مطالعے کامضمون نمبر 37
سمسون کی طرح یہوواہ پر پورا بھروسا رکھیں
”اَے مالک[یہوواہ]مَیں تیری مِنت کرتا ہوں کہ مجھے یاد کر اور . . . مجھے زور بخش۔“—قُضا 16:28۔
گیت نمبر 30: یہوواہ، میرا باپ اور دوست
مضمون پر ایک نظرa
1-2. ہمیں سمسون کے واقعے کے بارے میں کیوں پڑھنا چاہیے؟
جب آپ سمسون کا نام سنتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ شاید آپ کے ذہن میں ایسا شخص آئے جو بہت طاقتور تھا۔ لیکن سمسون نے ایک بہت بُرا فیصلہ کِیا تھا جس کے بہت بُرے نتیجے نکلے۔ مگر سمسون نے یہوواہ کی خدمت میں جو اچھے کام کیے تھے، یہوواہ نے اپنا دھیان اُن کاموں پر رکھا۔ اِس لیے اُس نے بائبل میں سمسون کے بارے میں لکھوایا تاکہ ہمیں اُن کی مثال سے فائدہ ہو۔
2 یہوواہ نے سمسون کے ذریعے بہت بڑے بڑے کام کیے تاکہ وہ اپنی قوم بنیاِسرائیل کی مدد کر سکے۔ سمسون کی موت کے سینکڑوں سال بعد یہوواہ نے پولُس رسول کے ذریعے بائبل میں سمسون کا نام ایسے لوگوں کی فہرست میں شامل کرایا جو ایمان کی عمدہ مثال تھے۔ (عبر 11:32-34) سمسون کی مثال پر غور کرنے سے ہمیں بہت حوصلہ ملتا ہے۔ اُنہوں نے مشکل حالات میں بھی یہوواہ پر بھروسا رکھا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم سمسون سے کیا سیکھ سکتے ہیں اور اُن کی مثال پر غور کرنے سے ہمیں حوصلہ کیسے ملتا ہے۔
سمسون نے یہوواہ پر بھروسا رکھا
3. یہوواہ نے سمسون کو کون سی ذمےداری دی؟
3 جب سمسون پیدا ہوئے تو اُس وقت بنیاِسرائیل پر فِلسطینی حکومت کر رہے تھے اور وہ بنیاِسرائیل کے ساتھ بہت بُرا سلوک کرتے تھے۔ (قُضا 13:1) بنیاِسرائیل کو بہت تکلیف سہنی پڑی کیونکہ فِلسطینی بہت ہی ظالم تھے۔ یہوواہ نے سمسون کو چُنا کہ ’وہ اِسرائیلیوں کو فِلسطینیوں کے ہاتھ سے رِہائی دینا شروع کریں۔‘ (قُضا 13:5) یہ بہت ہی بھاری ذمےداری تھی۔ اِس ذمےداری کو پورا کرنے کے لیے سمسون کو یہوواہ پر پورا بھروسا رکھنا تھا۔
سمسون نے یہوواہ پر بھروسا کِیا اور خود کو بدلا تاکہ وہ بہترین طریقے سے یہوواہ کی خدمت کر سکیں۔ اُن کے پاس جو کچھ تھا، اُنہوں نے اُس کے ذریعے یہوواہ کی مرضی پوری کرنے کی کوشش کی۔ (پیراگراف نمبر 4-5 کو دیکھیں۔)
4. یہوواہ نے ایک موقعے پر سمسون کی مدد کیسے کی تاکہ وہ خود کو فِلسطینیوں کے ہاتھ سے چھڑا سکیں؟ (قُضاۃ 15:14-16)
4 ذرا ایک ایسے واقعے پر غور کریں جس میں سمسون نے ثابت کِیا کہ وہ یہوواہ اور اُس کی مدد پر بھروسا رکھتے ہیں۔ ایک بار فِلسطینی فوج سمسون کو پکڑنے لحی نام کی ایک جگہ آئی جو کہ شاید یہوداہ میں تھا۔ یہوداہ کے لوگ بہت ڈر گئے اِس لیے اُنہوں نے سمسون کو اِس فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کِیا۔ سمسون کے اپنے ہی لوگوں نے اُنہیں دو نئی رسیوں سے باندھ دیا اور اُنہیں فِلسطینی فوج کے پاس لے گئے۔ (قُضا 15:9-13) لیکن ”[یہوواہ]کی روح“ سمسون پر نازل ہوئی اور اُنہوں نے خود کو اِن رسیوں سے چھڑا لیا۔ پھر اُنہیں ”ایک گدھے کے جبڑے کی نئی ہڈی مل گئی۔“ اُنہوں نے اِسے اُٹھایا اور اِس کے ذریعے 1000 فِلسطینی آدمیوں کو مار ڈالا۔—قُضاۃ 15:14-16 کو پڑھیں۔
