یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م23 جون ص.‏ 14-‏19
  • ہمیں یہوواہ کا خوف کیوں رکھنا چاہیے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہمیں یہوواہ کا خوف کیوں رکھنا چاہیے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خدا کا خوف رکھنے کا کیا مطلب ہے؟‏
  • ہم خدا کا خوف رکھنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟‏
  • عبدیاہ کی طرح دلیر بنیں
  • کاہنِ‌اعظم یہویدع کی طرح یہوواہ کے وفادار ہوں
  • بادشاہ یوآس کی طرح نہ بنیں
  • اُنہوں نے یہوواہ کے چُنے ہوئے بادشاہ کی حفاظت کی
    دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • یہویدع کی دلیری
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • یہوواہ دلیری کا اِنعام دیتا ہے
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2023ء
  • عبدیاہ​—‏⁠اپنے دل میں خدا کے لیے گہرا احترام پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
م23 جون ص.‏ 14-‏19

مطالعے کا مضمون نمبر 27

ہمیں یہوواہ کا خوف کیوں ماننا چاہیے؟‏

‏”‏یہوواہ کے قریبی دوست وہ لوگ بن سکتے ہیں جو اُس کا خوف رکھتے ہیں۔“‏‏—‏زبور 25:‏14‏، ترجمہ نئی دُنیا۔‏

گیت نمبر 8‏:‏ یہوواہ ہماری پناہ‌گاہ ہے

مضمون پر ایک نظرa

1-‏2.‏ اگر ہم یہوواہ کے قریبی دوست بننا چاہتے ہیں تو زبور 25:‏14 کے مطابق ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‏

آپ کے خیال میں کسی کے ساتھ قریبی دوستی قائم رکھنے کے لیے ایک شخص میں کون سی خوبیاں ہونی چاہیے؟ شاید آپ کہیں کہ اچھے دوست ایک دوسرے سے محبت کرتے اور ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ شاید آپ کے ذہن میں یہ بات نہ آئے کہ اچھی دوستی قائم رکھنے کے لیے خوف ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن جیسا کہ اِس مضمون کی مرکزی آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ یہوواہ کے قریبی دوست بننا چاہتے ہیں، اُنہیں ”‏اُس کا خوف“‏ رکھنا چاہیے۔‏‏—‏زبور 25:‏14 کو فٹ‌نوٹ سے پڑھیں۔‏b

2 چاہے ہم کتنے ہی سالوں سے یہوواہ کی عبادت کیوں نہ کر رہے ہوں، ہم سب کو اُس کا گہرا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن خدا کا خوف رکھنے کا کیا مطلب ہے؟ ہم اُس کا خوف رکھنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ اور ہم خدا کا خوف رکھنے کے بارے میں اخی‌اب کے محل کے مختار عبدیاہ، کاہنِ‌اعظم یہویدع اور بادشاہ یوآس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

خدا کا خوف رکھنے کا کیا مطلب ہے؟‏

3.‏ بتائیں کہ خوف ہمیں کیسے محفوظ رکھتا ہے۔‏

3 اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں کسی چیز سے خطرہ ہو سکتا ہے تو شاید ہمارے دل میں خوف پیدا ہو جائے۔ اِس طرح کا خوف رکھنا اچھی بات ہے کیونکہ اِس کی وجہ سے ہم اچھے فیصلے کر پاتے ہیں۔ اُونچائی سے گِرنے کے خوف کی وجہ سے ہم کسی پہاڑ کے کنارے کنارے نہیں چلیں گے۔ چوٹ لگنے کے خوف کی وجہ سے ہم کسی ایسی صورتحال سے دُور ہی رہیں گے جس میں ہم زخمی ہو سکتے ہیں۔ جس شخص سے ہم بہت پیار کرتے ہیں، اُس سے دوستی ٹوٹ جانے کے خوف کی وجہ سے ہم کوئی بھی ایسی بات یا کام نہیں کریں گے جس سے اُسے دُکھ پہنچ سکتا ہے۔‏

4.‏ شیطان ہمارے دل میں یہوواہ کے لیے کس طرح کا خوف دیکھنا چاہتا ہے؟‏

4 شیطان چاہتا ہے کہ ہم یہوواہ کا گہرا احترام کرنے کی بجائے اُس سے بہت زیادہ ڈر جائیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم یہ سوچنے لگ جائیں کہ یہوواہ بہت غصے والا ہے، وہ ہمیں سزا دینا چاہتا ہے اور ہم اُسے کبھی بھی خوش نہیں کر سکتے۔ (‏ایو 4:‏18، 19‏)‏ وہ چاہتا ہے کہ ہم یہوواہ سے اِتنا زیادہ ڈر جائیں کہ ہم اُس کی عبادت کرنا ہی چھوڑ دیں۔ شیطان کی اِس چال سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے دل میں یہوواہ کا گہرا احترام پیدا کرنا چاہیے اور اُسے دُکھ پہنچانے سے ڈرنا چاہیے۔‏

5.‏ خدا کا خوف رکھنے کا کیا مطلب ہے؟‏

5 جو شخص خدا کا خوف رکھتا یعنی اُس کا گہرا احترام کرتا ہے، وہ اُس سے محبت کرتا ہے اور کوئی بھی ایسا کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے یہوواہ کے ساتھ اُس کی دوستی ٹوٹ جائے۔ یسوع ایسا ہی ”‏خوفِ‌خدا“‏ رکھتے تھے۔ (‏عبر 5:‏7‏)‏ وہ یہوواہ سے خوف‌زدہ یا ڈرے ڈرے نہیں رہتے تھے۔ (‏یسع 11:‏2، 3‏)‏ اِس کی بجائے وہ اُس سے بہت پیار کرتے تھے اور اُس کی بات ماننا چاہتے تھے۔ (‏یوح 14:‏21،‏ 31‏)‏ یسوع کی طرح ہم بھی یہوواہ کا گہرا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ شفیق، دانش‌مند، اِنصاف‌پسند اور طاقت‌ور ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے پیار کرتا ہے اور اُسے اِس بات سے فرق پڑتا ہے کہ ہم اُس کی تعلیم پر چلتے ہیں یا نہیں۔ اگر ہم یہوواہ کی بات نہیں مانتے تو وہ ناراض یا دُکھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم اُس کی بات مانتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتا ہے۔—‏زبور 78:‏41؛‏ امثا 27:‏11‏۔‏

ہم خدا کا خوف رکھنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟‏

6.‏ وہ ایک طریقہ کیا ہے جس کے ذریعے ہم خدا کا خوف رکھنا سیکھ سکتے ہیں؟ (‏زبور 34:‏11‏)‏

6 ہمارے دل میں پیدائشی طور پر یہوواہ کا خوف نہیں ہوتا۔ اِس لیے ہمیں اِسے اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔ ‏(‏زبور 34:‏11 کو فٹ‌نوٹ سے پڑھیں۔‏c‏)‏ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم یہوواہ کی بنائی ہوئی چیزوں پر غور کریں۔ جتنا زیادہ ہم یہوواہ کی ”‏بنائی ہوئی چیزوں“‏ میں اُس کی دانش‌مندی، طاقت اور ہمارے لیے اُس کی گہری محبت کو دیکھیں گے اُتنا ہی زیادہ ہمارے دل میں اُس کے لیے محبت اور احترام پیدا ہوگا۔ (‏روم 1:‏20‏)‏ ایڈریئن نام کی ایک بہن نے کہا:‏ ”‏جب مَیں یہوواہ کی بنائی ہوئی چیزوں میں اُس کی دانش‌مندی کو دیکھتی ہوں تو مَیں حیران رہ جاتی ہوں۔ اور یہ سمجھ پاتی ہوں کہ یہوواہ ہی بہتر جانتا ہے کہ میرے لیے کیا صحیح ہے۔“‏ باقاعدگی سے اِس بارے میں سوچنے کی وجہ سے بہن کو بہت فائدہ ہوا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یہوواہ نے مجھے زندگی دی ہے اور مَیں کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہتی جس کی وجہ سے یہوواہ اور میری دوستی میں دراڑ آ جائے۔“‏ کیا آپ اِس ہفتے یہوواہ کی بنائی ہوئی کسی چیز پر غور کرنے کے لیے وقت نکال سکتے ہیں؟ ایسا کرنے سے آپ کے دل میں یہوواہ کے لیے احترام اور محبت اَور بڑھ جائے گی۔—‏زبور 111:‏2، 3‏۔‏

7.‏ دُعا کے ذریعے ہم اپنے دل میں خدا کا خوف کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟‏

7 اپنے دل میں خدا کا خوف پیدا کرنے کا ایک اَور طریقہ یہ ہے کہ ہم باقاعدگی سے دُعا کریں۔ جتنا زیادہ ہم یہوواہ سے دُعا کریں گے اُتنا ہی زیادہ ہم اُس کو اَور اچھی طرح جان پائیں گے۔ ہر بار جب ہم یہوواہ سے کسی مشکل کو برداشت کرنے کی ہمت مانگتے ہیں تو ہم یہ یاد رکھ پاتے ہیں کہ یہوواہ کتنا طاقت‌ور ہے۔ جب ہم یہوواہ کے بیٹے کے لیے اُس کا شکریہ ادا کرتے ہیں تو ہم یہ یاد رکھ پاتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے کتنا پیار کرتا ہے۔ اور جب ہم یہوواہ سے اِلتجا کرتے ہیں کہ وہ کسی مشکل سے نمٹنے میں ہماری مدد کرے تو ہم یہ یاد رکھ پاتے ہیں کہ وہ کتنا دانش‌مند ہے۔ ایسی دُعائیں ہمارے دل میں یہوواہ کے لیے گہرا احترام پیدا کرتی ہیں۔ اور ہمارے اِس عزم کو مضبوط کرتی ہیں کہ ہم کوئی بھی ایسا کام نہیں کریں گے جس کی وجہ سے یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی ٹوٹ جائے گی۔‏

8.‏ ہم اپنے دل میں خدا کا خوف قائم رکھنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏

8 اپنے دل میں خدا کا خوف قائم رکھنے کے لیے ہمیں بائبل کو اِس مقصد سے پڑھنا چاہیے کہ ہم اُن لوگوں کی زندگی سے کچھ سبق سیکھ سکیں جن کا بائبل میں ذکر ہوا ہے۔ آئیے، سب سے پہلے یہوواہ کے دو بندوں کی مثال پر غور کرتے ہیں۔ اِن میں سے ایک عبدیاہ ہیں جو کہ اخی‌اب کے گھرانے کے مختار تھے اور دوسرے یہویدع ہیں جو کہ کاہنِ‌اعظم تھے۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ ہم یہوداہ کے بادشاہ یوآس سے کیا سیکھ سکتے ہیں جو شروع میں تو یہوواہ کے حکموں پر عمل کرتا رہا لیکن بعد میں اُس نے یہوواہ کو چھوڑ دیا۔‏

عبدیاہ کی طرح دلیر بنیں

9.‏ یہوواہ کا خوف رکھنے سے عبدیاہ کو کیا فائدہ ہوا؟ (‏1-‏سلاطین 18:‏3،‏ 12‏)‏

9 بائبل میں عبدیاہd کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ’‏یہوواہ سے بہت ڈرتے تھے [‏”‏یہوواہ کا بہت خوف رکھتے تھے،“‏ ترجمہ نئی دُنیا]‏‏۔‘‏ ‏(‏1-‏سلاطین 18:‏3،‏ 12 کو پڑھیں۔)‏ یہوواہ کا خوف رکھنے کی وجہ سے عبدیاہ کو کیا فائدہ ہوا؟ یہوواہ کا خوف رکھنے کی وجہ سے عبدیاہ بہت ایمان‌دار اور قابلِ‌بھروسا تھے اور اِس وجہ سے بادشاہ نے اُنہیں محل کا مختار بنا دیا۔ یہوواہ کا خوف رکھنے کی وجہ سے عبدیاہ بہت دلیر بن گئے تھے۔ اور یہ ایک ایسی چیز تھی جس کی اُنہیں سخت ضرورت تھی۔ وہ ایک ایسے دَور میں رہ رہے تھے جب بادشاہ اخی‌اب کی حکومت چل رہی تھی۔ بادشاہ اخی‌اب نے ”‏جتنے اُس سے پہلے ہوئے تھے اُن .‏ .‏ .‏ [‏سب بادشاہوں]‏ سے زیادہ [‏یہوواہ]‏ کی نظر میں بدی کی۔“‏ (‏1-‏سلا 16:‏30‏)‏ اِس کے علاوہ بادشاہ اخی‌اب کی بیوی اِیزِبل بعل کی پوجا کرتی تھی اور وہ یہوواہ سے اِتنی نفرت کرتی تھی کہ اُس نے ملک اِسرائیل سے یہوواہ کی عبادت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے تو یہوواہ کے بہت سے نبیوں کو بھی قتل کر دیا۔ (‏1-‏سلا 18:‏4‏)‏ بے‌شک عبدیاہ ایک بہت ہی مشکل دَور میں یہوواہ کی عبادت کر رہے تھے۔‏

10.‏ عبدیاہ نے کیسے ثابت کِیا کہ وہ دلیر ہیں؟‏

10 عبدیاہ نے کیسے ثابت کِیا کہ وہ دلیر ہیں؟ جب اِیزِبل نے خدا کے نبیوں کو قتل کرنے کے لیے اُنہیں ڈھونڈنا شروع کِیا تو عبدیاہ نے ”‏[‏یہوواہ]‏ کے نبیوں میں سے سو آدمیوں کو لے کر پچاس پچاس کر کے اُن کو ایک غار میں چھپایا اور اُن کو روٹی اور پانی“‏ پہنچاتے رہے۔ (‏1-‏سلا 18:‏13، 14‏)‏ اگر اِیزِبل کو یہ بات پتہ چل جاتی تو عبدیاہ ضرور مارے جاتے۔ بے‌شک عبدیاہ مرنا نہیں چاہتے تھے اور ہو سکتا ہے کہ وہ بہت ڈرے ہوئے ہوں۔ لیکن وہ یہوواہ اور اُس کے بندوں سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتے تھے۔‏

ایک بھائی یہوواہ کے گواہ میاں بیوی کے گھر گیا ہے۔ وہ بھائی اُس شوہر کو ہمارا کوئی رسالہ دے رہا ہے اور بیوی گھر کے اندر آنے والے راستے پر کھڑی ہو کر باہر نظر رکھ رہی ہے۔‏

اپنے ملک میں ہمارے کام پر پابندی کے باوجود بھی ایک بھائی بڑی دلیری سے بہن بھائیوں تک ہماری کتابیں اور رسالے پہنچا رہا ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 11 کو دیکھیں۔)‏f

11.‏ ہمارے زمانے کے یہوواہ کے بندے یہ کیسے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بھی عبدیاہ کی طرح دلیر ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

