مطالعے کا مضمون نمبر 6
بائبل سے اِس کے لکھوانے والے کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
”یہ سب باتیں جو مَیں نے تجھ سے کہیں کتاب میں لکھ۔“—یرم 30:2۔
گیت نمبر 96: خدا کا کلام—ایک خزانہ
مضمون پر ایک نظرa
1. آپ بائبل کے لیے یہوواہ کے شکرگزار کیوں ہیں؟
ہم یہوواہ کے بہت شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمیں بائبل دی ہے۔ بائبل کے ذریعے اُس نے ہمیں ایسے بہت سے مشورے دیے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی مشکلوں سے نمٹ سکتے ہیں۔ اُس نے بائبل کے ذریعے ہی ہمیں ایک اچھے مستقبل کی اُمید دی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہوواہ نے ہمیں بائبل کے ذریعے اپنی خوبیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ جب ہم یہوواہ کی اِتنی شاندار خوبیوں پر غور کرتے ہیں تو اُس کی یہ خوبیاں ہمارے دل کو چُھو لیتی ہیں اور ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم یہوواہ کے ساتھ ”قریبی دوستی“ کریں۔—زبور 25:14، ترجمہ نئی دُنیا۔
2. یہوواہ نے کس کس طرح سے اِنسانوں کو اپنے بارے میں بتایا ہے؟
2 یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے بارے میں جانیں۔ ماضی میں اُس نے خوابوں، رُویات یہاں تک کے فرشتوں کے ذریعے سے اِنسانوں کو اپنے بارے میں بتایا تھا۔ (گن 12:6؛ اعما 10:3، 4) لیکن اگر یہ خواب، رُویات اور فرشتوں کے پیغامات لکھے نہ جاتے تو ہم کبھی بھی گہرائی سے اِن کا مطالعہ نہیں کر سکتے تھے۔ اِس لیے یہوواہ نے وہ سب باتیں ایک ’کتاب میں لکھوائیں‘ جو وہ ہمیں بتانا چاہتا تھا۔ (یرم 30:2) چونکہ ”خدا کی راہ کامل ہے“ اِس لیے ہم اِس بات کا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ اُس نے ہم سے بات کرنے کا یہ جو طریقہ اپنایا ہے، یہ بہترین ہے اور ہمارے فائدے کے لیے ہے۔—زبور 18:30۔
3. یہوواہ نے اِس بات کا خیال کیسے رکھا کہ اُس کا کلام محفوظ رہے؟ (یسعیاہ 40:8)
3 یسعیاہ 40:8 کو پڑھیں۔ ہزاروں سال سے خدا کا کلام خدا کے بندوں کو بہت اچھی رہنمائی فراہم کرتا آیا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ خدا کا کلام سینکڑوں سال پہلے ایسی چیزوں پر لکھا گیا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ خراب ہو جاتی ہیں۔ اِس لیے ہمارے پاس بائبل کی کوئی بھی اصل تحریر موجود نہیں ہے۔ لیکن یہوواہ نے اِس بات کا خیال رکھا کہ اُس کے کلام کی کاپیاں تیار ہوتی رہیں۔ جن لوگوں نے خدا کے کلام کی کاپیاں تیار کیں، وہ عیبدار تھے۔ لیکن اُنہوں نے اپنی ذمےداری کو بہت دھیان سے نبھایا۔ عبرانی صحیفوں کے بارے میں ایک عالم نے کہا: ”ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اِتنے درست طریقے سے اُس زمانے کی کسی اَور کتاب کی کاپی تیار نہیں کی گئی۔“ یہ بات سچ ہے کہ بائبل سینکڑوں سال پہلے لکھی گئی، اِسے ایسی چیزوں پر لکھا گیا جو وقت کے ساتھ ساتھ خراب ہو جاتی ہیں اور جن لوگوں نے اِس کی کاپیاں تیار کیں، وہ عیبدار تھے۔ لیکن ہم اِس بات پر پورا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہم آج جو بائبل پڑھتے ہیں اُس میں وہی خیالات پائے جاتے ہیں جو یہوواہ نے اصل میں لکھوائے تھے۔
4. اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟
4 ”ہر اچھی نعمت اور ہر کامل بخشش“ یہوواہ کی طرف سے ملتی ہے۔ (یعقو 1:17) بائبل یہوواہ کی طرف سے سب سے بہترین نعمت ہے۔ جب ہمیں کوئی تحفہ دیتا ہے تو اِس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ شخص ہمیں اور ہماری ضرورتوں کے بارے میں کتنا جانتا ہے۔ جب ہم بائبل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہوواہ کے بارے میں بھی بہت کچھ پتہ چلتا ہے۔ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ ہمیں اور ہماری ضرورتوں کے بارے میں کتنی اچھی طرح جانتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ بائبل سے یہوواہ کی اِن تین خوبیوں کے بارے میں کیسے پتہ چلتا ہے: اُس کی دانشمندی، اُس کا اِنصاف اور اُس کی محبت۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ بائبل سے یہوواہ کی دانشمندی کے کیا ثبوت ملتے ہیں۔
بائبل سے یہوواہ کی دانشمندی ظاہر ہوتی ہے
5. بائبل سے یہوواہ کی دانشمندی کا ایک ثبوت کیا ملتا ہے؟
5 یہوواہ جانتا ہے کہ ہمیں اُس کی دانشبھری ہدایت کی ضرورت ہے۔ اور بائبل میں یہوواہ کی بےشمار دانشبھری باتیں پائی جاتی ہیں۔ اِس میں لکھی باتوں سے لوگوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اُن کی زندگی بہتر ہو جاتی ہے۔ جب بائبل کی پہلی کتابیں لکھی گئیں تو موسیٰ نے بنیاِسرائیل سے کہا: ”یہ تمہارے لئے کوئی بےسود [یعنی بےکار] بات نہیں بلکہ یہ تمہاری زندگانی ہے۔“ (اِست 32:47) خدا کے کلام میں لکھی باتوں پر عمل کرنے سے لوگوں کی زندگی خوشیوں سے بھر سکتی تھی۔ (زبور 1:2، 3) یہ سچ ہے کہ خدا کے کلام کو سینکڑوں سال پہلے لکھا گیا تھا لیکن اِس میں اب بھی لوگوں کی زندگیاں بدلنے کی طاقت ہے۔ مثال کے طور پر jw.org پر سلسلہوار مضامین ”پاک کلام کی تعلیم زندگی سنوارتی ہے“ میں ایسے لوگوں کی مثالیں پائی جاتی ہیں جن کی زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کا کلام اُن لوگوں پر ”اثر کر رہا ہے“ جو اِس کی ہدایتوں پر عمل کرتے ہیں۔—1-تھس 2:13۔
6. ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ بائبل جیسی کتاب کوئی اَور نہیں ہے؟
6 خدا کے کلام جیسی کتاب کوئی اَور نہیں ہے۔ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اِسے یہوواہ خدا نے لکھوایا ہے جو لامحدود قدرت کا مالک، ابدی اور بےحد دانشمند ہے۔ ایسی بہت سی کتابیں ہیں جنہیں لوگ اُن کے لکھنے والوں کی موت کے بعد بھی پڑھتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اِن کتابوں میں لکھے مشورے بےکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن خدا کے کلام میں لکھے اصول ہر زمانے کے لوگوں کے لیے فائدہمند ثابت ہوئے ہیں۔ جب ہم اِس مُقدس کتاب کو پڑھتے اور اِس میں لکھی ہوئی باتوں پر سوچ بچار کرتے ہیں تو اِس کا لکھوانے والا اپنی پاک روح کے ذریعے ہماری یہ دیکھنے میں مدد کرتا ہے کہ ہم اِن باتوں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ (زبور 119:27؛ ملا 3:16؛ عبر 4:12) جس ہستی نے بائبل کو لکھوایا ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ اور اُس کی شدید خواہش ہے کہ وہ اپنے کلام کے ذریعے ہماری مدد کرے۔ اِس وجہ سے ہمارے دل میں یہ خواہش پیدا ہونی چاہیے کہ ہم باقاعدگی سے بائبل کو پڑھیں۔
