آپبیتی
یہوواہ پر بھروسا رکھنے کی وجہ سے مَیں محفوظ رہ پایا
جب لوگ مجھ سے میری زندگی کے بارے میں پوچھتے ہیں تو مَیں اکثر اُن سے کہتا ہوں: ”مَیں یہوواہ کے ہاتھ میں ایک بیگ کی طرح ہوں۔“ میرا کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس طرح مَیں اپنا بیگ اُٹھا کر کہیں بھی چلا جاتا ہوں یہوواہ اور اُس کی تنظیم بھی میرے ساتھ ایسا ہی کرتی ہے۔ وہ ہی مجھے بتاتی ہے کہ مجھے کہاں اور کب جانا ہے۔ مَیں نے یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے ملنے والی بہت سی ایسی ذمےداریاں قبول کی ہیں جنہیں پورا کرنا اِتنا آسان نہیں تھا اور جن میں مجھے بہت خطرہ اُٹھانا پڑا۔ لیکن مَیں نے دیکھا ہے کہ یہوواہ پر بھروسا رکھنے کی وجہ سے ہی مَیں محفوظ رہ سکتا ہوں۔
مَیں نے یہوواہ کو جاننا اور اُس پر بھروسا کرنا شروع کِیا
مَیں 1948ء میں نائیجیریا کے جنوب مغربی حصے میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا۔اُسی دوران میرے چچا مُصطفٰی اور میرے بڑے بھائی وہابی نے یہوواہ کے گواہوں کے طور پر بپتسمہ لیا۔ جب مَیں نو سال کا تھا تو میرے ابو فوت ہو گئے۔ اِس وجہ سے مَیں بہت دُکھی ہو گیا۔ میرے بھائی وہابی نے مجھے بتایا کہ جب فردوس میں میرے ابو زندہ ہو جائیں گے تو ہم اُن سے دوبارہ مِل پائیں گے۔ اُن کی یہ بات سُن کر مجھے اِتنی تسلی ملی کہ مَیں نے بھی بائبل کورس کرنا شروع کر دیا۔ 1963ء میں مَیں نے اور میرے تین اَور بھائیوں نے بپتسمہ لے لیا۔
1965ء میں مَیں اپنے بڑے بھائی وِلسن کے ساتھ لاگوس چلا گیا۔ مجھے وہاں اِگبوبی نام کی کلیسیا میں پہلکاروں کے ساتھ وقت گزارنے میں بہت مزہ آتا تھا۔ اُن کا جوش اور خوشی دیکھ کر مجھے اِتنا حوصلہ ملا کہ جنوری 1968ء میں مَیں بھی پہلکار بن گیا۔
ایک دن بیتایل میں خدمت کرنے والے ایک بھائی نے ہم نوجوانوں کے ساتھ ایک خاص اِجلاس رکھا۔ اُن کا نام البرٹ اولگببی تھا۔ اُس اِجلاس میں اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ نائیجیریا کے شمالی حصے میں خصوصی پہلکاروں کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ بھائی نے کہا: ”آپ نوجوان ہیں۔ آپ اپنا وقت اور طاقت یہوواہ کے لیے اِستعمال کر سکتے ہیں۔ نائیجیریا میں آپ کے لیے بہت سا کام ہے۔“ مَیں بھی یسعیاہ نبی کی طرح بننا چاہتا تھا اور وہاں جانا چاہتا تھا جہاں یہوواہ مجھے لے جانا چاہتا ہے۔ اِس لیے میں نے خصوصی پہلکار بننے کی درخواست دے دی۔—یسع 6:8۔
مئی 1968ء میں مجھے خصوصی پہلکار بنا کر نائیجیریا کے شمال میں کینو نام کے ایک شہر بھیج دیا گیا۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب 1967ء سے 1970ء تک نائیجیریا میں جنگ چل رہی تھی۔ اِس خانہجنگی کی وجہ سے لوگوں کو بہت تکلیف سہنی پڑی اور بہت سے لوگوں کی جان چلی گئی۔ اور پھر یہ جنگ نائیجیریا کے مشرقی حصے تک پھیل گئی۔ ایک بھائی نے مجھ سے کہا کہ مَیں نائیجیریا نہ جاؤں کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مجھے کوئی نقصان ہو۔لیکن مَیں نے اُن سے کہا کہ ”مجھے پتہ ہے کہ آپ کو میری فکر ہے۔ لیکن اگر یہوواہ چاہتا ہے کہ مَیں اِس ذمےداری کو نبھاؤں تو بےشک وہ میری مدد بھی کرے گا۔“
