یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م20 ستمبر ص.‏ 14-‏19
  • امن کے دَور میں سمجھ‌داری سے کام لیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • امن کے دَور میں سمجھ‌داری سے کام لیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • آسا نے امن کے دَور میں کیا کِیا؟‏
  • پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں نے امن کے دَور میں کیا کِیا؟‏
  • امن کے وقت کا اچھا اِستعمال کریں
  • امن کا دَور کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے
  • اُن کا ”‏دل عمر بھر پوری طرح یہوواہ کی طرف لگا رہا“‏
    دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • پورے دل سے یہوواہ کی خدمت کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
  • یہوواہ خدا ہمیں اپنے نزدیک کیسے لاتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • کیا آپ بھی آسا کی طرح دلیر ہیں؟‏
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2022ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
م20 ستمبر ص.‏ 14-‏19

مطالعے کا مضمون نمبر 38

امن کے دَور میں سمجھ‌داری سے کام لیں

‏”‏ملک میں امن تھا اور اُن برسوں میں اُسے جنگ نہ کرنا پڑا کیونکہ ‏[‏یہوواہ]‏ نے اُسے امان بخشی تھی۔“‏‏—‏2-‏توا 14:‏6‏۔‏

گیت نمبر 60‏:‏ یہ زندگی کا سوال ہے!‏

مضمون پر ایک نظرa

1.‏ یہوواہ خدا کی خدمت کرنا کب سب سے زیادہ مشکل ہو سکتا ہے؟‏

آپ کے خیال میں یہوواہ خدا کی خدمت کرنا کب سب سے زیادہ مشکل ہو سکتا ہے؟ کیا اُس وقت جب آپ مشکلوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں یا اُس وقت جب آپ سکون کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں؟ جب ہم پر مشکلیں آتی ہیں تو ہم فوراً یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم اُس وقت بھی ایسا کرتے ہیں جب ہماری زندگی میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی؟ کیا تب ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہوواہ کی خدمت کرنا کتنا اہم ہے؟ یہوواہ جانتا ہے کہ ایسا بڑی آسانی سے ہو سکتا ہے اِسی لیے اُس نے بنی‌اِسرائیل کو اِس خطرے سے آگاہ کِیا۔—‏اِست 6:‏10-‏12۔‏

بادشاہ آسا نے اپنی دادی معکہ کو ملکہ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اُن کا ایک سپاہی معکہ کو کھینچتے ہوئے لے جا رہا ہے۔ پیچھے آسا کے حمایتی بُتوں کو چکنا چُور کر رہے ہیں۔‏

بادشاہ آسا نے بُت‌پرستی کو ختم کرنے کے لیے سخت کارروائی کی۔ (‏پیراگراف نمبر 2 کو دیکھیں۔)‏d

2.‏ بادشاہ آسا نے ہمارے لیے کیسی مثال قائم کی؟‏

2 بادشاہ آسا ہمارے لیے ایک بہت اچھی مثال ہیں۔ وہ یہوواہ پر مکمل بھروسا کرتے تھے۔ اُنہوں نے نہ صرف بُرے وقت میں بلکہ اچھے وقت میں بھی یہوواہ کی خدمت کی۔ بائبل میں اُن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ شروع سے ہی ’‏اُن کا دل یہوواہ کے ساتھ کامل رہا۔‘‏ (‏1-‏سلا 15:‏14‏)‏ آسا نے ملک یہوداہ سے جھوٹی عبادت کو مٹانے سے ثابت کِیا کہ وہ یہوواہ کے وفادار ہیں۔ اُنہوں نے ”‏اجنبی معبودوں کی قربان‌گاہوں کو اُونچی جگہوں کے مندروں سمیت گِرا کر دیوتاؤں کے لئے مخصوص کئے گئے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور یسیرت دیوی کے کھمبے کاٹ ڈالے۔“‏ (‏2-‏توا 14:‏3،‏ 5‏، اُردو جیو ورشن‏)‏ اُنہوں نے تو اپنی دادی معکہ کو بھی ملکہ کے عہدے سے ہٹا دیا کیونکہ اُس نے ملک میں ایک بُت کی پوجا کو فروغ دیا تھا۔—‏1-‏سلا 15:‏11-‏13‏۔‏b

3.‏ اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟‏

3 بادشاہ آسا نے ملک یہوداہ سے نہ صرف جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت کو ختم کِیا بلکہ یہوواہ کی عبادت کو بھی فروغ دیا اور اپنی عوام کی مدد کی کہ وہ یہوواہ کی طرف لوٹ آئیں۔ اِس وجہ سے یہوواہ نے بادشاہ آسا اور اُن کے ملک کے لوگوں کو امن کے دَور سے نوازا۔‏c بائبل میں بتایا گیا ہے کہ آسا کی حکمرانی کے پہلے دس سال ”‏ملک میں امن“‏ رہا۔ (‏2-‏توا 14:‏1،‏ 4،‏ 6‏)‏ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ آسا نے امن کے اِس دَور میں کیا کِیا۔ پھر ہم پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں کی مثال پر غور کریں گے جنہوں نے آسا کی طرح امن کے دَور کا پورا فائدہ اُٹھایا۔ اور آخر میں ہم اِس سوال پر بات کریں گے کہ اگر ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہمیں آزادی سے یہوواہ کی خدمت کرنے کی اِجازت ہے تو ہم امن کے اِس وقت کو سمجھ‌داری سے کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں؟‏

آسا نے امن کے دَور میں کیا کِیا؟‏

4.‏ دوسری تواریخ 14:‏2،‏ 6، 7 کے مطابق بادشاہ آسا نے امن کے دَور میں کیا کچھ کِیا؟‏

4 دوسری تواریخ 14:‏2،‏ 6، 7 کو پڑھیں۔‏ بادشاہ آسا نے لوگوں سے کہا کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ نے ہم کو چاروں طرف امان بخشی ہے۔“‏ لیکن امن کے اِس دَور میں اُنہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اُنہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اُنہیں بس آرام کرنا اور زندگی کا مزہ لینا چاہیے۔ اِس کی بجائے آسا نے شہروں میں تعمیرومرمت کا کام کروایا، شہر کی دیواریں بنوائیں، بُرج اور شہر کے پھاٹک بنوائے۔ اُنہوں نے یہوداہ کے لوگوں سے کہا:‏ ”‏ملک ابھی ہمارے قابو میں ہے۔“‏ آسا کی اِس بات کا کیا مطلب تھا؟ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ لوگ ابھی اپنے ملک میں آزادی سے کہیں بھی آ جا سکتے ہیں اور دُشمنوں کی رُکاوٹ کے بغیر تعمیرومرمت کا کام کر سکتے ہیں۔ آسا نے لوگوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ امن کے اِس دَور کا پورا پورا فائدہ اُٹھائیں۔‏

5.‏ بادشاہ آسا نے اپنی فوج کو مضبوط کیوں کِیا؟‏

5 بادشاہ آسا نے امن کے دَور میں اپنی فوج کو بھی مضبوط کِیا۔ ‏(‏2-‏توا 14:‏8‏)‏ کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ اُنہیں یہوواہ پر بھروسا نہیں تھا؟ ایسی بات نہیں تھی۔ دراصل آسا جانتے تھے کہ ایک بادشاہ کے طور پر یہ اُن کی ذمے‌داری ہے کہ وہ اپنی قوم کو اُن مشکلوں کے لیے تیار کریں جن کا اُنہیں مستقبل میں سامنا ہو سکتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس امن کے دَور سے ابھی وہ لطف اُٹھا رہے ہیں، وہ ہمیشہ تک نہیں رہے گا۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا۔‏

پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں نے امن کے دَور میں کیا کِیا؟‏

6.‏ پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں نے امن کے دَور میں کیا کِیا؟‏

6 حالانکہ پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں کو اکثر اذیت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن اُنہوں نے امن کے دَور بھی دیکھے۔ اُنہوں نے اِن اچھے وقتوں میں کیا کِیا؟ خدا کے یہ وفادار بندے جوش سے خوش‌خبری کی مُنادی کرتے رہے اور اُنہوں نے اپنی توجہ یہوواہ کی خدمت سے ہٹنے نہیں دی۔ اُن کی محنت کا کیا نتیجہ نکلا؟ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏اُن کی تعداد میں اِضافہ ہوتا گیا۔“‏ اِس سے ظاہر ہوا کہ یہوواہ نے اُن کے مُنادی کے کام پر برکت ڈالی جو وہ امن کے دَور میں کر رہے تھے۔—‏اعما 9:‏26-‏31‏۔‏

7-‏8.‏ جب پولُس اور دیگر مسیحیوں کو خوش‌خبری سنانے کا موقع ملا تو اُنہوں نے کیا کِیا؟ وضاحت کریں۔‏

7 پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں نے خوش‌خبری پھیلانے کے ہر موقعے سے فائدہ اُٹھایا۔ مثال کے طور پر جب پولُس رسول نے دیکھا کہ وہ شہر اِفسس میں بہت سے لوگوں کو خوش‌خبری سنا سکتے ہیں تو اُنہوں نے اِس موقعے کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا بلکہ وہ وہاں رہ کر مُنادی کرنے لگے۔—‏1-‏کُر 16:‏8، 9‏۔‏

8 پولُس اور دیگر مسیحیوں کو خوش‌خبری سنانے کا ایک اَور شان‌دار موقع 49ء میں ملا جب ختنے کے مسئلے کو حل کِیا گیا۔ (‏اعما 15:‏23-‏29‏)‏ کلیسیاؤں کو ختنے کے فیصلے سے آگاہ کرنے کے بعد پولُس اور دیگر مسیحیوں نے ’‏یہوواہ کے کلام کی خوش‌خبری سنانے اور تعلیم دینے‘‏ کی کوششیں اَور بھی تیز کر دیں۔ (‏اعما 15:‏30-‏35‏)‏ اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏کلیسیائیں ایمان میں مضبوط ہوتی گئیں اور شاگردوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی گئی۔“‏—‏اعما 16:‏4، 5‏۔‏

امن کے وقت کا اچھا اِستعمال کریں

9.‏ آج بہت سے ملکوں میں مُنادی کے حوالے سے کیا صورتحال ہے اور ہم خود سے کیا پوچھ سکتے ہیں؟‏

9 آج بہت سے ملکوں میں یہوواہ کے بندے آزادی سے مُنادی کر سکتے ہیں۔ کیا آپ بھی ایک ایسے ہی ملک میں رہ رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو خود سے پوچھیں:‏ ”‏مَیں اِس آزادی کے دَور کو کیسے اِستعمال کر رہا ہوں؟“‏ خدا کے بندوں کے طور پر یہ آخری زمانہ ہمارے لیے بہت ہی خاص ہے کیونکہ آج ہم جتنے بڑے پیمانے پر مُنادی اور تعلیم دینے کا کام کر رہے ہیں، اُتنا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ (‏مر 13:‏10‏)‏ آج ہم مختلف طریقوں سے اِس کام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکتے ہیں۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ ایک شادی‌شُدہ جوڑا اپنی زندگی کو سادہ بنا رہا ہے تاکہ وہ ایسی جگہ جا کر خدمت کرے جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے۔ 2.‏ وہی جوڑا اب کسی دوسرے ملک میں خدمت کر رہا ہے۔ بہن ایک عورت کے ساتھ ایک بروشر سے بات‌چیت کر رہی ہے۔‏

