یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م22 اگست ص.‏ 14-‏19
  • ‏’‏سچائی کے مطابق چلتے رہیں‘‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏’‏سچائی کے مطابق چلتے رہیں‘‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمیں ”‏سچائی“‏ سے محبت کیوں کرنی چاہیے؟‏
  • ہم سچائی کے لیے محبت کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏
  • ‏’‏مَیں تیری سچائی پر چلوں گا‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • ‏’‏سچائی کو مول لیں اور اُسے بیچ نہ ڈالیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • مسیحی رُوح اور سچائی سے پرستش کرتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • سچائی کے خدا کی نقل کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
م22 اگست ص.‏ 14-‏19

مطالعے کا مضمون نمبر 34

‏’‏سچائی کے مطابق چلتے رہیں‘‏

‏’‏سچائی کے مطابق چلتے رہیں۔‘‏‏—‏3-‏یوح 4‏۔‏

گیت نمبر 111‏:‏ ہماری خوشی کی وجوہات

مضمون پر ایک نظرa

1.‏ ہمیں اِس بارے میں بات کر کے فائدہ کیوں ہوتا ہے کہ ہم سچائی میں کیسے آئے؟‏

‏”‏آپ سچائی میں کیسے آئے؟“‏ بے‌شک آپ نے کئی بار اِس سوال کا جواب دیا ہوگا۔ اکثر یہ وہ پہلا سوال ہوتا ہے جو ہم اپنے بہن بھائیوں کو جاننے کے لیے پوچھتے ہیں۔ ہمیں یہ سُن کر بہت اچھا لگتا ہے کہ ہمارے بہن بھائیوں نے کس طرح سے یہوواہ کو جانا اور اُس سے محبت کرنے لگے۔ ہمیں اُس وقت بھی بہت اچھا لگتا ہے جب ہم دوسروں کو بتاتے ہیں کہ ہم سچائی سے محبت کیوں کرتے ہیں۔ (‏روم 1:‏11‏)‏ ایسی بات‌چیت سے ہم یہ یاد رکھ پاتے ہیں کہ سچائی ہمارے لیے کتنی قیمتی ہے۔ اِس سے ہمارا یہ عزم اَور بھی مضبوط ہوتا ہے کہ ہم ’‏سچائی کے مطابق چلتے رہیں‘‏ گے یعنی ہم اِس طرح سے زندگی گزارتے رہیں گے جس سے یہوواہ خوش ہو اور ہمیں برکتیں دے۔—‏3-‏یوح 4‏۔‏

2.‏ اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟‏

2 اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم کن باتوں کی وجہ سے سچائی سے محبت کرتے ہیں۔ ہم اِس بات پر بھی غور کریں گے کہ ہم آگے بھی یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ہمیں سچائی بہت عزیز ہے۔ بے‌شک ایسا کرنے سے ہمارے دل میں اِس بات کے لیے قدر اَور زیادہ بڑھ جائے گی کہ یہوواہ نے ہمیں سچائی میں لانے کے لیے کتنا کچھ کِیا ہے۔ (‏یوح 6:‏44‏)‏ اِس سے ہمارے دل میں یہ خواہش بھی بڑھے گی کہ ہم دوسروں کو بھی سچائی کے بارے میں بتائیں۔‏

ہمیں ”‏سچائی“‏ سے محبت کیوں کرنی چاہیے؟‏

3.‏ سچائی سے محبت کرنے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟‏

3 ہمارے پاس سچائی سے محبت کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ لیکن سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہم یہوواہ سے محبت کرتے ہیں جو کہ سچائی کا سرچشمہ ہے۔ اُس کے کلام بائبل کے ذریعے ہم نہ صرف یہ جان گئے ہیں کہ یہوواہ کائنات کا خالق‌ومالک ہے بلکہ ہم یہ بھی جان گئے ہیں کہ وہ ہمارا شفیق آسمانی باپ ہے جسے ہماری بہت زیادہ فکر ہے۔ (‏1-‏پطر 5:‏7‏)‏ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا خدا ”‏رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا [‏”‏سچائی،“‏ ترجمہ نئی دُنیا‏]‏ میں غنی“‏ ہے۔ (‏خر 34:‏6)‏ یہوواہ اِنصاف‌پسند ہے۔ (‏یسع 61:‏8‏)‏ اِس لیے جب وہ ہمیں تکلیف میں دیکھتا ہے تو اُسے بہت دُکھ ہوتا ہے اور اُس کی شدید خواہش ہے کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر ہماری ہر تکلیف کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ (‏یرم 29:‏11‏)‏ ہمیں اُس وقت کا شدت سے اِنتظار ہے جب یہوواہ ایسا کرے گا۔ اِنہی باتوں کی وجہ سے تو ہم یہوواہ سے اِتنی محبت کرتے ہیں!‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ بحری جہاز کے ایک لنگر کی چھوٹی تصویر۔ 1.‏ زمین پر فردوس جہاں خوب‌صورت پہاڑ اور وادیاں ہیں اور دریا بہہ رہا ہے۔ 2.‏ ایک بہن ایک عورت کو گواہی دے رہی ہے۔‏

