یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م22 جون ص.‏ 14-‏19
  • محبت ڈر پر قابو پانے میں ہماری مدد کرتی ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • محبت ڈر پر قابو پانے میں ہماری مدد کرتی ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اِس بات کا ڈر کہ ہم اپنے گھر والوں کی ضرورتیں کیسے پوری کریں گے
  • اِنسان کا ڈر
  • موت کا ڈر
  • آپ اپنے ڈر پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟‏
  • یہوواہ سے ڈرو اور اس کے پاک نام کی تمجید کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • یہوواہ کا خوف ماننے والا دل پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • یہوواہ سے ڈر اور اُسکے حکموں کو مان
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • یہوؔواہ کے خوف میں شادمانی حاصل کرنا سیکھنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
م22 جون ص.‏ 14-‏19

مطالعے کا مضمون نمبر 26

محبت ڈر پر قابو پانے میں ہماری مدد کرتی ہے

‏”‏[‏یہوواہ]‏ میری طرف ہے مَیں نہیں ڈرنے کا۔“‏‏—‏زبور 118:‏6‏۔‏

گیت نمبر 105‏:‏ ”‏خدا محبت ہے“‏

مضمون پر ایک نظرa

1.‏ ہم اکثر کن باتوں کی وجہ سے ڈر جاتے ہیں؟‏

ذرا اِن صورتحال کے بارے میں سوچیں جن کا کچھ یہوواہ کے گواہوں کو سامنا کرنا پڑا۔ بھائی مائیکل اور اُن کی بیوی ماریہ ایک ایسے علاقے میں جانا چاہتے تھے جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت تھی۔‏b لیکن اِس کے لیے اُنہیں اپنے اخراجات کو کم کرنا تھا۔ مگر اُنہیں اِس بات کا ڈر تھا کہ شاید وہ کم پیسوں میں گزارہ نہیں کر پائیں گے۔ بھائی بینجمن ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ہمارے کام کی مخالفت کی جاتی ہے۔ جب وہ یہوواہ کے گواہ بنے تو وہ جانتے تھے کہ یسوع کا پیروکار ہونے کی وجہ سے اُنہیں اذیت دی جائے گی۔ وہ اِس وجہ سے بہت ڈرے ہوئے تھے۔ لیکن اُنہیں زیادہ ڈر اِس بات کا تھا کہ جب اُن کے گھر والوں کو پتہ چلے گا کہ اُنہوں نے اپنا مذہب بدل لیا ہے تو وہ کیا کریں گے۔ بہن ویلری کو پتہ چلا کہ اُنہیں ایک بہت خطرناک قسم کا کینسر ہے۔ اُنہیں کوئی ایسا ڈاکٹر نہیں مل رہا تھا جو خون کے بغیر اُن کا علاج کرتا۔ اِس وجہ سے وہ بہت ڈر ی ہوئی تھیں کیونکہ اُنہیں لگ رہا تھا کہ وہ مر جائیں گی۔‏

2.‏ ہمیں اپنے ڈر پر قابو کیوں پانا چاہیے؟‏

2 کیا آپ کو بھی کبھی اِس طرح کی باتوں سے ڈر لگا ہے؟ ہم میں سے بہت سے بہن بھائیوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ اگر ہم اپنے ڈر پر قابو پانا نہیں سیکھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ہم ایسے فیصلے کر بیٹھیں جن کی وجہ سے یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی کمزور پڑ جائے۔ اور شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ ایسا ہو۔ وہ ہمارے ڈر کا فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے تاکہ ہم یہوواہ کے حکم نہ مانیں جن میں مُنادی کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔ (‏مکا 12:‏17‏)‏ یہ سچ ہے کہ شیطان بہت بُرا، ظالم اور طاقت‌ور ہے۔ لیکن ہم خود کو اُس سے بچا سکتے ہیں۔ مگر کیسے؟‏

3.‏ کیا چیز ہماری مدد کرے گی تاکہ ہم اپنے ڈر پر قابو پا سکیں؟‏

3 جب ہمیں اِس بات کا پورا یقین ہوگا کہ یہوواہ ہم سے پیار کرتا ہے اور وہ ہماری طرف ہے تو شیطان ہمارے ڈر کا فائدہ نہیں اُٹھا سکے گا۔ (‏زبور 118:‏6‏)‏ مثال کے طور پر یہوواہ کے جس بندے نے زبور 118 لکھا، اُسے کچھ سخت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس کے بہت سے دُشمن تھے جن میں سے کچھ تو بہت اِختیار والے تھے۔ (‏9، 10 آیت)‏ کبھی کبھار تو اُسے سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ (‏13 آیت)‏ اِتنا ہی نہیں، یہوواہ نے بھی سختی سے اُس کی درستی کی۔ (‏18 آیت)‏ اِتنی زیادہ مشکلوں سے گزرنے کے بعد بھی یہوواہ کے اِس بندے نے کہا:‏ ”‏مَیں ڈرنے کا نہیں۔“‏ لیکن اُس نے اِتنے یقین سے یہ بات کیوں کہی؟ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگرچہ یہوواہ نے اُس کی درستی کی ہے لیکن وہ اُس کا آسمانی باپ ہے جو اُس سے بہت پیار کرتا ہے۔ اُسے پورا یقین تھا کہ چاہے اُس پر کوئی بھی مشکل آ جائے، یہوواہ ہر قدم پر اُس کا ساتھ دے گا۔—‏زبور 118:‏29‏۔‏

4.‏ اگر ہم اِس بات پر بھروسا رکھیں گے کہ یہوواہ ہم سے پیار کرتا ہے تو ہم کون کون سے ڈر پر قابو پا لیں گے؟‏

4 ہمیں اِس بات پر پورا بھروسا رکھنا ہوگا کہ یہوواہ ہم میں سے ہر ایک سے پیار کرتا ہے۔ اِس بھروسے کی وجہ سے ہم اِن تین باتوں کے حوالے سے اپنے ڈر پر قابو پا لیں گے:‏ (‏1)‏ اِس بات کا ڈر کہ ہم اپنے گھر والوں کا ضرورتیں کیسے پوری کریں گے، (‏2)‏ اِنسانوں کا ڈر اور (‏3)‏ موت کا ڈر۔ جن بہن بھائیوں کا پیراگراف نمبر 1 میں ذکر ہوا ہے، اُنہوں نے اِن تینوں باتوں کے حوالے سے اپنے ڈر پر قابو پا لیا اور وہ ایسا اِس لیے کر پائے کیونکہ اُنہیں پکا یقین تھا کہ یہوواہ اُن سے بہت پیار کرتا ہے۔‏

اِس بات کا ڈر کہ ہم اپنے گھر والوں کی ضرورتیں کیسے پوری کریں گے

ایک بھائی اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر مچھلیاں پکڑ رہا ہے۔‏

ایک بھائی اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر مچھلیاں پکڑ رہا ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)‏

5.‏ کن صورتحال میں گھر کا سربراہ بہت زیادہ پریشان ہو سکتا ہے؟ (‏سرِورق کی تصویر کو دیکھیں۔)‏

5 گھر کے جو سربراہ یہوواہ کی عبادت کرتے ہیں، وہ اپنے گھر والوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی ذمے‌داری کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ (‏1-‏تیم 5:‏8‏)‏ اگر آپ گھر کے سربراہ ہیں تو شاید کورونا کی وبا کے دوران آپ کو اِس بات کا ڈر تھا کہ کہیں آپ کی نوکری نہ چُھوٹ جائے۔ شاید آپ اِس وجہ سے پریشان ہوئے ہوں کہ آپ اپنے گھر والوں کا پیٹ کیسے پالیں گے یا گھر کا کرایہ کیسے دیں گے۔ شاید آپ کو اِس بات کا بھی ڈر ہو کہ اگر آپ کی نوکری چُھوٹ گئی تو آپ کو دوسری نوکری نہیں ملے گی۔ یا شاید بھائی مائیکل اور بہن ماریہ کی طرح آپ نے بھی سوچا ہو کہ کم پیسوں میں آپ کا گزارہ نہیں ہوگا۔ یہوواہ کے بہت سے بندے اِن باتوں کی وجہ سے ڈر گئے اور شیطان نے اُن میں سے کئی کے ڈر کا فائدہ اُٹھا کر اُنہیں یہوواہ سے دُور کر دیا۔‏

6.‏ شیطان ہمیں کس بات کا یقین دِلانے کی کوشش کرتا ہے؟‏

6 شیطان ہمیں اِس بات کا یقین دِلانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہوواہ کو ہماری کوئی فکر نہیں ہے اور وہ ہمارے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں ہماری مدد نہیں کرے گا۔ اِس وجہ سے شاید ہم سوچیں کہ ہم کسی بھی قیمت پر اپنی نوکری کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے پھر چاہے اِس کے لیے ہمیں بائبل کا کوئی اصول ہی کیوں نہ توڑنا پڑے۔‏

7.‏ یسوع مسیح نے ہمیں کس بات کا یقین دِلایا؟‏

7 یسوع مسیح جتنی اچھی طرح سے اپنے آسمانی باپ کو جانتے ہیں اُتنی اچھی طرح سے اَور کوئی نہیں جانتا۔ اور اُنہوں نے ہمیں اِس بات کا یقین دِلایا ہے کہ یہوواہ ’‏ہمارے مانگنے سے پہلے جانتا ہے کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے۔‘‏ (‏متی 6:‏8‏)‏ یسوع مسیح جانتے ہیں کہ یہوواہ ہماری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہم اُس کے خاندان کا حصہ ہیں۔ اِس لیے ہم پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے خاندان کا سربراہ یہوواہ خود بھی اُس اصول پر عمل کرے گا جو اُس نے 1-‏تیمُتھیُس 5:‏8 میں لکھوایا ہے۔‏

ایک بہن اور اُس کی بیٹی ہاتھ سے کپڑے دھو رہی ہیں۔ ایک بھائی اور اُس کی بیوی اُن کے لیے کھانے پینے کی چیزیں لا رہے ہیں۔‏

یہوواہ اِس بات کا پورا خیال رکھے گا کہ ہمارے پاس ضرورت کی ہر چیز ہو۔ شاید وہ کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ذریعے ہماری ضرورتیں پوری کرے۔ (‏پیراگراف نمبر 8 کو دیکھیں۔)‏d

8.‏ (‏الف)‏ کیا چیز اِس ڈر پر قابو پانے میں ہماری مدد کرے گی کہ ہم اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پوری نہیں کر پائیں گے؟ (‏متی 6:‏31-‏33‏)‏ (‏ب)‏ ہم اُس میاں بیوی کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں جو تصویر میں ایک بہن کو کھانے پینے کی چیزیں دے رہا ہے؟‏

8 جب ہمیں اِس بات پر بھروسا ہوگا کہ یہوواہ ہم سے اور ہمارے گھر والوں سے پیار کرتا ہے تو ہمیں اِس بات پر یقین کرنا بالکل مشکل نہیں لگے گا کہ یہوواہ ہمیں وہ چیزیں ضرور دے گا جن کی ہمیں ضرورت ہے۔ ‏(‏متی 6:‏31-‏33 کو پڑھیں۔)‏ یہوواہ ہماری ضرورتوں کو پورا کرنا چاہتا ہے اور اُس نے اِس بات کے کئی ثبوت دیے ہیں کہ وہ ہم سے پیار کرتا ہے اور دل کھول کر ہمیں بہت سی چیزیں دیتا ہے۔ جب اُس نے زمین کو بنایا تو اُس نے ہمیں صرف وہی چیزیں نہیں دیں جو ہمارے زندہ رہنے کے لیے ضروری تھیں بلکہ اُس نے بہت سی ایسی چیزیں بھی بنائیں جن سے ہمیں بڑی خوشی ملتی ہے۔ (‏پید 2:‏9‏)‏ اگر کبھی کبھار ہمارے پاس صرف ضرورت کی چیز ہی ہے تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے پاس یہ ضرورت کی چیز بھی اِسی لیے ہے کیونکہ یہوواہ نے اپنا وعدہ نبھایا ہے۔ (‏متی 6:‏11‏)‏ ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اگر ہم یہوواہ کے لیے قربانیاں دیں گے تو اِس کے بدلے میں یہوواہ ہمیں اِتنی زیادہ خوشیاں دے گا کہ یہ قربانیاں اُن خوشیوں کے سامنے کچھ بھی نہیں ہوں گی۔ اور مستقبل میں یہوواہ ہمیں ہمیشہ کی زندگی دے گا۔ یہوواہ کی یہ بات بھائی مائیکل اور بہن ماریہ بھی اچھے سے سمجھ گئے۔—‏یسع 65:‏21، 22‏۔‏

9.‏ آپ نے بھائی مائیکل اور بہن ماریہ سے کیا سیکھا ہے؟‏

9 بھائی مائیکل اور بہن ماریہ ملک کولمبیا میں رہتے تھے۔ وہاں اُن کے پاس بہت اچھا گھر اور بہت اچھی نوکریاں تھیں۔ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏ہم اپنی زندگی کو سادہ بنانا چاہتے تھے اور یہوواہ کے لیے اَور زیادہ کام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ہمیں اِس بات کا ڈر تھا کہ کم پیسوں میں ہمارا گزارہ نہیں ہوگا۔“‏ کس چیز نے اِس ڈر پر قابو پانے میں اُن کی مدد کی؟ اُنہوں نے اِس بات پر غور کِیا کہ یہوواہ نے کس کس طرح سے اُن کے لیے اپنی محبت کا ثبوت دیا ہے۔ اُنہوں نے اِس بات پر بھروسا رکھا کہ یہوواہ اُن کا خیال رکھے گا۔ اور اِس بھروسے کی وجہ سے اُنہوں نے اپنی اچھی خاصی تنخواہ والی نوکریاں چھوڑ دیں۔ اُنہوں نے اپنا گھر بیچ دیا اور ملک کے ایک ایسے حصے میں شفٹ ہو گئے جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت تھی۔ وہ اپنے اِس فیصلے کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟ بھائی مائیکل نے کہا:‏ ”‏ہم نے دیکھا ہے کہ متی 6:‏33 میں لکھی بات بالکل سچ ہے۔ ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوئی اور اب ہم پہلے سے زیادہ خوش ہیں۔“‏

اِنسان کا ڈر

10.‏ یہ حیرانی کی بات کیوں نہیں ہے کہ اِنسان ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں؟‏

10 اِنسانوں نے شروع سے ہی ایک دوسرے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ (‏واعظ 8:‏9‏)‏ مثال کے طور پر جن لوگوں کے پاس اِختیار ہے، وہ دوسروں کے ساتھ بُری طرح سے پیش آتے ہیں؛ مُجرم دوسروں پر ظلم کرتے ہیں؛ سکول میں کئی بچے دوسرے بچوں کی بے‌عزتی کرتے اور اُنہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں اور کچھ لوگ تو اپنے ہی گھر والوں کے ساتھ بہت بُرا سلوک کرتے ہیں۔ اِس لیے اِس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کہ اِنسان ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں۔ شیطان اِنسانوں کے اِس ڈر کا فائدہ کیسے اُٹھاتا ہے؟‏

11-‏12.‏ شیطان اِنسانوں کے ڈر کا فائدہ کیسے اُٹھاتا ہے؟‏

11 شیطان کی کوشش ہے کہ ہم اِنسانوں سے اِتنا ڈر جائیں کہ ہم مُنادی کرنا اور یہوواہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چھوڑ دیں۔ اِس دُنیا کی حکومتوں پر شیطان کا اِختیار ہے جس کی وجہ سے یہ حکومتیں ہم پر پابندیاں لگاتی ہیں اور ہمیں اذیت دیتی ہیں۔ (‏لُو 21:‏12؛‏ مکا 2:‏10‏)‏ اِس کے علاوہ شیطان کی اِس دُنیا میں بہت سے لوگ ہمارے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلاتے ہیں اور ہم پر جھوٹے اِلزام لگاتے ہیں۔ جو لوگ اُن کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، وہ ہمارا مذاق اُڑاتے ہیں اور کچھ تو ہمیں مارتے پیٹتے ہیں۔ (‏متی 10:‏36‏)‏ لیکن ہم شیطان کی اِن چالوں کی وجہ سے پریشان نہیں ہوتے۔ اُس نے یہ چالیں پہلی صدی عیسوی میں بھی چلی تھیں۔—‏اعما 5:‏27، 28،‏ 40‏۔‏

ایک بھائی عبادت کے لیے جا رہا ہے اور اُس کے ماں باپ گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اُس پر چلّا رہے ہیں۔‏

اگر ہمارے گھر والے ہماری مخالفت کرتے ہیں تو ہم اِس بات کا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہم سے پیار کرتا ہے۔‏ (‏پیراگراف نمبر 12-‏14 کو دیکھیں۔)‏e

12 شیطان صرف حکومتوں کی طرف سے ملنے والی اذیت کے ڈر کو ہی ہمارے خلاف اِستعمال نہیں کرتا۔ کچھ لوگوں کو اذیت سہنے سے زیادہ ڈر اِس بات کا ہوتا ہے کہ اگر وہ یہوواہ کے گواہ بن گئے تو اُن کے گھر والے کیا سوچیں گے۔ وہ اپنے رشتے‌داروں سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ بھی یہوواہ کو قریب سے جانیں اور اُس سے پیار کریں۔ جب وہ اپنے رشتے‌داروں کو یہوواہ اور اُس کے بندوں کے بارے میں بُری باتیں کہتے ہوئے سنتے ہیں تو اُنہیں بہت دُکھ ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار تو ایسا بھی ہوا ہے کہ جو لوگ پہلے اپنے اُن رشتے‌داروں کی مخالفت کرتے تھے جو یہوواہ کے گواہ بن گئے، وہ بعد میں خود بھی یہوواہ کی عبادت کرنے لگے۔ لیکن اگر ہمارے رشتے‌دار ہمارے ایمان کی وجہ سے ہم سے ہر ناتا توڑ دیتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟‏

13.‏ اگر ہم اِس بات کا یقین رکھیں گے کہ یہوواہ ہم سے محبت کرتا ہے تو اِس سے اُس وقت ہماری مدد کیسے ہوگی جب ہمارے گھر والے ہمیں چھوڑ دیں گے؟ (‏زبور 27:‏10‏)‏

13 ہمیں اُس بات سے بڑی تسلی مل سکتی ہے جو زبور 27:‏10 میں لکھی ہے۔ ‏(‏اِس آیت کو پڑھیں۔)‏ جب ہم اِس بات کو یاد رکھیں گے کہ یہوواہ ہم سے کتنا پیار کرتا ہے تو ہم اُس وقت بھی نہیں ڈریں گے جب ہمارے گھر والے ہمیں چھوڑ دیں گے۔ ہمیں اِس بات کا پکا یقین ہے کہ یہوواہ ہماری وفاداری کا اجر ضرور دے گا۔ یہوواہ ہمیں ہر وہ چیز دے گا جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ وہ ہماری مدد کرے گا کہ ہم خوشیوں بھری اور سکون کی زندگی گزار سکیں اور اُس کے قریب رہ سکیں۔ بھائی بینجمن نے دیکھا کہ یہوواہ سچ میں ایسا کرتا ہے۔‏

14.‏ آپ نے بھائی بینجمن سے کیا سیکھا ہے؟‏

14 حالانکہ بھائی بینجمن جانتے تھے کہ اُن کے ملک کی حکومت یہوواہ کے گواہوں کو بہت زیادہ اذیت دیتی ہے لیکن اِس کے باوجود وہ یہوواہ کے گواہ بنے۔ ذرا غور کریں کہ اِس بات کو یاد رکھنے سے کہ یہوواہ اُن سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے، وہ اِنسان کے ڈر پر کیسے قابو پا سکے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے اِتنی اذیت دی گئی جس کا مَیں نے تصور بھی نہیں کِیا تھا۔ لیکن مجھے حکومت کی طرف سے اذیت سے زیادہ ڈر اِس بات کا تھا کہ میرے گھر والے میری مخالفت کریں گے۔ مجھے ڈر تھا کہ میرے گواہ بننے کی وجہ سے میرے ابو کو بہت دُکھ ہوگا اور میرے گھر والے میری عزت کرنا چھوڑ دیں گے۔“‏ لیکن بھائی بینجمن کو اِس بات کا پورا یقین تھا کہ یہوواہ اُن لوگوں کا ہمیشہ خیال رکھتا ہے جن سے وہ پیار کرتا ہے۔ بھائی بینجمن نے کہا:‏ ”‏مَیں نے اِس بات پر دھیان دیا کہ یہوواہ نے اُس وقت اپنے بندوں کی مدد کیسے کی جب اُنہیں پیسے کی تنگی ہوئی، دوسروں نے اُن سے تعصب کِیا اور لوگوں کی بِھیڑ نے اُن پر حملہ کِیا۔ مَیں جانتا تھا کہ اگر مَیں یہوواہ کا وفادار رہوں گا تو وہ میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔ مجھے کئی بار گِرفتار کِیا گیا، یہاں تک کہ مارا پیٹا گیا۔ اُس وقت مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب ہم یہوواہ کے وفادار رہتے ہیں تو مشکل وقت میں وہ کس طرح ہماری مدد کرتا ہے۔“‏ یہوواہ سچ میں بھائی بینجمن کا باپ ثابت ہوا اور اُس کے بندے بھائی بینجمن کا خاندان۔‏

موت کا ڈر

15.‏ موت سے ڈرنا حیرانی کی بات کیوں نہیں ہے؟‏

15 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ موت ایک دُشمن ہے۔ (‏1-‏کُر 15:‏25، 26‏)‏ شاید موت کے بارے میں سوچ کر ہی ہم بہت پریشان ہو جائیں، خاص طور پر اُس وقت جب ہم یا ہمارا کوئی عزیز بہت بیمار ہو۔ لیکن ہم موت سے کیوں ڈرتے ہیں؟ کیونکہ یہوواہ نے ہمارے اندر ہمیشہ تک زندہ رہنے کی خواہش ڈالی ہے۔ (‏واعظ 3:‏11‏)‏ لیکن موت سے کسی حد تک ڈرنا ہماری زندگی بچا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اِس ڈر کی وجہ سے ہم ایسا کھانا کھائیں گے جس سے ہماری صحت اچھی رہے، ہم باقاعدگی سے ورزش کریں گے، ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے پاس جائیں گے اور دوائی لیں گے اور بِلاوجہ اپنی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔‏

16.‏ شیطان موت کے ڈر کا فائدہ کیسے اُٹھاتا ہے؟‏

16 شیطان جانتا ہے کہ ہم زندگی سے پیار کرتے ہیں۔ اُس کا دعویٰ ہے کہ ہم اپنی جان بچانے کے لیے کچھ بھی قربان کرنے کو تیار ہو جائیں گے، یہاں تک کہ یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو بھی۔ (‏ایو 2:‏4، 5‏)‏ لیکن چونکہ شیطان ہم پر ”‏موت لا سکتا ہے“‏ اِس لیے وہ موت کے ڈر کو اِستعمال کر کے ہمیں یہوواہ سے دُور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (‏عبر 2:‏14، 15‏)‏ کبھی کبھار کچھ ایسے لوگ جو شیطان کے اثر میں ہیں، یہوواہ کے بندوں کو دھمکاتے ہیں کہ اگر اُنہوں نے یہوواہ کو نہ چھوڑا تو وہ اُنہیں جان سے مار دیں گے۔ کبھی کبھار ہمیں کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے فوراً علاج کی ضرورت پڑتی ہے اور شیطان اُس صورتحال کا فائدہ اُٹھا کر ہم سے یہوواہ کے حکم تڑوانے کی کوشش کرتا ہے۔ اُس وقت شاید ڈاکٹر یا ہمارے غیر ایمان رشتے‌دار ہم پر دباؤ ڈالیں کہ ہم خون لگوائیں جو کہ یہوواہ کے حکموں کے خلاف ہے۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی ہمیں ایسا علاج کروانے کو کہے جو بائبل کے اصولوں کے مطابق غلط ہے۔‏

17.‏ رومیوں 8:‏37-‏39 کے مطابق ہمیں موت سے کیوں نہیں ڈرنا چاہیے؟‏

17 سچ ہے کہ ہم مرنا نہیں چاہتے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم مر بھی گئے تو یہوواہ ہمیں پیار کرنا نہیں چھوڑے گا۔ ‏(‏رومیوں 8:‏37-‏39 کو پڑھیں۔)‏ جب یہوواہ کا کوئی دوست فوت ہو جاتا ہے تو یہوواہ اُسے یاد رکھتا ہے۔ اُس کے لیے اُس کا وہ دوست ایسے ہی ہوتا ہے جیسے وہ زندہ ہو۔ (‏لُو 20:‏37، 38‏)‏ اُس کی شدید خواہش ہے کہ وہ اپنے اُن دوستوں کو زندہ کر دے جو فوت ہو گئے ہیں۔ (‏ایو 14:‏15‏)‏ یہوواہ نے ہمیں ”‏ہمیشہ کی زندگی“‏ دِلانے کے لیے بہت بھاری قیمت چُکائی ہے۔ (‏یوح 3:‏16‏)‏ ہم جانتے ہیں کہ وہ ہم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے اور اُسے ہماری بہت فکر ہے۔ اِس لیے جب ہم بیمار ہوتے ہیں یا ہماری زندگی خطرے میں ہوتی ہے تو ہم یہوواہ کو چھوڑنے کی بجائے اُس سے تسلی، سمجھ‌داری اور طاقت مانگتے ہیں۔ بہن ویلری اور اُن کے شوہر نے بھی ایسا ہی کِیا۔—‏زبور 41:‏3‏۔‏

18.‏ آپ نے بہن ویلری سے کیا سیکھا ہے؟‏

18 جب بہن ویلری 35 سال کی تھیں تو اُنہیں پتہ چلا کہ اُنہیں ایک بہت خطرناک قسم کا کینسر ہے۔ لیکن غور کریں کہ یہ بات یاد رکھنے سے کہ یہوواہ اُن سے بہت پیار کرتا ہے، وہ موت کے ڈر پر کیسے قابو پا سکیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب ہمیں پتہ چلا کہ مجھے کینسر ہے تو میرے اور میرے شوہر کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ علاج کے لیے مجھے ایک بہت بڑا آپریشن کروانا تھا۔ مَیں نے کئی ڈاکٹروں سے مشورہ کِیا لیکن اُن سب نے کہا کہ وہ خون کے بغیر میرا آپریشن نہیں کریں گے۔ مَیں بہت ڈری ہوئی تھی۔ لیکن مَیں کسی بھی صورت میں یہوواہ کا حکم توڑ کر خون نہیں لگوا سکتی تھی۔ یہوواہ نے ساری زندگی مجھے بہت پیار دیا تھا۔ اب مجھے یہ ثابت کرنے کا موقع ملا تھا کہ مَیں اُس سے کتنا پیار کرتی ہوں۔ مجھے جب بھی اپنی صحت کے حوالے سے کوئی بُری خبر ملتی تھی تو میرا یہ عزم اَور پکا ہو جاتا تھا کہ مَیں یہوواہ کا سر فخر سے بلند کروں گی اور شیطان کو جیتنے نہیں دوں گی۔ پھر ایک ڈاکٹر خون کے بغیر میرا آپریشن کرنے کو راضی ہو گیا اور آپریشن بالکل ٹھیک ٹھاک رہا۔ مَیں ابھی بھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوئی۔ لیکن یہوواہ نے ہمیشہ ضرورت کے وقت میری مدد کی ہے۔ مثال کے طور پر جب مجھے پتہ چلا کہ مجھے کینسر ہے تو اُس کے ایک دو دن پہلے ہی ہم نے کلیسیا میں ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ کے ایک مضمون کا مطالعہ کِیا جس کا عنوان تھا:‏ ”‏ہمت سے مصیبتوں کا سامنا کریں۔“‏c اِس مضمون سے مجھے اور میرے شوہر کو بہت تسلی ملی۔ ہم نے اِسے کئی بار پڑھا۔ اِس طرح کے مضامین سے اور یہوواہ کی خدمت میں مصروف رہنے سے ہمیں بہت اِطمینان ملا اور ہم دونوں میرے علاج کے سلسلے میں صحیح فیصلے کر پائے۔“‏

آپ اپنے ڈر پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟‏

19.‏ بہت جلد کیا ہوگا؟‏

19 پوری دُنیا میں یہوواہ کے بندے اُس کی مدد سے اپنی مشکلوں پر قابو پا سکے ہیں اور شیطان کا مقابلہ کر سکے ہیں۔ (‏1-‏پطر 5:‏8، 9‏)‏ آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ بہت جلد یہوواہ خدا یسوع مسیح اور اُن کے ساتھ حکمرانی کرنے والوں کو حکم دے گا کہ وہ ”‏اِبلیس کے کاموں کو ختم“‏ کر دیں۔ (‏1-‏یوح 3:‏8‏)‏ اُس کے بعد خدا کے بندے زمین پر ’‏بے‌خوف ہو کر‘‏ اُس کی عبادت کریں گے۔ (‏یسع 54:‏14؛‏ میک 4:‏4)‏ لیکن جب تک وہ وقت نہیں آتا، ہمیں اپنے ڈر پر قابو پانے کی پوری کوشش کرنی ہوگی۔‏

20.‏ کیا چیز اپنے ڈر پر قابو پانے میں ہماری مدد کرے گی؟‏

20 ہمیں اِس بات پر اپنے بھروسے کو بڑھاتے رہنا ہوگا کہ یہوواہ اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اور اُن کی حفاظت کرتا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں اِس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ یہوواہ نے ماضی میں اپنے بندوں کی حفاظت کیسے کی اور دوسروں کو بھی اِس بارے میں بتانا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہوواہ نے مشکل وقت میں ہماری مدد کیسے کی۔ یہوواہ کی مدد سے ہم اپنے ہر ڈر پر قابو پا سکتے ہیں!‏‏—‏زبور 34:‏4‏۔‏

اگر ہمیں بھروسا ہوگا کہ یہوواہ ہم سے پیار کرتا ہے تو اِن باتوں کے حوالے سے ہم اپنے ڈر پر کیسے قابو پا لیں گے:‏

  • یہ ڈر کہ ہم اپنے گھر والوں کی ضرورتیں کیسے پوری کریں گے؟‏

  • اِنسان کا ڈر؟‏

  • موت کا ڈر؟‏

گیت نمبر 129‏:‏ ہم ثابت‌قدم رہیں گے

a ڈرنا ہمیشہ غلط نہیں ہوتا۔ اِس کی وجہ سے ہم بہت سے خطروں سے بچ جاتے ہیں۔ لیکن کچھ چیزوں کا ڈر اچھا نہیں۔ اِس سے ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مگر کیسے؟ شیطان ہمارے ڈر کو ہمارے خلاف اِستعمال کر سکتا ہے۔ اِس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہمیں اِس طرح کے ڈر پر قابو پانا چاہیے۔ لیکن کیا چیز اِس سلسلے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ جب ہمیں اِس بات کا پکا یقین ہوگا کہ یہوواہ ہماری طرف ہے اور ہم سے پیار کرتا ہے تو ہم ہر طرح کے ڈر پر قابو پا سکیں گے۔‏

b کچھ نام فرضی ہیں۔‏

c ‏”‏مینارِنگہبانی،“‏ 1 اکتوبر 2012ء کے صفحہ نمبر 11-‏15 کو دیکھیں۔‏

d تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک میاں بیوی اپنی کلیسیا کی ایک بہن اور اُس کے گھر والوں کے لیے کھانے پینے کی چیزیں لا رہے ہیں۔‏

e تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک نوجوان بھائی کے ماں باپ اِس وجہ سے اُس کی مخالفت کر رہے ہیں کہ وہ یہوواہ کی عبادت کرتا ہے۔ لیکن اُس بھائی کو پورا بھروسا ہے کہ یہوواہ اُس کے ساتھ ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں