مطالعے کا مضمون نمبر 32
گیت نمبر 38: وہ آپ کو طاقت بخشے گا
یہوواہ ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟
”خدا جو عظیم رحمت کا مالک ہے . . . آپ کو مضبوط بنائے گا۔ وہ آپ کو طاقت بخشے گا۔ وہ آپ کو قائم کرے گا۔“—1-پطر 5:10۔
غور کریں کہ . . .
یہوواہ نے مشکل وقت میں ثابتقدم رہنے کے لیے ہمیں کون سی نعمتیں دی ہیں اور ہم اِن میں سے ہر نعمت سے پورا فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔
1. ہمیں ثابتقدم رہنے کی ضرورت کیوں ہے اور کون اِس حوالے سے ہماری مدد کر سکتا ہے؟ (1-پطرس 5:10)
اِس آخری زمانے میں ہم سبھی کسی نہ کسی طرح کی مشکل سے گزر رہے ہیں۔ اِس لیے ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار ہمیں آخر تک ثابتقدم رہنا مشکل لگے۔ شاید ہم میں سے کچھ کسی سنگین بیماری سے لڑ رہے ہیں یا شاید کچھ اپنے عزیز کی موت کا غم سہہ رہے ہیں اور شاید کچھ اپنے گھر والوں یا پھر حکومت کی طرف سے مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں۔ (متی 10:18، 36، 37) لیکن چاہے ہم کسی بھی مشکل سے گزر رہے ہوں، ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اِن مشکلوں میں ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔—1-پطرس 5:10 کو پڑھیں۔
2. مسیحیوں کے طور پر ہمارے لیے ثابتقدم رہنے کا کیا مطلب ہے؟
2 ثابتقدم رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم مشکلوں، آزمائشوں، مخالفت اور اذیت کا سامنا کرتے وقت بھی یہوواہ کے وفادار رہیں اور خوشی سے اُس کی خدمت کرتے رہیں۔ ثابتقدم رہنے کے لیے ہمیں اِس بات پر بھی یقین رکھنے کی ضرورت ہے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ ہم اپنی طاقت سے ثابتقدم نہیں رہ سکتے۔ اِس کے لیے ہمیں یہوواہ کی مدد کی ضرورت ہے جو ہمیں وہ قوت دیتا ہے جو ”اِنسانی قوت سے بڑھ کر ہے۔“ (2-کُر 4:7) اِس مضمون میں ہم چار ایسی نعمتوں پر غور کریں گے جو یہوواہ نے مشکل وقت میں ثابتقدم رہنے کے لیے ہمیں دی ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ ہم اِن میں سے ہر نعمت سے پورا فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔
دُعا
3. ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ سے دُعا کرنا ایک معجزہ ہے؟
3 یہوواہ نے ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کرنے کے لیے ایک ایسا کام کِیا ہے جو کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اُس نے ہمارے لیے یہ ممکن بنایا ہے کہ ہم گُناہگار ہونے کے باوجود اُس سے باتچیت کر سکیں۔ (عبر 4:16) ذرا سوچیں کہ ہم یہوواہ سے کسی بھی وقت اور کسی بھی معاملے کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔ وہ ہم میں سے ہر ایک کی بات سُن سکتا ہے پھر چاہے ہم کسی بھی زبان میں اُس سے بات کریں یا پھر کسی بھی جگہ ہوں، یہاں تک کہ قید میں بھی۔ (یُوناہ 2:1، 2؛ اعما 16:25، 26) اور جب ہم اِتنے پریشان ہوتے ہیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتا کہ ہم دُعا میں کیا کہیں تو یہوواہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ہم اُس سے کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ (روم 8:26، 27) دُعا واقعی ایک معجزہ ہے!
4. ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ جب ہم ثابتقدم رہنے کے لیے یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں تو یہ اُس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے؟
4 یہوواہ نے اپنے کلام میں ہمیں یہ یقین دِلایا ہے کہ ”ہم اُس کی مرضی کے مطابق جو کچھ مانگیں گے، وہ ہماری سنے گا۔“ (1-یوح 5:14) تو کیا ہم یہوواہ سے یہ دُعا کر سکتے ہیں کہ وہ ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کرے؟ بالکل! ایسا کرنا اُس کی مرضی کے مطابق ہوگا۔ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ یہوواہ نے ہمیں بتایا ہے کہ جب ہم مشکلوں میں بھی اُس کے وفادار رہتے ہیں تو وہ شیطان کو مُنہ توڑ جواب دے پاتا ہے جو اُسے طعنے دیتا ہے۔ (اَمثا 27:11) اِس کے علاوہ یہوواہ نے بائبل میں ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ اُس کی خواہش ہے کہ وہ ”اُن لوگوں کی خاطر اپنی طاقت ظاہر کرے جن کا دل پوری طرح اُس کی طرف لگا رہتا ہے۔“ (2-توا 16:9) تو ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ نہ صرف مشکلوں میں ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کرنے کی طاقت رکھتا ہے بلکہ وہ دل سے ایسا کرنا بھی چاہتا ہے۔—یسع 30:18؛ 41:10؛ لُو 11:13۔
5. دُعا کرنے سے ہمیں ذہنی سکون کیسے مل سکتا ہے؟ (یسعیاہ 26:3)
5 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ جب ہم دل کھول کر یہوواہ کو اپنی پریشانیوں کے بارے میں بتاتے ہیں تو یہوواہ ’ہمیں وہ اِطمینان دیتا ہے جو سمجھ سے باہر ہے اور یہ اِطمینان مسیح یسوع کے ذریعے ہمارے دل اور سوچ کو محفوظ رکھتا ہے۔‘ (فِل 4:7) ذرا اِس بات کی اہمیت پر غور کریں۔ جب دُنیا میں لوگ کسی پریشانی سے گزر رہے ہوتے ہیں تو وہ ذہنی سکون پانے کے لیے فرق فرق طریقے اپناتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ اپنے دماغ کو پریشانیوں، یہاں تک کہ ہر طرح کی سوچ سے خالی کر دیتے ہیں۔ لیکن اپنے دماغ کو خالی کرنا بہت خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ جب ایک شخص کی سوچ اور خیال اُس کے قابو میں نہیں ہوتے تو بُرے فرشتے بڑی آسانی سے اُس کی سوچ پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ (متی 12:43-45 پر غور کریں۔) اِس کے علاوہ اِس طریقے سے ذہنی سکون حاصل کرنے سے لوگوں کو وہ سکون نہیں ملتا جو یہوواہ دیتا ہے۔ یہوواہ اپنا اِطمینان صرف اُنہی لوگوں کو دیتا ہے جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں۔ یہوواہ تو اُس وقت بھی ہمیں ”سکون“ دیتا رہتا ہے جب ہم بہت ہی سخت پریشانی سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ (یسعیاہ 26:3 کو پڑھیں۔) ایسا کرنے کے لیے وہ ہمیں پاک کلام کی وہ سچائیاں یاد دِلاتا ہے جن سے ہمیں تسلی ملتی ہے۔ اِن سچائیوں کی مدد سے ہم یہ یاد رکھ پاتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے پیار کرتا ہے اور ہماری مدد کرنا چاہتا ہے۔ یوں ہمارا دلودماغ پُرسکون ہو جاتا ہے۔—زبور 62:1، 2۔
6. آپ دُعا کی نعمت سے بھرپور فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
6 آپ کیا کر سکتے ہیں؟ جب آپ ایمان کے اِمتحان سے گزر رہے ہوتے ہیں تو ”اپنا بوجھ یہوواہ پر ڈال“ دیں اور سکون پانے کے لیے اُس سے دُعا کریں۔ (زبور 55:22) یہوواہ سے دانشمندی کے لیے بھی دُعا کریں تاکہ آپ اپنی مشکل سے اچھی طرح سے نمٹ سکیں۔ (اَمثا 2:10، 11) جب آپ یہوواہ سے ثابتقدم رہنے کے لیے اِلتجائیں اور درخواستیں کرتے ہیں تو شکرگزاری کی دُعا کرنا نہ بھولیں۔ (فِل 4:6) ہر دن اِس بات پر غور کریں کہ یہوواہ کن طریقوں سے ثابتقدم رہنے کے لیے آپ کی مدد کر رہا ہے۔ اِس کے لیے اور اُن نعمتوں کے لیے اُس کا شکریہ ادا کریں جو وہ آپ کو دے رہا ہے۔ کبھی بھی اپنی مشکل کو خود پر اِتنا حاوی نہ ہونے دیں کہ آپ اُن برکتوں کو ہی نہ دیکھ پائیں جو یہوواہ پہلے سے ہی آپ کو دے رہا ہے۔—زبور 16:5، 6۔
جب آپ دُعا کرتے ہیں تو آپ یہوواہ سے بات کر رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ بائبل پڑھتے ہیں تو یہوواہ آپ سے بات کر رہا ہوتا ہے۔ (پیراگراف نمبر 6 کو دیکھیں۔)b
خدا کا کلام
7. بائبل کا مطالعہ کرنے سے ہم ثابتقدم کیسے رہ پاتے ہیں؟
7 یہوواہ اپنے کلام کے ذریعے ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ بائبل میں ایسی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ ہمیشہ ہمارا ساتھ دیتا ہے۔ اِس کی ایک مثال متی 6:8 ہے جہاں لکھا ہے: ”آپ کا باپ یعنی خدا آپ کے مانگنے سے پہلے جانتا ہے کہ آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے۔“ یہ بات یسوع مسیح نے کہی تھی اور جتنی اچھی طرح سے وہ یہوواہ کو جانتے ہیں اُتنا کوئی اَور نہیں جانتا۔ اِس لیے ہمارے پاس اِس بات پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہوواہ ہماری مصیبتوں کو جانتا ہے اور ہماری بھلائی چاہتا ہے۔ بائبل میں اِسی طرح کی اَور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ہم مشکل وقت میں یہوواہ کے وفادار رہ سکتے ہیں۔—زبور 94:19۔
8. (الف)بائبل کا ایک ایسا اصول بتائیں جس کی مدد سے ہم ثابتقدم رہ سکتے ہیں۔ (ب)کیا چیز بائبل کے اُن اصولوں کو یاد کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے جب ہمیں اِن کی ضرورت ہوتی ہے؟
8 بائبل میں ہمیں بہت سے ایسے اصول دیے گئے ہیں جن کی مدد سے ہم ثابتقدم رہ سکتے ہیں۔ اِن اصولوں کے ذریعے ہمیں دانشمندی ملتی ہے جس کی مدد سے ہم صحیح فیصلے لے پاتے ہیں۔ (اَمثا 2:6، 7) مثال کے طور پر بائبل میں ہماری حوصلہافزائی کی گئی ہے کہ ہم ہر دن یہوواہ پر بھروسا ظاہر کریں اور مستقبل کے بارے میں حد سے زیادہ فکرمند نہ ہوں۔ (متی 6:34) اگر ہم بائبل کو پڑھنے اور اِس پر سوچ بچار کرنے کی عادت اپنائیں گے تو ہمارے لیے اُس وقت اُن اصولوں کو یاد کرنا آسان ہوگا جب ہمیں اچھے فیصلے لینے اور مشکلوں میں ثابتقدم رہنے کے لیے اِن کی ضرورت ہوگی۔
9. جب ہم بائبل میں پڑھتے ہیں کہ یہوواہ نے اپنے بندوں کی مدد کیسے کی تو یہوواہ کی مدد پر ہمارا بھروسا کیسے بڑھتا ہے؟
9 بائبل میں ہم ایسے لوگوں کے بارے میں پڑھتے ہیں جو ہمارے جیسے احساسات رکھتے تھے۔ وہ یہوواہ پر بھروسا کرتے تھے اور یہوواہ نے اُن کے مشکل وقت میں اُن کا ساتھ دیا تھا۔ (عبر 11:32-34؛ یعقو 5:17) جب ہم اِن لوگوں کی زندگی پر سوچ بچار کرتے ہیں تو ہمارا اِعتماد اِس بات پر بڑھتا ہے کہ ”خدا ہماری پناہگاہ اور طاقت ہے[اور]وہ مصیبت کے وقت فوراً مدد کو تیار ہوتا ہے۔“ (زبور 46:1) اور جب ہم اِس بات پر سوچ بچار کرتے ہیں کہ یہوواہ کے اُن بندوں نے اُس پر مضبوط ایمان کیسے ظاہر کِیا اور وہ مشکل وقت میں بھی اُس کے وفادار کیسے رہے تو ہم میں بھی اُن جیسا ایمان ظاہر کرنے اور اُن کی طرح ثابتقدم رہنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔—یعقو 5:10، 11۔
10. آپ خدا کے کلام سے بھرپور فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
10 آپ کیا کر سکتے ہیں؟ ہر روز بائبل پڑھیں اور اُن آیتوں کی ایک لسٹ بنا لیں جو خاص طور پر آپ کے کام آ سکتی ہیں۔ بہت سے بہن بھائی ہر صبح روزانہ کی آیت اور اِس کے تبصرے کو پڑھتے ہیں۔ اِس طرح وہ سارا دن حوصلہافزا باتوں پر سوچ بچار کر سکتے ہیں۔ بہن ماریہa کو ایسا کرنے سے اُس وقت بہت فائدہ ہوا جب اُن کے امی اور ابو دونوں کو ہی کینسر ہو گیا۔ جب وہ اپنے امی ابو کی موت سے پہلے کے کچھ مہینوں میں اُن کا خیال رکھ رہی تھیں تو کس چیز نے ثابتقدم رہنے میں اُن کی مدد کی؟ اُنہوں نے کہا: ”مَیں ہر صبح کتاب ”روزبروز کتابِمُقدس سے تحقیق کریں“ سے آیت پڑھتی تھی اور اِس پر سوچ بچار کرتی تھی۔ اِس طرح مَیں اپنی مشکلوں پر دھیان دینے کی بجائے ہر روز یہوواہ کے بارے میں اور اُن شاندار باتوں کے بارے میں سوچنے لگی جو وہ اپنے کلام کے ذریعے مجھے سکھا رہا تھا۔“—زبور 61:2۔
ہمارے ہمایمان
11. ہمیں اِس بات سے حوصلہ کیوں ملتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں جو مشکلیں سہہ رہے ہیں؟
11 یہوواہ نے ہمیں دُنیا بھر میں ایسے بہن بھائی دیے ہیں جو ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ ہمیں اِس بات سے بہت تسلی ملتی ہے کہ ہمارے ’ہمایمان اُسی طرح کی مصیبتوں کا سامنا کر رہے ہیں‘ جن سے ہم بھی گزر رہے ہیں۔ اِس طرح ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ (1-پطر 5:9) ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ چاہے ہم کسی بھی مشکل کا سامنا کریں، ہمارے بہن بھائیوں کو بھی اُس طرح کی مشکل کا سامنا ہوا ہے اور وہ ثابتقدم رہے ہیں۔ تو ہم بھی ثابتقدم رہ سکتے ہیں۔—اعما 14:22۔
12. ہمارے ہمایمان ہماری مدد کیسے کر سکتے ہیں اور ہم اُن کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ (2-کُرنتھیوں 1:3، 4)
12 جب ہم صبر سے مشکلوں کو برداشت کر رہے ہوتے ہیں تو ہمارے بہن بھائی اپنی باتوں اور کاموں سے ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ پولُس رسول کے ہمایمانوں نے بھی ایسا ہی کِیا تھا۔ جب پولُس گھر میں قید تھے تو اُن کے ہمایمانوں نے اُنہیں تسلی اور حوصلہ دیا اور فرق فرق طریقوں سے اُن کی مدد کی۔ اِسی لیے پولُس نے اپنے خطوں میں اکثر اُن بہن بھائیوں کا نام لے کر اُن کے لیے قدر ظاہر کی جنہوں نے اُن کی مدد کی تھی۔ (فِل 2:25، 29، 30؛ کُل 4:10، 11) اِسی طرح آج ہمارے بہن بھائی بھی ہمیں تسلی دیتے ہیں اور مشکل وقت میں ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ اور جب وہ کسی مصیبت سے گزر رہے ہوتے ہیں تو ہم بھی اُن کی مدد کرتے ہیں۔—2-کُرنتھیوں 1:3، 4 کو پڑھیں۔
13. کس چیز نے مایا نام کی بہن کی ثابتقدم رہنے میں مدد کی؟
13 ذرا روس میں رہنے والی مایا نام کی بہن کی مثال پر غور کریں۔ 2020ء میں کچھ افسروں نے چھاپا مار کر اُن کے گھر کی تلاشی لی۔ بعد میں بہن مایا کو عدالت لے جایا گیا جہاں اُنہیں اپنے عقیدوں کا دِفاع کرنا پڑا۔ بہن مایا نے بتایا کہ اُس مشکل وقت میں اُن کے ہمایمانوں نے اُن کا بہت حوصلہ بڑھایا۔ اُنہوں نے کہا: ”اُس وقت مَیں جذباتی طور پر تھک کر چُور ہو گئی تھی۔ مَیں بہت پریشان اور اُداس تھی۔ لیکن بہن بھائیوں نے فون کر کے اور میسج اور خط بھیج کر مجھے بتایا کہ وہ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ مَیں شروع سے ہی جانتی تھی کہ میرے بہن بھائی مجھ سے پیار کرتے ہیں اور مَیں ایک بہت بڑے خاندان کا حصہ ہوں۔ لیکن 2020ء سے تو مَیں اِس بات پر پہلے سے بھی زیادہ قائل ہو گئی ہوں۔“
14. ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم اپنے بہن بھائیوں کی مدد سے فائدہ حاصل کر سکیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
14 آپ کیا کر سکتے ہیں؟ مشکلوں سے گزرتے وقت اپنے مسیحی بہن بھائیوں کے قریب رہیں اور کلیسیا کے بزرگوں سے مدد مانگنے سے نہ ہچکچائیں۔ بزرگ ’آندھی سے چھپنے کی جگہ کی طرح اور طوفانی بارش میں پناہگاہ کی طرح‘ ہوتے ہیں۔ (یسع 32:2) یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کے ہمایمان بھی ثابتقدمی سے مشکلوں کو برداشت کر رہے ہیں۔ اگر آپ اپنے کسی ضرورتمند ہمایمان کی مدد کریں گے اور اُس کے لیے شفقت دِکھائیں گے تو آپ اپنی مشکلوں کے بارے میں مناسب سوچ رکھ پائیں گے اور خوش رہ سکیں گے۔—اعما 20:35۔
اپنے ہمایمانوں کے قریب رہیں۔ (پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)c
ہماری اُمید
15. یہوواہ نے مستقبل کے بارے میں جو اُمید دی ہے، اُس کے ذریعے یہوواہ کے بندوں، یہاں تک کہ یسوع کی مدد کیسے ہوئی؟ (عبرانیوں 12:2)
15 یہوواہ نے ہمیں جو اُمید دی ہے، وہ ضرور پوری ہوگی۔ یہ اُمید ہمیں ثابتقدمی سے مشکلوں کو برداشت کرتے رہنے کے قابل بناتی ہے۔ (روم 15:13) یاد کریں کہ اُمید نے یسوع کی اُس وقت ثابتقدم رہنے میں کیسے مدد کی تھی جب اُنہیں زمین پر سب سے مشکل اِمتحان سے گزرنا پڑا تھا۔ (عبرانیوں 12:2 کو پڑھیں۔) یسوع جانتے تھے کہ اگر وہ یہوواہ کے وفادار رہیں گے تو یہوواہ کے نام کی بڑائی ہوگی اور شیطان جھوٹا ثابت ہوگا۔ یسوع اُس وقت کے بھی منتظر تھے جب اُنہوں نے پھر سے اپنے آسمانی باپ کے ساتھ آسمان پر ہونا تھا اور اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر آسمانی بادشاہت کے لیے کام کرنا تھا۔ اِسی طرح اگر ہم بھی اپنا دھیان نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی کی اُمید پر رکھیں گے تو ہم ہر اُس مشکل کا مقابلہ کر پائیں گے جس کا سامنا ہمیں شیطان کی دُنیا میں ہوگا۔
16. نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید سے ایک بہن کو کیسے حوصلہ ملا اور آپ نے اُس سے کیا سیکھا ہے؟
16 غور کریں کہ روس میں رہنے والی ایک بہن کو نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید سے کیسے حوصلہ ملا۔ اُس بہن کا نام آلا ہے۔ جب اُن کے شوہر کو گِرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تو بہن نے کہا: ”مَیں یہوواہ سے دُعا کرتے وقت اکثر اُس اُمید کا ذکر کرتی تھی جو اُس نے مجھے مستقبل کے بارے میں دی ہے۔ مَیں اکثر اِس پر سوچ بچار بھی کرتی تھی۔ اِس اُمید نے مجھے حد سے زیادہ بےحوصلہ نہیں ہونے دیا۔ مَیں جانتی ہوں کہ مشکلوں سے گزرنے کا یہ مطلب نہیں کہ اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ جیت یہوواہ کی ہوگی اور وہ اپنے دُشمنوں کو شکست دے گا اور ہمیں اجر دے گا۔“
17. یہوواہ نے ہمیں جو اُمید دی ہے، ہم اُس کے لیے قدر کیسے دِکھا سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
17 آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اُس شاندار مستقبل پر سوچ بچار کرنے کے لیے وقت نکالیں جسے دینے کا وعدہ یہوواہ نے آپ سے کِیا ہے۔ خود کو نئی دُنیا میں تصور کریں اور اُن زبردست برکتوں کے بارے میں سوچیں جو آپ کو ملیں گی۔ جب نئی دُنیا میں ہم اُس مشکل کے بارے میں سوچیں گے جس سے ہم ابھی گزر رہے ہیں تو اُس وقت ہمیں لگے گا کہ وہ مشکل بس ’تھوڑی دیر کے لیے تھی اور سخت نہیں تھی۔‘ (2-کُر 4:17) اپنی اُمید پر سوچ بچار کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی یہوواہ کے شاندار وعدوں کے بارے میں بتائیں۔ ذرا سوچیں کہ جو لوگ مستقبل کے بارے میں یہوواہ کے مقصد کو نہیں جانتے، اُن کے لیے اپنی مشکلوں سے لڑنا کتنا مشکل ہوتا ہوگا۔ تو اگر آپ اُن سے تھوڑی سی باتچیت بھی کریں گے تو اُن کے دل میں یہوواہ کی بادشاہت اور اُس کے وعدوں کے بارے میں سیکھنے کا شوق پیدا ہو سکتا ہے۔
اُس شاندار مستقبل پر سوچ بچار کرنے کے لیے وقت نکالیں جس کا وعدہ یہوواہ نے کِیا ہے۔ (پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)d
18. ہم خدا کے وعدوں پر بھروسا کیوں رکھ سکتے ہیں؟
18 جب ایوب طرح طرح کی مشکلوں کا سامنا کرنے کے بعد بھی یہوواہ کے وفادار رہے تو اُنہوں نے کہا: ”اب مَیں جان گیا ہوں کہ تُو سب کچھ کر سکتا ہے؛ تُو جو بھی کرنے کا اِرادہ کرتا ہے، اُسے کر کے رہتا ہے۔“ (ایو 42:2) ایوب جان گئے تھے کہ کوئی بھی چیز یہوواہ کو اپنا مقصد پورا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ یہی بات ہمیں بھی اُس وقت ہمت اور حوصلہ دے سکتی ہے جب ہم مشکلوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں: فرض کریں کہ ایک عورت کافی لمبے عرصے سے بیمار ہے۔ وہ کئی ڈاکٹروں کے پاس علاج کروانے کے لیے گئی لیکن اُسے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ وہ بہت مایوس ہو چُکی ہے۔ لیکن پھر اُسے ایک اچھا ڈاکٹر مل جاتا ہے جو اُسے اُس کی بیماری کی وجہ بتاتا ہے اور اُسے یقین دِلاتا ہے کہ وہ اُس کا علاج کر سکتا ہے۔ اُس کی بات سُن کر وہ خوش ہو جاتی ہے۔ حالانکہ اُسے پتہ ہے کہ اُسے ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگے گا لیکن اب وہ اپنی بیماری کو برداشت کر پاتی ہے کیونکہ اُسے اُمید مل گئی ہے۔ اِسی طرح جب ہم بھی مستقبل کے بارے میں اپنی اُمید پر پکا بھروسا رکھتے ہیں تو ہم بھی مشکلوں کو برداشت کر پاتے ہیں۔
19. ہمیں ثابتقدم رہنے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
19 اِس مضمون میں ہم نے دیکھا ہے کہ یہوواہ نے مشکلوں میں ثابتقدم رہنے کے لیے ہمیں یہ چار نعمتیں دی ہیں: دُعا، اپنا کلام، ہمارے ہمایمان اور مستقبل کے بارے میں شاندار اُمید۔ اگر ہم یہوواہ کی اِن سبھی نعمتوں کا بھرپور اِستعمال کریں گے تو یہوواہ ہماری مدد کرے گا کہ ہم ہر مشکل میں تب تک ثابتقدم رہ سکیں جب تک شیطان کی دُنیا اور ساری مصیبتیں ختم نہیں ہو جاتیں۔—فِل 4:13۔
گیت نمبر 33: اپنا بوجھ یہوواہ پر ڈال دو!
a اِس مضمون میں کچھ فرضی نام اِستعمال کیے گئے ہیں۔
b تصویر کی وضاحت: سال میں ایک کے بعد ایک موسم بدل رہا ہے اور ایک بوڑھا بھائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے باوجود یہوواہ کا وفادار ہے۔
c تصویر کی وضاحت: سال میں ایک کے بعد ایک موسم بدل رہا ہے اور ایک بوڑھا بھائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے باوجود یہوواہ کا وفادار ہے۔
d تصویر کی وضاحت: سال میں ایک کے بعد ایک موسم بدل رہا ہے اور ایک بوڑھا بھائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے باوجود یہوواہ کا وفادار ہے۔