مَیں نے ایسی جگہ پر بھی یہوواہ پر بھروسا رکھا جو جنگ کی وجہ سے تباہ ہو چُکی تھی
شہر کینو میں صورتحال بہت بگڑ چُکی تھی۔خانہجنگی کی وجہ سے شہر تہس نہس ہو چُکا تھا۔ اکثر مُنادی کرتے وقت ہمیں اُن لوگوں کی لاشیں نظر آتی تھیں جو جنگ کی وجہ سے مارے گئے تھے۔ کینو میں بہت سی کلیسیائیں تھیں لیکن زیادہتر بہن بھائی اِس شہر سے جا چُکے تھے۔ اِس شہر میں صرف 15 مبشر رہ گئے تھے اور وہ بھی بہت ڈرے ہوئے تھے اور بےحوصلہ ہو چُکے تھے۔ جب ہم چھ خصوصی پہلکار شہر کینو پہنچے تو وہاں کے بہن بھائیوں کی خوشی کی اِنتہا نہ رہی۔ہم نے اُن مبشروں کا حوصلہ بڑھایا اور وہ تھوڑا بہتر محسوس کرنے لگے۔ہم نے اُن کی مدد کی تاکہ وہ پھر سے عبادتوں کے مل سکیں، مُنادی کر سکیں، برانچ کو اپنی رپورٹ دے سکیں اور کتابیں وغیرہ منگوا سکیں۔
ہم خصوصی پہلکاروں نے ہوسا زبان سیکھنی شروع کر دی۔ اپنی زبان میں پیغام سننے کی وجہ سے بہت سے لوگ ہماری بات سننے لگے۔ لیکن کینو میں جو مذہب سب سے عام تھا، اُس کے لوگوں کو وہ باتیں پسند نہیں آتی تھیں جو ہم اُنہیں بتاتے تھے۔ اِس لیے ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا پڑتا تھا۔ ایک بار میرے اور میرے ساتھ خدمت کرنے والے بھائی کے پیچھے ایک آدمی چاقو لے کر دوڑنے لگا۔ ہم اُس سے بہت تیز دوڑے اِس لیے ہماری جان بچ گئی۔ اِن خطروں کے باوجود بھی یہوواہ نے ہمیں سلامت رکھا اور آہستہ آہستہ مبشروں کی تعداد بڑھنے لگی۔ (زبور 4:8) آج کینو میں 11 کلیسیائیں ہیں اور اِن میں 500 سے بھی زیادہ مبشر ہیں۔
نائیجر میں مخالفت
نائیجر میں خصوصی پہلکار کے طور پر خدمت کرتے ہوئے
ابھی مجھے کینو آئے کچھ ہی مہینے ہوئے تھے کہ 1968ء کے اگست کے آخر میں مجھے اور دو اَور پہلکاروں کو جمہوریہ نائیجر کے سب سے بڑے شہر نیامے بھیج دیا گیا۔ ہم فوراً ہی یہ سمجھ گئے کہ نائیجر مغربی افریقہ کا سب سے گرم ملک ہے۔ ہمیں اِس گرمی سے تو نمٹنا ہی تھا لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہاں بولی جانے والی سب سے عام زبان یعنی فرانسیسی زبان بھی سیکھنی تھی۔ اِن مشکلوں کے باوجود بھی ہم نے یہوواہ پر پورا بھروسا رکھا اور اِس شہر کے دوسروں مبشروں کے ساتھ مل کر مُنادی کرنی شروع کر دی۔ کچھ ہی وقت کے اندر اندر اِس شہر میں جو لوگ پڑھ سکتے تھے، اُنہیں کتاب ”سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے“ مِل گئی۔ کچھ لوگ تو خود آ کر ہم سے یہ کتاب لے کر جاتے تھے۔
ہمیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ حکومتی اہلکار یہوواہ کے گواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ جولائی 1969ء میں ہم ملک نائیجر کے سب سے پہلے اِجتماع کے لیے جمع ہوئے۔ اِس اِجتماع پر 20 لوگ آئے تھے اور دو مبشر بپتسمہ بھی لینے والے تھے۔ لیکن اِجتماع کے پہلے دن پولیس آ گئی اور اِجتماع کو روک دیا۔ وہ خصوصی پہلکاروں اور حلقے کے نگہبان کو اپنے ساتھ پولیس سٹیشن لے گئی۔ ہم سے پوچھگچھ کرنے کے بعد اُنہوں نے ہم سے کہا کہ ہم اگلے دن دوبارہ پولیس سٹیشن آئیں۔ ہم سمجھ گئے کہ پولیس ہمارے لیے مشکل کھڑی کر سکتی ہے اِس لیے ہم نے کسی کے گھر پر بپتسمے کی تقریر کی اور دوسروں کی نظروں سے چھپ چھپا کر دونوں مبشروں کو دریا میں بپتسمہ دیا۔
کچھ ہفتوں بعد نائیجر کی حکومت نے ہم سے کہا کہ ہم یہ ملک چھوڑ کر چلیں جائیں۔ اُنہوں نے ہمیں ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے دیے اور وہاں سے نکلنے کا سارا اِنتظام ہمیں خود کرنا تھا۔ ہم نے حکومت کی بات مانی اور نائیجیریا برانچ چلے گئے۔ وہاں ہمیں دوسری ذمےداریاں ملیں۔
مجھے نائیجیریا کے ایک گاؤں میں خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا جس کا نام اوریسینبئیر تھا۔ وہاں پر بس ایک چھوٹا سا گروپ تھا۔ مجھے اِس گروپ کے مبشروں کے ساتھ مِل کر مُنادی کرنے اور بائبل کورس کرانے کا بہت مزہ آیا۔ لیکن چھ مہینے بعد برانچ نے مجھ سے کہا کہ مَیں نائیجر واپس چلا جاؤں۔ شروع میں مَیں بہت حیران ہوا اور مَیں تھوڑا گھبرایا ہوا تھا۔ لیکن مَیں نائیجر میں رہنے والے بہن بھائیوں سے ملنا چاہتا تھا۔
مَیں شہر نیامے واپس چلا گیا۔ وہاں پہنچنے کے ایک دن بعد مجھے نائیجیریا سے ایک بزنسمین ملا۔ وہ سمجھ گیا کہ مَیں یہوواہ کا گواہ ہوں۔ اِس لیے وہ مجھ سے بائبل کے حوالے سے بہت سوال پوچھنے لگا۔ مَیں نے اُسے بائبل کورس کرایا اور جب اُس نے سگریٹ اور حد سے زیادہ شراب پینی چھوڑ دی تو اُس نے بپتسمہ لے لیا۔ مجھے نائیجر کے فرق فرق علاقوں میں بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے میں بہت مزہ آیا اور مَیں نے یہ دیکھا کہ اِس سارے عرصے کے دوران لوگ کیسے آہستہ آہستہ بائبل کے پیغام کو قبول کر رہے ہیں۔ جب مَیں پہلے نائیجر گیا تھا تو وہاں 31 یہوواہ کے گواہ تھے لیکن جب مَیں نے نائیجر چھوڑا تو وہاں 69 یہوواہ کے گواہ تھے۔
”ہم نہیں جانتے کہ گنی میں مُنادی کا کام کیسا چل رہا ہے“
1977ء کے دسمبر میں مَیں ایک ٹریننگ لینے کے لیے نائیجیریا گیا۔ تین ہفتے کی ٹریننگ کے بعد برانچ کی کمیٹی کے منتظم بھائی میلکم ویگو نے مجھے ایک خط پڑھنے کو کہا جو سیرا لیون برانچ سے آیا تھا۔ سیرالیون برانچ کے بھائی ایک ایسے بھائی کو ڈھونڈ رہے تھے جو انگریزی اور فرانسیسی زبان بول سکتا ہو اور جو گنی میں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کر سکتا ہو۔ بھائی میلکم نے مجھے بتایا کہ مجھے اِسی ذمےداری کو نبھانے کے لیے ٹریننگ دی گئی ہے۔ اُنہوں نے واضح طور پر کہا کہ اِس ذمےداری کو نبھانا آسان نہیں ہو گا۔ اُنہوں نے کہا: ”اِس ذمےداری کو قبول کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لو۔“ مَیں نے فوراً اُن سے کہا: ”اگر یہوواہ مجھے بھیج رہا ہے تو مَیں ضرور جاؤں گا۔“