5. سمسون نے کیسے ثابت کِیا کہ وہ یہوواہ پر بھروسا رکھتے ہیں؟
5 سمسون نے گدھے کے جبڑے کی ہڈی کیوں اِستعمال کی؟ یہ کوئی جنگی ہتھیار نہیں تھا۔ بےشک سمسون جانتے تھے کہ اُنہیں کسی ہتھیار کے ذریعے نہیں بلکہ یہوواہ کی مدد سے ہی کامیابی مل سکتی ہے۔ اُن کے پاس جو کچھ تھا، اُنہوں نے وہ اِستعمال کر کے یہوواہ کی مرضی کے مطابق کام کرنے کی کوشش کی۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ سمسون یہوواہ کی مدد سے ہی فِلسطینی فوج کو ہرا پائے۔
6. تنظیم میں اپنی ذمےداریاں پوری کرنے کے حوالے سے ہم سمسون سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
6 یہوواہ ہمیں بھی ایسی ذمےداریاں پوری کرنے کے لیے ہمت دے سکتا ہے جنہیں پورا کرنا شاید ہمیں ناممکن لگ رہا ہو۔ وہ ایسے ایسے طریقوں سے ہماری مدد کر سکتا ہے کہ شاید ہم دنگ رہ جائیں۔ اِس بات کا یقین رکھیں کہ جس طرح یہوواہ نے سمسون کو طاقت دی تھی اُسی طرح وہ آپ کی بھی مدد کرے گا تاکہ آپ اُس کی مرضی کے مطابق کام کر سکیں۔ لیکن اِس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اُس پر بھروسا کرتے رہیں۔—امثا 16:3۔
7. کس مثال سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ کی رہنمائی حاصل کرنا بہت ضروری ہے؟
7 تنظیم کے تعمیراتی کاموں میں حصہ لینے والے بہت سے بہن بھائیوں نے ثابت کِیا ہے کہ اُنہیں یہوواہ پر بھروسا ہے۔ ماضی میں بھائی عام طور پر نئی عبادتگاہوں اور تنظیم کی نئی عمارتوں کا نقشہ تیار کرتے اور اِنہیں بناتے تھے۔ لیکن چونکہ بہت سے نئے لوگ یہوواہ کی تنظیم میں شامل ہو رہے تھے اِس لیے اِس حوالے سے کچھ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت تھی۔ جو بھائی اِس کام میں پیشوائی کر رہے تھے، اُنہوں نے یہوواہ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اُس سے دُعا کی اور نئے طریقے اپنائے جیسے کہ عمارتیں خریدنا اور اِن میں اپنی ضرورت کے حساب سے کچھ تبدیلیاں کرنا۔ بھائی رابرٹ نے پوری دُنیا میں ہمارے بہت سے تعمیراتی منصوبوں پر کام کِیا ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”شروع میں ہمارے لیے اِس طریقے کے مطابق کام کرنا آسان نہیں تھا۔ ہم اِتنے سالوں سے جس طریقے سے کام کر رہے تھے، یہ اُس سے بہت فرق تھا۔ لیکن بھائی اِس نئے طریقے سے کام کرنے کو تیار تھے اور آہستہ آہستہ یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہوواہ اِس سب میں ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔“ یہ اِس بات کی صرف ایک مثال ہے کہ یہوواہ اپنے بندوں کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ اُس کی مرضی پوری کر سکیں۔ ہم سب کو خود سے یہ پوچھتے رہنا چاہیے: ”کیا مَیں یہوواہ سے رہنمائی لینے اور خود کو اُس کی ہدایتوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار رہتا ہوں تاکہ مَیں بہتر سے بہتر طریقے سے یہوواہ کی خدمت کر سکوں؟“
سمسون نے اُن چیزوں سے فائدہ حاصل کِیا جو اُنہیں یہوواہ کی طرف سے ملی تھیں
8. ایک بار جب سمسون کو بہت پیاس لگی تھی تو اُنہوں نے کیا کِیا؟
8 شاید آپ کو بہت سے ایسے واقعات یاد ہوں جب سمسون نے بہت حیرتانگیز کام کیے۔ اُنہوں نے اکیلے ایک شیر کو اور بعد میں شہر اسقلون میں 30 فِلسطینیوں کو مار ڈالا۔ (قُضا 14:5، 6، 19) سمسون جانتے تھے کہ وہ یہ سب کام یہوواہ کی مدد کے بغیر نہیں کر سکتے۔ یہ بات اُس واقعے سے صاف نظر آئی جب 1000 فِلسطینیوں کو مار ڈالنے کے بعد سمسون کو بہت پیاس لگی تھی۔ اِس پر اُنہوں نے کیا کِیا؟ اُنہوں نے پینے کے لیے پانی ڈھونڈنے کے حوالے سے خود پر بھروسا نہیں کِیا بلکہ اِس کے لیے بھی اُنہوں نے یہوواہ سے مدد مانگی۔—قُضا 15:18۔
9. جب سمسون نے یہوواہ سے مدد کی اِلتجا کی تو یہوواہ نے کیا کِیا؟ (قُضاۃ 15:19)
9 یہوواہ نے سمسون کی اِلتجا سنی اور ایک معجزے کے ذریعے پانی کا اِنتظام کِیا۔ جب سمسون نے پانی پیا تو اُن کی ”جان میں جان آئی اور وہ تازہ دم“ ہو گئے۔ (قُضاۃ 15:19 کو پڑھیں۔) پانی کا یہ چشمہ شاید اُس وقت تک بھی موجود تھا جب کئی سال بعد سموئیل نبی نے یہوواہ کی پاک روح کی رہنمائی میں قُضاۃ کی کتاب لکھی۔ جب بنیاِسرائیل اِس بہتے پانی کو دیکھتے ہوں گے تو اُن کے ذہن میں آتا ہوگا کہ اگر وہ یہوواہ پر بھروسا رکھیں گے تو وہ ضرورت کے وقت اُن کی مدد کرے گا۔
سمسون نے تازہدم ہونے کے لیے وہ پانی پیا جو یہوواہ نے اُنہیں دیا تھا۔ یہوواہ کے قریب رہنے کے لیے ہمیں اُن سہولتوں سے فائدہ حاصل کرنا ہوگا جو یہوواہ نے ہمیں دی ہیں۔ (پیراگراف نمبر 10 کو دیکھیں۔)
10. اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہوواہ ہماری مدد کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
10 ہمیں بھی یہوواہ سے مدد مانگی چاہیے پھر چاہے ہم میں بہت سی صلاحیتیں ہوں یا پھر ہم نے اُس کی خدمت میں بہت کچھ کِیا ہو۔ ہمیں خاکساری سے یہ بات ماننی چاہیے کہ ہمیں کامیابی صرف اُسی وقت مل سکتی ہے جب ہم یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں۔ جس طرح سمسون کو تازہدم ہونے کے لیے اُس پانی کو پینا تھا جو یہوواہ نے اُنہیں دیا تھا اُسی طرح ہمیں یہوواہ کے قریب رہنے کے لیے اُن سہولتوں سے فائدہ حاصل کرنا ہوگا جو یہوواہ نے ہمیں دی ہیں۔—متی 11:28۔
11. ہم مدد کے لیے یہوواہ پر بھروسا کیسے کر سکتے ہیں اور ایک بھائی اور بہن نے کیا کِیا؟
11 ذرا روس میں رہنے والے بھائی الکسی کی مثال پر غور کریں جو بہت سخت اذیت سہہ رہے ہیں۔ اِن مشکل حالات میں ثابتقدم رہنے میں کس چیز نے بھائی کی مدد کی؟ بھائی اور اُن کی بیوی نے بائبل کا مطالعہ کرنے اور یہوواہ کی عبادت کرنے کی اچھی عادت بنائی ہوئی ہے۔ بھائی نے کہا: ”مَیں پوری کوشش کرتا ہوں کہ مَیں باقاعدگی سے ذاتی مطالعہ کروں اور ہر روز بائبل پڑھوں۔ مَیں اور میری بیوی ہر صبح روزانہ کی آیت پر بات کرتے ہیں اور مل کر یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں۔“ اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ ہمیں خود پر بھروسا کرنے کی بجائے یہوواہ پر بھروسا کرنا چاہیے۔ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ہم ہر روز ایسے کام کر سکتے ہیں جس سے ہمارا ایمان مضبوط ہو جیسے کہ بائبل کا مطالعہ کرنا، دُعا کرنا، عبادتوں میں جانا اور مُنادی کرنا۔ جب ہم ایسا کریں گے تو یہوواہ ہماری مدد کرے گا تاکہ ہم اُس کی خدمت کرتے رہیں۔ جس طرح یہوواہ نے سمسون کو ہمت دی، وہ ہمیں بھی ہمت دے گا۔
سمسون نے ہمت نہیں ہاری
12. سمسون نے کون سا غلط فیصلہ کِیا اور اُن کا یہ فیصلہ پچھلے معاملوں سے کیسے فرق تھا؟
12 سمسون بھی ہماری طرح عیبدار تھے اِس لیے کچھ معاملوں میں اُنہوں نے غلط فیصلے کیے۔ اُن کا ایک فیصلہ ایسا تھا جس کی وجہ سے اُنہیں بہت بھیانک نتیجے بھگتنے پڑے۔ جب سمسون کو قاضی بنے کچھ عرصہ ہو گیا تھا تو اُنہیں ’سورق کی وادی میں ایک عورت سے جس کا نام دلیلہ تھا عشق ہو گیا۔‘ (قُضا 16:4) اِس سے پہلے سمسون ایک فِلسطینی عورت سے شادی کرنا چاہتے تھے اور ’یہ[یہوواہ]کی طرف سے تھا کیونکہ وہ فِلسطینیوں کے خلاف بہانہ ڈھونڈ رہا تھا۔‘ بعد میں سمسون فلسطینِ کے شہر ”غزؔہ“ میں ایک فاحشہ کے گھر ٹھہرے۔ اُس موقعے پر یہوواہ نے سمسون کو اِس شہر کے دروازے اُکھاڑ دینے کی طاقت دی جس کی وجہ سے اِس شہر پر حملہ کرنا آسان ہو گیا تھا۔ (قُضا 14:1-4؛ 16:1-3) لیکن دلیلہ فِلسطینی نہیں بلکہ شاید ایک اِسرائیلی تھی اِس لیے دلیلہ کا معاملہ فرق تھا کیونکہ اِس کا فِلسطینیوں کے خلاف لڑنے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
13. دلیلہ نے سمسون کو کس مصیبت میں ڈال دیا؟
13 دلیلہ نے فِلسطینیوں سے ایک موٹی رقم لینے کے لیے سمسون کو دھوکا دیا۔ کیا سمسون دلیلہ کی محبت میں اِتنے اندھے ہو چُکے تھے کہ وہ یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ دلیلہ کیا کرنا چاہ رہی ہے؟ دلیلہ نے یہ پوچھ پوچھ کر اُن کی ناک میں دم کر دیا تھا کہ اُن کی طاقت کا راز کیا ہے۔ اور اُس کے دباؤ میں آ کر آخرکار سمسون نے اُسے اپنی طاقت کا راز بتا دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ سمسون نے خود کو ایک ایسی صورتحال میں ڈال لیا جس کی وجہ سے وہ اپنی طاقت اور کچھ دیر کے لیے یہوواہ کی خوشنودی کھو بیٹھے۔—قُضا 16:16-20۔
14. دلیلہ پر بھروسا کرنے کی وجہ سے سمسون کو کیا نقصان اُٹھانا پڑا؟