پاک کلام سے سچائیاں اِن چیزوں کی طرح ہے:‏ بحری جہاز کا لنگر

بحری جہاز کا لنگر کشتی کو ڈگمگانے نہیں دیتا۔ اِسی طرح بائبل میں پائی جانے والی اُمید ہمیں مشکلوں میں ڈگمگانے نہیں دیتی۔ پاک کلام کی سچائیوں سے ہمارے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم دوسروں کو بھی مستقبل کے بارے میں اُمید دیں۔ (‏پیراگراف نمبر 4-‏7 کو دیکھیں۔)‏

4-‏5.‏ پولُس رسول نے کیوں کہا کہ ہماری اُمید بحری جہاز کے لنگر کی طرح ہے؟‏

4 سچائی سے محبت کرنے کی ایک اَور وجہ یہ ہے کہ اِس سے ہمیں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ ذرا اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔ یہوواہ نے اپنے کلام کے ذریعے ہمیں جو سچائیاں بتائی ہیں، اُن میں مستقبل کے بارے میں اُمید بھی شامل ہے۔ اِس اُمید کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے پولُس رسول نے ایک مثال دی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یہ اُمید ہماری جانوں کے لیے ایک لنگر کی طرح ہے۔ یہ مضبوط اور قابلِ‌بھروسا ہے۔“‏ (‏عبر 6:‏19‏)‏ جس طرح بحری جہاز کا لنگر اِسے ڈگمگانے نہیں دیتا اُسی طرح بائبل میں پائی جانے والی اُمید مشکلوں میں ہمیں ڈگمگانے نہیں دیتی۔‏

5 عبرانیوں 6 باب سے پچھلی آیتوں میں پولُس اُس اُمید کے بارے میں بات کر رہے تھے جو یہوواہ خدا نے مسح‌شُدہ مسیحیوں کو دی ہے۔ لیکن اُنہوں نے اِس باب کی 19 آیت میں جو بات کہی، وہ اُن مسیحیوں کے لیے بھی ہے جو زمین پر فردوس میں ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید رکھتے ہیں۔ (‏یوح 3:‏16‏)‏ بے‌شک ہمیشہ کی زندگی کی اُمید کے بارے میں جاننے سے ہماری زندگی کو ایک مقصد ملا ہے۔‏

6-‏7.‏ بہن اِیوون کو مستقبل کے بارے میں سچائی جان کر کیا فائدہ ہوا؟‏

6 ذرا بہن اِیوون کی مثال پر غور کریں۔ اُن کی پرورش یہوواہ کے گواہ کے طور پر نہیں ہوئی تھی اور بچپن میں اُنہیں موت سے بہت ڈر لگتا تھا۔ اُنہوں نے بتایا کہ اُنہوں نے بچپن میں ایک بات پڑھی تھی جو اُن کے ذہن پر چھپ گئی۔ وہ بات یہ تھی:‏ ”‏ایک دن سب کو مرنا ہے۔“‏ بہن اِیوون نے کہا:‏ ”‏یہ بات پڑھنے کے بعد مَیں رات کو سو نہیں پاتی تھی اور مستقبل کے بارے میں سوچتی رہتی تھی۔ مَیں سوچتی تھی کہ ”‏ایسا کیوں ہے کہ ہم بس کچھ ہی سال زندہ رہتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں؟“‏ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ مَیں مرنا نہیں چاہتی تھی!‏“‏

7 جب بہن اِیوون نوجوان تھیں تو اُن کی ملاقات یہوواہ کے گواہوں سے ہوئی۔ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏مجھے اِس بات پر یقین ہونے لگا کہ مَیں زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہنے کی اُمید رکھ سکتی ہوں۔“‏ اِس سچائی کو جاننے سے بہن اِیوون کو کیا فائدہ ہوا؟ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏اب مَیں ساری رات جاگ جاگ کر مستقبل یا موت کے بارے میں پریشان نہیں ہوتی رہتی۔“‏ اِس سچائی نے بہن اِیوون کی زندگی بدل دی۔ اِس لیے اُنہیں سچائی بہت عزیز ہے اور اُنہیں دوسروں کو مستقبل کے بارے میں بتا کر بہت خوشی ہوتی ہے۔—‏1-‏تیم 4:‏16‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ ایک ہیرے کی چھوٹی تصویر۔ 1.‏ زمین پر فردوس جہاں خوب‌صورت پہاڑ اور وادیاں ہیں اور دریا بہہ رہا ہے۔ 2.‏ ایک آدمی ڈبے میں بھری ٹرافیاں اور ایوارڈ پھینک رہا ہے۔‏

پاک کلام سے سچائیاں اِن چیزوں کی طرح ہے:‏ خزانہ

ہمارے پاس یہ اُمید ہے کہ ہم نہ صرف ابھی بلکہ خدا کی بادشاہت میں ہمیشہ تک اُس کی عبادت کریں گے۔ یہ سچائی ایک خزانے کی طرح ہے اور اِس کے آگے وہ قربانیاں کچھ بھی نہیں ہیں جو ہم اِسے پانے کے لیے دیتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 8-‏11 کو دیکھیں۔)‏

8-‏9.‏ (‏الف)‏ یسوع مسیح نے جو مثال دی، اُس میں آدمی اُس خزانے کی کتنی قدر کرتا تھا جو اُسے ملا تھا؟ (‏ب)‏ آپ سچائی کی کتنی قدر کرتے ہیں؟‏

8 یہوواہ نے بائبل کے ذریعے ہمیں جو سچائیاں بتائی ہیں، اُن میں بادشاہت کی خوش‌خبری بھی شامل ہے۔ یسوع مسیح نے بتایا تھا کہ خدا کی بادشاہت ایک چھپے ہوئے خزانے کی طرح ہے۔ متی 13:‏44 میں یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏آسمان کی بادشاہت ایک خزانے کی طرح ہے جو کھیت میں چھپا ہوا تھا۔ یہ خزانہ ایک آدمی کو ملا اور اُس نے اِسے دوبارہ چھپا دیا۔ وہ اِس خزانے سے اِتنا خوش ہوا کہ اُس نے جا کر اپنا سب کچھ بیچ دیا اور اُس کھیت کو خرید لیا۔“‏ غور کریں کہ یہ آدمی خزانہ تلاش نہیں کر رہا تھا بلکہ یہ اُسے اِتفاق سے مل گیا تھا۔ مگر جب یہ خزانہ اُسے ملا تو اُس نے اِسے حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ بیچ دیا۔ اُس نے ایسا کیوں کِیا؟ کیونکہ وہ اُس خزانے کی قیمت جانتا تھا۔ اُس نے جو کچھ قربان کِیا تھا، وہ اُس خزانے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔‏

9 کیا آپ بھی سچائی کے بارے میں ایسا ہی محسوس کرتے ہیں؟ بے‌شک آپ ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جو خوشی ہمیں یہوواہ کی عبادت کرنے اور ہمیشہ کی زندگی کی اُمید رکھنے سے ملتی ہے، وہ اِس دُنیا کی دی ہوئی کسی بھی چیز سے نہیں مل سکتی۔ ہم نے یہوواہ سے دوستی کرنے کی خاطر جو قربانیاں دی ہیں، وہ یہوواہ کی قُربت حاصل کرنے کے آگے کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہمیں تو سب سے زیادہ خوشی اِس بات سے ملتی ہے کہ ہم ’‏ہر معاملے میں یہوواہ کو خوش کرتے رہیں۔‘‏—‏کُل 1:‏10‏۔‏