مَیں سیرالیون گیا اور وہاں کی برانچ کے بھائیوں سے ملا۔ برانچ کی کمیٹی کے ایک رُکن نے مجھ سے کہا: ”ہم نہیں جانتے کہ گنی میں مُنادی کا کام کیسا چل رہا ہے۔“ حالانکہ گنی میں مُنادی کے کام کی دیکھبھال سیرالیون برانچ کر رہی تھی لیکن چونکہ اِس ملک کے سیاسی حالات بہت بگڑ چُکے تھے اِس لیے برانچ وہاں کے بہن بھائیوں سے رابطہ نہیں کر پا رہی تھی۔ بھائیوں نے کئی بار کوشش کی کہ وہ کسی بھائی کو گنی کے بہن بھائیوں سے ملنے کے لیے بھیجیں۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پا رہے تھے۔ اِس لیے برانچ کے بھائیوں نے مجھ سے کہا کہ مَیں گنی کے سب سے بڑے شہر کونیکری جاؤں اور حکومت سے وہاں رہنے کی اِجازت مانگنے کی کوشش کروں۔
”اگر یہوواہ مجھے بھیج رہا ہے تو مَیں ضرور جاؤں گا۔“
جب مَیں شہر کونیکری پہنچا تو مَیں نائیجیریا کے سفارتخانے گیا اور وہاں نائیجریا کے سفیر سے ملا۔ مَیں نے اُسے بتایا کہ مَیں گنی میں مُنادی کرنا چاہتا ہوں۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ بہتر ہوگا کہ مَیں یہاں نہ رُکوں کیونکہ یا تو مجھے گِرفتار کر لیا جائے گا یا میرے ساتھ اِس سے بھی بُرا ہوگا۔ اُس نے کہا: ”نائیجیریا واپس چلے جاؤ اور وہاں جا کر مُنادی کرو۔“ مَیں نے کہا: ”لیکن مَیں یہاں رہنا چاہتا ہوں۔“ اِس لیے اُس نے گنی کے وزیرِداخلہ کو خط لکھا تاکہ وہ میری مدد کرے اور اُس وزیرِداخلہ نے میری مدد کی۔
مَیں فوراً سیرالیون برانچ گیا اور بھائیوں کو جا کر بتایا کہ وزیرِداخلہ نے مجھے گنی میں رہنے کی اِجازت دے دی ہے۔ جب مَیں نے بھائیوں کو بتایا کہ یہوواہ نے اِس پورے معاملے میں میری مدد کیسے کی ہے تو اُن کی خوشی کی اِنتہا نہ رہی۔ مجھے گنی میں رہنے کی اِجازت مِل گئی۔
سیرا لیون میں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کرتے ہوئے
مَیں نے 1978ء سے 1989ء تک گنی میں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کی اور پھر مَیں نے لائبیریا میں حلقے کے متبادل نگہبان کے طور پر خدمت کی۔ شروع میں مَیں اکثر بیمار ہو جاتا تھا اور زیادہتر اُسی وقت میری طبیعت خراب ہوتی تھی جب مَیں شہر سے بہت دُور ہوتا تھا۔ لیکن بہن بھائی مجھے ہسپتال تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔
ایک بار مجھے بہت بُرا ملیریا ہو گیا اور میرے پیٹ میں کیڑے پڑ گئے۔ جب مَیں تھوڑا ٹھیک ہوا تو مجھے پتہ چلا کہ بہن بھائیوں کو میری حالت دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے مَیں مرنے والا ہوں۔ اِس لیے وہ اِس بارے میں بات کر رہے تھے کہ مجھے دفنانا کہاں ہے۔ اِن مشکل صورتحال کے باوجود بھی مَیں نے کبھی اپنی ذمےداریوں کو چھوڑنے کے بارے نہیں سوچا۔ مجھے پکا یقین تھا کہ صرف یہوواہ ہی صحیح معنوں میں میری حفاظت کر سکتا ہے کیونکہ اگر مَیں مر بھی گیا تو وہ مجھے زندہ کر دے گا۔
میاں بیوی کے طور پر یہوواہ پر بھروسا رکھنا
سن 1988ء میں ہماری شادی کی تصویر
1988ء میں مَیں ڈورکس نام کی پہلکار سے ملا۔ وہ یہوواہ سے بہت محبت کرتی تھیں اور بہت خاکسار تھیں۔ ہم نے شادی کرلی اور وہ بھی میرے ساتھ مل کر یہوواہ کی خدمت کرنے لگیں۔ ڈورکس نے میرے ساتھ مل کر یہوواہ کے لیے بہت سخت محنت کی اور وہ اُس کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کو تیار تھیں۔ ہم ایک کلیسیا سے دوسری کلیسیا تک جانے کے لیے تقریباً 25 کلومیٹر (15 میل) پیدل سفر کرتے تھے اور ہمارے ہاتھ میں ہمارے بیگ بھی ہوتے تھے۔ زیادہ دُور کی کلیسیاؤں تک جانے کے لیے ہم راستے میں ملنے والی کوئی بھی سواری لے لیتے تھے تاکہ ہم خراب سڑکوں پر آرام سے سفر کر سکیں۔
ڈورکس بہت دلیر تھیں۔ مثال کے طور پر کبھی کبھار ہمیں ایسے دریا پار کرنے پڑتے تھے جن میں مگرمچھ تھے۔ ایک بار ہمیں کسی جگہ پہنچنے کے لیے پانچ دن کا سفر کرنا پڑا۔ اِس دوران ہمیں ایک چھوٹی سی کشتی میں ایک دریا پار کرنا تھا کیونکہ اِس دریا کا پُل ٹوٹ چُکا تھا۔ جیسے ہی ڈورکس کشتی سے اُترنے کے لیے کھڑی ہوئیں، وہ گہرے پانی میں گِر گئیں۔ ہم میں سے کسی کو بھی تیرنا نہیں آتا تھا اور اُس دریا میں مگرمچھ تھے۔ لیکن یہوواہ کا شکر ہے کہ کچھ آدمی دریا میں کود پڑے اور اُنہوں نے ڈورکس کو بچا لیا۔ اِس واقعے کے بارے میں سوچ کر کئی دن تک ہمیں رات کو نیند نہیں آتی تھی۔ لیکن ہم یہوواہ کی خدمت میں اپنی ذمےداری کو نبھاتے رہے۔
ہمارے بچے جاگفٹ اور ایرِک ہمارے لیے یہوواہ کی طرف سے تحفہ ثابت ہوئے ہیں۔
1992ء کے شروع میں ہمیں پتہ چلا کہ ڈورکس ماں بننے والی ہیں۔ اب ہمیں یہ فیصلہ لینا تھا کہ کیا ہم خصوصی پہلکاروں کے طور پر خدمت کرتے رہیں گے یا نہیں۔ ہم نے سوچا کہ یہوواہ نے ہمیں تحفہ دیا ہے۔ اِس لیے ہم نے اپنی بیٹی کا نام جاگفٹ (یہوواہ کی طرف سے تحفہ) رکھا۔ جاگفٹ کے پیدا ہونے کے چار سال بعد ہمارا بیٹا ایرِک پیدا ہوا۔ ہمارے دونوں ہی بچے واقعی یہوواہ کی طرف سے تحفہ تھے۔ جاگفٹ نے کچھ وقت تک کونیکری کے ترجمے کے دفتر میں کام کِیا اور ایرِک کلیسیا میں ایک خادم ہے۔
حالانکہ ڈورکس کو خصوصی پہلکار کے طور پر خدمت چھوڑنی پڑی لیکن وہ ہمارے دونوں بچوں کی دیکھبھال کرنے کے ساتھ ساتھ پہلکار کے طور پر خدمت کرتی رہیں۔ یہوواہ کی مدد سے مَیں خصوصی پہلکار کے طور پر خدمت کرتا رہا۔ جب ہمارے بچے بڑے ہو گئے تو ڈورکس نے پھر سے خصوصی پہلکار کے طور پر خدمت کرنی شروع کردی۔ اب ہم دونوں کونیکری میں مشنری ہیں۔
یہوواہ ہی ہماری حفاظت کرتا ہے
یہوواہ نے مجھے جہاں بھی لے جانا چاہا، مَیں وہاں گیا۔ مَیں نے اور ڈورکس نے اکثر دیکھا ہے کہ یہوواہ کس کس طرح سے ہماری حفاظت کر رہا ہے اور ہمیں کتنی برکتیں دے رہا ہے۔ پیسوں اور چیزوں پر بھروسا کرنے کی بجائے یہوواہ پر بھروسا کرنے کی وجہ سے ہم بہت سی مشکلوں اور پریشانیوں سے بچ گئے ہیں۔ مَیں نے اور ڈورکس نے دیکھا ہے کہ صرف یہوواہ ہی صحیح معنوں میں ہماری حفاظت کرتا ہے کیونکہ وہ ’ہماری نجات کا خدا‘ ہے۔ (1-توا 16:35) مجھے اِس بات پر پکا یقین ہے کہ جو لوگ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں، وہ اُن کی ”جان کو زندگی کی تھیلی میں محفوظ رکھے گا۔“—1-سمو 25:29، ترجمہ نئی دُنیا۔