11 آج یہوواہ کے بہت سے بندے ایسے ملکوں میں رہتے ہیں جہاں ہمارے کام پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ وہ حکومتوں کا احترام تو کرتے ہیں لیکن عبدیاہ کی طرح وہ یہوواہ کی عبادت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ (‏متی 22:‏21‏)‏ وہ اِنسانوں کی بجائے یہوواہ کا کہنا ماننے سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ خدا کا خوف رکھتے ہیں۔ (‏اعما 5:‏29‏)‏ خدا کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے وہ مُنادی کرتے رہتے ہیں اور چھپ کر عبادتوں کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ (‏متی 10:‏16،‏ 28‏)‏ وہ اِس بات کا پورا دھیان رکھتے ہیں کہ اُن کے بہن بھائیوں کو وہ چیزیں ملتی رہیں جو یہوواہ کے قریب رہنے میں اُن کی مدد کریں گی۔ ذرا بھائی ہنری کی مثال پر غور کریں جو افریقہ کے ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ہمارے کام پر پابندی لگی ہوئی تھی۔ پابندی کے اِس عرصے میں بھائی ہنری نے بھائیوں کو بتایا کہ وہ بہن بھائیوں تک ہماری کتابیں اور رسالے پہنچاتے رہیں گے۔ بھائی نے بتایا:‏ ”‏مَیں بہت شرمیلا ہوں۔ اِس لیے مجھے اِس بات پر یقین ہے کہ خدا کا گہرا احترام کرنے کی وجہ سے ہی مجھ میں یہ کام کرنے کی دلیری پیدا ہوئی ہے۔“‏ کیا آپ بھی بھائی ہنری کی طرح دلیر بن سکتے ہیں؟ بالکل۔ لیکن اِس کے لیے آپ کو اپنے دل میں خدا کا خوف پیدا کرنا ہوگا۔‏

کاہنِ‌اعظم یہویدع کی طرح یہوواہ کے وفادار ہوں

12.‏ کاہنِ‌اعظم یہویدع اور اُن کی بیوی نے یہوواہ کے لیے اپنی وفاداری کیسے ثابت کی؟‏

12 کاہنِ‌اعظم یہویدع یہوواہ کا خوف رکھتے تھے اور اِس خوف کی وجہ سے وہ یہوواہ کے وفادار رہے۔ اُنہوں نے دوسروں کا بھی حوصلہ بڑھایا کہ وہ یہوواہ کی عبادت کریں۔ ایسا اُس وقت ہوا جب اِیزِبل کی بیٹی عتلیاہ نے ناجائز طور پر یہوداہ پر حکمرانی کرنی شروع کردی۔ لوگ عتلیاہ سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ وہ بہت ظالم تھی۔ وہ اِختیار کی اِتنی بھوکی تھی کہ اُس نے پوری شاہی نسل کو ختم کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ اُس نے اپنے پوتوں کو بھی نہیں بخشا۔ (‏2-‏توا 22:‏10، 11‏)‏ اُس کے پوتوں میں سے ایک کا نام یوآس تھا جسے یہویدع کی بیوی یہوسبعت نے بچا لیا۔ یہوسبعت اور اُن کے شوہر نے یوآس کو چھپا لیا اور اُس کی دیکھ‌بھال کی۔ اِس طرح یہویدع اور یہوسبعت نے داؤد کی نسل ختم ہونے سے بچا لی۔ یہویدع یہوواہ کے وفادار تھے اور وہ عتلیاہ کے خوف سے صحیح کام کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔—‏امثا 29:‏25‏۔‏

13.‏ جب یوآس سات سال کا تھا تو یہویدع نے ایک بار پھر یہ کیسے ثابت کِیا کہ وہ یہوواہ کے وفادار ہیں؟‏

13 جب یوآس سات سال کا تھا تو یہویدع نے ایک بار پھر یہ ثابت کِیا کہ وہ یہوواہ کے وفادار ہیں۔ اُنہوں نے ایک منصوبہ بنایا۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو یوآس بادشاہ بن جاتا جو کہ داؤد کے تخت کا حق‌دار تھا۔ اور اگر یہ منصوبہ ناکام ہو جاتا تو یہویدع کی جان بھی جا سکتی تھی۔ لیکن یہوواہ نے اُن کی مدد کی اور اُن کا منصوبہ کامیاب رہا۔ یہویدع نے سرداروں اور لاویوں کی مدد سے یوآس کو بادشاہ بنا دیا اور عتلیاہ کو قتل کر دیا۔ (‏2-‏توا 23:‏1-‏5،‏ 11، 12،‏ 15؛‏ 24:‏1‏)‏ پھر ”‏یہویدع نے [‏یہوواہ]‏ کے اور بادشاہ اور لوگوں کے درمیان ایک عہد باندھا تاکہ وہ [‏یہوواہ]‏ کے لوگ ہوں۔“‏ (‏2-‏سلا 11:‏17‏)‏ اُنہوں نے ”‏ہیکل کے پھاٹکوں پر دربانوں کو بٹھایا تاکہ جو کوئی کسی طرح سے ناپاک ہو اندر آنے نہ پائے۔“‏—‏2-‏توا 23:‏19‏۔‏

14.‏ یہوواہ کو عزت دینے سے یہویدع کو عزت کیسے ملی؟‏

14 یہوواہ نے کہا تھا:‏ ”‏وہ جو میری عزت کرتے ہیں مَیں اُن کی عزت کروں گا۔“‏ اور یہوواہ نے یہویدع کو اِس کے لیے اجر بھی دیا۔ (‏1-‏سمو 2:‏30‏)‏ مثال کے طور پر اُس نے یہویدع کے اچھے کاموں کے بارے میں بائبل میں لکھوایا تاکہ ہم اِن سے کچھ سیکھ سکیں۔ (‏روم 15:‏4‏)‏ اور جب یہویدع فوت ہوئے تو اُنہیں یہ اعزاز ملا کہ اُنہیں ’‏داؤد کے شہر میں بادشاہوں کے ساتھ دفن کِیا گیا کیونکہ اُنہوں نے اِسرائیل میں اور خدا اور اُس کے گھر کی خاطر نیکی کی تھی۔‘‏—‏2-‏توا 24:‏15، 16‏۔‏

اگر ہمارے دل میں کاہنِ‌اعظم یہویدع کی طرح خدا کا خوف ہوگا تو ہم اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ (‏پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)‏g

15.‏ ہم یہویدع کے واقعے سے کیا سیکھتے ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

15 ہم یہویدع کے واقعے سے یہ سیکھتے ہیں کہ اپنے دل میں خدا کا خوف پیدا کرنا کتنا ضروری ہے۔ کلیسیا کے بزرگ یہویدع کی مثال پر عمل کرتے ہوئے کلیسیا کو ہر طرح کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار رہ سکتے ہیں۔ (‏اعما 20:‏28‏)‏ بوڑھے بہن بھائی یہویدع سے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ اگر وہ یہوواہ کا خوف رکھیں گے اور اُس کے وفادار رہیں گے تو وہ اُن سے بہت سے کام لے سکتا ہے۔ وہ کبھی بھی اُنہیں نظرانداز نہیں کرتا۔ نوجوان اِس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ یہوواہ یہویدع کے ساتھ کیسے پیش آیا۔ اور یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے وہ بوڑھے لوگوں کے لیے عزت دِکھا سکتے ہیں خاص طور پر ایسے بہن بھائیوں کے لیے جو کئی سالوں سے وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ (‏امثا 16:‏31‏)‏ اور ہم سب ہی اُن سرداروں اور لاویوں سے خاص سبق سیکھ سکتے ہیں جنہوں نے یہویدع کا ساتھ دیا۔ ہم سیکھتے ہیں کہ جو بھائی ہماری ”‏پیشوائی کرتے ہیں،“‏ اُن کی بات ماننے سے ہم اُن کا ساتھ دے سکتے ہیں۔—‏عبر 13:‏17‏۔‏

