مطالعے کا مضمون نمبر 19
گیت نمبر 6: آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے
یہوواہ کے وفادار فرشتوں کی مثال پر عمل کریں
’اَے خدا کے سب فرشتو! یہوواہ کی بڑائی کرو۔‘—زبور 103:20۔
غور کریں کہ . . .
ہم اُن فرشتوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں جو یہوواہ کے وفادار ہیں۔
1-2. (الف)ہم کس لحاظ سے فرشتوں سے فرق ہیں؟ (ب)ہم میں اور فرشتوں میں کون سی باتیں ملتی جلتی ہیں؟
یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہم اُس کے خاندان کا حصہ ہیں۔ ہم سب مل کر یہوواہ کی عبادت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور محبت سے رہتے ہیں۔ اِس خاندان میں نہ صرف پوری دُنیا سے ہمارے بہن بھائی بلکہ یہوواہ کے لاکھوں لاکھ فرشتے بھی شامل ہیں۔ (دان 7:9، 10) جب ہم فرشتوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو شاید ہمیں محسوس ہو کہ وہ ہم سے بہت فرق ہیں۔ مثال کے طور پر فرشتے اِنسانوں سے بہت پہلے بنائے گئے تھے۔ (ایو 38:4، 7) وہ ہم سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں اور ہم عیبدار اِنسانوں سے کئی درجے پاک اور نیک ہیں۔—لُو 9:26۔
2 سچ ہے کہ ہم یہوواہ کے فرشتوں سے کئی لحاظ سے فرق ہیں۔ لیکن ایسی بہت سی باتیں ہیں جو اُن میں اور ہم میں ملتی جلتی ہیں۔ مثال کے طور پر فرشتوں کی طرح ہم بھی یہوواہ کی خوبیاں ظاہر کرتے ہیں؛ اُن کی طرح ہمیں بھی خود اپنے لیے فیصلے کرنے کی آزادی ملی ہے؛ فرشتوں کی طرح ہمارے بھی ذاتی نام ہیں اور ہماری اپنی ایک شخصیت ہے اور اُن کی طرح ہم بھی یہوواہ کی خدمت میں مختلف ذمےداریاں نبھا رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ فرشتوں کی طرح ہم بھی یہ بات سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے خالق کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔—1-پطر 1:12۔
3. ہم اُن فرشتوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں جو یہوواہ کے وفادار ہیں؟
3 چونکہ ہم میں اور فرشتوں میں بہت سی باتیں ملتی جلتی ہیں اِس لیے اُن کی مثال پر غور کرنے سے ہمارا حوصلہ بڑھ سکتا ہے اور ہم اُن سے بہت سی اہم باتیں سیکھ سکتے ہیں۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم یہوواہ کے فرشتوں کی طرح خاکساری سے کام کیسے لے سکتے ہیں، لوگوں کے لیے محبت کیسے دِکھا سکتے ہیں، ثابتقدم کیسے رہ سکتے ہیں اور کلیسیا کو پاک صاف رکھنے کی کوشش کیسے کر سکتے ہیں۔
فرشتے خاکسار ہیں
4. (الف)فرشتے خاکساری کیسے دِکھاتے ہیں؟ (ب)فرشتے خاکسار کیوں ہیں؟ (زبور 89:7)
4 یہوواہ کے فرشتے بہت خاکسار ہیں۔ حالانکہ اِن فرشتوں کے پاس بہت زیادہ تجربہ، طاقت اور دانشمندی ہے لیکن وہ پھر بھی یہوواہ کی ہدایتوں پر عمل کرتے ہیں۔ (زبور 103:20) وہ یہوواہ کی طرف سے ملنے والی ذمےداریوں کو نبھاتے وقت شیخی نہیں مارتے اور نہ ہی اپنی حیرتانگیز طاقت دِکھا کر دوسروں کی توجہ اپنے اُوپر دِلاتے ہیں۔ یہوواہ کے فرشتے خوشی سے ہر وہ کام کرتے ہیں جو یہوواہ اُن سے کرنے کے لیے کہتا ہے حالانکہ ایسا کرتے وقت اُن کے نام کا ذکر تک نہیں کِیا جاتا۔a (پید 32:24، 29؛ 2-سلا 19:35) وہ اُس تعظیم کو قبول کرنے سے صاف اِنکار کرتے ہیں جس کا حقدار صرف یہوواہ ہے۔ یہوواہ کے فرشتے اِتنے خاکسار کیوں ہیں؟ اِس لیے کیونکہ وہ یہوواہ سے بہت محبت کرتے ہیں اور دل سے اُس کا گہرا احترام کرتے ہیں۔—زبور 89:7 کو پڑھیں۔
5. ایک فرشتے نے یوحنا رسول کی درستی کرتے وقت خاکساری کیسے دِکھائی؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
5 ذرا ایک واقعے پر غور کریں جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ کے فرشتے کتنے خاکسار ہیں۔ تقریباً 96ء میں یہوواہ کا ایک فرشتہ یوحنا رسول کے پاس آیا۔ بائبل میں اِس فرشتے کا نام نہیں بتایا گیا۔ اُس فرشتے نے یوحنا رسول کو ایک بہت ہی حیرتانگیز رُویا دِکھائی۔ (مُکا 1:1) یہ رُویا دیکھ کر یوحنا نے کیا کِیا؟ اُنہوں نے جھک کر فرشتے کی تعظیم کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اُس فرشتے نے فوراً یوحنا کو ایسا کرنے سے روکا اور کہا: ”خبردار! ایسا مت کریں! صرف خدا کی عبادت کریں! مَیں بھی ویسے ہی ایک غلام ہوں جیسے آپ اور آپ کے بھائی ہیں۔“ (مُکا 19:10) وہ فرشتہ واقعی بہت خاکسار تھا۔ وہ اپنی بڑائی یا تعریف نہیں چاہتا تھا۔ اُس نے یوحنا کی توجہ فوراً اِس بات پر دِلائی کہ وہ صرف یہوواہ کی عبادت اور تعظیم کریں۔ لیکن ایسا کرتے وقت اُس فرشتے نے یوحنا کو یہ نہیں جتایا کہ وہ یوحنا سے زیادہ اہم ہے۔ حالانکہ وہ فرشتہ یوحنا سے کہیں زیادہ طاقتور تھا اور یوحنا کی نسبت زیادہ لمبے عرصے سے یہوواہ کی خدمت کر رہا تھا لیکن اُس نے خاکساری سے یوحنا سے کہا کہ وہ بھی اُن ہی کی طرح غلام ہے۔ اور بھلے ہی اُس فرشتے کو یوحنا رسول کی اِصلاح کرنی پڑی لیکن اُس نے خدا کے اِس بوڑھے خادم کو ڈانٹا نہیں اور نہ ہی سختی سے اُس سے بات کی۔ اُس نے بہت پیار اور نرمی سے اُن سے بات کی۔ وہ فرشتہ سمجھتا تھا کہ یوحنا رُویا کو دیکھ کر دنگ رہ گئے ہیں۔
ایک فرشتہ یوحنا کی اِصلاح کرتے وقت خاکساری سے کام لے رہا ہے۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
6. ہم فرشتوں کی طرح خاکسار کیسے بن سکتے ہیں؟
6 ہم فرشتوں کی طرح خاکسار کیسے بن سکتے ہیں؟ فرشتوں کی طرح ہم بھی یہوواہ کی طرف سے ملنے والی ذمےداریوں کو نبھاتے وقت شیخی نہیں مارتے اور کامیابی کا سہرا اپنے سر نہیں لیتے۔ (1-کُر 4:7) اِس کے علاوہ اگر ہم دوسروں کی نسبت زیادہ لمبے عرصے سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں یا ہمارے پاس خاص اعزاز ہیں تو اِن کی وجہ سے ہم خود کو دوسروں سے زیادہ اہم نہیں سمجھتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں جتنی زیادہ ذمےداریاں ملتی ہیں اُتنا ہی زیادہ ہمیں خود کو دوسروں سے چھوٹا بنانا چاہیے۔ (لُو 9:48) یہوواہ کے فرشتوں کی طرح ہم بھی دوسروں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں نہ کہ اپنی واہ واہ چاہتے ہیں۔
7. دوسروں کی اِصلاح کرتے وقت یا اُنہیں نصیحت کرتے وقت ہم خاکساری سے کام کیسے لے سکتے ہیں؟
7 اگر ہم کسی کی اِصلاح کرتے ہیں جیسے کہ اپنے کسی ہمایمان کی یا پھر اپنے بچے کی تو ہمیں خاکساری سے کام لینا چاہیے۔ کبھی کبھار ہمیں سیدھے اور صاف لفظوں میں ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن ہمیں بھی اُس فرشتے کی طرح بننا چاہیے جس نے یوحنا رسول کی اِصلاح کی تھی۔ ہم صاف اور سیدھے لفظوں میں اِصلاح کرتے وقت بھی پیار اور نرمی سے کام لے سکتے ہیں تاکہ اِصلاح پانے والا شخص بےحوصلہ نہ ہو جائے۔ اگر ہم خود کو دوسروں سے اہم نہیں سمجھیں گے تو ہم کسی شخص کی بائبل سے اِصلاح کرتے وقت اُس کے لیے محبت اور عزت دِکھائیں گے۔—کُل 4:6۔
فرشتے اِنسانوں سے محبت کرتے ہیں
8. (الف)لُوقا 15:10 سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے اِنسانوں سے محبت کرتے ہیں؟ (ب)فرشتے مُنادی کرنے میں ہماری مدد کیسے کرتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
8 فرشتے یہ نہیں سوچتے کہ اِنسان اُن سے کمتر ہیں اور چاہے اِنسانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو، اُنہیں اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہوواہ کے فرشتے اِنسانوں سے محبت کرتے ہیں۔ وہ اُس وقت بہت خوش ہوتے ہیں جب ایک شخص اپنے گُناہ سے توبہ کرتا ہے اور یہوواہ کے پاس لوٹ آتا ہے۔ اُنہیں اُس وقت بھی بہت خوشی ہوتی ہے جب ایک شخص یہوواہ کے بارے میں سیکھنے لگتا ہے اور اپنی زندگی بدل کر اُس کی عبادت کرنے لگتا ہے۔ (لُوقا 15:10 کو پڑھیں۔) فرشتے مُنادی کرنے میں ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔ (مُکا 14:6) حالانکہ وہ خود لوگوں کو جا کر مُنادی نہیں کرتے لیکن وہ ایک مبشر کی ایسے شخص سے ملنے میں رہنمائی کر سکتے ہیں جو یہوواہ کے بارے میں سیکھنا چاہتا ہے۔ سچ ہے کہ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ صرف فرشتے ہی ایسے لوگوں سے ملنے میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں جو یہوواہ کے بارے میں سیکھنا چاہتے ہیں۔ بےشک یہوواہ کسی اَور ذریعے سے بھی اِس طرح کے لوگوں سے ملنے میں اپنے بندوں کی رہنمائی کر سکتا ہے جیسے کہ اپنی پاک روح کے ذریعے سے۔ (اعما 16:6، 7) لیکن وہ اپنے فرشتوں کے ذریعے سے بھی مُنادی کے دوران ہماری بہت زیادہ مدد کرتا ہے۔ اِس لیے جب ہم دوسروں کو خوشخبری سناتے ہیں تو ہم پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ فرشتے اِس کام میں ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔—بکس ”اُنہیں اُن کی دُعاؤں کا جواب ملا“ کو دیکھیں۔b
ایک میاں بیوی ابھی ابھی عوامی جگہ پر گواہی دے کر جا رہے ہیں۔ راستے میں بیوی ایک عورت کو دیکھتی ہے جو بہت اُداس بیٹھی ہے۔ وہ بہن جانتی ہے کہ فرشتے ہماری رہنمائی کرتے ہیں تاکہ ہم اُن لوگوں کی مدد کریں جو خدا کے بارے میں سچائی جاننا چاہتے ہیں۔ اِس لیے وہ اُس عورت کے پاس جا کر اُس سے پیار سے بات کرتی ہے۔ (پیراگراف نمبر 8 کو دیکھیں۔)
9. ہم فرشتوں کی طرح لوگوں سے محبت کیسے کر سکتے ہیں؟
9 ہم فرشتوں کی طرح لوگوں سے محبت کیسے کر سکتے ہیں؟ جب ہم کلیسیا میں یہ اِعلان سنتے ہیں کہ فلاں شخص کلیسیا میں بحال ہو گیا ہے تو یہوواہ کے فرشتوں کی طرح ہم بھی خوش ہو سکتے ہیں۔ ہم اُس بہن یا بھائی کو اپنی محبت کا احساس دِلا سکتے ہیں اور اُسے بتا سکتے ہیں کہ ہم اُس کے لوٹ آنے پر کتنے خوش ہیں۔ (لُو 15:4-7؛ 2-کُر 2:6-8) اِس کے علاوہ فرشتے جی جان سے وہ کام کرتے ہیں جو یہوواہ نے اُنہیں دیا ہے۔ اُن کی طرح ہم بھی جی جان سے خوشخبری سنانے کا کام کر سکتے ہیں۔ (واعظ 11:6) اور جس طرح سے فرشتے مُنادی کرنے میں ہمارا ساتھ دیتے ہیں اُسی طرح ہم مُنادی کرنے میں اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ دینے کے موقعے تلاش کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم کسی ایسے مبشر کے ساتھ مل کر مُنادی کر سکتے ہیں جسے مُنادی کرنے کا اِتنا تجربہ نہیں ہے یا پھر ہم بوڑھے یا بیمار بہن بھائیوں کو اپنے ساتھ مُنادی کرنے کے لیے لے جا سکتے ہیں۔
10. ہم بہن سارہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
10 ہم اُس وقت کیا کر سکتے ہیں جب ہم اپنے حالات کی وجہ سے یہوواہ کے لیے اُتنا نہیں کر پاتے جتنا ہم کرنا چاہتے ہیں؟ ہم پھر بھی فرشتوں کے ساتھ مل کر کئی اَور طریقوں سے مُنادی کر سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا سارہc نام کی بہن کی مثال پر غور کریں جو بھارت سے ہیں۔ وہ تقریباً 20 سال سے پہلکار کے طور پر خدمت کر رہی تھیں۔ لیکن پھر وہ بیمار ہو گئیں اور بستر سے لگ گئیں۔ وہ اپنی حالت کی وجہ سے بہت مایوس ہو گئی تھیں۔ مگر بہن سارہ اپنی کلیسیا کے بہن بھائیوں کی طرف سے ملنے والی مدد کی وجہ سے اور باقاعدگی سے بائبل پڑھنے کی وجہ سے پھر سے خوش رہنے لگیں۔ بےشک ایک پہلکار ہوتے ہوئے اُنہیں اب اپنی صورتحال کی وجہ سے مُنادی کرنے کے نئے طریقے اپنانے تھے۔ وہ بیٹھ کر خط تک نہیں لکھ سکتی تھیں۔ وہ صرف فون کے ذریعے ہی گواہی دے سکتی تھیں۔ اِس لیے وہ اُن لوگوں سے فون پر بات کرنے لگیں جو اُن کی واپسی ملاقات تھے۔ اِن لوگوں نے بہن سارہ کو کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا جو پاک کلام کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ بہن سارہ کی محنت کا کیا نتیجہ نکلا؟ کچھ ہی مہینوں میں وہ 70 لوگوں کو بائبل کورس کرانے لگیں۔ اُن کے لیے اِن سب لوگوں کو بائبل کورس کرانا مشکل تھا۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنی کلیسیا کے کچھ بہن بھائیوں سے کہا کہ وہ اِن میں سے کچھ لوگوں کو بائبل کورس کرائیں۔ اب اِن میں سے بہت سے لوگ ہماری عبادتوں میں آنے لگے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ فرشتوں کو بہن سارہ جیسے بہن بھائیوں کا مُنادی میں ساتھ دے کر کتنی خوشی ملتی ہوگی!
فرشتے ثابتقدم ہیں
11. یہوواہ کے فرشتوں نے ثابتقدمی کی شاندار مثال کیسے قائم کی ہے؟
11 فرشتوں نے ثابتقدم رہنے کے حوالے سے بہت زبردست مثال قائم کی ہے۔ وہ ہزاروں سال سے نااِنصافی اور بُرائی کو برداشت کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے دیکھا ہے کہ وہ فرشتے جو پہلے اُن کے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت کِیا کرتے تھے، شیطان کے ساتھی بن گئے۔ (پید 3:1؛ 6:1، 2؛ یہوداہ 6) اِس کے علاوہ اُنہیں بُرے فرشتوں کی طرف سے مخالفت کا بھی سامنا ہوا۔ مثال کے طور پر بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ کے ایک فرشتے کو ایک بُرے فرشتے سے کئی دنوں تک لڑنا پڑا۔ (دان 10:13) یہوواہ کے فرشتے آدم اور حوّا کے زمانے سے یہ دیکھتے آ رہے ہیں کہ لوگوں کی صرف تھوڑی تعداد نے ہی یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کِیا ہے۔ اِن سب باتوں کو دیکھنے کے باوجود یہوواہ کے یہ وفادار فرشتے خوشی اور جوش سے اُس کی خدمت کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہوواہ صحیح وقت پر تمام نااِنصافی کو ختم کر دے گا۔
12. کیا چیز ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟
12 ہم فرشتوں کی طرح ثابتقدم کیسے رہ سکتے ہیں؟ فرشتوں کی طرح شاید ہم نے بھی نااِنصافی کو ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ لیکن اُن کی طرح ہمیں بھی اِس بات کا پکا یقین ہے کہ یہوواہ صحیح وقت پر تمام نااِنصافی اور بُرائی کو ختم کر دے گا۔ اِسی لیے فرشتوں کی طرح ہم بھی ’اچھے کام کرنے میں ہمت نہیں ہارتے۔‘ (گل 6:9) یہوواہ نے بھی وعدہ کِیا ہے کہ وہ ثابتقدم رہنے میں ہماری مدد کرے گا۔ (1-کُر 10:13) ہم یہوواہ سے اُس کی پاک روح کے لیے دُعا کر سکتے ہیں جو ہم میں صبر اور خوشی جیسی خوبیاں پیدا کر سکتی ہے۔ (گل 5:22؛ کُل 1:11) لیکن اگر آپ کو مخالفت کا سامنا ہوتا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ یہوواہ پر پورا بھروسا رکھیں اور بالکل نہ ڈریں۔ یہوواہ ہمیشہ آپ کی مدد کرے گا اور آپ کو طاقت دے گا۔—عبر 13:6۔
فرشتے کلیسیا کو پاک صاف رکھنے میں مدد کرتے ہیں
13. آخری زمانے میں فرشتے کون سا خاص کام کر رہے ہیں؟ (متی 13:47-49)
13 آخری زمانے میں یہوواہ نے اپنے فرشتوں کو ایک خاص کام کرنے کو دیا ہے۔ (متی 13:47-49 کو پڑھیں۔) دُنیا بھر سے لاکھوں لوگ خوشخبری کے پیغام میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اِن میں سے کچھ لوگ خود کو بدل کر یہوواہ کے معیاروں کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں جبکہ کچھ ایسا نہیں کر رہے۔ یہوواہ نے اپنے فرشتوں کو یہ خاص کام سونپا ہے کہ وہ ”بُرے لوگوں کو نیک لوگوں سے الگ“ کریں۔ اِس کا مطلب ہے کہ فرشتوں کو یہ ذمےداری دی گئی ہے کہ وہ کلیسیا کو پاک صاف رکھیں۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص یہوواہ کی عبادت کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اُس کے پاس واپس نہیں آ سکتا یا کلیسیا میں کبھی کوئی مسئلہ کھڑا ہی نہیں ہوگا۔ ایسا ہونا ممکن ہے۔ لیکن ایک بات پکی ہے کہ فرشتے کلیسیا کو پاک صاف رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔
14-15. ہم کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ فرشتوں کی طرح ہم بھی کلیسیا کو پاک صاف رکھنا چاہتے ہیں؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
14 فرشتوں کی طرح ہم بھی کلیسیا کو پاک صاف کیسے رکھ سکتے ہیں؟ یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط رکھنے سے۔ ہم اپنے دل کی حفاظت کرنے کے لیے ایسے لوگوں سے دوستی کر سکتے ہیں جو یہوواہ سے محبت کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم ہر اُس کام سے دُور رہ سکتے ہیں جس کی وجہ سے یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی ٹوٹ سکتی ہے۔ (زبور 101:3) ہم اپنے ہمایمانوں کی بھی مدد کر سکتے ہیں تاکہ وہ یہوواہ کے وفادار رہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے کسی ہمایمان نے سنگین گُناہ کِیا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہم اپنے ہمایمان سے محبت کرنے کی وجہ سے اُس سے کہیں گے کہ وہ کلیسیا کے بزرگوں سے جا کر بات کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر ہم خود جا کر بزرگوں کو اِس معاملے کے بارے میں بتائیں گے۔ چونکہ ہمارا وہ ہمایمان روحانی لحاظ سے بیمار ہو گیا ہے اِس لیے ہم جلد سے جلد اُس کی مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔—یعقو 5:14، 15۔
15 افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگوں کو اُن کے سنگین گُناہوں کی وجہ سے کلیسیا سے نکالنا پڑتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ہمیں اِن لوگوں کے ساتھ ”اُٹھنا بیٹھنا چھوڑ“ دینا چاہیے۔d (1-کُر 5:9-13) توبہ نہ کرنے والے شخص کو کلیسیا سے نکال دینے سے کلیسیا پاک صاف رہتی ہے۔ اِس کے علاوہ جب ہم ایسے لوگوں سے میل جول نہیں رکھتے جنہیں کلیسیا سے نکال دیا جاتا ہے تو ہم اُن کے لیے محبت دِکھا رہے ہوتے ہیں۔ اِس سے اُن کے دل میں یہوواہ کی طرف لوٹنے کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔ اور اگر ایسا ہوگا تو ہمیں بھی یہوواہ اور فرشتوں کے ساتھ خوشی کرنے کا موقع ملے گا۔—لُو 15:7۔
اگر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک مسیحی نے سنگین گُناہ کِیا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ (پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)e
16. آپ کن طریقوں سے فرشتوں کی مثال پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے؟
16 یہ ہمارے لیے کتنے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہم اپنے ایمان کی آنکھوں سے یہوواہ کے فرشتوں کو دیکھ سکتے ہیں اور اُن کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں! آئیے یہوواہ کے وفادار فرشتوں کی طرح خاکساری سے کام لیں، دوسروں کے لیے محبت دِکھائیں، ثابتقدم رہیں اور کلیسیا کو پاک صاف رکھنے کی پوری کوشش کریں۔ اگر ہم فرشتوں کی مثال پر عمل کریں گے تو ہم ہمیشہ تک یہوواہ کے خاندان کا حصہ بنے رہیں گے۔
گیت نمبر 123: تابعدار ہوں
a یہوواہ کے لاکھوں لاکھ فرشتے ہیں۔ لیکن بائبل میں صرف دو فرشتوں کے نام کا ذکر ہوا ہے، ایک میکائیل کا اور دوسرا جبرائیل کا۔—دان 12:1؛ لُو 1:19۔
b کچھ اَور تجربوں کے بارے میں جاننے کے لیے ویبسائٹ jw.org پر ویڈیو ”2021ء میں گورننگ باڈی کی طرف سے اَپڈیٹ (نمبر 1)“ کو دیکھیں۔
c یہ نام فرضی ہے۔
d جیسے کہ ”2024ء میں گورننگ باڈی کی طرف سے اپڈیٹ (نمبر 2)“ میں بتایا گیا تھا، اگر کوئی ایسا شخص عبادتگاہ میں آتا ہے جسے کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے تو ہر مبشر بائبل سے اپنے تربیتیافتہ ضمیر کے مطابق یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ اُس سے مختصر سی سلام دُعا کرے گا یا نہیں۔
e تصویروں کی وضاحت: ایک بہن اپنی دوست سے کہہ رہی ہے کہ وہ اپنے گُناہ کے بارے میں کلیسیا کے بزرگوں کو بتائے۔ کچھ وقت گزر جانے کے بعد جب اُس کی دوست ایسا نہیں کرتی تو وہ بہن خود جا کر بزرگوں کو اِس بارے میں بتاتی ہے۔