14 سمسون کو یہوواہ کی بجائے دلیلہ پر بھروسا کرنے کی وجہ سے بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔ فِلسطینیوں نے اُنہیں پکڑ لیا اور اُن کی آنکھیں نکال دیں۔ اُنہوں نے سمسون کو شہر غزہ کی ایک جیل میں ڈال دیا۔ یہ وہی شہر تھا جس کے دروازے سمسون نے اُکھاڑ دیے تھے۔ غزہ کے لوگوں نے سمسون کو غلام بنا لیا اور اُن سے چکی پسوائی۔ اُنہوں نے ایک بہت بڑی ضیافت رکھی جس میں اُنہوں نے اپنے دیوتا دجون کے لیے قربانی چڑھائی کیونکہ اُنہیں لگ رہا تھا کہ اُن کے دیوتا نے سمسون کو اُن کے ہاتھ میں کر دیا ہے۔ وہ سمسون کو جیل سے اِس ضیافت میں اِس لیے لے کر آئے تاکہ اُن کی بےعزتی کریں اور اُن کا مذاق اُڑائیں۔—قُضا 16:21-25۔
یہوواہ نے فِلسطینیوں کو سزا دینے کے لیے سمسون کو ہمت اور طاقت دی۔ (پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)
15. سمسون نے ایک بار پھر یہ کیسے ثابت کِیا کہ وہ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں؟ (قُضاۃ 16:28-30) (سرِورق کی تصویر کو دیکھیں۔)
15 سمسون سے بہت بڑی غلطی ہوئی تھی۔ لیکن وہ یہوواہ کا دیا کام کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ فِلسطینیوں کو مار ڈالنے کا موقع ڈھونڈ رہے تھے۔ (قُضاۃ 16:28-30 کو پڑھیں۔) سمسون نے یہوواہ سے اِلتجا کی کہ وہ اُنہیں طاقت دے تاکہ وہ ”فِلسطینیوں سے . . . بدلہ“ لے سکیں۔ سچے خدا یہوواہ نے اُن کی اِلتجا کا جواب دیا اور اُنہیں پھر سے خاص طاقت دے دی۔ اِس وجہ سے وہ اِس موقعے پر اِتنے زیادہ فِلسطینیوں کو مار پائے جتنے وہ پہلے کبھی نہیں مار پائے تھے۔
16. سمسون کی غلطی سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں؟
16 سچ ہے کہ سمسون کو اپنی غلطی کی وجہ سے بہت تکلیف اُٹھانی پڑی لیکن اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری اور یہوواہ کی مرضی کے مطابق کام کرنے کی کوشش نہیں چھوڑی۔ اگر ہم سے کوئی ایسی غلطی بھی ہو جائے جس کی وجہ سے ہماری اِصلاح کی جائے یا ہم سے کوئی ذمےداری لے لی جائے تو بھی ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ یاد رکھیں کہ اگر ہم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو یہوواہ ہمیں چھوڑ نہیں دیتا بلکہ وہ ہمیں معاف کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ (زبور 103:8-10) ہماری غلطیوں کے باوجود بھی یہوواہ ہمیں اُس کا کام کرنے کی طاقت دے سکتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے اُس نے سمسون کو دی تھی۔
سمسون اپنی غلطی کی وجہ سے بہت شرمندہ ہوئے ہوں گے لیکن اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ہمیں بھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ (پیراگراف نمبر 17-18 کو دیکھیں۔)
17-18. بھائی مائیکل کی مثال سے آپ کو کیا بات اچھی لگی؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