بادشاہ یوآس کی طرح نہ بنیں

16.‏ کس بات سے ثابت ہوا کہ بادشاہ یوآس ایک کمزور اِنسان تھا؟‏

16 یہویدع نے ایک اچھا اِنسان بننے میں بادشاہ یوآس کی بہت مدد کی۔ (‏2-‏سلا 12:‏2‏)‏ اِس وجہ سے یوآس اپنی جوانی میں بادشاہ کے طور پر یہوواہ کو خوش کرنا چاہتا تھا۔ لیکن جب یہویدع فوت ہو گئے تو یوآس نے اُن سرداروں کی بات سنی جو یہوواہ سے دُور ہو چُکے تھے۔ اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟ بادشاہ یوآس اور اُس کی عوام ”‏یسیرتوں اور بُتوں کی پرستش کرنے لگے۔“‏ (‏2-‏توا 24:‏4،‏ 17، 18‏)‏ یہوواہ کو اِس بات پر بہت دُکھ ہوا۔ لیکن ”‏[‏یہوواہ]‏ نے نبیوں کو اُن کے پاس بھیجا تاکہ اُن کو اُس کی طرف پھیر لائیں .‏ .‏ .‏ پر اُنہوں نے کان نہ لگایا۔“‏ اُنہوں نے تو یہویدع کے بیٹے زکریاہ کی بات تک نہیں سنی جو نہ صرف یہوواہ کے نبی اور کاہن تھے بلکہ یوآس کی پھوپھو کے بیٹے بھی تھے۔ یوآس اُس خاندان کے سارے احسان بھول گیا جس نے اُس کے لیے اِتنا کچھ کِیا تھا اور اُس نے زکریاہ کو قتل کروا دیا۔—‏2-‏توا 22:‏11؛‏ 24:‏19-‏22‏۔‏

17.‏ یوآس کے ساتھ کیا ہوا؟‏

17 یوآس نے اپنے دل میں یہوواہ کا خوف قائم نہیں رکھا اور اِس وجہ سے اُس کے ساتھ بہت بُرا ہوا۔ یہوواہ نے کہا تھا:‏ ”‏وہ جو میری تحقیر کرتے ہیں بے‌قدر ہوں گے۔“‏ (‏1-‏سمو 2:‏30‏)‏ ارامیوں کی ایک چھوٹی سی فوج نے یوآس کے ایک ’‏نہایت بڑے لشکر‘‏ کو شکست دی اور یوآس کو بہت زخمی کر دیا۔ جب ارامی فوج چلی گئی تو یوآس کے اپنے خادموں نے اُسے اِس وجہ سے قتل کر دیا کیونکہ اُس نے زکریاہ کو مار ڈالا تھا۔ لوگوں کی نظر میں یہ بادشاہ اِتنا بُرا تھا کہ اُنہوں نے اُسے اِس لائق بھی نہیں سمجھا کہ ”‏اُسے بادشاہوں کی قبروں میں دفن“‏ کِیا جائے۔—‏2-‏توا 24:‏23-‏25‏۔‏e

18.‏ یرمیاہ 17:‏7، 8 کے مطابق ہم یوآس کی طرح بننے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

18 ہم یوآس کی زندگی سے کیا سبق سیکھتے ہیں؟ یوآس ایک ایسے درخت کی طرح تھا جس کی جڑیں کھوکھلی ہوں اور جسے کھڑا رہنے کے لیے سہارے کی ضرورت ہو۔ جب وہ سہارا یعنی یہویدع نہ رہا اور یہوواہ سے برگشتگی کی ہوائیں چلیں تو یوآس گِر پڑا یعنی وہ یہوواہ سے دُور ہو گیا۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں یہوواہ کا خوف صرف اِس لیے نہیں ماننا چاہیے کیونکہ ہمارے گھر والے اور کلیسیا کے بہن بھائی ہم پر اچھا اثر ڈال رہے ہیں۔ اگر ہم یہوواہ کے قریب رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں باقاعدگی سے ذاتی مطالعہ کرنے، سوچ بچار کرنے اور دُعا کرنے سے اپنے دل میں یہوواہ کے لیے محبت اور احترام کو بڑھانا چاہیے۔‏‏—‏یرمیاہ 17:‏7، 8 کو پڑھیں؛‏ کُل 2:‏6، 7‏۔‏

19.‏ یہوواہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟‏

19 یہوواہ ہم سے بہت زیادہ کی توقع نہیں کرتا۔ وہ ہم سے جو چاہتا ہے، اُس کے بارے میں واعظ 12:‏13 میں بتایا گیا ہے۔ اِس آیت میں لکھا ہے:‏ ”‏خدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان کہ اِنسان کا فرضِ‌کُلی یہی ہے۔“‏ جب ہم خدا کا خوف رکھتے ہیں تو چاہے مستقبل میں ہم پر کیسی بھی مشکل آ جائے، ہم عبدیاہ اور یہویدع کی طرح خدا کے وفادار رہیں گے۔ کوئی بھی چیز یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی کو توڑ نہیں پائے گی۔‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

  • یہوواہ کا خوف رکھنے کا کیا مطلب ہے؟‏

  • ہم اخی‌اب کے محل کے مختار عبدیاہ اور کاہنِ‌اعظم یہویدع سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

  • ہم بادشاہ یوآس کی طرح بننے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

گیت نمبر 3‏:‏ یہوواہ، ہمارا سہارا اور آسرا

a جب صحیفوں میں لفظ ”‏خوف“‏ اِستعمال ہوتا ہے تو اِس کے فرق فرق مطلب ہو سکتے ہیں۔ سیاق‌وسباق کے حساب سے اِس کا مطلب خوف‌زدہ ہو جانا، ڈر جانا یا گہرا احترام کرنا ہو سکتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم ایسے خوف کے بارے میں بات کریں گے جس کی وجہ سے ہمارے اندر دلیری اور وفاداری سے اپنے آسمانی باپ کی عبادت کرنے کا جذبہ پیدا ہو سکتا ہے۔‏

b زبور 25:‏14 ‏(‏ترجمہ نئی دُنیا)‏:‏ ”‏یہوواہ کے قریبی دوست وہ لوگ بن سکتے ہیں جو اُس کا خوف رکھتے ہیں اور وہ اُنہیں اپنے عہد کے بارے میں بتاتا ہے۔“‏

c زبور 34:‏11 ‏(‏ترجمہ نئی دُنیا)‏:‏ ”‏میرے بیٹو!‏ آؤ اور میری سنو؛ مَیں تمہیں یہوواہ کا خوف رکھنا سکھاؤں گا۔“‏

d یہاں جس عبدیاہ کی بات ہو رہی ہے وہ عبدیاہ نبی نہیں ہیں۔ عبدیاہ نبی اِس زمانے کے سینکڑوں سال بعد کے زمانے میں رہتے تھے اور اُنہوں نے بائبل کی ایک کتاب بھی لکھی تھی جو اُنہی کے نام سے ہے۔‏

e متی 23:‏35 سے پتہ چلتا ہے کہ زکریاہ، برکیاہ کے بیٹے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہویدع کے دو نام ہوں جیسا کہ کچھ اَور ایسے لوگوں کے ساتھ تھا جن کا بائبل میں ذکر ہوا ہے۔ (‏متی 9:‏9 اور مرقس 2:‏14 پر بھی غور کریں۔)‏ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ برکیاہ، زکریاہ کے دادا یا اُن کے باپ‌دادا میں سے کوئی تھے۔‏

f تصویر کی وضاحت‏:‏ اِس فرضی منظر میں ایک بھائی پابندی کے باوجود بھی بہن بھائیوں تک ہماری کتابیں اور رسالے پہنچا رہا ہے۔‏

g تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک نوجوان بہن ایک بوڑھی بہن سے فون پر گواہی دینا سیکھ رہی ہے۔ ایک بوڑھا بھائی بڑی دلیری سے عوامی جگہ پر گواہی دے رہا ہے۔ ایک بوڑھا بھائی اپنے تجربے کی بنیاد پر کچھ بھائیوں کو عبادت‌گاہ کی دیکھ‌بھال کرنے کے لیے کچھ کام سکھا رہا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں