یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م21 جون ص.‏ 26-‏30
  • ہم نے ہر قدم یہوواہ کو ذہن میں رکھ کر اُٹھایا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہم نے ہر قدم یہوواہ کو ذہن میں رکھ کر اُٹھایا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • لبنان میں خوش‌خبری سنانے کا کام
  • نئے ملک شفٹ ہونے کا فیصلہ
  • دُکھ کی گھڑی
  • کچھ اہم فیصلے
  • ایک اَور بڑا فیصلہ
  • ایک نیا مہمان!‏
  • ایک نئے شہر میں خدمت
  • اگر موقع ملا تو مَیں دوبارہ وہی فیصلے کروں گا
  • مشرقِ‌وسطیٰ میں روحانی روشنی کا چمکنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
م21 جون ص.‏ 26-‏30

آپ‌بیتی

ہم نے ہر قدم یہوواہ کو ذہن میں رکھ کر اُٹھایا

دیا یزبیک کی زبانی

دیا یزبیک کی جوانی کی تصویر

مَیں وینزویلا کے شہر کاراکاس کے ایک امیر علاقے میں رہتا تھا۔ 1984ء میں ایک صبح جب مَیں اپنے کام پر جا رہا تھا تو راستے میں مَیں ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ کے ایک مضمون پر سوچ بچار کر رہا تھا جو مَیں نے حال ہی میں پڑھا تھا۔ یہ مضمون اِس بارے میں تھا کہ ہمارے پڑوسی ہمیں کیسا خیال کرتے ہیں۔ اپنے پڑوسیوں کے گھر کی طرف دیکھتے ہوئے مَیں نے سوچا:‏ ”‏کیا یہ لوگ مجھے ایک ایسے شخص کے طور پر جانتے ہیں جو بینک میں بڑی اچھی نوکری کر رہا ہے؟ یا ایسے شخص کے طور پر جو خدا کا خادم ہے اور اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بینک میں نوکری کر رہا ہے؟“‏ مجھے احساس ہوا کہ میرے پڑوسی میرے بارے میں بس یہی سوچتے تھے کہ مَیں بینک میں موٹی تنخواہ کمانے والا شخص ہوں۔ مَیں یہ نہیں چاہتا تھا کہ دوسرے مجھے اِس نظر سے دیکھیں۔ اِس لیے مَیں نے کچھ اہم قدم اُٹھانے کا فیصلہ کِیا۔‏

مَیں 19 مئی 1940ء میں لبنان کے شہر امیون میں پیدا ہوا۔ اِس کے کچھ سالوں بعد میرے گھر والے شہر تریپولی میں شفٹ ہو گئے جہاں میرے امی ابو نے بڑے پیار سے میری پرورش کی اور مجھے یہوواہ خدا سے محبت کرنا سکھایا۔ مَیں اپنے پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ میری تین بہنیں اور ایک بھائی تھا۔ ہماری زندگی میں بائبل کا مطالعہ کرنا، عبادتوں پر جانا اور دوسروں کو خدا کے بارے میں سکھانا سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ میرے امی ابو نے پیسہ کمانے کو کبھی اِتنی اہمیت نہیں دی۔‏

ہماری کلیسیا میں کئی مسح‌شُدہ مسیحی تھے۔ اِن میں سے ایک بھائی کا نام مشل آبود تھا جو ہمارا کتابی مطالعہ لیا کرتے تھے جسے آج بائبل کا کلیسیائی مطالعہ کہا جاتا ہے۔اُنہوں نے پاک کلام کی سچائیاں نیو یارک میں سیکھی تھیں اور 1920ء کے دہے میں اُنہوں نے لبنان میں خوش‌خبری سنانے کا کام شروع کِیا تھا۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ اُنہوں نے گلئیڈ سکول سے تربیت پانے والی دو بہنوں کی کتنی مدد کی تھی اور وہ اُن کی کتنی عزت کِیا کرتے تھے۔ اِن بہنوں کے نام این اور گوین بیوور تھے۔ میری اور میرے گھر والوں کی اِن بہنوں سے بڑی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ کئی سالوں بعد جب مَیں بہن این سے امریکہ میں ملا تو میری خوشی کی کوئی اِنتہا نہیں رہی۔ اور کچھ عرصے بعد میری ملاقات بہن گوین سے بھی ہوئی جن کی شادی بھائی وِلفریڈ گُوچ سے ہو گئی تھی اور وہ دونوں لندن بیت‌ایل میں خدمت کر رہے تھے۔‏

لبنان میں خوش‌خبری سنانے کا کام

جب مَیں جوان تھا تو اُس وقت لبنان میں چند ہی یہوواہ کے گواہ تھے۔ لیکن ہم بڑے جوش سے دوسروں کو بائبل کی سچائیاں بتاتے تھے۔ حالانکہ کچھ مذہبی رہنماؤں نے اِس حوالے سے ہماری بڑی مخالفت کی لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ کچھ واقعات تو مجھے آج بھی بڑی اچھی طرح سے یاد ہیں۔‏

مثال کے طور پر ایک مرتبہ مَیں اپنی بہن ثنا کے ساتھ فلیٹوں میں مُنادی کر رہا تھا کہ اچانک سے وہاں ایک پادری آ گیا۔ شاید اُن فلیٹوں میں رہنے والے کسی شخص نے اُسے وہاں بلا لیا تھا۔ اُس پادری نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، میری بہن کی بے‌عزتی کرنے لگ گیا۔ وہ تو اِتنا غصے میں تھا کہ اُس نے ثنا کو دھکا دے کر سیڑھیوں سے ہی گِرا دیا۔ جب کسی شخص کے بلا‌نے پر وہاں پولیس آئی تو اُنہوں نے کسی کو ثنا کا خیال رکھنے کے لیے کہا اور وہ خود پادری کو لے کر تھانے چلے گئے۔ وہاں جب اُنہوں نے اُس پادری کی تلاشی لی تو اُنہیں اُس کے پاس سے پستول ملی۔ اِس پر پولیس نے پادری سے کہا:‏ ”‏تُم پادری ہو یا غنڈے؟“‏

ایک اَور واقعہ بھی مجھے بڑی اچھی طرح سے یاد ہے۔ اُس وقت ہماری کلیسیا نے ایک بس کرائے پر لی تھی تاکہ ہم ایک دُوردراز شہر میں جا کر مُنادی کر سکیں۔ کچھ دیر تک تو ہم وہاں کے ایک علاقے میں بڑے سکون سے لوگوں کو خوش‌خبری سناتے رہے۔ لیکن پھر وہاں کے ایک مقامی پادری نے ہمارے بارے میں سنا اور وہ کچھ لوگوں کو اِکٹھا کر کے لے آیا تاکہ وہ ہم پر حملہ کر سکیں۔ اُنہوں نے ہماری بڑی بے‌عزتی کی، یہاں تک کہ ہمیں پتھر مارنے لگے جس میں میرے ابو زخمی ہو گئے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ابو کے چہرے سے کتنا خون بہہ رہا تھا۔ امی اُنہیں لے کر بس میں چلی گئیں اور ہم سب بڑی پریشانی سے اُن کے پیچھے گئے۔ مَیں وہ وقت کبھی نہیں بھول سکتا جب امی، ابو کے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے یہوواہ سے کہہ رہی تھیں:‏ ”‏یہوواہ اِن لوگوں کو معاف کر دے کیونکہ اُن کو پتہ نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔“‏

اور ایک مرتبہ ہم اپنے شہر میں اپنے کچھ رشتے‌داروں سے ملنے گئے۔ وہاں میرے دادا کے گھر ایک بڑا ہی جانا مانا بشپ آیا ہوا تھا۔ وہ بشپ یہ جانتا تھا کہ میرے امی ابو یہوواہ کے گواہ ہیں۔ حالانکہ مَیں صرف چھ سال کا تھا لیکن میری بے‌عزتی کرنے کے لیے اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏تُم نے ابھی تک بپتسمہ کیوں نہیں لیا؟“‏ اِس پر مَیں نے اُس سے کہا کہ ابھی مَیں بہت چھوٹا ہوں اور بپتسمہ لینے کے لیے مجھے بائبل کی اَور زیادہ تعلیم حاصل کرنے اور اپنے ایمان کو اَور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا یہ جواب سُن کر وہ بالکل خوش نہیں ہوا اور اُس نے میرے دادا سے کہا کہ مجھے بات کرنے کی بالکل تمیز نہیں ہے۔‏

لیکن ہمیں جن بُرے تجربوں کا سامنا ہوا، وہ زیادہ نہیں تھے۔ عام طور پر لبنانی لوگ بڑے ہی ملنسار اور مہمان‌نواز ہوتے ہیں۔ اِس لیے ہمیں بہت سے لوگوں کے ساتھ بائبل سے بات‌چیت کرنے کا موقع ملا اور ہم نے بہت سے لوگوں کو بائبل کورس بھی شروع کرائے۔‏

نئے ملک شفٹ ہونے کا فیصلہ

جب مَیں سکول میں پڑھ رہا تھا تو وینزویلا میں رہنے والا ایک بھائی لبنان آیا۔ وہ ہماری کلیسیا میں اِجلاسوں پر آنے لگا۔ اُسے میری بہن وافا بہت پسند آئی۔ کچھ عرصے بعد اُن دونوں نے شادی کر لی اور وینزویلا چلے گئے۔ وافا ہمیں بہت خط لکھا کرتی تھی جس میں وہ بار بار ابو سے یہ اِصرار کرتی تھی کہ وہ سب کو لے کر وینزویلا آ جائیں۔ وہ ایسا اِس لیے کہتی تھی کیونکہ وہ ہمیں بہت یاد کِیا کرتی تھی۔ آخرکار وہ ہمیں وہاں بلا‌نے میں کامیاب ہو ہی گئی۔‏

ہم سب 1953ء میں وینزویلا کے شہر کاراکاس شفٹ ہو گئے۔ ہمارا گھر ملک کے صدر کے گھر کے بالکل قریب تھا۔ جب صدر اپنی بڑی سی گاڑی میں کہیں جایا کرتا تھا تو مَیں بڑے شوق سے اُسے دیکھا کرتا تھا۔ لیکن میرے امی ابو کو اِس ملک میں رہنا مشکل لگ رہا تھا کیونکہ اُن کے لیے سب چیزیں بالکل نئی تھیں۔ نئی زبان، نئی ثقافت، نیا کھانا اور موسم وغیرہ۔ اُنہوں نے ابھی وہاں اپنے قدم جمانا ہی شروع کیے تھے کہ ہم پر دُکھ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔‏

دائیں سے بائیں۔ میرے ابو۔ میری امی۔ 1953ء میں لی گئی میری ایک تصویر جب ہم لوگ وینزویلا شفٹ ہوئے۔‏

دُکھ کی گھڑی

میرے ابو کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ یہ ہمارے لیے بڑی حیرت کی بات تھی کیونکہ اُن کی صحت کافی اچھی رہتی تھی اور ہمیں تو یاد بھی نہیں کہ ہم نے کبھی اُنہیں بیمار ہوتے دیکھا ہو۔ لیکن پھر ہمیں پتہ چلا کہ ابو کو پتے کا کینسر ہے۔ ابو کا آپریشن ہوا لیکن افسوس کہ اِس کے ایک ہفتے بعد ہی وہ فوت ہو گئے۔‏

مَیں تو بتا بھی نہیں سکتا کہ اُن کے فوت ہونے پر ہم سب کتنا ٹوٹ گئے۔ اُس وقت مَیں صرف 13 سال کا تھا۔ ہم سارے ہی بڑے صدمے میں تھے اور ہمیں ایسا لگ رہا تھا جیسے ہماری دُنیا اُتھل‌پتھل ہو گئی ہو۔ کچھ وقت تک تو امی یہ حقیقت تسلیم ہی نہیں کر پا رہی تھیں کہ اب اُن کا شوہر اُن کے ساتھ نہیں رہا۔ لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ احساس ہوا کہ زندگی کسی کے فوت ہو جانے سے رُکتی نہیں ہے۔ یہوواہ خدا کی مدد سے ہم اِس صدمے کو برداشت کر پائے۔ جب مَیں 16 سال کا ہوا اور مَیں نے اپنا سکول ختم کر لیا تو مَیں یہ سوچنے لگا کہ مجھے اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اُن کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔‏

میری بہن ثنا اور اُن کے شوہر رُوبن نے یہوواہ کے قریب رہنے میں میری بڑی مدد کی۔‏

اِسی دوران میری بہن ثنا کی شادی رُوبن آروہا نامی بھائی سے ہو گئی جنہوں نے گلئیڈ سکول سے تربیت حاصل کی تھی اور اب وہ واپس وینزویلا آ کر خدمت کر رہے تھے۔ شادی کے بعد اُن دونوں نے نیو یارک شفٹ ہونے کا فیصلہ کِیا۔ میرے گھر والوں نے مجھے نیو یارک کی ایک یونیورسٹی میں بھیجنے کا فیصلہ کِیا۔ وہاں مَیں ثنا اور رُوبن کے ساتھ رہنے لگا۔ اُن دونوں نے میری یہوواہ کے قریب رہنے میں بہت مدد کی۔ اِس کے علاوہ بروکلن میں سپینش زبان والی کلیسیا میں بہت سے ایسے پُختہ بھائی تھے جنہوں نے میری بڑی مدد کی۔ اِن میں سے دو بھائیوں سے میری اچھی دوستی ہو گئی۔ ایک بھائی ملٹن ہینشل تھے اور دوسرے بھائی فریڈرک فرینز تھے۔ وہ دونوں ہی بروکلن بیت‌ایل میں خدمت کر رہے تھے۔‏

1957ء میں میرے بپتسمے کی تصویر

جب یونیورسٹی میں میرا پہلا سال ختم ہونے والا تھا تو مَیں یہ سوچنے لگا کہ اب مجھے آگے کیا کرنا چاہیے۔ مَیں نے ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ میں بہت سے ایسے مضامین پڑھے تھے جن میں یہ بتایا گیا تھا کہ یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہمیں اُس کی خدمت کے حوالے سے منصوبے بنانے چاہئیں۔ مَیں نے اِن مضامین پر کافی گہرائی سے سوچ بچار بھی کی تھی۔ مَیں نے اپنی کلیسیا میں ایسے پہل‌کاروں اور بیت‌ایل میں خدمت کرنے والے بہن بھائیوں کو دیکھا تھا جو بڑے خوش رہا کرتے تھے۔ مَیں بھی اُن ہی کی طرح بننا چاہتا تھا۔ لیکن مَیں نے ابھی تک بپتسمہ نہیں لیا تھا۔ مَیں یہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کرنا بہت ضروری ہے۔ اِس لیے مَیں نے 30 مارچ 1957ء میں بپتسمہ لے لیا۔‏

کچھ اہم فیصلے

بپتسمے کا اہم قدم اُٹھانے کے بعد مَیں نے ایک اَور اہم قدم اُٹھانے کا سوچا جو کہ کُل‌وقتی طور پر یہوواہ کی خدمت کرنا تھا۔ اِس طرح سے یہوواہ کی خدمت کرنے کا خیال مجھے بہت ہی اچھا لگتا تھا۔ لیکن مَیں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ قدم اُٹھانا اِتنا مشکل ہو جائے گا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مَیں یونیورسٹی میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ پہل‌کار کے طور پر خدمت کیسے کر پاؤں گا۔ مَیں نے وینزویلا میں اپنی امی اور بہن بھائیوں کو کئی خط لکھے جن میں مَیں نے اُنہیں اپنے اِس فیصلے کے بارے میں بتایا کہ مَیں یونیورسٹی چھوڑ دوں گا اور وینزویلا واپس آ کر پہل‌کار کے طور پر خدمت کروں گا۔‏

جون 1957ء میں مَیں شہر کاراکاس واپس لوٹ آیا۔ لیکن مَیں نے دیکھا کہ میرے گھر والوں کے مالی حالات اِتنے اچھے نہیں تھے۔ اُنہیں ایک اَور کمانے والے کی ضرورت تھی۔ مجھے بینک میں نوکری مل گئی۔ لیکن میرے دل میں ابھی بھی پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے کی شدید خواہش تھی۔ اور ویسے بھی مَیں اِسی وجہ سے تو واپس وینزویلا آیا تھا۔ مَیں نے فیصلہ کِیا کہ مَیں بینک میں نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ پہل‌کار کے طور پر بھی خدمت کروں گا۔ مَیں کئی سالوں تک یہ دونوں کام ساتھ ساتھ کرتا رہا۔ جتنا مصروف اور خوش مَیں اپنی زندگی میں اُس وقت ہوا اُتنا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔‏

میری زندگی میں اَور بھی زیادہ خوشیاں اُس وقت آئیں جب مَیں نے سلویا نامی خوب‌صورت لڑکی سے شادی کر لی۔ سلویا جرمنی سے تھیں اور یہوواہ خدا سے بہت محبت کرتی تھیں۔ وہ اور اُن کے امی ابو یہاں وینزویلا میں آ کر رہنے لگے تھے۔ بعد میں ہمارا بیٹا مشل اور بیٹی سمیرا پیدا ہوئے۔ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ مَیں نے اپنی امی کی دیکھ‌بھال کرنے کی بھی ذمے‌داری لے لی۔ وہ ہمارے ساتھ آ کر رہنے لگیں۔ حالانکہ اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مجھے پہل‌کار کے طور پر خدمت چھوڑنی پڑی مگر میرے دل سے پہل‌کاروں والا جذبہ نہیں گیا۔ چھٹیوں کے دوران جب بھی ممکن ہوتا تھا، مَیں اور سلویا مددگار پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کرتے تھے۔‏

ایک اَور بڑا فیصلہ

اُس وقت میرے بچے سکول میں پڑھ رہے تھے، جب ایک موقعے پر مَیں اُس بات کے بارے میں سوچنے لگا جس کا مَیں نے مضمون کے شروع میں ذکر کِیا تھا۔ مَیں اِس بات سے اِنکار نہیں کروں گا کہ مَیں بڑی آسائشوں بھری زندگی گزار رہا تھا اور جس بینک میں مَیں کام کرتا تھا، وہاں سب میری بڑی عزت کِیا کرتے تھے۔ مگر مَیں یہ چاہتا تھا کہ وہ سب مجھے ایک ایسا شخص خیال کریں جو یہوواہ کی خدمت کرتا ہے۔ اُس دن میرے ذہن میں جو خیال آیا، مَیں اُس کے بارے میں سوچتا رہا۔ مَیں نے اپنی بیوی سے اِس کا ذکر کِیا اور ہم نے مل بیٹھ کر اپنے اخراجات پر بات‌چیت کی۔ چونکہ مَیں کافی عرصے سے بینک میں کام کر رہا تھا اِس لیے نوکری چھوڑنے پر مجھے کافی موٹی رقم ملتی۔ اور چونکہ ہمارے سر پر کوئی قرضہ بھی نہیں تھا اِس لیے ہم نے سوچا کہ اگر ہم سادہ زندگی گزاریں گے تو ہمارے پاس اِتنے پیسے ہوں گے جس میں کافی لمبے عرصے تک ہمارا گزارہ ہو جائے گا۔‏

حالانکہ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا لیکن سلویا اور میری امی نے میرا پورا پورا ساتھ دیا۔ اور اب مَیں ایک بار پھر سے پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے والا تھا جس کی مجھے بڑی ہی خوشی تھی۔ لیکن پھر ہمیں ایک ایسی خبر ملی جس کی ہم نے توقع بھی نہیں کی تھی۔‏

ایک نیا مہمان!‏

دیا اور سلویا اپنے بیٹے گیبریئیل کے ساتھ

ہمارا تیسرا بیٹا گیبریئیل

ایک دن جب سلویا ڈاکٹر کے پاس گئیں تو اُس نے اُنہیں بتایا کہ وہ ماں بننے والی ہیں۔ ہمیں یہ خبر سُن کر بڑی حیرت ہوئی لیکن ہمیں اِس ننھے مہمان کے آنے کی بہت خوشی بھی تھی۔ لہٰذا ہم اِس نئے مہمان کے آنے کی راہ دیکھنے لگے۔ مگر مَیں یہ سوچنے لگا کہ مَیں نے پہل‌کار بننے کا جو اِرادہ کِیا ہے، اُس کا کیا ہوگا؟ کیا مَیں اِسے ابھی بھی پورا کر پاؤں گا؟‏

آپس میں بات‌چیت کرنے کے بعد ہم نے طے کِیا کہ مَیں نے جو اِرادہ کِیا ہے، مَیں اُسے ضرور پورا کروں۔ اپریل 1985ءکو ہمارا بیٹا گیبریئیل پیدا ہوا۔ مَیں نے بینک میں نوکری چھوڑ دی اور جون 1985ء میں پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنی شروع کر دی۔ بعد میں مجھے برانچ کی کمیٹی کے ایک رُکن کے طور پر خدمت کرنے کا بھی اعزاز ملا۔ لیکن بیت‌ایل شہر کاراکاس میں نہیں تھا جس کا مطلب تھا کہ مجھے ہفتے میں دو اور تین دن 80 کلومیٹر (‏تقریباً 50 میل)‏ کا سفر کر کے بیت‌ایل جانا ہوتا تھا۔‏

ایک نئے شہر میں خدمت

چونکہ بیت‌ایل شہر لا وکٹوریہ میں تھا اِس لیے ہم نے وہاں شفٹ ہونے کا فیصلہ کِیا تاکہ میرے لیے بیت‌ایل آنا جانا آسان ہو جائے۔ یہ ہم سب کے لیے ہی ایک بہت بڑا قدم تھا۔ لیکن میرے گھر والوں نے اِس فیصلے میں میرا پورا پورا ساتھ دیا جس کی مَیں بہت قدر کرتا ہوں۔ میری بہن باہا نے امی کی دیکھ‌بھال کرنے کی ذمے‌داری لے لی۔ ہمارے بڑے بیٹے مشل نے شادی کر لی تھی لیکن سمیرا اور گیبریئیل ابھی بھی ہمارے ساتھ رہ رہے تھے۔ لہٰذا ہمارے ساتھ شہر لا وکٹوریہ میں شفٹ ہونے کی وجہ سے اُنہیں کاراکاس میں اپنے دوستوں سے دُور ہونا پڑا۔ اور میری بیوی سلویا کو بڑے شہر کی افراتفری بھری زندگی کو چھوڑ کر چھوٹے شہر کی زندگی کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑا۔ اِس کے علاوہ ہم سبھی کو ایک چھوٹے گھر میں رہنے کی عادت ڈالنی پڑی۔‏

بعد میں گیبریئیل نے شادی کر لی اور سمیرا بھی کہیں اَور جا کر رہنے لگی۔ اِس کے بعد مجھے اور سلویا کو 2007ء میں بیت‌ایل میں خدمت کرنے کے لیے بلا‌یا گیا جہاں ہم آج بھی خدمت کر رہے ہیں۔ ہمارا بڑا بیٹا مشل اپنی کلیسیا میں ایک بزرگ ہے اور اپنی بیوی مونیکا کے ساتھ مل کر پہل‌کار کے طور پر خدمت کر رہا ہے۔ گیبریئیل بھی ایک بزرگ ہے اور اپنی بیوی امبرا کے ساتھ اِٹلی میں یہوواہ کی خدمت کر رہا ہے۔ سمیرا ایک پہل‌کار کے طور پر خدمت کر رہی ہے اور اپنے گھر سے بیت‌ایل کے لیے بھی کام کرتی ہے۔‏

دائیں سے بائیں۔ اپنی بیوی سلویا کے ساتھ وینزویلا بیت‌ایل میں۔ ہمارا بڑا بیٹا مشل اپنی بیوی مونیکا کے ساتھ۔ ہماری بیٹی سمیرا۔ ہمارا بیٹا گیبریئیل اپنی بیوی امبرا کے ساتھ۔‏

اگر موقع ملا تو مَیں دوبارہ وہی فیصلے کروں گا

مَیں نے اپنی زندگی میں کئی بڑے بڑے قدم اُٹھائے۔لیکن مَیں نے جو بھی فیصلے کیے، مجھے اُن پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ اگر مجھے موقع ملا تو مَیں دوبارہ یہی فیصلے کروں گا۔ مَیں یہوواہ کی خدمت میں جو بھی ذمے‌داریاں نبھا پایا ہوں، اُس کے لیے مَیں اُس کا بہت شکرگزار ہوں۔ گزرے سالوں کے دوران مَیں یہ بات اچھی طرح سے دیکھ پایا ہوں کہ یہوواہ خدا کے ساتھ مضبوط دوستی برقرار رکھنا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ چاہے ہم اپنی زندگی میں چھوٹے فیصلے کریں یا بڑے، یہوواہ ہمیں ایسا اِطمینان دے سکتا ہے ”‏جو سمجھ سے باہر ہے۔“‏ (‏فل 4:‏6، 7‏)‏ مجھے اور سلویا کو بیت‌ایل میں خدمت کر کے بہت اچھا لگتا ہے اور ہمیں محسوس ہوتا ہے جیسے یہوواہ نے ہمارے ہر فیصلے پر برکت ڈالی ہے کیونکہ ہم نے ہر قدم یہوواہ کو ذہن میں رکھ کر اُٹھایا۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں