مطالعے کا مضمون نمبر 27
گیت نمبر 73: ہم کو دلیری عطا کر
صدوق کی طرح دلیر بنیں
’صدوق ایک طاقتور اور دلیر جوان آدمی تھے۔‘ —1-توا 12:28۔
غور کریں کہ . . .
صدوق کی مثال پر غور کرنے سے ہم میں دلیری کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔
1-2. صدوق کون تھے؟ (1-تواریخ 12:22، 26-28)
پورے اِسرائیل سے 3 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ آدمی داؤد کو بادشاہ بنانے کے لیے جمع ہوئے۔ تین دن تک یہ آدمی حِبرون کے نزدیک واقع چٹانوں میں رہے۔ اِس دوران اُنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کِیا، بہت ساری باتیں کیں اور یہوواہ کی بڑائی کرنے کے لیے مل کر گیت گائے۔ (1-توا 12:39) آدمیوں کی اِس بِھیڑ میں صدوق نام کا ایک جوان آدمی بھی تھا جسے شاید بہت سے لوگوں نے نظرانداز کر دیا ہو۔ لیکن یہوواہ نے اِس بات کا خاص خیال رکھا کہ ہم یہ جانیں کہ صدوق بھی وہیں تھے۔ (1-تواریخ 12:22، 26-28 کو پڑھیں۔) لیکن صدوق تھے کون؟
2 صدوق ایک کاہن تھے اور وہ کاہنِاعظم ابیآتر کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے۔ صدوق ایک ”بصیر“ بھی تھے جنہیں خدا نے بہت زیادہ دانشمندی دی تھی اور یہ صلاحیت عطا کی تھی کہ وہ اُس کے مقصد کو سمجھیں۔ (2-سمو 15:27) لوگ صدوق کے پاس اچھا مشورہ لینے کے لیے جاتے تھے۔ صدوق بہت دلیر بھی تھے۔ اِس مضمون میں ہم اُن کی اِسی خوبی پر بات کریں گے۔
3. (الف)یہوواہ کے بندوں کو دلیر بننے کی ضرورت کیوں ہے؟ (ب)اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟
3 اِس آخری زمانے میں شیطان یہوواہ کے بندوں کے ایمان کو برباد کرنے کے لیے اُن پر پہلے سے بھی زیادہ حملے کر رہا ہے۔ (1-پطر 5:8) ہم اُس وقت کے منتظر ہیں جب یہوواہ شیطان اور اُس کی بُری دُنیا کو ہلاک کر دے گا۔ لیکن جب تک وہ وقت نہیں آ جاتا، ہمیں ثابتقدم رہنے کے لیے دلیری کی ضرورت ہے۔ (زبور 31:24) آئیے تین ایسے طریقوں پر غور کرتے ہیں جن میں ہم صدوق کی طرح دلیری دِکھا سکتے ہیں۔
خدا کی بادشاہت کی حمایت کریں
4. یہوواہ کے بندوں کو اُس کی بادشاہت کی حمایت کرنے کے لیے دلیری کی ضرورت کیوں ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
4 یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہم پورے دل سے اُس کی بادشاہت کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمیں اکثر دلیری کی ضرورت پڑتی ہے۔ (متی 6:33) مثال کے طور پر ہمیں اِس بُری دُنیا میں یہوواہ کے معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے اور خوشخبری کی مُنادی کرنے کے لیے دلیری کی ضرورت ہے۔ (1-تھس 2:2) اِس کے علاوہ آج دُنیا سیاست کی وجہ سے پہلے سے بھی کہیں زیادہ بٹ گئی ہے۔ اِس لیے سیاسی معاملوں میں کسی کی طرفداری نہ کرنے کے لیے ہمیں دلیری کی ضرورت ہے۔ (یوح 18:36) یہوواہ کے بندوں نے دلیری سے کام لیتے ہوئے سیاست اور جنگ میں حصہ نہیں لیا جس کی وجہ سے اُن میں سے بہت سے لوگوں کو مالی نقصان اُٹھانا پڑا، اُنہیں مارا پیٹا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔
جب دوسرے لوگ سیاسی معاملوں میں کسی کی طرفداری کریں گے تو اُس وقت آپ کیا کریں گے؟ (پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)
5. صدوق کو داؤد کی حمایت کرنے کے لیے دلیری کی ضرورت کیوں تھی؟
5 صدوق حِبرون صرف اِس لیے نہیں گئے تھے کہ وہ داؤد کو بادشاہ بنانے کا جشن منا سکیں۔ وہ اپنے ہتھیار لے کر حِبرون گئے تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ داؤد کے لیے لڑ سکیں۔ (1-توا 12:38) وہ داؤد کے ساتھ جنگ پر جانے اور بنیاِسرائیل کے دُشمنوں کے خلاف لڑنے کو تیار تھے۔ صدوق کے پاس شاید ایک فوجی کے طور پر جنگ لڑنے کا اِتنا تجربہ نہیں تھا۔ لیکن وہ پھر بھی ایسا کرنے کے لیے تیار تھے۔ وہ واقعی بڑے دلیر شخص تھے۔
6. داؤد نے دلیری کے حوالے سے صدوق کے لیے اچھی مثال کیسے قائم کی؟ (زبور 138:3)
6 صدوق کاہن میں اِتنی زیادہ دلیری کہاں سے آ گئی؟ وہ ایسے بہت سے آدمیوں کو جانتے تھے جو بہت دلیر تھے اور جن کا ایمان بہت مضبوط تھا۔ بےشک صدوق نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ مثال کے طور پر داؤد ایک دلیر پیشوا تھے اور بڑی بہادری سے جنگیں لڑتے تھے۔ اِس وجہ سے اِسرائیل میں ہر شخص ہی داؤد کو بادشاہ بنانا چاہتا تھا۔ (1-توا 11:1، 2) داؤد ہمیشہ اپنے دُشمنوں سے لڑنے کے لیے یہوواہ پر بھروسا کرتے تھے۔ (زبور 28:7؛ زبور 138:3 کو پڑھیں۔) صدوق نے اپنے اِردگِرد موجود اَور بھی بہت سے دلیر آدمیوں سے سیکھا جیسے کہ یہویدع اور اُن کے جنگجو بیٹے بِنایاہ سے اور 22 اَور قبائلی سرداروں سے۔ (1-توا 11:22-25؛ 12:26-28) اِن سارے ہی آدمیوں نے داؤد کو اپنا بادشاہ بنانے اور اُن کی حفاظت کرنے کا عزم کِیا ہوا تھا۔
7. (الف)ہم اپنے زمانے کے کن لوگوں سے دلیر بننا سیکھ سکتے ہیں؟ (ب)آپ نے ویڈیو میں بھائی اینگے سے کیا سیکھا ہے؟
7 ہمیں بھی یہوواہ کے اُن بندوں کی مثالوں پر غور کرنے سے ہمت اور دلیری مل سکتی ہے جنہوں نے یہوواہ اور اُس کی بادشاہت کا وفادار رہنے کے لیے دلیری دِکھائی۔ جب ہمارے بادشاہ یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے شیطان کی دُنیا کے سیاسی معاملوں میں پڑنے سے صاف اِنکار کر دیا۔ (متی 4:8-11؛ یوح 6:14، 15) یسوع مسیح نے ہمیشہ ہمت اور دلیری کے لیے یہوواہ پر آس لگائی۔ ہمارے زمانے میں بھی ہمارے بہت سے جوان بھائیوں نے یہوواہ کا وفادار رہنے کے لیے سیاست اور جنگ میں حصہ لینے سے صاف اِنکار کر دیا۔ کیوں نہ ویبسائٹ jw.org پر اِن میں سے کچھ بھائیوں کے تجربے پڑھیں؟a
اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں
8. کلیسیا کے بزرگوں کو اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرنے کے لیے دلیری کی ضرورت کب پڑ سکتی ہے؟
8 یہوواہ کے بندوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ (2-کُر 8:4) لیکن کبھی کبھار اُنہیں ایسا کرنے کے لیے ہمت اور دلیری چاہیے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کسی جگہ جنگ چھڑتی ہے تو وہاں کی کلیسیاؤں کے بزرگ جانتے ہیں کہ اُن کے بہن بھائیوں کو بائبل سے حوصلے اور تسلی کی اور شاید کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت ہو۔ یہ بزرگ اپنے اِن ہمایمانوں سے محبت کرنے کی وجہ سے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اُن تک ضرورت کی چیزیں پہنچاتے ہیں۔ (یوح 15:12، 13) اِس طرح وہ صدوق کی طرح دلیری دِکھا رہے ہوتے ہیں۔
9. دوسرا سموئیل 15:27-29 کے مطابق داؤد نے صدوق کو کیا کرنے کے لیے کہا؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
9 داؤد کی جان خطرے میں تھی۔ اُن کا بیٹا ابیسلّوم اُن کے تخت پر قبضہ جمانا چاہتا تھا اور اُنہیں اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ (2-سمو 15:12، 13) اِس وجہ سے داؤد کو فوراً یروشلم سے بھاگنا پڑا۔ اُنہوں نے اپنے خادموں سے کہا: ”اُٹھو یہاں سے بھاگ چلیں ورنہ ہم میں سے کوئی بھی ابیسلّوم کے ہاتھ سے نہیں بچ سکے گا۔“ (2-سمو 15:14) جب داؤد اور اُن کے خادم یروشلم سے نکل رہے تھے تو داؤد نے سوچا کہ اُن میں سے کسی نہ کسی کو پیچھے رُک جانا چاہیے تاکہ وہ اُنہیں ابیسلّوم کے منصوبوں کی خبر دیتا رہے۔ اِس لیے اُنہوں نے صدوق کاہن اور دوسرے کاہنوں کو واپس شہر بھیج دیا تاکہ وہ اُنہیں پَل پَل کی خبر دے سکیں۔ (2-سموئیل 15:27-29 کو پڑھیں۔) اِن آدمیوں کو بڑی ہی ہوشیاری سے اور محتاط ہو کر یہ کام کرنا تھا۔ داؤد نے اِن کاہنوں کو بہت ہی خطرناک کام کرنے کو کہا جس میں اِن کاہنوں کی جان بھی جا سکتی تھی۔ ذرا سوچیں کہ اگر ابیسلّوم جیسے اَناپرست، غصیلے اور شاطر آدمی کو پتہ چل جاتا کہ صدوق اور دوسرے کاہن اُس کی جاسوسی اور داؤد کی حفاظت کر رہے ہیں تو وہ اُن کا کیا حشر کرتا!
داؤد نے صدوق کو ایک بہت ہی خطرناک کام کرنے کے لیے بھیجا۔ (پیراگراف نمبر 9 کو دیکھیں۔)
10. صدوق اور اُن کے ساتھیوں نے داؤد کی حفاظت کیسے کی؟
10 داؤد نے ایک منصوبہ بنایا جس میں اُنہوں نے صدوق سے اور اپنے ایک اَور وفادار دوست سے مدد مانگی جس کا نام حُوسی تھا۔ (2-سمو 15:32-37) اِس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے حُوسی نے ابیسلّوم کا بھروسا جیتا اور اُسے مشورہ دیا کہ وہ داؤد پر کیسے حملہ کرے۔ اِس طرح داؤد کو ابیسلّوم کے حملے سے بچنے کا وقت مل گیا۔ جب ابیسلّوم نے حُوسی کا مشورہ مان لیا تو حُوسی نے اِس کے بارے میں صدوق اور ابیآتر کو بتایا۔ (2-سمو 17:8-16) پھر صدوق اور ابیآتر نے داؤد کو ابیسلّوم کے منصوبے کے بارے میں بتایا۔ (2-سمو 17:17) یہوواہ کی مدد سے صدوق نے اور اُن کا ساتھ دینے والے دوسرے کاہنوں نے داؤد کی زندگی بچانے میں بہت اہم کردار ادا کِیا۔—2-سمو 17:21، 22۔
11. اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرتے وقت ہم صدوق کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
11 ہم صدوق کی طرح اُس وقت دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں جب ہمارے بہن بھائیوں کی جان خطرے میں ہوتی ہے اور ہم سے اُن کی مدد کرنے کے لیے کہا جاتا ہے؟ (1)ہدایتوں کو مانیں۔ خطرناک صورتحال میں یہ بہت ہی ضروری ہوتا ہے کہ ہم یہوواہ کے فرمانبردار ہوں تاکہ ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ متحد رہ سکیں۔ اِس لیے جب آپ کو ایسی صورتحال میں اپنی مقامی برانچ کی طرف سے ہدایتیں ملتی ہیں تو اُن پر عمل کریں۔ (عبر 13:17) کلیسیا کے بزرگوں کو باقاعدگی سے اُن ہدایتوں کو دیکھنا چاہیے جن میں بتایا گیا ہے کہ ہم خود کو آفت کے لیے کیسے تیار کر سکتے ہیں اور جب کوئی آفت آتی ہے تو ہم اُس وقت ہم کیا کر سکتے ہیں۔ (1-کُر 14:33، 40) (2)دلیر بنیں مگر محتاط بھی رہیں۔ (اَمثا 22:3) کچھ بھی کرنے سے پہلے سوچیں اور بِلاوجہ کوئی خطرہ نہ مول لیں۔ (3)یہوواہ پر بھروسا کریں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ صرف یہی نہیں چاہتا کہ آپ کے بہن بھائی محفوظ رہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ آپ بھی محفوظ رہیں۔ تو یہوواہ پر بھروسا کریں کیونکہ وہ آپ کی مدد کر سکتا ہے تاکہ آپ محفوظ طریقے سے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کر سکیں۔
12-13. آپ نے بھائی وِکٹر اور بھائی وِتالی سے کیا سیکھا ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
12 ذرا بھائی وِکٹر اور بھائی وِتالی کی مثال پر غور کریں جنہوں نے یوکرین میں چلنے والی جنگ کے دوران اپنے ہمایمانوں تک کھانے پینے کی چیزیں پہنچائیں۔ بھائی وِکٹر نے کہا: ”ہم نے جگہ جگہ کھانے کی چیزیں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اِس دوران ہمیں اکثر اپنے آسپاس گولیاں چلنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ پھر ایک بھائی نے ہمیں کچھ کھانے پینے کی چیزیں عطیہ کیں جو اُس نے جمع کی ہوئی تھیں۔ اِس طرح بہت سے مبشروں کو کچھ وقت کے لیے ضرورت کی چیزیں مل گئیں۔ جب ہم اپنے ٹرک میں چیزیں رکھ رہے تھے تو تقریباً 20 میٹر (66 فٹ) کی دُوری پر ایک بم گِرا۔ لیکن شکر ہے کہ وہ پھٹا نہیں۔ پورا دن مَیں یہوواہ سے یہ اِلتجائیں کرتا رہا کہ وہ مجھے دلیری دے تاکہ مَیں اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرتا رہوں۔“
13 بھائی وِتالی نے کہا: ”ہمیں بہت ہی زیادہ دلیری کی ضرورت تھی۔ مجھے اپنی پہلی منزل تک پہنچنے میں 12 گھنٹے لگے۔پورے سفر کے دوران مَیں یہوواہ سے دُعا کرتا رہا۔“ بھائی وِتالی نے دلیری سے کام لیا لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ محتاط بھی رہے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے بار بار یہوواہ سے دُعا کی کہ وہ مجھے دانشمندی دے اور میری مدد کرے تاکہ مَیں بِلاوجہ اپنی جان خطرے میں نہ ڈالوں اور حکومت کے بنائے قوانین مانوں۔ مَیں نے صرف اُنہی سڑکوں پر گاڑی چلائی جن پر حکومت نے جانے کی اِجازت دی تھی۔ جب مَیں نے دیکھا کہ بہن بھائی کس طرح سے مل کر کام کر رہے ہیں تو میرا ایمان بہت مضبوط ہوا۔ بہن بھائیوں نے راستے میں لگی رُکاوٹوں کو ہٹایا، کھانے پینے کی چیزیں، کپڑے اور کچھ اَور ضروری سامان اِکٹھا کِیا، اِنہیں ٹرک میں رکھا اور مجھے اور وِکٹر کو کھانا دیا اور آرام کرنے کے لیے جگہ بھی دی۔“
خطرناک صورتحال میں اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرتے وقت دلیری سے کام لیں لیکن ساتھ ہی ساتھ محتاط بھی رہیں۔ (پیراگراف نمبر 12-13 کو دیکھیں۔)
یہوواہ کے وفادار رہیں
14. جب ہمارا کوئی عزیز یہوواہ سے بےوفائی کرتا ہے تو شاید ہم پر اِس کا کیا اثر ہو؟
14 سب سے بڑی مشکلوں میں سے ایک مشکل وہ ہوتی ہے جب ہمارا کوئی رشتےدار یا قریبی دوست یہوواہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ (زبور 78:40؛ اَمثا 24:10) جتنی زیادہ تکلیف ہمیں اِس مشکل سے گزرتے وقت ہو سکتی ہے، شاید ہی کسی اَور مشکل سے گزرتے وقت ہو۔ اور جتنا زیادہ ہم اُس شخص کے قریب ہوتے ہیں اور اُس سے محبت کرتے ہیں اُتنا ہی زیادہ ہمارے لیے صورتحال کو برداشت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اِس تکلیف سے گزرے ہیں تو صدوق کی مثال پر غور کرنےسے آپ کو یہوواہ کا وفادار رہنے کی ہمت ملے گی۔
15. صدوق کو یہوواہ کا وفادار رہنے کے لیے دلیری کی ضرورت کیوں تھی؟ (1-سلاطین 1:5-8)
15 صدوق اُس وقت بھی یہوواہ کے وفادار رہے جب اُن کے قریبی دوست ابیآتر نے داؤد سے بےوفائی کرنے کا فیصلہ کِیا۔ جب داؤد بہت زیادہ بوڑھے اور بیمار ہو گئے تو اُن کے بیٹے ادونیاہ نے بادشاہ بننے کی کوشش کی حالانکہ یہوواہ سلیمان کو بادشاہ بنانا چاہتا تھا۔ (1-توا 22:9، 10) ابیآتر نے ادونیاہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ (1-سلاطین 1:5-8 کو پڑھیں۔) ایسا کرنے سے وہ نہ صرف داؤد سے بلکہ یہوواہ سے بھی بےوفائی کر رہے تھے۔ ذرا سوچیں کہ یہ دیکھ کر صدوق کو کتنا دُکھ ہوا ہوگا اور وہ کتنے بےحوصلہ ہو گئے ہوں گے! وہ اور ابیآتر کافی سالوں سے ایک ساتھ مل کر کاہنوں کے طور پر کام کر رہے تھے۔ (2-سمو 8:17) اُنہوں نے ”سچے خدا کے صندوق“ کا مل کر خیال رکھا تھا۔ (2-سمو 15:29) شروع شروع میں اُن دونوں نے ہی اپنے بادشاہ یعنی داؤد کی حمایت کی تھی اور یہوواہ کی خدمت میں اَور بھی بہت سے کام کیے تھے۔—2-سمو 19:11-14۔
16. کس چیز نے صدوق کی یہوواہ کا وفادار رہنے میں مدد کی ہوگی؟
16 حالانکہ ابیآترنے داؤد کو دھوکا دینے سے یہوواہ سے بےوفائی کی لیکن صدوق یہوواہ کے وفادار رہے۔ داؤد نے کبھی بھی صدوق کی وفاداری پر شک نہیں کِیا۔ اُنہیں یقین تھا کہ وہ ہمیشہ صدوق پر بھروسا کر سکتے ہیں۔ جب داؤد کو ادونیاہ کی سازش کا پتہ چلا تو داؤد نے اپنے قابلِبھروسا دوستوں یعنی صدوق، ناتن اور بِنایاہ سے کہا کہ وہ سلیمان کو بادشاہ کے طور پر مقرر کریں۔ (1-سلا 1:32-34) صدوق کو ناتن اور اُن لوگوں کی مثال سے بہت حوصلہ اور ہمت ملی ہوگی جو یہوواہ کے وفادار تھے اور بادشاہ داؤد کی حمایت کرتے تھے۔ (1-سلا 1:38، 39) پھر جب سلیمان بادشاہ بنے تو اُنہوں نے ”ابیآتر کی جگہ صدوق کو کاہن مقرر کِیا۔“—1-سلا 2:35۔
17. اگر آپ کا کوئی عزیز یہوواہ سے بےوفائی کرتا ہے تو آپ صدوق کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
17 اگر آپ کا کوئی عزیز یہوواہ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو آپ صدوق کی طرح کیسے بن سکتے ہیں؟ یہ ثابت کریں کہ آپ یہوواہ کے وفادار رہنا چاہتے ہیں۔ (یشو 24:15) یہوواہ آپ کو اِس فیصلے پر قائم رہنے کی ہمت اور طاقت دے گا۔ تو دُعا کرنے سے یہوواہ پر بھروسا کریں اور اُن لوگوں کے قریب رہیں جو وفاداری سے اُس کی خدمت کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کی وفاداری کی بہت قدر کرتا ہے اور وہ اِس کے لیے آپ کو اجر بھی دے گا۔—2-سمو 22:26۔
18. آپ نے بھائی مارکو اور بہن سِدسے سے کیا سیکھا ہے؟
18 ذرا بھائی مارکو اور بہن سِدسے کی مثال پر غور کریں۔ اُن کی دو بیٹیاں تھیں اور اُن دونوں نے ہی یہوواہ کو چھوڑ دیا۔ بھائی مارکو نے کہا: ”جس وقت آپ کا بچہ پیدا ہوتا ہے، اُسی لمحے آپ اُس سے بےپناہ محبت کرنے لگتے ہیں۔ آپ اُسے ہر طرح کے نقصان سے بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوتے ہیں۔ لیکن جب آپ کا بچہ بڑا ہو کر یہوواہ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو آپ کا دل دُکھ سے چُور چُور ہو جاتا ہے۔ جب ہمارے ساتھ ایسا ہوا تو یہوواہ دُکھ کی اُس گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔ اُس نے اِس بات کا پورا دھیان رکھا کہ جب مَیں کمزور پڑنے لگوں تو میری بیوی مضبوط ہو کر مجھے سہارا دے اور جب وہ کمزور پڑنے لگے تو مَیں مضبوط بن کر اُسے سہارا دوں۔“ بہن سِدسے نے بتایا: ”اگر یہوواہ نے ہمیں ہمت اور طاقت نہ دی ہوتی تو ہم کبھی بھی اِس تکلیف کو جھیل نہ پاتے۔ مَیں بہت ہی زیادہ دُکھی تھی اور مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے اِس میں میری غلطی ہے۔ اِس لیے مَیں نے یہوواہ کو اپنے احساسات بتائے۔ کچھ دنوں بعد عبادتگاہ میں ایک بہن میرے پاس آئی جس سے مَیں کئی سالوں سے نہیں ملی تھی۔ اُس نے میرے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا اور میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا: ”سِدسے! اِس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں تھی۔“ یہوواہ کی مدد سے مَیں پھر سے خوشی سے اُس کی خدمت کر پائی ہوں۔“
19. آپ نے کیا کرنے کا عزم کِیا ہے؟
19 یہوواہ چاہتا ہے کہ اُس کے سبھی بندے صدوق کی طرح دلیر بنیں۔ (2-تیم 1:7) لیکن وہ یہ نہیں چاہتا کہ ایسا کرنے کے لیے ہم خود پر بھروسا کریں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس پر آس لگائیں۔ تو جب آپ کو ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے جس میں آپ کو دلیری کی سخت ضرورت ہوتی ہے تو یہوواہ سے مدد مانگیں۔ آپ اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ صدوق کی طرح آپ کو بھی دلیر بنائے گا۔—1-پطر 5:10۔
گیت نمبر 126: آخر تک قائم رہیں!
a ویبسائٹ jw.org پر ویڈیو ”سچے مسیحیوں کو دلیری کی ضرورت ہے—غیرجانبدار رہنے کے لیے“ کو دیکھیں۔