17 ذرا مائیکل نام کے ایک جوان بھائی کی مثال پر غور کریں۔ وہ یہوواہ کی خدمت میں بہت مصروف تھے؛ وہ کلیسیا میں خادم اور پہلکار تھے۔ لیکن دُکھ کی بات ہے کہ اُن سے ایک ایسی غلطی ہو گئی جس کی وجہ سے اُن سے اُن کی یہ ذمےداریاں لے لی گئیں۔ بھائی نے کہا: ”اِس سے پہلے تک مَیں یہوواہ کی خدمت میں بہت کچھ کر رہا تھا۔ لیکن اچانک مجھے ایسا لگنے لگا جیسے یہوواہ کی خدمت اور میرے بیچ ایک بہت اُونچی دیوار کھڑی ہو گئی ہو۔ مجھے اِس بات کا تو یقین تھا کہ یہوواہ مجھے کبھی چھوڑے گا تو نہیں لیکن مَیں یہ ضرور سوچتا تھا کہ کیا یہوواہ کے ساتھ میری دوستی پہلے جیسی ہو پائے گی یا کیا مجھے پھر سے وہ ذمےداریاں ملیں گی جو مَیں پہلے نبھا رہا تھا۔“
18 لیکن خوشی کی بات ہے کہ بھائی مائیکل نے ہمت نہیں ہاری۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے ہر روز یہوواہ سے دُعا کرنے، بائبل کا مطالعہ کرنے اور سوچ بچار کرنے سے اُس کے ساتھ اپنی دوستی مضبوط کرنے کی کوشش کی۔“ کچھ وقت بعد بھائی مائیکل کو پھر سے کلیسیا میں ذمےداریاں ملنے لگیں۔ اب وہ کلیسیا میں بزرگ اور پہلکار ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”مجھے خاص طور پر بزرگوں کی طرف سے جو مدد اور حوصلہ ملا اُس کی وجہ سے مَیں سمجھ پایا کہ یہوواہ اب بھی مجھ سے پیار کرتا ہے۔ اب مَیں صاف ضمیر کے ساتھ پھر سے کلیسیا میں ذمےداریاں نبھا رہا ہوں۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس سے مَیں نے سیکھا ہے کہ یہوواہ ہر اُس شخص کو معاف کرتا ہے جو دل سے توبہ کرتا ہے۔“ ہم بھی اِس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر ہم اپنی غلطیوں کو سدھاریں گے اور یہوواہ پر بھروسا کرتے رہیں گے تو وہ ہم سے اپنا کام لیتا رہے گا۔—زبور 86:5؛ امثا 28:13۔
19. آپ کو سمسون کی مثال پر غور کرنے سے کیسے ہمت ملی ہے؟
19 اِس مضمون میں ہم نے سمسون کی زندگی کے بہت خاص واقعات پر غور کِیا۔ سمسون بےعیب نہیں تھے۔ اُنہوں نے دلیلہ کو اپنی زندگی میں شامل کرنے اور اُس پر آنکھیں بند کر کے بھروسا کرنے سے بہت بڑی غلطی کی۔ لیکن اُنہوں نے یہوواہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش نہیں چھوڑی۔ اور یہوواہ نے بھی اُن سے مُنہ نہیں پھیرا۔ اُس نے سمسون سے ایک بہت بڑا کام لیا۔ یہوواہ کی نظر میں اب بھی سمسون ایک ایسے شخص تھے جس کا ایمان بہت مضبوط تھا۔ اِس لیے اُس نے عبرانیوں 11 باب میں اپنے بندوں کی فہرست میں اُن کا نام بھی شامل کرایا۔ یہ جان کر ہمیں کتنی تسلی ملتی ہے کہ ہمارا شفیق آسمانی باپ ہمیں اُٹھا کھڑا کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہے، خاص طور پر اُس وقت جب ہم اپنی مشکلوں کی وجہ سے بالکل ٹوٹ چُکے ہوتے ہیں۔ آئیے ہم بھی سمسون کی طرح یہوواہ سے یہ فریاد کریں: ”مَیں تیری مِنت کرتا ہوں کہ مجھے یاد کر اور . . . مجھے زور بخش۔“—قُضا 16:28۔
گیت نمبر 3: یہوواہ، ہمارا سہارا اور آسرا
a سمسون کے بارے میں بہت سے لوگ جانتے ہیں، ایسے لوگ بھی جو بائبل کا بس تھوڑا بہت ہی علم رکھتے ہیں۔ اُن کی کہانی کے بارے میں کئی ڈراموں، گانوں اور فلموں میں بتایا جاتا ہے۔ لیکن اُن کی زندگی صرف ایک کہانی نہیں ہے۔ ہم اُن سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں کیونکہ اُن کا ایمان بہت مضبوط تھا۔