بائبل نے ماضی میں اور آج یہوواہ کے بندوں کی مدد کیسے کی ہے تاکہ وہ متحد رہ سکیں؟ (پیراگراف نمبر 7-8 کو دیکھیں۔)
7. ماضی میں بائبل نے خدا کے بندوں کی مدد کیسے کی تاکہ وہ متحد رہیں؟
7 ایک اور طریقہ جس سے پتہ چلتا ہے کہ بائبل میں خدا کی دانش بھری باتیں پائی جاتی ہیں، وہ یہ ہے کہ بائبل شروع سے خدا کے بندوں کی مدد کرتی آئی ہے کہ وہ متحد رہیں۔ جب بنیاِسرائیل اُس ملک میں داخل ہوئے جسے دینے کا یہوواہ نے اُن سے وعدہ کِیا تھا تو وہ فرق فرق علاقوں میں بس گئے۔ کچھ مچھیرے بن گئے، کچھ نے گائے بیل پالنے شروع کر دیے لیکن زیادہتر ابھی اناج ہی اُگاتے تھے۔ ہو سکتا تھا کہ جو اِسرائیلی ایک علاقے میں رہتے تھے، وہ دوسرے علاقے میں رہنے والے اپنے ہمایمانوں کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیتے۔ لیکن یہوواہ نے یہ بندوبست بنایا کہ بنیاِسرائیل کچھ موقعوں پر جمع ہوں اور اُس کے کلام میں لکھی باتوں کو سنیں اور اِنہیں سمجھیں۔ (اِست 31:10-13؛ نحم 8:2، 8، 18) ذرا سوچیں کہ جب ایک اِسرائیلی یروشلیم آتا ہوگا اور اپنے لاکھوں ہمایمانوں کو دیکھتا ہوگا جو ملک کے الگ الگ حصوں سے آئے ہیں تو اُسے کتنی خوشی ہوتی ہوگی۔ اِس طرح یہوواہ نے اپنے بندوں کی مدد کی تاکہ وہ متحد رہ سکیں۔ جب بعد میں مسیحی کلیسیا بنی تو اِس میں ایسے لوگ شامل تھے جو فرق فرق زبانیں بولتے تھے۔ کچھ بہت اعلیٰ رُتبہ رکھتے تھے جبکہ کچھ بہت عام سے لوگ تھے۔ اور کچھ بہت امیر تھے اور کچھ بہت غریب۔ لیکن وہ صحیفوں سے محبت رکھتے تھے اِس لیے وہ مل کر سچے خدا کی عبادت کرتے تھے۔ جو لوگ خدا کے کلام پر ایمان لے آئے تھے، وہ خدا کے کلام کو صرف اپنے ہمایمانوں کی مدد سے اور ایک جگہ جمع ہو کر ہی سمجھ سکتے تھے۔—اعما 2:42؛ 8:30، 31۔
8. بائبل آج خدا کے بندوں کی متحد رہنے میں مدد کیسے کر رہی ہے؟
8 ہمارا دانشمند خدا اپنے کلام بائبل کے ذریعے اپنے بندوں کو تعلیم دے رہا ہے اور اُنہیں متحد رکھ رہا ہے۔ بائبل میں یہوواہ کے بارے میں وہ سب کچھ بتایا گیا ہے جسے جاننے کی ہمیں ضرورت ہے۔ ہم باقاعدگی سے اِجتماعوں اور اِجلاسوں کے لیے جمع ہوتے ہیں جہاں صحیفوں کو پڑھا جاتا ہے، اِن کی وضاحت کی جاتی ہے اور اِن پر باتچیت کی جاتی ہے۔ بائبل ایک ایسا اوزار ہے جس کے ذریعے یہوواہ اپنے بندوں کی مدد کر رہا ہے تاکہ وہ ”ایک دل ہو کر اُس کی عبادت کریں۔“—صفن 3:9۔
9. بائبل کے پیغام کو سمجھنے کے لیے کون سی خوبی ہونا ضروری ہے؟ (لُوقا 10:21)
9 ذرا یہوواہ کی دانشمندی کے ایک اَور ثبوت پر غور کریں۔ اُس نے اپنے کلام کے بہت سے حصوں کو اِس طرح سے لکھوایا کہ اِسے صرف وہی لوگ سمجھ سکتے تھے جو خاکسار ہیں۔ (لُوقا 10:21 کو پڑھیں۔) دُنیا میں بہت سے لوگ بائبل پڑھتے ہیں۔ ایک عالم نے کہا: ”بائبل کسی بھی دوسری کتاب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے اور لوگ اِسے کسی بھی دوسری کتاب سے زیادہ دھیان سے پڑھتے ہیں۔“ لیکن صرف وہی شخص اِسے سمجھ سکتا اور اِس میں لکھی باتوں پر عمل کر سکتا ہے جو دل سے خاکسار ہے۔—2-کُر 3:15، 16۔