10-‏11.‏ بھائی مائیکل نے کس وجہ سے خود کو بدل لیا؟‏

10 ہم میں سے بہت سے بہن بھائیوں نے یہوواہ کو خوش کرنے کے لیے بہت بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ کچھ بہن بھائیوں نے دُنیا میں نام کمانے کے موقعے چھوڑ دیے؛ کچھ نے بہت زیادہ دولت حاصل کرنا چھوڑ دیا اور کچھ نے یہوواہ کے بارے میں سیکھنے کے بعد خود کو مکمل طور پر بدل لیا۔ اِن میں سے ایک بھائی مائیکل ہیں۔ اُن کی پرورش یہوواہ کے گواہ کے طور پر نہیں ہوئی تھی۔ جب وہ جوان تھے تو اُنہوں نے کراٹے سیکھے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے اِس بات پر بڑا فخر تھا کہ مَیں نے خود کو اِتنا فٹ رکھا ہوا ہے۔ کبھی کبھار تو مجھے لگتا تھا کہ مجھے کوئی بھی نہیں ہرا سکتا۔“‏ لیکن جب بھائی مائیکل نے بائبل کورس کرنا شروع کِیا تو اُنہوں نے سیکھا کہ یہوواہ خدا کو مار پیٹ سے نفرت ہے۔ (‏زبور 11:‏5‏)‏ جو میاں بیوی بھائی مائیکل کو بائبل کورس کرا رہے تھے، اُن کے بارے میں بھائی مائیکل نے کہا:‏ ”‏اُنہوں نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہیں کہا کہ مَیں کراٹے چھوڑ دوں۔ وہ بس مجھے بائبل کی تعلیم دیتے رہے۔“‏

11 بھائی مائیکل جتنا زیادہ یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھتے گئے، اُتنی ہی زیادہ اُن کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت بڑھتی گئی۔ جس بات نے بھائی مائیکل کے دل کو بہت زیادہ چُھوا، وہ یہ تھی کہ یہوواہ کو اپنے بندوں سے کتنی زیادہ ہمدردی ہے۔ پھر ایک وقت آیا کہ بھائی مائیکل کو احساس ہوا کہ اُنہیں خود کو بدلنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں جانتا تھا کہ میرے لیے کراٹے چھوڑنا سب سے زیادہ مشکل کام ہوگا۔ لیکن مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ ایسا کرنے سے مَیں یہوواہ کو خوش کروں گا۔ اور مَیں یہ بھی جانتا تھا کہ یہوواہ کی عبادت کے لیے میری یہ قربانی کچھ بھی نہیں ہے۔“‏ بھائی مائیکل جانتے تھے کہ یہوواہ نے اُنہیں جو سچائی بتائی ہے، وہ بہت قیمتی ہے۔ اور اِسی وجہ سے وہ خود کو بدلنے کو تیار تھے۔—‏یعقو 1:‏25‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ ایک چراغ کی چھوٹی تصویر۔ 1.‏ زمین پر فردوس جہاں خوب‌صورت پہاڑ اور وادیاں ہیں اور دریا بہہ رہا ہے۔ 2.‏ ایک عورت اُن باتوں پر سوچ بچار کر رہی ہے جو اُس نے بائبل میں پڑھی ہیں۔‏

پاک کلام سے سچائیاں اِن چیزوں کی طرح ہے:‏ چراغ

چراغ اندھیرے میں راستہ تلاش کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اِسی طرح یہوواہ کا کلام شیطان کی اندھیری دُنیا میں صحیح راستہ تلاش کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 12-‏13 کو دیکھیں۔)‏

12-‏13.‏ بائبل سے سچائی جان کر بہن مے‌لی کو کیا فائدہ ہوا؟‏

12 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ سچائی اندھیرے میں جلتے چراغ کی طرح ہے۔ (‏زبور 119:‏105؛‏ اِفس 5:‏8‏)‏ بہن مے‌لی نے دیکھا ہے کہ یہ بات بالکل سچ ہے۔ اُن کا تعلق آذربائیجان سے ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میرے دل میں خدا کے وجود کو لے کر کبھی شک پیدا نہیں ہوا۔ لیکن کچھ باتوں کو لے کر میرے دل میں کچھ سوال تھے۔ مَیں سوچتی تھی کہ ”‏خدا نے اِنسانوں کو کیوں بنایا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ ایک شخص ساری زندگی مشکلوں سے لڑتا رہے اور پھر مرنے کے بعد دوزخ کی آگ میں تڑپتا رہے؟“‏ لوگ کہتے تھے کہ سب کچھ خدا کی مرضی سے ہوتا ہے اِس لیے مَیں سوچتی تھی:‏ ”‏کیا خدا اِنسانوں کو اُنگلیوں پر نچاتا ہے اور پھر اُنہیں تکلیف میں دیکھ کر اُسے مزہ آتا ہے؟“‏“‏

13 بہن مے‌لی اپنے سوالوں کے جواب تلاش کرتی رہیں۔ پھر ایک وقت آیا جب اُنہوں نے بائبل کورس کرنا شروع کر دیا اور یہوواہ کی گواہ بن گئیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏بائبل میں جس طرح سے میرے سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں، اُس سے میرے دل کو سکون مل گیا ہے۔“‏ بہن مے‌لی کی طرح ہم بھی یہوواہ کے شکرگزار ہیں کہ اُس نے ’‏ہمیں تاریکی سے اپنی شان‌دار روشنی میں بُلایا ہے۔‘‏—‏1-‏پطر 2:‏9‏۔‏

14.‏ ہم اپنے دل میں سچائی کے لیے محبت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟ (‏بکس ”‏پاک کلام سے سچائیاں کچھ اَور چیزوں کی طرح بھی ہیں‏“‏ کو دیکھیں۔)‏

14 ہم نے صرف کچھ ہی مثالوں پر غور کِیا ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ سچائی کتنی قیمتی ہے۔ سچائی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہم نے بحری جہاز کے لنگر، خزانے اور چراغ کی مثالوں پر غور کِیا ہے۔ بے‌شک آپ اَور بھی کئی مثالوں کا سوچ سکتے ہیں۔ بائبل کا ذاتی مطالعہ کرتے وقت سوچیں کہ ہمیں اَور کن باتوں کی وجہ سے سچائی سے محبت کرنی چاہیے۔ جتنی زیادہ ہم سچائی کے لیے محبت بڑھائیں گے اُتنا ہی زیادہ ہم ایسے طریقوں کے بارے میں سوچیں گے جن سے ہم سچائی کے لیے اپنی محبت ظاہر کر سکیں۔‏

کُھلی بائبل

پاک کلام سے سچائیاں کچھ اَور چیزوں کی طرح بھی ہیں

اِس مضمون میں ہم نے دیکھا کہ پاک کلام سے سچائیاں ایک بحری جہاز کے لنگر، ایک خزانے اور ایک چراغ کی طرح ہیں۔ لیکن یہ سچائیاں کچھ اَور چیزوں کی طرح بھی ہیں۔ مثال کے طور پر .‏ .‏ .‏

  • ایک شیشہ

    پاک کلام سے سچائیاں ایک شیشے کی طرح ہیں جن کے ذریعے ہم یہ دیکھ پاتے ہیں کہ ہم اندر سے کیسے شخص ہیں اور ہمیں خود میں کہاں پر بہتری لانے کی ضرورت ہے۔—‏یعقو 1:‏22-‏25

  • پانی کے قطرے

    پاک کلام سے سچائیاں پانی کی طرح ہیں۔ جس طرح گرم موسم میں پانی پینے سے ہم تازہ‌دم ہو جاتے ہیں اُسی طرح پاک کلام سے سچائیاں ہمیں شیطان کی اِس دُنیا میں تازہ‌دم کر دیتی ہیں۔—‏زبور 23:‏2، 3

ہم سچائی کے لیے محبت کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

15.‏ سچائی کے لیے محبت دِکھانے کا ایک طریقہ کیا ہے؟‏

15 سچائی کے لیے محبت دِکھانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم باقاعدگی سے بائبل کو اور تنظیم کی تیار کی ہوئی کتابوں وغیرہ کو پڑھیں۔ چاہے ہم کتنے بھی عرصے سے یہوواہ کے گواہ ہوں پھر بھی بہت سی ایسی باتیں ہیں جو ہمیں ہمیشہ سیکھتے رہنے کی ضرورت ہے۔ ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ کے سب سے پہلے شمارے میں لکھا تھا:‏ ”‏سچائی ایک چھوٹے سے پھول کی طرح ہے۔ یہ پھول زندگی کے جنگل میں اُگتا ہے جس میں جھوٹ کی جھاڑیوں کی کثرت ہے۔ اِس لیے سچائی کے پھول کو تلاش کرنے کے لیے آپ کو بڑی چھان‌بین کرنی پڑتی ہے۔ .‏ .‏ .‏ اور جب یہ آپ کو مل جاتا ہے تو آپ کو اِسے حاصل کرنے کے لیے جھک کر اِسے توڑنا پڑتا ہے۔ لیکن صرف ایک ہی پھول حاصل کرنے پر راضی نہ رہیں۔ .‏ .‏ .‏ اپنی تلاش کو جاری رکھیں؛ زیادہ پھول حاصل کرنے کی کوشش کریں۔“‏ سچ ہے کہ بائبل میں لکھی باتوں پر تحقیق کرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑتی ہے لیکن اِس کا فائدہ بہت ہوتا ہے۔‏

16.‏ آپ کو کس طریقے سے بائبل میں لکھی باتوں پر تحقیق اور سوچ بچار کرنے سے فائدہ ہوا ہے؟ (‏امثال 2:‏4-‏6‏)‏

16 ہم میں سے بہت سے بہن بھائیوں کو پڑھنا اور تحقیق کرنا اِتنا پسند نہیں ہے۔ یہوواہ نے ہم سے کہا ہے کہ ہم پاک کلام میں لکھی سچائیوں کو ’‏ڈھونڈتے رہیں‘‏ اور اِنہیں ’‏تلاش کرتے رہیں‘‏ تاکہ ہم اِنہیں اچھی طرح سے سمجھ جائیں۔ ‏(‏امثال 2:‏4-‏6 کو پڑھیں۔)‏ جب ہم ایسا کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے۔ بھائی کورے نے بتایا کہ جب وہ بائبل پڑھتے ہیں تو وہ ایک وقت میں صرف ایک آیت پر دھیان دیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں اُس آیت کے سارے فٹ‌نوٹ دیکھتا ہوں، اُس آیت سے جڑی ہوئی آیتیں دیکھتا ہوں اور اِضافی تحقیق کرتا ہوں۔ .‏ .‏ .‏ اِس طرح مَیں بہت سی باتیں سیکھ پایا ہوں۔“‏ جب ہم اِس طرح یا کسی اَور طریقے سے بائبل میں لکھی باتوں پر تحقیق اور سوچ بچار کرنے کے لیے وقت نکالتے ہیں اور اِنہیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم سچائی کے لیے قدر دِکھا رہے ہوتے ہیں۔—‏زبور 1:‏1-‏3‏۔‏

17.‏ سچائی کے مطابق چلنے کا کیا مطلب ہے؟ (‏یعقوب 1:‏25‏)‏

17 بے‌شک پاک کلام میں لکھی سچائیوں پر صرف تحقیق اور سوچ بچار کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ ہمیں سچائی کی راہ پر چلنے کی بھی ضرورت ہے یعنی ہمیں اُن باتوں پر عمل بھی کرنا ہوگا جو ہم سیکھتے ہیں۔ تبھی ہمیں سچی خوشی ملے گی۔ ‏(‏یعقوب 1:‏25 کو پڑھیں۔)‏ ہم کیسے دیکھ سکتے ہیں کہ ہم سچائی کے مطابق چل رہے ہیں یا نہیں؟ ایک بھائی نے کہا کہ ہمیں اپنا جائزہ لینے کے لیے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کن معاملوں میں اچھا کر رہے ہیں اور ہمیں کن معاملوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اِس سلسلے میں پولُس نے کہا:‏ ”‏ہم نے جتنی بھی پختگی حاصل کر لی ہو، آئیں، آگے بڑھتے رہیں۔“‏—‏فل 3:‏16‏۔‏

18.‏ ہمیں سچائی کے مطابق چلتے رہنے کی پوری کوشش کیوں کرنی چاہیے؟‏

18 ذرا سوچیں کہ جب ہم ’‏سچائی کے مطابق چلنے‘‏ کی پوری کوشش کرتے ہیں تو اِس سے ہمیں کتنے فائدے ہوتے ہیں۔ اِس سے نہ صرف ہماری زندگی سنور جاتی ہے بلکہ ہم یہوواہ اور اپنے ہم‌ایمانوں کو بھی خوش کرتے ہیں۔ (‏امثا 27:‏11؛‏ 3-‏یوح 4‏)‏ بے‌شک یہ سچائی سے محبت کرنے اور اِس کے مطابق زندگی گزارنے کی بہت بڑی وجہ ہیں۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • ہمیں ”‏سچائی“‏ سے محبت کیوں کرنی چاہیے؟‏

  • ہم اپنے دل میں سچائی کے لیے قدر کیسے بڑھا سکتے ہیں؟‏

  • ہم کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم سچائی سے محبت کرتے ہیں؟‏

گیت نمبر 144‏:‏ اِس اُمید کو تھام لیں

a ہم اکثر اپنے عقیدوں اور زندگی گزارنے کے طریقے کو سچائی کہتے ہیں۔ چاہے ہم حال ہی میں یہوواہ کے گواہ بنے ہوں یا پھر ہمیں یہوواہ کا گواہ بنے کئی سال ہو چُکے ہوں، ہم سب کو اِس بات پر غور کرنے سے بہت فائدہ ہوگا کہ ہم سچائی سے محبت کیوں کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے یہوواہ کو خوش کرنے کا ہمارا عزم اَور مضبوط ہو جائے گا۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں