بچوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں، خاص طور پر تب جب وہ آپ سے سوال پوچھتے ہیں۔ آئیں، اِس سلسلے میں ایک والد کی مثال پر غور کریں۔
7، 8. (الف) ایک باپ اپنی بیٹی کو سچائی سکھانے کے سلسلے میں صبر سے کام کیسے لیتا ہے؟ (ب) آپ کو اپنے بچے کے ساتھ صبر سے پیش آنے کی ضرورت کب پڑی؟
7 تھامس جن کی 11 سال کی ایک بیٹی ہے، کہتے ہیں: ”میری بیٹی مجھ سے اِس طرح کے سوال پوچھتی ہے: ”کیا یہوواہ خدا نے اِرتقا کے ذریعے جانداروں کو بنایا ہے؟“ اور ”ہم دوسرے لوگوں کی طرح ایسے کاموں میں حصہ کیوں نہیں لیتے جن سے حالات بہتر ہوں، مثلاً ہم الیکشن میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟““ کبھی کبھار تو تھامس کو خود کو روکنا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنی بیٹی کو صرف یہ نہ کہیں کہ کون سا نظریہ صحیح ہے اور کون سا غلط۔ تھامس اِس بات کو سمجھتے ہیں کہ کسی کو یہ بتا کر قائل نہیں کِیا جا سکتا کہ حقیقت کیا ہے بلکہ کسی کو قائل کرنے کے لیے مختلف ثبوت دینے پڑتے ہیں۔
8 تھامس یہ بھی جانتے ہیں کہ اُنہیں اپنی بیٹی کو بائبل کی سچائیاں سکھانے کے لیے صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ دراصل سب مسیحیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صبروتحمل کا مظاہرہ کریں۔ (کُلسّیوں 3:12) تھامس کو اِس بات کا احساس ہے کہ اپنی بیٹی کو سچائی کا قائل کرنے میں اُنہیں وقت لگے گا اور اِس کے لیے اُنہیں اکثر اُس سے باتچیت کرنی ہوگی۔ اُنہیں اپنی بیٹی کو اُن باتوں کے حوالے سے دلیلیں دینی ہوں گی جو وہ بائبل سے سیکھ رہی ہے۔ تھامس نے کہا: ”جب ہم کسی اہم موضوع پر بات کر رہے ہوتے ہیں تو خاص طور پر اُس صورت میں مَیں اور میری بیوی یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہماری بیٹی جو کچھ سیکھ رہی ہے، کیا وہ اُسے سمجھتی اور اُس پر ایمان بھی رکھتی ہے۔ اگر وہ ہم سے سوال پوچھتی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ سچ کہوں تو مجھے پریشانی اُس وقت ہوگی اگر وہ کوئی سوال پوچھے بغیر ہی کسی بات کو ماننے لگے گی۔“
جب آپ اپنے بچے کی مدد کرتے ہیں کہ وہ خدا کے کلام پر اپنے ایمان کو مضبوط کرے تو آپ کو صبر سے کام لینا ہوگا۔
9. آپ اپنے بچے کی مدد کیسے کر سکتے ہیں تاکہ خدا کے کلام پر اُس کا ایمان مضبوط ہو؟
9 جب والدین اپنے بچوں کو سچائی سکھانے کے سلسلے میں صبر سے کام لیتے ہیں تو ایک وقت آتا ہے جب اُن کے بچے ایمان کی ”چوڑائی، لمبائی، اُونچائی اور گہرائی“ کو سمجھنے لگتے ہیں۔ (اِفسیوں 3:18) آپ کو اپنے بچوں کو اُن کی عمر اور سمجھنے کی صلاحیت کے مطابق سکھانا چاہیے۔ جیسے جیسے وہ اُن باتوں پر اپنے ایمان کو مضبوط کریں گے جو وہ سیکھتے ہیں، اُن کے لیے دوسروں، مثلاً اپنے سکول کے بچوں کے سامنے اپنے عقیدوں کی وضاحت کرنا آسان ہوتا جائے گا۔ (1-پطرس 3:15) مثال کے طور پر کیا آپ کے بچے بائبل سے اِس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ مرنے کے بعد اِنسانوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اِس موضوع کے بارے میں بائبل میں جو کچھ بتایا گیا ہے، کیا وہ اُسے سمجھتے بھی ہیں؟a یاد رکھیں کہ جب آپ اپنے بچے کی مدد کرتے ہیں کہ وہ خدا کے کلام پر اپنے ایمان کو مضبوط کرے تو آپ کو صبر سے کام لینا ہوگا۔ لیکن آپ کو اِس صبر کا بڑا اجر ملے گا۔—اِستثنا 6:6، 7۔
بچوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے سلسلے میں آپ کی مثال بہت اہم ہے۔
10. بچوں کو سچائی سکھانے میں کون سی چیز اہم کردار ادا کرتی ہے؟
10 اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے سلسلے میں آپ کی مثال بہت اہم ہے۔ سٹےفنی جن کی تین بیٹیاں ہیں، کہتی ہیں: ”جب میرے بچے بہت چھوٹے تھے تب سے مَیں خود سے پوچھتی آئی ہوں: ”کیا مَیں اپنے بچوں کو بتاتی ہوں کہ مجھے یہ یقین کیوں ہے کہ یہوواہ واقعی ہے، وہ ہم سے پیار کرتا ہے اور وہ جو کچھ کرتا ہے، ہمیشہ صحیح کرتا ہے؟ کیا میرے بچے یہ دیکھ پاتے ہیں کہ مَیں یہوواہ سے سچ میں محبت رکھتی ہوں؟“ مَیں تب تک اپنے بچوں کو کسی بات پر قائل نہیں کر پاؤں گی جب تک مَیں خود اُس بات کی پوری طرح قائل نہیں ہوں گی۔“
ایسی دانشمندی جو نجات کے لیے ضروری ہے
11، 12. (الف) دانشمندی کیا ہے؟ (ب) ہم کیسے جانتے ہیں کہ ایک شخص کی بڑی عمر اِس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ دانشمند ہے؟
11 ہم نے دیکھا ہے کہ تیمُتھیُس (1) پاک صحیفوں سے واقف تھے اور (2) اُن باتوں کے قائل تھے جو اُنہوں نے سیکھی تھیں۔ لیکن پولُس کی اِس بات کا کیا مطلب تھا کہ پاک صحیفے تیمُتھیُس کو دانشمند بنا سکتے تھے تاکہ وہ نجات حاصل کر سکیں؟
12 کتاب ”اِنسائٹ آن دی سکرپچرز،“ جِلد 2 میں بتایا گیا ہے کہ جب بائبل میں لفظ دانشمندی آتا ہے تو اِس سے مُراد ”علم اور سمجھ کو کام میں لانے کی وہ صلاحیت ہے جس کی بدولت مسئلوں کو سلجھایا جاتا ہے، خطروں سے بچا جاتا ہے اور اِنہیں دُور کِیا جاتا ہے، اپنے منصوبوں کو پورا کِیا جاتا ہے یا دوسروں کو ایسا کرنے کے سلسلے میں مشورہ دیا جاتا ہے۔ دانشمندی حماقت کا اُلٹ ہے۔“ بائبل میں کہا گیا ہے کہ ”حماقت لڑکے کے دل سے وابستہ ہے۔“ (امثال 22:15) چونکہ دانشمندی حماقت کی ضد ہے اِس لیے دانشمندی پختگی کا ثبوت ہے۔ اگر ایک شخص کی عمر زیادہ ہے تو یہ اِس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ روحانی طور پر پُختہ بھی ہے۔ روحانی طور پر پُختہ وہ شخص ہوتا ہے جو یہوواہ کا خوف رکھتا ہے اور اُس کے حکموں پر عمل کرنا چاہتا ہے۔—زبور 111:10 کو پڑھیں۔
13. نوجوان یہ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ اُن میں وہ دانشمندی ہے جو نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
13 جو نوجوان روحانی طور پر پُختہ ہوتے ہیں، وہ اپنی خواہشات اور دوسرے نوجوانوں کے اثر کی وجہ سے ’اِدھر اُدھر ہچکولے نہیں کھاتے اور یہاں وہاں دھکیلے نہیں جاتے۔‘ (اِفسیوں 4:14) اِس کی بجائے وہ ”اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال کر کے اِسے تیز کرتے ہیں تاکہ اچھے اور بُرے میں تمیز کر سکیں۔“ (عبرانیوں 5:14) لہٰذا وہ اُس وقت بھی دانشمندی سے کام لے کر فیصلے کرتے ہیں جب اُن کے ماں باپ یا کوئی اَور بڑا اُنہیں دیکھ نہیں رہا ہوتا۔ (فِلپّیوں 2:12) اِس طرح کی دانشمندی نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ (امثال 24:14 کو پڑھیں۔) آپ ایسی دانشمندی پیدا کرنے میں اپنے بچوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ کو اُنہیں بتانا چاہیے کہ آپ کن معیاروں پر چلتے ہیں۔ آپ کی باتوں اور کاموں سے ظاہر ہونا چاہیے کہ آپ خدا کے معیاروں پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔—رومیوں 2:21-23۔
یہ کیوں اہم ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل کوشش کریں؟ (پیراگراف 14-18 کو دیکھیں۔)
14، 15. (الف) اگر ایک نوجوان بپتسمہ لینا چاہتا ہے تو اُسے کن باتوں پر غور کرنا چاہیے؟ (ب) آپ اپنے بچوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں تاکہ وہ اُن برکتوں پر سوچ بچار کر سکیں جو خدا کے حکموں پر عمل کرنے سے ملتی ہیں؟
14 اپنے بچوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے اُنہیں صرف یہ بتا دینا کافی نہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ آپ کو اُن کے ساتھ ایسے سوالوں پر باتچیت بھی کرنی چاہیے: ”بائبل میں ایسی چیزوں سے منع کیوں کِیا گیا ہے جو ہمیں دلکش لگ سکتی ہیں؟ مَیں یہ یقین کیوں رکھ سکتا ہوں کہ خدا کے معیاروں پر چلنے سے مجھے ہمیشہ فائدہ ہوگا؟“—یسعیاہ 48:17، 18۔
15 اگر آپ کا بچہ بپتسمہ لینا چاہتا ہے تو اِس بات پر غور کرنے میں اُس کی مدد کریں کہ بپتسمے کے بعد اُس پر کون سی ذمےداریاں آئیں گی۔ کیا وہ اِن ذمےداریوں کو اُٹھانا چاہتا ہے؟ بپتسمہ لینے سے اُسے کون سے فائدے ہوں گے؟ اُسے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ وہ یہ یقین کیوں رکھ سکتا ہے کہ اُسے جن مشکلات کا سامنا ہوگا، وہ فائدوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوں گی؟ (مرقس 10:29، 30) یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کا بچہ بپتسمے سے پہلے اِن باتوں پر غور کرے۔ اِس بات پر سوچ بچار کرنے میں اپنے بچے کی مدد کریں کہ فرمانبرداری کرنے سے کون سی برکتیں ملتی ہیں اور نافرمانی کرنے کے کون سے نقصان ہوتے ہیں۔ یوں یہ اِمکان بڑھ جائے گا کہ آپ کا بچہ اِس بات پر ایمان رکھے کہ خدا کے معیاروں پر چلنے سے اُسے ہمیشہ فائدہ ہوگا۔—اِستثنا 30:19، 20۔
اگر ایک بپتسمہیافتہ نوجوان کا ایمان کمزور پڑنے لگے
16. والدین اُس صورت میں کیا کر سکتے ہیں اگر اُن کے بپتسمہیافتہ بچے کا ایمان کمزور پڑنے لگتا ہے؟
16 اگر آپ کے بچے کا ایمان بپتسمہ لینے کے بعد کمزور پڑنے لگتا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر شاید آپ کا بیٹا یا بیٹی دُنیا کی چیزوں کی طرف کھنچنے لگے۔ یا شاید وہ اِس بات پر شک کرنے لگے کہ بائبل کے اصولوں پر چلنا ہی زندگی کی بہترین راہ ہے۔ (زبور 73:1-3، 12، 13) آپ ایسی صورتحال میں جیسا ردِعمل دِکھائیں گے، اُس کا اثر اِس بات پر ہو سکتا ہے کہ آپ کا بچہ خدا کی خدمت کرنا جاری رکھے گا یا نہیں۔ چاہے آپ کا بچہ چھوٹا ہو یا نوجوان، اُس کے ساتھ بحث نہ کریں۔ اِس کی بجائے اُسے یہ یقین دِلائیں کہ آپ اُس سے پیار کرتے ہیں اور اُس کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
17، 18. اگر ایک نوجوان کا ایمان کمزور پڑنے لگتا ہے تو اُس کے والدین اُس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
17 ایک بپتسمہیافتہ نوجوان نے خود کو یہوواہ کے لیے وقف کِیا ہوتا ہے۔ یوں اُس نے خدا سے وعدہ کِیا ہوتا ہے کہ وہ اُس سے پیار کرے گا اور اُس کی خدمت کو ہر چیز پر ترجیح دے گا۔ (مرقس 12:30 کو پڑھیں۔) یہوواہ کی نظر میں یہ بہت اہم ہے کہ اِس وعدے کو نبھایا جائے اور ہمیں بھی اِس وعدے کو اہم خیال کرنا چاہیے۔ (واعظ 5:4، 5) یہی بات اپنے بچے کو یاد دِلائیں۔ لیکن پہلے اُس معلومات کا مطالعہ کریں جو یہوواہ کی تنظیم نے والدین کے لیے مہیا کی ہے۔ پھر مناسب وقت دیکھ کر بڑے پیار سے اپنے بچے کو سمجھائیں کہ اُس نے خود کو خدا کے لیے وقف کرنے اور بپتسمہ لینے کے حوالے سے جو وعدہ کِیا تھا، وہ بہت سنجیدہ ہے۔ اُسے یہ بھی بتائیں کہ اگر وہ اِس وعدے پر قائم رہے گا تو اُسے بڑی برکتیں ملیں گی۔
18 اِس سلسلے میں کچھ مفید مشورے کتاب ”کویسچنز ینگ پیپل آسک—آنسرز دیٹ ورک،“ جِلد 1 کے آخر میں اُس حصے کے تحت دیے گئے ہیں جس میں والدین کے سوالوں پر بات کی گئی ہے۔ اِس حصے میں والدین کو کہا گیا ہے کہ اُنہیں فوراً ہی یہ نہیں سوچ لینا چاہیے کہ اُن کے بچے نے سچائی کو ترک کر دیا ہے۔ اِس کی بجائے اُنہیں یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اُس کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ہمعمروں کے دباؤ کا شکار ہو یا احساسِتنہائی میں مبتلا ہو۔ یا ممکن ہے کہ وہ یہ محسوس کرتا ہو کہ وہ خدا کی خدمت میں اُتنا حصہ نہیں لے رہا جتنا دوسرے نوجوان لے رہے ہیں۔ کتاب کے اُس حصے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے مسائل کا تعلق آپ کے عقیدوں سے نہیں ہے۔ اِس کی بجائے اِن کا تعلق ایسے حالات سے ہے جن میں اُسے خدا کی خدمت کرنا مشکل لگ سکتا ہے۔ پھر کتاب کے اُس حصے میں کچھ مشورے دیے گئے ہیں جن پر عمل کر کے والدین ایسے بچے کی مدد کر سکتے ہیں جس کا ایمان کمزور پڑنے لگا ہے۔
19. والدین اپنے بچوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں تاکہ وہ دانشمند بن کر نجات حاصل کر سکیں؟
19 والدین کے طور پر یہ آپ کی اہم ذمےداری بھی ہے اور شرف بھی کہ آپ ’یہوواہ کی طرف سے تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے‘ اپنے بچوں کی پرورش کریں۔ (اِفسیوں 6:4) جیسے کہ ہم نے دیکھا ہے، اِس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنے بچوں کو نہ صرف بائبل کی تعلیمات سکھانی چاہئیں بلکہ اُن کی مدد بھی کرنی چاہیے کہ وہ اُن باتوں کے قائل ہو جائیں جو وہ سیکھتے ہیں۔ جب اُن کا ایمان مضبوط ہوگا تو اُنہیں یہ ترغیب ملے گی کہ وہ خود کو یہوواہ کے لیے وقف کریں اور دلوجان سے اُس کی خدمت کریں۔ دُعا ہے کہ یہوواہ کے کلام، اُس کی پاک روح اور آپ کی کوششوں کی بدولت آپ کا بچہ دانشمند بن جائے اور نجات حاصل کر سکے۔
a اِس حوالے سے کتاب ”پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں“ پر مبنی مشقیں بہت فائدہمند ثابت ہو سکتی ہیں۔ اِن مشقوں کی مدد سے نوجوان اور بڑے بھی خدا کے کلام میں درج سچائیوں کو سمجھ سکتے ہیں اور اِن کی وضاحت کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ یہ مشقیں jw.org پر بہت سی زبانوں میں دستیاب ہیں۔ اِنہیں دیکھنے کے لیے حصہ ”پاک کلام کی تعلیمات“ کے تحت حصہ ”پاک کلام کو سمجھنے کے لیے سہولتیں“ پر جائیں۔