10. بائبل سے اَور کس طرح یہوواہ کی دانشمندی کا پتہ چلتا ہے؟
10 بائبل سے ایک اَور طریقے سے بھی یہوواہ کی دانشمندی کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ یہوواہ اپنے بندوں کو صرف ایک گروہ کے طور پر ہی نہیں بلکہ ہر ایک کو الگ الگ بھی تعلیم اور تسلی دیتا ہے۔ جب ہم بائبل کو پڑھتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہوواہ کو ہم میں سے ہر ایک کی فکر ہے۔ (یسع 30:21) جب آپ کو کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے اور آپ رہنمائی کے لیے بائبل پڑھتے ہیں تو یقیناً آپ کو کوئی نہ کوئی ایسی آیت ضرور مل جاتی ہے جس سے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ اِس مشکل گھڑی میں یہ آیت آپ کے لیے بہت فائدہمند ہے۔ اور حیرانی کی بات ہے کہ یہوواہ نے بائبل کو ایک شخص کو ذہن میں رکھ کر نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کو ذہن میں رکھ کر لکھوایا تھا۔ اِس میں ایسی باتیں لکھی ہیں جو ہر شخص کے لیے فائدہمند ثابت ہو سکتی ہیں۔ اِس کی وجہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس ہستی نے اِس کو لکھوایا ہے، وہ کائنات کی سب سے دانشمند ہستی ہے۔—2-تیم 3:16، 17۔
بائبل سے یہوواہ کا اِنصاف ظاہر ہوتا ہے
11. جب یہوواہ بائبل لکھوا رہا تھا تو اُس نے کیسے ثابت کِیا کہ وہ کسی کی طرفداری نہیں کرتا؟
11 یہوواہ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اِنصافپسند ہے۔ (اِست 32:4) جو شخص اِنصافپسند ہوتا ہے، وہ کسی کی طرفداری نہیں کرتا۔ اور یہوواہ بھی کسی کی طرفداری نہیں کرتا۔ (اعما 10:34، 35؛ روم 2:11) یہ چیز اِس بات سے صاف نظر آتی ہے کہ اُس نے بائبل ایسی زبان میں لکھوائی جو اُس وقت لوگ عام طور پر سمجھتے تھے۔ یہوواہ نے بائبل کی پہلی 39 کتابوں کا زیادہتر حصہ عبرانی زبان میں لکھوایا جو اُس وقت خدا کے بندے بڑی آسانی سے سمجھ سکتے تھے۔ لیکن پہلی صدی عیسوی میں زیادہتر لوگ یونانی زبان سمجھتے تھے۔ اِس لیے بائبل کی آخری 27 کتابوں کا زیادہتر حصہ یونانی زبان میں لکھوایا گیا۔ یہوواہ نے اپنے کلام کو کسی ایک زبان تک محدود نہیں رکھا۔ آج پوری دُنیا میں آٹھ ارب لوگ ہیں جو فرق فرق زبانیں بولتے ہیں۔ اِتنے سارے لوگ یہوواہ کے بارے میں کیسے سیکھ پائے؟
12. اِس آخری زمانے میں دانیایل 12:4 میں لکھی بات کیسے پوری ہو رہی ہے؟
12 یہوواہ نے دانیایل نبی کے ذریعے پیشگوئی کی تھی کہ آخری زمانے میں بائبل میں پائی جانے والی ”دانش“ یعنی علم ’افزوں ہوگا‘ یعنی بہت بڑھ جائے گا۔ اِس کا مطلب ہے کہ بہت سے لوگ بائبل میں لکھی باتوں کو سمجھ جائیں گے۔ (دانیایل 12:4 کو پڑھیں۔) ایک طریقہ جس کے ذریعے یہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے، وہ یہ ہے کہ بائبل اور بائبل کی تعلیم دینے والی کتابوں کا ترجمہ کِیا جا رہا ہے، اِنہیں شائع کِیا جا رہا ہے اور اِنہیں بہت سے لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ بائبل وہ کتاب ہے جس کا سب سے زیادہ ترجمہ کِیا جاتا ہے اور جسے سب سے زیادہ لوگوں میں تقسیم کِیا جاتا ہے۔ بہت سی کمپنیاں بائبل کا ترجمہ کرتی ہیں لیکن اِسے بہت مہنگے داموں بیچتی ہیں۔ یہوواہ کے بندوں نے پوری بائبل یا اِس کے کچھ حصوں کا ترجمہ 240 سے زیادہ زبانوں میں کِیا ہے اور وہ اِسے لوگوں کو مُفت دیتے ہیں۔ اِس وجہ سے خاتمے سے پہلے سب قوموں کے لوگ ”بادشاہت کی خوشخبری“ کو سُن پا رہے ہیں۔ (متی 24:14) ہمارا خدا اِنصافپسند ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بائبل کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگ اُسے جان پائیں۔ اور وہ ایسا اِس لیے چاہتا ہے کیونکہ وہ ہم سب سے بہت پیار کرتا ہے۔
بائبل سے یہوواہ کی محبت ظاہر ہوتی ہے
13. ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ بائبل سے یہوواہ کی محبت کا پتہ چلتا ہے؟ (یوحنا 21:25)
13 بائبل سے یہوواہ کی سب سے بڑی خوبی یعنی محبت کا پتہ چلتا ہے۔ (1-یوح 4:8) ذرا غور کریں کہ یہوواہ نے بائبل میں کون سی باتیں لکھوائی ہیں اور کون سی باتیں نہیں لکھوائیں۔ اُس نے بائبل میں وہ باتیں لکھوائی ہیں جن کے ذریعے سے ہم اُس سے ساتھ دوستی کر سکتے ہیں، ابھی خوشیوں بھری زندگی گزار سکتے ہیں اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن یہوواہ نے بائبل میں ایسی تفصیلات نہیں لکھوائیں جنہیں سمجھنا ہمارے بس سے باہر ہے کیونکہ اُسے ہم سے محبت ہے۔—یوحنا 21:25 کو پڑھیں۔
14. بائبل میں لکھی باتوں سے خدا کی محبت کا اَور کس طرح سے پتہ چلتا ہے؟
14 یہوواہ بائبل کے ذریعے اِس طرح ہم سے بات کرتا ہے کہ ہمیں عزت ملے۔ اِس سے بھی اُس کی محبت کا پتہ چلتا ہے۔ اُس نے ہمیں یہ بتانے کے لیے ایک لمبی چوڑی فہرست نہیں دی کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ اِس کی بجائے وہ حقیقی واقعات، پیشگوئیوں اور اچھے مشوروں کے ذریعے صحیح فیصلے کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اِس طرح خدا کا کلام ہمارے دل میں یہوواہ کے لیے محبت اور اُس کی بات ماننے کی خواہش پیدا کرتا ہے۔
ہمیں اِس بارے میں سوچ بچار کیوں کرنی چاہیے کہ ماضی میں یہوواہ نے اپنے بندوں کا ساتھ کیسے دیا؟ (پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)
15. (الف) یہوواہ نے کیسے ثابت کِیا ہے کہ وہ ہم میں سے ہر ایک کی فکر کرتا ہے؟ (ب) تصویر میں ایک چھوٹی بچی، ایک جوان بھائی اور ایک بوڑھی بہن بائبل سے کون سی مثالوں پر غور کر رہے ہیں؟ (پید 39:1، 10-12؛ 2-سلا 5:1-3؛ لُو 2:25-38)
15 بائبل سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ کو ہم میں سے ہر ایک کی فکر ہے۔ لیکن کیسے؟ اُس کے کلام میں ایسے واقعات لکھے ہیں جن میں اِنسانوں کے احساسات صاف نظر آتے ہیں۔ ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ سب کیسا محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ ”ہمارے جیسے احساسات رکھتے تھے۔“ (یعقو 5:17) سب سے بڑھ کر جب ہم اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ ماضی میں یہوواہ نے اپنے بندوں کے احساسات کا خیال رکھا تو ہم یہ اَور اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں کہ ”یہوواہ بہت ہی شفیق اور رحیم ہے۔“—یعقو 5:11۔
16. جب ہم بائبل سے ایسے لوگوں کے بارے میں پڑھتے ہیں جنہوں نے غلطیاں کیں تو اِس سے ہمیں یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ (یسعیاہ 55:7)
16 بائبل میں یہوواہ کی محبت کو ایک اَور طریقے سے بھی بتایا گیا ہے۔ صحیفوں میں ہمیں اِس بات کا یقین دِلایا گیا ہے کہ اگر ہم سے غلطیاں ہو جاتی ہیں تو بھی یہوواہ ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ بنیاِسرائیل نے بار بار یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا۔ لیکن جب اُنہوں نے دل سے توبہ کی تو یہوواہ نے اُنہیں معاف کر دیا۔ (یسعیاہ 55:7 کو پڑھیں۔) پہلی صدی عیسوی کے مسیحی یہ بات جانتے تھے کہ یہوواہ اُن سے بہت پیار کرتا ہے۔ یہوواہ کی پاک روح کی رہنمائی میں پولُس رسول نے اپنے ہمایمانوں سے کہا کہ وہ اُس شخص کو ”معاف کر دیں اور اُسے تسلی دیں“ جس سے ایک بہت بڑا گُناہ ہو گیا تھا۔ لیکن بعد میں اُس نے دل سے توبہ کر لی تھی۔ (2-کُر 2:6، 7؛ 1-کُر 5:1-5) یہ بات ہمارے دل کو چُھو لیتی ہے کہ یہوواہ نے اُس وقت بھی اپنے بندوں کا ساتھ نہیں چھوڑا جب اُن سے غلطیاں ہوئیں۔ اِس کی بجائے اُس نے پیار سے اُن کی مدد کی، اُن کی درستی کی اور پھر سے اُنہیں اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اگر کسی شخص سے گُناہ ہو جاتا ہے اور وہ دل سے توبہ کرتا ہے تو یہوواہ نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ ایسا ہی کرے گا۔—یعقو 4:8-10۔
خدا کے کلام کی قدر کریں
17. بائبل ایک بہت بڑی نعمت کیوں ہے؟
17 بائبل یہوواہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت کیوں ہے؟ جیسا کہ ہم نے سیکھا ہے کہ بائبل سے یہوواہ کی دانشمندی، اُس کا اِنصاف اور اُس کی محبت صاف نظر آتی ہے۔ اِس کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اُسے قریب سے جانیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے دوست بن جائیں۔
18. ہم کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم بائبل کے لیے یہوواہ کے شکرگزار ہیں؟
18 ہم اِس بات کو کبھی نہیں بھولنا چاہتے کہ بائبل خدا کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ (یعقو 1:17) اِس لیے آئیے، یہ ثابت کرتے رہیں کہ ہم اِس نعمت کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے ہم دُعا کر کے اِسے پڑھ سکتے ہیں اور جو کچھ پڑھتے ہیں، اُس پر سوچ بچار کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہم اِس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ کی مدد سے ہم اُس کی ”معرفت“ یعنی اُس کا علم حاصل کریں گے۔—امثا 2:5۔
گیت نمبر 98: خدا کا پاک کلام
a بائبل خدا کے قریب جانے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ اِس مُقدس کتاب سے ہمیں یہوواہ کی دانشمندی، اُس کے اِنصاف اور اُس کی محبت کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ اِس مضمون میں ہم جو کچھ سیکھیں گے، اُسے جان کر ہمارے دل میں خدا کے کلام کے لیے قدر بڑھ جائے گی۔ اور ہم یہ سمجھ جائیں گے کہ بائبل واقعی ہمارے آسمانی باپ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