بہت سے بہن بھائیوں کو اُس وقت بڑی خوشی ملتی ہے جب وہ کسی دوسرے ملک میں جا کر خدمت کرتے ہیں یا دوسری زبان بولنے والے لوگوں کو گواہی دیتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 10-‏12کو دیکھیں۔)‏e

10.‏ دوسرا تیمُتھیُس 4:‏2 میں ہمیں کیا کرنے کو کہا گیا ہے؟‏

10 اگر آپ کو ابھی اپنے ملک میں امن‌وسکون سے یہوواہ کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہوا ہے تو آپ اِس موقعے کا بھرپور فائدہ کیسے اُٹھا سکتے ہیں؟ ‏(‏2-‏تیمُتھیُس 4:‏2 کو پڑھیں۔)‏ کیوں نہ اپنے حالات کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کیا آپ یا آپ کے گھر والوں میں سے کوئی مُنادی کے کام میں اَور زیادہ حصہ لے سکتا ہے، یہاں تک کہ پہل‌کار کے طور پر خدمت کر سکتا ہے؟ ابھی یہ وقت نہیں کہ ہم مال‌ودولت جمع کرنے میں لگ جائیں کیونکہ بڑی مصیبت میں یہ چیزیں تباہ ہو جائیں گی۔—‏امثا 11:‏4؛‏ متی 6:‏31-‏33؛‏ 1-‏یوح 2:‏15-‏17‏۔‏

11.‏ بعض بہن بھائیوں نے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوش‌خبری سنانے کے لیے کیا کِیا ہے؟‏

11 بہت سے بہن بھائیوں نے نئی زبان سیکھی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوش‌خبری سنا سکیں اور تعلیم دے سکیں۔ خدا کی تنظیم نے بھی اُن کی مدد کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ زبانوں میں بائبل پر مبنی کتابیں اور رسالے وغیرہ تیار کیے ہیں۔ مثال کے طور پر 2010ء میں ہماری کتابیں رسالے وغیرہ تقریباً 500 زبانوں میں موجود تھے۔ لیکن آج یہ 1000 سے بھی زیادہ زبانوں میں دستیاب ہیں۔‏

12.‏ جب لوگ اپنی زبان میں خدا کے کلام سے سچائیوں کو سنتے ہیں تو اُنہیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟ ایک مثال دیں۔‏

12 جب لوگ اپنی زبان میں خدا کے کلام سے سچائیاں سنتے ہیں تو اُنہیں کیسا لگتا ہے؟ اِس حوالے سے ذرا ایک بہن کے تجربے پر غور کریں جو امریکہ کی ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس میں منعقد ہونے والے علاقائی اِجتماع پر گئی۔ یہ اِجتماع بہن کی مادری زبان کینیاروانڈا میں تھا جو افریقہ کے کچھ ملکوں خاص طور پر روانڈا، کانگو اور یوگنڈا میں بولی جاتی ہے۔ اِجتماع کے بعد اُس بہن نے کہا:‏ ”‏مجھے امریکہ آئے 17 سال ہو گئے ہیں اور اِن 17 سالوں میں پہلی بار مجھے اِجتماع میں بتائی جانے والی ہر بات پوری طرح سے سمجھ میں آئی ہے۔“‏ بہن کی بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پروگرام میں بتائی جانے والی باتوں نے اُس کا دل چُھو لیا تھا کیونکہ وہ اِنہیں اپنی زبان میں سُن رہی تھی۔ اگر آپ کے حالات اِجازت دیتے ہیں تو کیا آپ کوئی دوسری زبان سیکھ سکتے ہیں تاکہ آپ اپنے علاقے میں اِس زبان کو بولنے والے لوگوں کو خوش‌خبری سنا سکیں؟ یہ خاص طور پر اُس صورت میں فائدہ‌مند ہو سکتا ہے اگر آپ کی کلیسیا کے علاقے کے کچھ لوگ کوئی فرق زبان بولتے ہیں اور اُنہیں اپنی زبان میں بات کرنا آسان لگتا ہے۔ یقین مانیں کہ آپ دوسری زبان سیکھنے کے لیے جو بھی محنت کریں گے، اُس سے آپ کو بڑی خوشی ملے گی۔‏

13.‏ روس میں ہمارے بہن بھائیوں نے امن کے وقت کا اچھا اِستعمال کیسے کِیا؟‏

13 ہمارے تمام بہن بھائیوں کو کھلم‌کُھلا مُنادی کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ کچھ ملکوں میں حکومت نے ہماری مُنادی کے کام پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ ذرا روس میں رہنے والے ہمارے بہن بھائیوں کی مثال پر غور کریں۔ اُنہیں کئی سالوں تک اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن پھر مارچ 1991ء میں حکومت نے اُنہیں یہوواہ کی عبادت کرنے کی آزادی دے دی۔ اُس وقت روس میں ہمارے تقریباً 16 ہزار بہن بھائی تھے۔ اور 20 سال بعد اُن کی تعداد 1 لاکھ 60 ہزار سے بھی زیادہ ہو گئی۔ بِلاشُبہ ہمارے بہن بھائیوں نے امن کے اِس دَور کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کِیا۔ لیکن یہ دَور زیادہ عرصے تک نہیں رہا اور یہوواہ کے اِن بندوں کے حالات پھر سے بدل گئے۔ مگر اِس سب کے باوجود یہوواہ کی عبادت کے لیے اُن کا جوش ٹھنڈا نہیں پڑا۔ وہ ابھی بھی یہوواہ کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔‏

امن کا دَور کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے

بادشاہ آسا گھوڑے پر سوار ہیں اور اپنی فوج کے ساتھ جنگ کے میدان میں ہیں۔ وہ ایک بڑی ایتھیوپیائی فوج سے لڑنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔‏

بادشاہ آسا نے یہوواہ سے مدد کے لیے اِلتجا کی اور یہوواہ نے اُنہیں ایک بڑی فوج پر فتح دِلائی۔ (‏پیراگراف نمبر 14-‏15 کو دیکھیں۔)‏

14-‏15.‏ یہوواہ نے آسا کی مدد کیسے کی؟‏

14 ایک وقت آیا کہ بادشاہ آسا کے دَورِحکومت میں امن کا دَور ختم ہو گیا۔ ایتھیوپیا کی فوج کا کمانڈر زارح اپنے دس لاکھ فوجیوں کو لے کر بادشاہ آسا سے لڑنے کو نکلا۔ زارح کو اپنی طاقت‌ور فوج پر بڑا مان تھا اور اُسے پورا یقین تھا کہ وہ ملک یہوداہ کو شکست دے دے گا۔ لیکن بادشاہ آسا کو اپنے خدا یہوواہ پر بھروسا تھا۔ اُنہوں نے دُعا میں کہا:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏ ہمارے خدا تُو ہماری مدد کر کیونکہ ہم تجھ پر بھروسا رکھتے ہیں اور تیرے نام سے اِس انبوہ کا سامنا کرنے آئے ہیں۔“‏—‏2-‏توا 14:‏11‏۔‏

15 حالانکہ ایتھیوپیائی فوج، آسا کی فوج کے مقابلے میں دُگنی تھی لیکن آسا جانتے تھے کہ یہوواہ اپنے بندوں کو بچانے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہوواہ نے بھی اُن کا بھروسا ٹوٹنے نہیں دیا اور ایتھیوپیائی فوج کو مُنہ کی کھانی پڑی۔—‏2-‏توا 14:‏8-‏13‏۔‏

16.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ امن کے جس دَور کا ہم ابھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں، وہ ہمیشہ تک نہیں رہے گا؟‏

16 حالانکہ ہم پوری طرح سے نہیں جانتے کہ مستقبل میں ہم سے ہر ایک کے ساتھ کیا ہوگا لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ امن کے جس دَور کا ہم ابھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں، وہ ہمیشہ تک نہیں رہے گا۔ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو بتایا تھا کہ آخری زمانے میں ”‏سب قومیں آپ سے نفرت کریں گی۔“‏ (‏متی 24:‏9‏)‏ اِسی طرح پولُس رسول نے بھی کہا تھا کہ ”‏اُن سب کو اذیت دی جائے گی جو مسیح یسوع کے پیروکاروں کے طور پر خدا کی بندگی کرنا چاہتے ہیں۔“‏ (‏2-‏تیم 3:‏12‏)‏ شیطان ”‏بڑے غصے میں ہے“‏ اور اگر ہم یہ سوچیں گے کہ ہم کسی نہ کسی طرح اُس کے غصے سے بچ جائیں گے تو یہ سراسر بے‌وقوفی ہوگی۔—‏مکا 12:‏12‏۔‏

17.‏ ہمارے ایمان کا اِمتحان کیسے ہو سکتا ہے؟‏

17 بہت جلد ایک ”‏ایسی بڑی مصیبت آئے گی جو دُنیا کے شروع سے لے کر اب تک نہیں آئی اور نہ ہی دوبارہ کبھی آئے گی۔“‏ (‏متی 24:‏21‏)‏ اُس وقت ہم سب کے ایمان کا اِمتحان ہوگا۔ تب ہو سکتا ہے کہ ہمارے گھر والے ہمارے خلاف ہو جائیں اور یہوواہ کی عبادت سے تعلق رکھنے والے کاموں پر پابندی لگ جائے۔ (‏متی 10:‏35، 36‏)‏ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک کو خود سے پوچھنا چاہیے:‏ ”‏کیا اُس وقت مَیں آسا کی طرح مدد اور تحفظ کے لیے یہوواہ پر آس لگاؤں گا؟“‏

18.‏ عبرانیوں 10:‏38، 39 کے مطابق کون سی چیز اُس وقت ہماری مدد کرے گی جب امن کا دَور ختم ہو جائے گا؟‏

18 یہوواہ ہمیں ابھی سے آنے والے وقت کے لیے تیار کر رہا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے وہ ”‏وفادار اور سمجھ‌دار غلام“‏ کے ذریعے ہمیں ”‏صحیح وقت پر کھانا دے“‏ رہا ہے تاکہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کر سکیں۔ (‏متی 24:‏45‏)‏ یہوواہ تو ہماری مدد کرنے کے لیے اپنی طرف سے سب کچھ کر رہا ہے لیکن ہمیں بھی اُس پر مضبوط ایمان رکھنے کے لیے وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو ہم کر سکتے ہیں۔‏‏—‏عبرانیوں 10:‏38، 39 کو پڑھیں۔‏

19-‏20.‏ (‏الف)‏ ہمیں خود سے کون سے سوال پوچھنے چاہئیں؟ (‏ب)‏ 1-‏تواریخ 28:‏9 کو ذہن میں رکھتے ہوئے بتائیں کہ ہمیں اپنا جائزہ کیوں لینا چاہیے۔‏

19 بادشاہ آسا کی طرح ہمیں بھی ’‏یہوواہ کے طالب‘‏ ہونے کی ضرورت ہے۔ (‏2-‏توا 14:‏4؛‏ 15:‏1، 2‏)‏ اِس کی شروعات تب ہوتی ہے جب ہم یہوواہ کے بارے میں سیکھنے لگتے اور بپتسمہ لیتے ہیں۔ اور ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے ہمارے دل میں اُس کے لیے محبت اَور گہری ہو جائے۔ اِس بات کو پرکھنے کے لیے کہ ہم یہوواہ سے کس حد تک محبت کرتے ہیں، ہم خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏کیا مَیں باقاعدگی سے اِجلاسوں پر جاتا ہوں؟“‏ اِجلاسوں پر جانے سے ہمیں یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کی ترغیب ملتی ہے اور اپنے بہن بھائیوں سے مل کر تازگی اور حوصلہ ملتا ہے۔ (‏متی 11:‏28‏)‏ ہمیں خود سے یہ بھی پوچھنا چاہیے:‏ ”‏کیا مَیں باقاعدگی سے بائبل کا مطالعہ کرتا ہوں؟“‏کیا آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر ہر ہفتے خاندانی عبادت کرتے ہیں؟ اور اگر آپ اکیلے رہتے ہیں تو بھی کیا آپ نے ایسا کرنے کے لیے ایک وقت مقرر کِیا ہوا ہے؟ کیا آپ مُنادی کرنے اور شاگرد بنانے کے کام میں بھرپور حصہ لیتے ہیں؟‏

20 ہمیں خود سے اِس طرح کے سوال کیوں پوچھنے چاہئیں؟ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ ہمارے خیالوں کو پرکھتا ہے اور ہمارے دلوں کو جانچتا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ‏(‏1-‏تواریخ 28:‏9 کو پڑھیں۔)‏ اپنا جائزہ لینے کے بعد اگر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے اِرادوں اور سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے تو ہمیں مدد کے لیے یہوواہ سے دُعا کرنی چاہیے۔ ابھی وقت ہے کہ ہم خود کو آنے والے اِمتحان کے لیے تیار کریں۔ آئیں، امن کے اِس وقت کا سمجھ‌داری سے اِستعمال کریں اور اِس حوالے سے کسی بھی چیز کو رُکاوٹ نہ بننے دیں۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • بادشاہ آسا اور پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں نے امن کے دَور کا اچھا اِستعمال کیسے کِیا؟‏

  • آج ہم امن کے وقت کا اچھا اِستعمال کیسے کر سکتے ہیں؟‏

  • بہت جلد ہمیں کس بات کا سامنا ہوگا؟‏

گیت نمبر 62‏:‏ نیا گیت

a کیا آپ ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں آپ آزادی سے یہوواہ کی عبادت کر سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ امن کے اِس دَور کو کیسے اِستعمال کر رہے ہیں؟ اِس مضمون میں آپ دیکھیں گے کہ آپ ملک یہوداہ کے بادشاہ آسا اور پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں جنہوں نے اُس وقت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کِیا جب اُن کے ملک میں امن تھا اور وہ آزادی سے یہوواہ کی عبادت کر سکتے تھے۔‏

b ‏”‏اُردو ریوائزڈ ورشن“‏ میں 1-‏سلاطین 15:‏13 میں معکہ کو آسا کی ماں کے طور پر بیان کِیا گیا ہے لیکن اصل میں وہ اُن کی دادی تھی۔‏

c اِصطلاح کی وضاحت:‏ لفظ ‏”‏امن“‏ صرف ایک ایسے دَور کی طرف اِشارہ نہیں کرتا جب جنگ نہ ہو رہی ہو۔ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ ”‏امن“‏ کِیا گیا ہے، وہ اچھی صحت، خوش‌حالی اور محفوظ ہونے کا خیال بھی پیش کرتا ہے۔‏

d تصویر کی وضاحت‏:‏ بادشاہ آسا نے اپنی دادی کو ملکہ کے عہدے سے ہٹا دیا کیونکہ اُس نے ملک میں بُت‌پرستی کو فروغ دیا تھا۔ آسا کے حمایتیوں نے اُن کی پیشوائی میں بُتوں کو چکنا چُور کر دیا۔‏

e تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک شادی‌شُدہ جوڑا اپنی زندگی کو سادہ بنا رہا ہے تاکہ وہ ایسے علاقے میں جا کر یہوواہ کی خدمت کر سکے جہاں زیادہ مبشروں کی ضرورت ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں